Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقاتنصابی مواد

غالب کے خطوط میں طبی اصطلاحات والفاظ – ڈاکٹر مشیر احمد

by adbimiras جون 15, 2021
by adbimiras جون 15, 2021 1 comment

جب ہم خطوط کی بات کر تے ہیں اور اس کے خط وخال کو گہرائی سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عام طور پر خطوط خیر وعافیت دریافت کرنے یا اپنی خیرت سے مکتوب الیہ کو باخبر کرنے کے لیے لکھے جاتے ہیں ،لیکن غالب نے اپنے خطوط میں جس جدت کا مظاہرہ کیا ہے اور خیر و عافیت دریافت کرنے کے وسیلے کو جس طرح علم و حکمت سے معمور کیا  ہے، اس سے ان کی فنی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ان کے خطوط میں ،ادبی ،علمی اور لغوی مباحث کی کثرت کے علاوہ ان میں تاریخی ،سیاسی ،سماجی اور معاشی حالات کا ذکر بھی جا بجاملتا ہے ،مزید یہ کہ غالب کے مخصوص اسلوب کی وجہ سے ان کے خطوط اور بھی توانا اور دلچسپ ہوگئے ہیں۔ ان کی شاعری میں فکر کا عنصر،تخیل کی کارفرمائی اور فلسفیانہ رنگ غالب ہے ،جب کہ خطوط میں وہ بے تکلف باتیں کرتے نظرآتے ہیں ۔انھوں نے اپنے خطوط میں معاصرین کا ذکر بھی بہت اہتمام سے کیا ہے ۔شعراکے کلام پر رائے اور مشکل اشعار کی تشریح ان کے خطوط میں بکثرت موجودہے ۔اس کے علاوہ ان کے خطوط میں اپنے زمانے کی تہذیب و معاشرت کی عکاسی بھی ہوتی ہے ۔ ان تمام مباحث کے علاوہ ان کے خطوط میں بعض طبی اصطلاحا ت کا بھی علم ہوتا ہے،جس کا انھوں نے بہت خوبی سے بیان کیا ہے اور بعض موقع پر اس کی وضاحت بھی پیش کی ہے ۔اس مضمون میں انھیں طبی اصطلاحات ؍عناصر کے تعلق سے گفتگوکرنے کی کوشش کی گئی ہے۔آگے بڑھنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طب یونانی کا مختصر تعارف پیش کردیا جائے ۔

طب یونانی قدیم طریقۂ علاج ہے ،یہ یونان میں شروع ہوئی ۔ اس کے بانیان میں بقراط اورجالینوس وغیرہ کا نام اہم ہے ۔طب یونانی کی ابتدایوں تو یونان میں ہوئی لیکن عرب ممالک میں اسے کافی شہرت و مقبولیت ملی۔ بر صغیرمیں بھی اس کے مختلف مراکز قائم ہوئے۔چنانچہ جب یہاں مسلم حکومتیں قائم ہوئیں تو اس طریقۂ علاج کو کافی تقویت ملی۔تاریخی تناظر میں جب ہم د یکھتے ہیں تو اس کاسلسلہ غزنی عہد سے لے کرمغلیہ دور تک جاری نظرآتا ہے،یہی وہ زمانہ ہے جب یہ ترقی کی انتہا پر تھی اور خاص وعام میں مقبول بھی تھی ۔اس زمانے میں یونانی علاج ومعالجہ کوہی ترجیح دی جاتی تھی اور دوسرا طریقہ غیر معتبر سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ اس کے نقوش ہمیں تاریخی اوراق اورداستانوں میں بھی جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔

طب یونانی کو حکمت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔1857کے بعد جب انگریز ہندوستان پر پوری طرح قابض ہوگئے،تودیگر علوم وفنون کی طرح طب یونانی کی ترقی بھی متأثر ہوئی اور اس کی جگہ جدید طب(ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی) نے لے لی۔آج طب یونانی متبادل طب کی حیثیت سے اپنا اثر و رسوخ بر قرارکھے ہوئے ہے، یہ بات دیگر ہے کہ طب یونانی میں مختلف امراض کا ویسا علاج ممکن نہیں ہے جیسا کہ طب جدید میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی اہمیت و افادیت کم ہوتی جارہی ہے ،لیکن ہندوستان کی حد تک یہ با ت وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہاں سرکاری سطح پر طب یونانی کو فر وغ دیا جا رہا ہے اور اس میدان میں متعدد طبی ادارے اور ہسپتال اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

