خطوط غالب کے ادبی مباحث / ڈاکٹر مشیراحمد – مہر فاطمہ
خطوط غالب کے ادبی مباحث، ڈاکٹر مشیراحمدکی نہایت جامع اور اہم کتاب ہے۔میرے سامنے موجود یہ دوسرا ایڈیشن ہے جو ۲۰۲۱میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی سے منظر عام پر آیا۔پہلے کی طرح یہ دوسرا ایڈیشن بھی اردو دنیا میںہاتھوںہاتھ لیا گیا۔جس سے اس کی مقبولیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔یوںتو غالب اور ان کے خطوط کے حوالہ سے بے شمار کام ہوچکا ہے۔اس سے مجھے نثار احمد فاروقی کی بڑی دلچسپ بات یاد آگئی۔انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہمارے نقادوںاور محققوں کا غالب پر کچھ نہ کچھ لکھنا ایسا ضروری ہوگیا ہے جیسے مناسک حج میں میدان عرفات کا قیام،کہ اس کے بغیر حج ہی نہیں ہوتاَ (تلا ش غالب)‘‘لیکن جس پر اتنا کچھ پہلے ہی لکھا جا چکا ہو اس پر لکھنا جتنا آسان ہے، اتنامشکل بھی ہے۔آسان اس لئے کے سنی سنائی باتوں کو اپنے اندازمیں کہ دینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔آجکل عموما یہی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے،مشکل جب پیش آتی ہے جب اتنے بے شمارکام کے بعد آپ کچھ نیا یا دوسروں سے مختلف کرنے کا سوچیں۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لاکھوں کتابوں کے درمیان اس کتاب کی اپنی انفرادیت اور اہمیت ہے۔اس میں خطوط غالب کے تمام پہلوؤں کا بڑی جامئیت کے ساتھ احاطہ کیا گیا ہے۔جس کا اعتراف شمس الرحمان فاروقی مرحوم نے بھی کیا ہے:
’’اس موضوع پر مضامین تو کئی دیکھے ہیں ،لیکن کتاب شاید پہلی ہے۔اگر پہلی نہ بھی ہو تو سب سے عمدہ یقیناہے۔آپ نے کم و بیش سارے مباحث کو سمیٹ لیا ہے اور ہر جگہ معتدل رائے اختیار کی ہے۔ پہلا باب بظاہر غیر ضروری لیکن معلوماتی ہے۔کتاب بہت عمدہ چھپی ہے۔ کتابت کی غلطی مجھے نظر نہیں آئی۔اکادکا بطور تبرک ہو تو میری نگاہ اس پر نہیں ٹھہری۔‘‘
فاروقی صاحب کا یہ کہہ دیناکہ کتاب یقینا عمدہ ہے اس پر عمدگی کی مہر ثبت اوراس کی عظمت پر چا ر چاند لگا گیا۔ایک دوسری بات جس کا ذکر آیا وہ کتابت کی غلطی ہے،آج کل اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔استاد محترم خالد محمود صاحب جب بھی کسی کتاب میں کتابت کی غلطی دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو نظر کا ٹیکہ ہے،کتاب مکمل طور پر بے عیب ہو تو اس کو نظر لگ جانے کا ڈر ہوتا ہے،اس لئے کچھ کتابت کی غلطیاں رہ جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں، وہ اس کی خوبیوں کو نظر بد سے محفوظ رکھیں گی،اب مشیر صاحب کی اس کتاب کو نظر بد سے خدا ہی محفو ظ رکھے۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کے خطوط میں طبی اصطلاحات والفاظ – ڈاکٹر مشیر احمد )
مصنف نے اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہے:
پہلا باب’خطو ط غا لب کی تحقیق وتدوین کی تاریخ‘ہے۔اس میں اب تک جتنی بار خطوط غالب کو مرتب کیا گیا:
عود ہندی طبع اول
اردوئے معلی
مکاتیب غالب ( مرتبہ امتیازعلی خاںعرشی)
خطو ط غالب(مرتبہ مولوی مہیش پرشاد)
نادرات غالب(مرتبہ آفاق حسین)
خطو ط غالب(مرتبہ مولانا غلام رسول مہر)
خطو ط غالب(مرتبہ مہیش پرشاد ۔بہ نظر ثانی مالک رام(
غالب کے خطو ط(مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم)
