لفظ لفظ داستان / نور شاہ – ایس معشوق احمد
کسی بھی ادیب کا شہکار اس کی اولین تصنیف ہوتی ہے یا وہ کتاب جو اس کی بزرگی اور پیری میں منظر عام پر آئے۔چونکہ انسان عرصے بعد کسی فن کا ماہر بن جاتا ہے۔فن پر مکمل گرفت اور مہارت حاصل ہوجائے تو فنکاری میں نکھار اور حسن پیدا ہوجاتا ہے۔اردو کے مشہور اور معتبر ادیب نور شاہ نے خاکے، مضامین ،فیچر ،کالم بھی لکھے لیکن بحیثیت ڈراما نگار اور افسانہ نویس مقبول و معروف ہوئے۔لکھنے کی شروعات قریبا ستر برس قبل کی اور تاحال لکھ رہے ہیں۔پچھلے سال یعنی 2020 ء میں ان کے افسانوں کا تازہ مجموعہ "لفظ لفظ داستان” منظر عام پر آیا ہے۔اس کتاب کے مطالعے سے قاری پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ” لفظ لفظ داستان” میں واقعی لفظوں سے داستان سنائی گئی ہے لیکن یہ داستان مختصر لفظوں کے ذریعے سے بننی گئی ہے جو قاری کی سوچوں میں طویل سے طویل تر ہوجاتی ہے۔
"لفظ لفظ داستان” کا انتساب نور شاہ نے اپنے والدین مرحوم غلام نبی شاہ اور مرحومہ شاہ بیگم کے نام کیا ہے اور لکھا ہے کہ ” جن کی یادیں اور باتیں لفظ لفظ بن کر میری داستان زندگی میں محفوظ ہیں”۔کتاب کو میزان پبلشرز نے شائع کیا ہے۔کتاب میں شامل پہلا افسانہ ” خواب گاہ کی دیوار پر لٹکی تصویر ” اور آخری افسانچہ ” آواز کی کہانی ہے۔کتاب میں تئیس
(23 )افسانوں کے علاوہ کرونا وائرس کے پس منظر میں بارہ (12) افسانچے اور آخر پر آٹھ (8 ) مختصر افسانچے مختلف موضوعات لیے کتاب کی زینت کو بڑھا رہے ہیں۔ پانچ افسانوں پر تجزیے بھی کتاب میں شامل ہیں۔افسانہ آرزو کا مختصر تجزیہ حمزہ فضل اصلاحی، ہماری ادھوری کہانی کا تجزیہ شارق عدیل ، دو رنگوں کی کہانی کا تجزیہ شارق عدیل ، باغ سبز کا تجزیہ سہیل سالم اور نیا تجربہ کا تجزیہ شارق عدیل نے کیا ہے۔ان تجزیوں کو پڑھ کر قاری بڑی آسانی سےافسانوں کی خوبیاں سے واقف ہوتا ہے اور افسانوں کو سمجھنا قاری کے لیے تر نوالہ ثابت ہوتا ہے۔
"لفظ لفظ داستان” میں متنوع موضوعات پر کہانیاں ملتی ہیں۔نور شاہ نے معمولی واقعات ، اپنے تجربات اور مشاہدات کو خوبصورت انداز میں کہانی کا قالب عطا کیا ہے۔مصروف زندگی کو بھی موضوع بنایا ہے اور اولاد سے محروم میاں بیوی پر بھی کہانی بننی ہے۔افسانہ” آرزو” جس کی عمدہ مثال ہے۔جنت کی شادی آٹھ سال قبل ناصر سے ہوئی تھی۔ان آٹھ سالوں میں جنت نے گھر گرہستی کو خوش اسلوبی سے سنبھالا ہے۔ اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے، اس کے دکھ سکھ میں شریک رہتی ہے، اس کی چھوٹی بڑی ضرورتوں کا خیال کرتی ہے اور اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے لیکن ان آٹھ برسوں میں وہ اپنے شوہر کو بچوں کی معصوم مسکراہٹ سے آشنا نہ کرسکی۔وہ اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا مشورہ دیتی ہے لیکن وہ ہر بار انکار کرتا ہے۔وقت بدل جاتا ہے اور ناصر آرزو سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔آرزو نے شرط رکھی ہے کہ وہ اکیلی اس گھر میں رہنا چاہتی ہے۔ جنت کو اس گھر سے نکال باہر کرنا ہوگا۔جنت اپنے شوہر کو سمجھاتی ہے کہ جن دیواروں نے اس کی حفاظت کی ہے، جو میری آٹھ سالہ ازدواجی زندگی کے ان گنت رازوں سے واقف ہیں،ان گنت کٹھی میٹھی یادوں کی گواہ ہیں میں انہیں چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔ناصر طلاق دینے کی بات کرتا ہے تو جنت کہتی ہے کہ اب تمہیں ایسا کرنے سے پہلے تین سال جیل میں گزارنے ہوں گے،اکیلے اور تنہا۔میں اس گھر سے نہیں جاؤں گی بلکہ میں جاتی ہوں اور تمہارے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں۔ اب عورت انجانے نہیں بلکہ جان کار بن گئی ہے اور اسے اپنے حقوق ،قانون اور دیگر چیزوں کا علم ہوگیا ہے۔اپنا دفاع کرنا اب اسے آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان باہمی رشتہ – ڈاکٹر محمد علی حسین شائق )
کتاب میں شامل نور شاہ کے افسانوں کی ایک خوبی ان کی منظر نگاری ہے جو شاعری کا لطف دیتی ہے۔تقریبا ہر افسانے کے شروع میں پہلے منظر نگاری بڑی خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔افسانہ ” اندھیرے اجالے ” کے یہ ابتدائی جملے دیکھیں__
” جھکی جھکی سی شام تھی !