اس مختصر تمہید کے بعداب ہم غالب کی تحریروں کاجائزہ لیں گے کہ ان میںطب یونانی کا کیا عمل دخل رہا ہے ۔ غالب کے زمانے میں طب یونانی کے عروج وترقی کا دور ختم ہو چکاتھا ،لیکن ان کے خطوط یاکلام پر طب یونانی کی چھاپ دیکھ کر اس کے اثر ورسوخ کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غالب کے خطو ط میں طنز و مزاح – ڈاکٹر مشیر احمد)

اس پس منظر میں جب ہم غالب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے یہاں طبی امور سے متعلق بعض اصطلاحات ؍عناصر کا علم ہوتا ہے۔مرزا اسداللہ خاں غالب(1797-1869)اپنے معاصر حکیم مومن خاں مومن کی طرح طبیب نہ تھے۔لیکن ان کے خطوط اور کلام میں طب کی متعدد اصطلاحات؍عناصر زیر بحث آئے ہیں، جس سے یہ اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ طبی امور میں اچھی دستگاہ رکھتے تھے،ساتھ ہی اس میدان میں ان کے تجربات و مشاہدات کا بھی علم ہوتا ہے۔

جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ایک مضمون راقم التحریر کی نظر سے گزراہے ،جس میں غالب کی شاعری میں شامل طبی اصطلاحات ؍عناصر کو زیر بحث لایا گیا ہے۔یہاں جس مضمون کا ذکر ہورہاہے وہ ’’غالب اور طب قدیم‘‘ کے نام سے مولانا حکیم محمود احمد صاحب برکاتی کا تحریر کردہ ہے،جو ’’حالات غالب ‘‘مرتبہ ڈاکٹر عقیل احمد (انٹرنیشنل اردو پبلیکیشنزدریا گنج،دہلی 1999)میں شامل ہے  ۔اس مضمون میں انھوں نے طب قدیم یا طب یونانی سے متعلق بعض اہم امور کی نشاندہی کی ہے ۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خلاصہ یہاں پیش کردیاجائے:

1۔  طب قدیم بھی ایک زمانے میں عروج وارتقا کی منزل میں تھی ،اسے قبول عام حاصل تھا۔

2۔  علاج کے دوسرے طریقے پر فائق وفاتح تصوّر کی جاتی تھی۔

3۔  اس کے نظریات واصطلاحات شعر وادب میں بھی اپنی جگہ نکال لیتے تھے۔

4۔  زبانوں میں صرف اردوزبان کی بات کی جائے توسود اسمانا ،بخار نکالنا ،نزلہ گرناوہ روزمرہ اور محاورے ہیں جواردو زبان وادب کو صرف طب قدیم نے دیے ہیں۔

5۔  غالب کی وفات کے بعد کا دوروہ ہے کہ فرنگیوں نے مسلمانوں کو جہاں بانی کے مسند سے اٹھا کر خود صاحب سلطنت اور حکمراں بن چکے تھے۔

6۔  مغرب کے تازہ بہ تازہ صناعات ہندوستانیوں کے فکر و نظر کو متاثرکر رہے تھے۔

7۔   جدّت کے نام پر مادیت کو فروغ دیا جارہاتھا۔

8۔   قدامت کے پردے میں ایمانیت تک کو ہدف ملامت بنایا جارہا تھا۔

9۔   خود غالب فرنگیوں سے بہت متأثر تھے،ان سے روابط رکھتے تھے۔

10۔  ان کی شان میں قصائد کہتے تھے، ان کے درباروں میں شرکت کرتے تھے۔

11۔  جدید ایجادات (ماچس،ریل ،گراموفون) کو داد و ستائش کا منظوم خراج پیش کر چکے تھے۔

12۔  اپنی تحریر وں میں انگریزی الفاظ کا استعمال کرتے تھے۔وغیرہ۔

حکیم محمود احمد صاحب کے مضمون میں صرف غالب کی شاعری کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے ۔ انھوں نے غالب کے مختلف اشعار کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غالب کے اشعار میں کیموس ،روح نباتی ،قوت نامیہ،عرق بید، جزواعظم،نسخہ ٔ مرہم ،زخم ،لہو ،تیمار دار ،مسہل ،تبرید،اخلاط فاسدہ وغیرہ طبی اصطلاحات والفاظ ہیں ۔

جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ غالب طبیب نہ تھے، لیکن ان کے خطوط کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ اندازہ ہوتاہے کہ انھیں طب کی شد بدضرور تھی،بلکہ اگر یہ کہا جا ئے کہ غالب کو طب یونانی کے حوالے سے اچھی معلومات تھی تو شاید بے جا نہ ہوگا۔اسی لیے ہم ان کے خطوط میں دیکھتے ہیں کہ وہ کثرت سے نہ صرف طب یونانی کی اصطلاحات کا ذکر کرتے ہیں،بلکہ اکثر مواقع پرطریقۂ علاج پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔چنانچہ ان کے خطوط میں بکثرت طبی حوالے موجود ہیں۔ غالب کی رائے حکماء،ڈاکٹر اور بید سے متعلق کیا تھی، اس کا اندازہ بھی ان خطوط سے لگایا جاسکتاہے ۔مثلاً نواب علاؤالدین خاں علائی کے نام خطوط میں مختلف حکیموں کے نام گنوائے ہیں:

’’نظری میں یکتا حکیم امام الدین خاں ،وہ ٹونک۔عملی میں چالاک حکیم احسن اللہ خاں ،وہ کرولی رہے۔  حکیم محمودخاں وہ ہمسایۂ دیوار بہ دیوار ،حکیم غلام نجف خاں ،وہ دوستِ قدیم ،صادق الولا؛حکیم بقا کے خاندان میں دوصاحب موجود ، تیسرے حکیم منجھلے (حکیم حسام الدین ) وہ بھی شریک ہوجائیں گے ۔ اب آپ فرمائیے حکیم کون ہے ؟ ہا ں دوایک ڈاکٹر ،بہ اعتبار ہم قومی حکام نامور ،یا کوئی ایک آدھ بید، سومنزوی اور گمناــم۔‘‘  (ص ۳۸۲،غالب کے خطوط مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم ،غالب انسٹی ٹیوٹ نئی د ہلی ،2000 )

اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ غالب کے زمانے میں حکماء کااثر ورسوخ بہ نسبت ڈاکٹر اور بید کے زیادہ تھا۔ طب یونانی میں لوگوں کا یقین تھا ۔غالباً1857 کی تباہی کے بعد دہلی سے نامور حکیم اوربید گمنا م یا گوشہ نشیں ہوگئے تھے۔

نواب امین الدین خاں ایک مرتبہ بیمار ہوئے توان کا علاج دہلی میں حکماء کے ذریعے ہورہاتھا اور طب یونانی کی مختلف دوائیں ان کے لیے تیارکی گئی تھیں ۔ علائی کو پریشانی لاحق تھی کہ میرے والد کا علاج بہتر جگہ ہوجائے ،اس لیے غالب سے باربار اصرار کر رہے تھے کہ کسی بہتر حکیم کو دکھا دیں ۔غالب، امین الدین خاں کے علاج سے متعلق علائی کو اطلاع دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’حکیم محمود خاں کے طورپر معالجہ قرارپایا ہے ،یعنی انھوں نے نسخہ لکھ دیا ہے ،سوا س کے موافق حبوب بن گئی ہیں۔ نقوع کی دوائیں آج آکر بھیگیں گی ۔کل حبوب کے اوپروہ نقوع پیا جائے گا‘‘ ۔

(ایضاً ص  ۳۸۳)

غالب نے میر مہدی مجروح کے نام ایک خط میں علم نجوم ،منطق ،فلسفہ وغیرہ کے ساتھ طب کا بھی ذکر کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی اہمیت کتنی زیادہ ہے ۔خط کا وہ حصہ ملاحظہ فرمائیں :

’’ میاں کس قصیّ میں پھنسا ہے؟ فقہ پڑھ کر کیا کرے گا ۔طب ونجوم وہیئت ومنطق ،فلسفہ پڑھ ،جو آدمی بناچاہے۔‘‘   ( ایضاً  ص۵۲۸)

غالب کے خطوط میں طبّ یونانی کی بہت ساری دواؤں کے نام بھی زیر بحث آئے ہیں ۔ شربت نیلوفر ( مذکر ، ایک قسم کے نیلے رنگ کے پھول کا نام جو عموماً دواؤں میں استعمال ہوتاہے )، شربت بنفشہ (مذکر، ایک بوٹی کا نام ہے )، عرق نعناع ( مذکر، پودینہ وہ دیسی کشید کیاہوا سرکہ جو پودینہ کی لاگ سے کھینچا جاتا ہے )، عرق کا سنی ( کا سنی ایک دوا کا نام ہے ) ،عرق بادیان (مؤ نث ،سونف کا عرق)۔

