سر زمین ہند قدرت کی بیش بہا نعمتوں سے مالا مال ایک گلدستہ کے مانند رہی ہے جس کے رنگ برنگے پھول ہندوستان کی کثیر جہتی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ارض ہند اقوام عالم کے لئے باعث کشش رہی ہے اور مختلف قومیں اس ملک کو سیاحت و تجارت کی غرض سے اپنا مسکن بناتی رہی ہیں۔
جب انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد ڈالی اور ان کی نیتوں میں فتور آیا اور اپنی سازشی کرداروں کی بنا پر وہ اس ملک پر قابض ہو گئے تو سرزمین ہند اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود کشت و خون کی آماجگاہ بن گئی اور نفرت و تعصب کی آگ میں جلنے لگی۔ ایسے پرفتن دور میں سینکڑوں علمی و سیاسی شخصیات منظر عام پر آئیں اور نفرت کی اس لو کو بجھانے کی سعی و کاوش میں لگ گئیں مگر کہیں جذبات غالب ہوئے تو خون کی ندیاں بہہ گئیں تو کہیں ناعاقبت اندیشی نے معاملات کو مخالف سمت پر ڈال دیا۔
ایسے پر آشوب دور میں ایک عظیم شخصیت ابھر کر سامنے آئی جس نے فکر و بصیرت کی چادر سے اس ملک کے خطہ خطہ کو ڈھانپ لیا اور وہ تابناک ستارہ ثابت ہوا جس کی پرنور شعاعوں سے ملک کا چپہ چپہ روشن ہوگیا۔ یہ وہی شخصیت ہے جسے آج دنیا سرسید احمد خان کے نام سے جانتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن )
آپ کی پیدائش 17 اکتوبر 1817 میں دہلی میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ملتا ہے جس کی وجہ سے سید کے لقب سے سرفراز ہوئے۔ سر سید رحمۃ اللہ علیہ اس عہد کے اعلی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ آپ کے نانا خواجہ فرید الدین مغل دور میں منصب وزارت پر فائز تھے اور آپ کے والد محمد متقی اکبر کے دربار میں مشیر تھے اگرچہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام صوفیانہ طرز پر گزارے۔ مگر جب مغل حکومت خلفشار کا شکار ہوئی تو تمام شیرازہ بکھر گیا اور یہ سلسلہ عرصہ دراز تک چلتا رہا جس کا اثر آپ کی شخصیت پر بھی پڑا۔
آپ نے ابتدائی تعلیم مروجہ طرز تعلیم پر حاصل کی اور پر تعیش زندگی گزاری اور طب کی تعلیم کی طرف توجہ مرکوز کی مگر طبیعت کے دوسری جانب میلان کے باعث اس میدان میں ناکامی سے دوچار ہوئے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد آپ نے بے سروسامانی کا سامنا کیا لہذا اپنے بڑے بھائی کے ساتھ میگزین کی ادارت سے منسلک ہوگئے اور اس دوران ایسٹ انڈیا کمپنی سے ملحق کسی کالج سے تعلیم حاصل کی جہاں اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور مختلف عہدوں پر فائز ہوئے یہاں تک کہ منصب قضاء کو سنبھالتے ہوئے اپنے قدم آگے بڑھائے۔
اپنے ان یومیہ مشاغل کے ساتھ آپ تصنیفی میدان میں طبع آزمائی کرتے رہے اور تاریخ ہند اور سیرت سے متعلق متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ مثلاً ” جام جم ” جلاء القلوب بذکر المحبوب النبی ” آثار الصنادید ” اور ” تاریخ بجنور” وغیرہ۔
سر سید کی تصنیفی و تالیفی خدمات سے قطع نظر ، فکر و بصیرت میں آپ کی گہرائی و گیرائی سے متعلق یہ ایک حقیر کاوش ہے جو دور حاضر کے مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ آپ نے اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حصول علم اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے کی تاکید کی۔ کیونکہ تعلیم اور علم ہی انسانی زندگی میں ایک روشن چراغ کی مانند ہیں جن کی روشنی میں انسان صحیح راہ کا انتخاب کر سکتا ہے۔