اس طرح یہ مرتب کردہ مجموعے کب کب منظر عام پر آئے،ان میں کتنے خطوط شامل ہیں اور وہ خطوط غالب نے کس کس کو لکھے،ان سب کی مکمل معلومات اس میں موجود ہے۔اس پہلے باب کے حوالہ سے فاروقی صاحب نے لکھا کہ’پہلا باب بظاہر تو غیر ضروری لیکن معلوماتی ہے۔‘معذرت کے ساتھ کہ مجھے یہ غیر ضروری بالکل نہیں لگا،بلکہ پہلے باب میں موجود معلومات سے ذہن صاف ہوا کہ خطوط کے حوالے سے یہ یہ کام ان شخصیات نے اس طرح سے کیا ہے۔یہ باب مکمل طور پر تحقیقی ہے۔اس میں معلومات کا خزانہ موجودہے۔اندازہ ہوتا ہوتا ہے کہ بڑی محنت و لگن کے ساٹھ یہ معلومات یکجا کی گئی ہیں۔اگر یہ باب ہٹا دیا جائے تو تشنگی سی رہ جائے گی،مجھ جیسے اور بے شمار طلبا ایسے ہون گے جن کو اس تاریخ کا مکمل علم نہیں ہوگا،ان کا ذہن بھی صاف نہیں ہوپائے گا ۔اس لئے اس باب کو غیر ضروری نہیں کہا جاسکتاحالانکہ انھوں نے بھی بظاہر کا لفظ استعمال کیا۔اس میں یہ اعتراف موجود ہے کہ واقعی معلوماتی ہے۔اس لئے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔
دوسرا باب’خطوط غالب کے لسانی و ادبی مباحث‘ہے۔دراصل یہی مرکزی حصہ یاموضوع بحث ہے۔اس ضمن میں درج ذیل عنوان کے کے تحت گفتگو کی گئی ہے:
٭لسانی مباحث
(۱)تحقیق لغات:
(الف)مفردات
( ب)مرکبات
(ج)تذکیر و نانیث
(د)متفرقات
(۲)مسائل املا
٭ادبی مباحث
(۱)تفہیم شعر(اپنے اشعار،اردو اشعار،فارسی اشعار اور دوسروں کے اشعار کی تشریح)
(۲)اصلاح شعر
(۳)علم قافیہ
(۴)علم عروض
(۵)علم بلاغت
(۶)نثر سے متعلق اظہار خیال
(۷)شخصیتوں پر اظہاررائے
(الف)اردوشعرا:
سودا،ناسخ،آتش،میر،مومن،درد،قائم،ذوق،انشا،رند،میر حسن،داغ،جعفر زٹلی،حالی
(ب)فارسی شعرا:
حزیں،صائب،ظہوری،نظیری،سعدی،انوری،عرفی،خاقانی،قدسی،خسرو،فیضی،نظامی ،فردوسی،مغربی،حافظ
(ج)لغت نویس:
قتیل،مولوی غیاث الدین،حکیم محمدحسین دکنی
جیسا کہ درج بالا عبارت ظاہر ہوا کہ اس باب میں غالب کے فارسی و اردو الفاظ و محاورات ،مرکبات،تذکیر و تانیث اور املا کے حوالہ سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ادبی مباحث کی ذیل میں تفہیم شعر سے بحث کی گئی ہے،اس ذیل میں غالب کی اصلاحیں بھی موجود ہیں۔اس کے علاوہ اس میں علم قافیہ،علم عروض،علم بلاغت ، اقسام نثر اور مشہور شخصیات کیحوالہ سے غالب کا اظہار خیال وغیرہ ملتا ہے،جو غالب ،ان کی شخصیت اور علمیت کو سمجھنے کا بیش قیمت ذریعہ ہے۔اس باب میں اہل ذوق کے لئے بیش قیمت خزانہ موجود ہے۔
تیسرا باب’خطوط غالب کے بنیادی مسائل اور اردو تنقید ‘ہے۔جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں خطوط غالب کے بنیادی مسائل اور اردو تنقید سے اس کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔مصنف نے تحقیق وتدوین کے سلسلے میں غالب کے مجموعوں اور ان کے مرتبین کے حوالے سے گفتگو کی ہے جن کا اس سے ماقبل ذکر گزرا ہے۔
غرض یہ کہ یہ کتاب کئی اعتبار سے لائق مطالعہ اور قابل داد و تحسین کی حامل ہے۔اس کے ایک ایک باب میں کئی کئی پہلو سے بات کی گئی ہے۔
تحقیق،تدوین،تنقید،لغت کے علاوہ ادبی ، لسانی،تاریخی،سماجی وغیرہ وغیرہ اور نجانے کتنے پہلووں سے یہ لائق توجہ ہے۔اس کتاب کی فہرست سے ہی مصنف کی محنت اورلگن کا اندازہ ہوجاتا ہے۔اس کتاب کی انہی خصوصیات کے بنا پر اس کو یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کرنے کامشورہ کیا جارہا ہے۔میں اس اہم اورشاندارکتاب کے لئے ڈاکٹر مشیر احمد صاحب کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کتاب اور صاحب کتاب دونوں بری نظر سے محفوظ رہیں۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] کتاب کی بات […]
بہت عمدہ اور جامع تبصرہ
تحریر میں ایک نظر کا ٹیکہ آپ کی موجود ہے
جامعیت کا املا سہو کتابت کا شکر گزار ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