ٹھہرا ٹھہرا سا نیلا پانی تھا!!!
اور وہ دونوں خاموش تھے۔اپنی اپنی سوچوں میں گم تھےکہ اچانک ایک زور دار لہر ان کی ناؤ سے ٹکرا گئی۔ ناؤ ہچکولے لینے لگی۔دونوں چونک پڑے اور اپنی اپنی سوچوں سے باہر آکر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے”۔
کرونا وائرس نے انسان کو ڈر اور خوف میں ہی متبلا نہیں کیا بلکہ ہر فرد کو مشکوک کردیا ہے۔ہر فرد اس بیماری سے خائف ہے، ہر فرد بے چہرہ نظر آتا ہے اور ڈھانپے ہوئے چہروں سے خوف آتا ہے۔اس تناظر میں کتاب میں شامل افسانچہ ” بے نام پیغام ” کے ذریعے مصنف نے آگاہی اور جانکاری کا پیغام دیا ہے۔جو لوگ روز نظروں کے سامنے رہتے تھے ، جن سے ملنا روز کا معمول بن گیا تھا۔ان کی شکلیں دیکھنا کرونا کی بدولت مشکل ہوگئی ہیں۔زندگی قید ہوگئی ہے اور لوگوں سے میل ملاپ عنقا ہوگیا ہے۔بول چال اب فقط موبائل کی بدولت ممکن ہے۔شائستہ کا چہرہ پہلے بہت خوبصورت تھا۔جب عرصے بعد نیشنل کلنک میں عابد کی ملاقات شائستہ سے ہوتی ہے تو عابد شائستہ سے پوچھتا ہے کہ تمہارا چہرے کا رنگ ، سندرتا اور شادابی غائب ہوچکی ہے لیکن ہاتھ بہت خوبصورت ہوگئے ہیں۔یہ کیا راز ہے۔؟شائستہ بتاتی ہے کہ چہرے کی رنگت کرونا وائرس کے خوف اور ڈر کی وجہ سے اڑ گئی ہے۔ہاتھ صابن سے بار بار دھونے پڑتے ہیں اس لیے ان میں نکھار آگیا ہے۔
سفید بال بزرگی کی نشانی ہے لیکن نوجوانوں کے بال سفید کیوں ہے؟ کیا وہ بزرگوں سے زیادہ عقل مند اور عمر رسیدہ ہوگئے ہیں یا یہ کوئی ذہنی پریشانی ہے جس میں مبتلا ہوکر نوجوانوں کے بال سفید ہے۔اس سوال کو مصنف نے افسانچہ ” کہانی ہم دونوں کی ” میں اٹھایا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔افسانچے میں ستر سال کا عمر رسیدہ شخص سوچتا ہے کہ میں اپنی عمر کے ستر گرما سرما دیکھ چکا ہوں اور میرے سفید بال میرے عقل مند ہونے کی دلیل ہے، تجربات کی دین ہے لیکن اپنے دس سالہ پوتے کے سفید بال دیکھ کر سوچتا ہےکہ شاید میرا پوتا مجھ سے بھی زیادہ عقل مند ہوچکا ہے۔
اس مجموعے کے مطالعے سے قاری منوم دنیا میں نہیں چلا جاتا بلکہ قاری حقیقت کی دنیا میں سانس لیتا ہے۔اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو کہانی کے روپ میں ڈھلتا دیکھ کر مسرت حاصل کرتا ہے۔روز کے مشاہدات اور تجربات جب کہانی میں خوبصورت اسلوب اور دلکش انداز میں بیان ہوتے ہیں تو قاری اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔اس افسانوی مجموعے کی بڑی خوبی ہے کہ اس میں زبان و بیان سادہ اور پر اثر ہے۔رومان کا تڑکا بھی ہے اور حقیقت کا ذائقہ بھی۔تجسس بھی ہے اور نئی دنیا کی تلاش بھی۔اس مجموعے میں شامل افسانوں کو پڑھ کر وقت رک جاتا ہے اور ان لمحوں کو قاری جیتا ہےجو بیت چکے ہوں۔جن کو عمدہ اسلوب ،ادبی زبان ،بہترین کہانیاں پسند ہیں وہ اس مجموعے میں شامل افسانوں کا مطالعہ ضرور کریں
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