حدیث نبوی ” طلب العلم فریضۃ ” کے پیش نظر جہاں آپ نے اپنے قلب کو دینی تعلیمات کے نور سے منور کیا وہیں قرآنی تعلیمات ” ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ ” کے مصداق عصری علوم کے حصول کی ترغیب دی اور اپنی قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ عصری علوم اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں بلکہ دور جدید میں ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے ضروری ہیں جیساکہ حضرت نوح علیہ السلام کا کشتی بنانے اور داؤد علیہ السلام کا زرہ بنانے کا علم نیز حضرت ذوالقرنین کا لوہے اور تانبے کے استعمال سے واقفیت سے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے ۔ لہذا انہوں نے اپنی اس فکر کو ان الفاظ میں یوں عام کیا :” ایک ہاتھ میں فلسفہ ہوگا ، دوسرے ہاتھ میں نیچرل سائنس اور سر پر لاالہ الااللہ کا تاج ".[1] چنانچہ آپ نے حدیث نبوی ” الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن فحیث وجدھا فھو أحق الناس بھا "[2] پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی اور جس طرح سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ کو اس دور کی ضرورت سمجھتے ہوئے سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا اسی طرح آپ نے انگریزی زبان کو وقت کی اہم ضرورت گردانتے ہوئے اس کے حصول کی سعی کی ۔ لہذا غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام اور علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام وغیرہ اسی نقطہِ نظر کا عملی اظہار ہے ۔
اسی طرح انہوں نے مسلمانوں کی انگریزی زبان سے نفرت کو نہ صرف دور کرنے کی کوشش کی بلکہ اس کے حصول کی تاکید کی اور استعماری طاقتوں کو شدت جذبات سے کچلنے کے بجائے اعلی حسن اخلاق سے پست کرنے پر زور دیا۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :” دوسروں کے سامنے اسلام کی تصویر نہ پیش کریں بلکہ اپنے اس چہرے کا مظاہرہ کریں جو اس دین حنیف کا پیروکار ہے جو حسن اخلاق سے مزین ہو اور علم و معرفت سے لیس ہو اور تقوی اور رواداری کی اقدار پر قائم رہنے کی نمائندگی کرتا ہو۔ [3]
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جس طرح ہمیشہ اعلیٰ اخلاق و کردار کی تعلیم دی اور اپنے کردار سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا اسی طرح سر سید نے استعماری قوتوں کو حسن اخلاق سے زیر کرنے کی کوشش کی۔ اور وہ دور جب ہندوستان انگریزوں کے زیر اثر تھا اور ملک میں ایک شورش برپا تھی اور مختلف قائدین ملت کے لائحہ عمل سے یہ ارض تہذیب و ثقافت فساد کا شکار ہو گئی اور خصوصاً مسلمان سنگین نشانے پر تھے۔ ایسے وقت میں آپ نے حکمت و دانائی سے کام لے کر لوگوں کو پر سکون رہنے کی تلقین کی اور بعض مصلحتوں کی بنا پر برطانوی حکومت کی حمایت کی تاکہ کشت و خون کا بازار گرم نہ ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ ایسے نازک موقع پر آپ نے بےشمار اعتراضات کا سامنا کیا یہاں تک کہ آپ کو کافر بھی ٹھہرایا گیا مگر آپ نے اپنے پایہ استقلال میں جنبش نہ آنے دی اور اپنے موقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک درخشاں باب کھولا جسے تاریخ صلح حدیبیہ کے نام سے جانتی ہے ۔ آپ نے اپنی قوم کو وقت کے ساتھ چلنے پر ابھارا ۔ اس سلسلے میں یوں کہتے ہیں :” آپ کو اپنے حالات کا اپنے پیشروؤں سے موازنہ کرنا ہوگا۔آپ کے آباؤ اجداد وقت کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے ، اس لیے انہوں نے فخر ، وقار ، بلندی اور خوشی سے بھرپور زندگی گزاری۔”.[4]
اسی طرح آپ نے قوم کو اس بات سے خبردار کیا کہ اگر ہم نے اپنے بعض اعمال کی اصلاح نہ کی تو ہم پیچھے ہو جائیں گے۔ وہ لکھتے ہیں :” جو امر کہ پسندیدہ اور تسلیم کے قابل ہے کہ لوگ اپنی فہم اور اپنی عقل سے کام لیں اور رسم و رواج کی پابندی بھی ایک معقول طریقہ پر رکھیں۔ یعنی جو عمدہ اور مفید ہیں ان کو اختیار کریں ۔ جو قابل اصلاح ہوں ان میں ترمیم کریں اور جو بری اور خراب ہوں ان کی پابندی چھوڑ دیں نہ یہ کہ اندھوں کی طرح یا ایک کل کی مانند ہمیشہ اس سے لپٹے رہیں”.[5]
احمد امین آپ کی ثابت قدمی کی تعریف میں یوں رقم طراز ہیں :” اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں اس کی جرأت ، اپنی رائے کے اظہار میں اس کی انتہائی بے تکلفی ، مختلف ناقدین کی تنقید کو نظر انداز کرنا ، اور اپنے ضمیر کے سوا کسی اور کی نہ سننے پر اصرار ، یہی وہ صفات ہیں جن کے ذریعے وہ انگریزوں کو ان کی سربلندی، اہل وطن کو ان کی پسماندگی ، اور علماء دین کو ان کے جمود اور سیاستدان کو ان کے نظریات كے سلسلے میں یکساں طور پر تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔”[6]
آپ کا یہی استقلال تھا جس نے اوروں کو بھی اس پر عمل کرنے پر مجبور کیا اور امام محمد عبدہ کی مانند فاتح قوم بن کر ابھرے اور آپ کے بہیترے جانشین سامنے آئے جس کی عکاسی کسی شاعر نے کیا خوب کی ہے۔:
وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
چنانچہ انیسویں صدی کے اواخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ مفکرین اسلام کی ایک جماعت ابھر کر آئی جو روحانی و فکری ہتھیار سے لیس تھی جنہوں نے اپنی فکر کے مطابق متعدد تنظیمیں قائم کیں۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں : ڈاکٹر سید محمود ، عبد الرحمن صدیقی ، شعیب قریشی ، عبد الرحمن پشاوری ، مولانا حسرت موہانی ، علامہ شبلی نعمانی ، و سجاد حیدر اور عبد الرحمن بجنوری وغیرہ۔
آپ نے نہ صرف اس پر فتن دور میں خاموش رہنے کی ہدایت کی بلکہ ” اسباب بغاوت ہند ” لکھ کر اسلام اور مسلمانوں کی شان کو اجاگر کیا اور قوم سے اظہار یکجہتی کا ثبوت دیا اور اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے برطانوی حکومت کو اس کی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا۔ اپنی ان علمی کاوشوں کو بروئے کار لانے کے سلسلے میں وہ یوں رقم طراز ہیں :” غدر کے بعد مجھ کو نہ اپنا گھر لٹنے کا رنج تھا ، نہ مال و اسباب کے تلف ہونے کا ، جو کچھ رنج تھا اپنی قوم کی بربادی کا ۔۔۔۔ آپ یقین کیجئے کہ اس غم نے مجھے بڈھا کردیا اور میرے بال سفید کردیئے ۔ یہ خیال پیدا ہوا کہ نہایت نامردی اور بے مروتی کی بات ہے کہ اپنی قوم کو اس تباہی کی حالت میں چھوڑ کر کسی گوشئہ عافیت میں جا بیٹھوں ۔۔۔۔ قوم کی بھلائی کے لیے جدو جہد کی راہ اختیار کی۔۔۔۔ میں نے اپنے دل سے پوچھا کہ قوم کو اس زمانے کی ضرورت کے موافق تعلیم دینا اور یورپ کے علوم کا ان میں جاری کرنا کیا اسلام کے برخلاف ہے! مجھے جواب ملا کہ نہیں”.[7] (یہ بھی پڑھیں سرسید احمد خان اور تہذیب الاخلاق- ڈاکٹر نوشاد منظر )
اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت سر سید احمد خان رحمۃ اللہ علیہ کی انقلابی زندگی دور حاضر کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے جہاں جذبات کا گزر نہ ہو اور عقل و خرد کا سہارا لے کر گفت وشنید کی راہیں کھلی ہوئی ہوں بشرطیکہ عقائد متزلزل نہ ہوں تو وہ دن دور نہیں جب برادران وطن کے لئے سید ثانی نمودار ہو اور ملک کئی مسلم یونیورسٹیوں سے مالا مال ہوجائے۔
مصادر و مراجع
- قرآن کریم
- حدیث
- مقالات سرسید ، بحوالہ عشرت علی قریشی : سرسید اپنے افکارو اقوال کے آئینے میں ، 1984 ، شعبہ رابطہ عامہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ
- مجلہ تحقیقات عربی و فارسی ، جنوری – جولائی 2017 ،شعبہ عربی و فارسی ، الہ آباد یونیورسٹی
- مجموعہ مقالات سر سید احمد خان ، ترتیب : مولوی سراج الدین ، کشمیری بازار، لاہور ، 1990
- مقالات سرسید ، ترتیب : مولوی محمد اسماعیل پانی پتی ، مجلسِ ترقی ادب ، لاہور ، 1962
- زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث ، استاذ احمد امین ،
- سرسید ایک تعارف ، پروفیسر خلیق احمد نظامی ، ایجوکیشنل بک ہاؤس ، علی گڑھ ، 2002
[1] مقالات سرسید ، بحوالہ عشرت علی قریشی : سرسید اپنے افکارو اقوال کے آئینے میں ، ص 63
[2] ابن ماجہ ، باب الحکمۃ، محدثین کے نزدیک یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔
[3] کلمہ ادارت ، محمود حافظ عبد الرب مرزا ، مجلہ تحقیقات عربی و فارسی ، جنوری – جولائی 2017 ، ص 2
[4] مجموعہ مقالات سر سید احمد خان ، ترتیب : مولوی سراج الدین ، ص 41
[5] مقالات سرسید ، ترتیب : مولوی محمد اسماعیل پانی پتی ، ۔5 ص 22
[6] زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث ، استاذ احمد امین ، ص 137
[7] سرسید ایک تعارف ، پروفیسر خلیق احمد نظامی ، ص 6
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