مذکورہ بالا گفتگو کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم غالب کے خطوط میں شامل طبی عناصر ؍اصطلاحات کے تعلق سے باتیں کر یں۔ اس مقالے کولکھنے کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں گورکھپور میں تحقیق کی روایت-مشیر احمد )

1۔ ماء الجبن :  یہ لفظ مذکر ہے۔ صاحب نور اللغات نے اس لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے ’’وہ سفیدی (یا پانی ) جو دودھ کو پھاڑ کر نکالتے ہیں ۔ مزید لکھا ہے کہ وہ پانی جوبکری کے دودھ کو پھاڑ کرسفیدی جد اکرنے کے بعد رہ جاتا ہے ۔ماء الجبن مختلف مواقع پر استعمال کیا جا تا ہے ۔چند مندرجہ ذیل اقتباس سے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ غالب نے اپنے چہیتے شاگرد منشی ہر گوپال تفتہ کے نام ایک خط میں منشی بنی بخش حقیر کی صحت کے تعلق سے لکھا ہے ، جس میں ایک طبی حوالے کے ضمن میں اس لفظ کا استعمال ہوا ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

’’ہمارے شفیق منشی بنی بخش صاحب کو کیا عارضہ ہے کہ جس کو تم لکھتے ہوماء الجبن سے بھی نہ گیا ؟ ایک نسخہ طب محمد حسین خانی میں لکھا ہے اور وہ بہت بے ضر ر اور بہت سود مند ہے مگر اس کا اثر دیر میں ظاہر ہوتا ہے، وہ نسخہ یہ ہے کہ پان سات سیر پانی لیویں اور اس میں سیر پیچھے تو لہ بھرچوب چینی کو ٹ کر ملادیں اور اس کو جو ش کر یں ،اس قدر کہ چہارم پانی جل جاوے۔پھراس باقی پانی کو چھان کر، کوری ٹھلیا میں بھر رکھیں اور جب باسی ہوجاوے ،اس کو پیئیں۔جو غذا کھایا کرتے ہیں ،کھایا کریں۔ پانی دن رات ،جب پیا س لگے یہی پیئیں ۔تبرید کی حاجت پڑے ،ا سی پانی میں پیئیں ۔روز جوش کروا کر ،چھنواکر رکھ چھوڑیں ۔ برس دن میں اس کا فائدہ معلوم ہوگا۔‘‘ ( ایضاً ص  ۲۳۷)

اس خط کے مطالعے سے طب یونانی سے متعلق غالب کی معلومات کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس حد تک وہ اسے ضروری اور کا ر آمد سمجھتے تھے ۔ انھیں طب یونانی پر پورا یقین تھا، اس کے علاوہ ان کے تجربات ومشاہدات کا اندازہ بھی مذکورہ خط سے ہوتاہے۔

2۔  تنقیہ :  ( مذکر ،جلاب لینا ،صاف کر نا، آنتوں کو صاف کر نا )

تنقیہ کا ذکر نواب علاء االدین خاں علائی کے نام ایک خط میں ہواہے ۔جس میں غالب نے نواب امین الدین خاں ( جوعلائی کے والد تھے ) کی بیماری کے تعلق سے بعض حکماء اورڈاکٹر وغیرہ کا ذکرکیا ہے ،اسی ضمن میں لفظ ’’ تنقیہ‘‘ کا ذکر آگیا ہے ۔ غالب کی تحریر ملاحظہ ہو:

’’تنقیہ بہ قے فوراً اور بہ اسہال بعد چند روز عمل میں آیا ۔۔۔کوئی طبیب سوائے تنقیے کے کچھ تد بیر نہ سونچے گا ۔تنقیے میں سواے مخرجا ت بلغم اور کچھ تجویز نہ کرے گا ۔ تجویزہے کہ دودن کے بعد تنقیۂ خاص ہو۔ ‘‘   ( ایضاًص۳۸۲)

علائی کے نام دوسرے خط میں غالب لکھتے ہیں :

’’چونکہ حبوب میں مکرّب دوائیں تھیں۔ بہت بے چین رہے آٹھ دس دست آئے ۔آخر روز مزاج بحال ہوگیا ۔تنقیہ اچھا ہوا ۔‘‘(ایضاًص ۳۸۵)

نواب انور الدولہ سعد الدین خاں بہادرشفق کے نام غالب کے ایک خط میں لفظ تنقیہ کا استعمال ہوا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :

’’اگر صرف تبرید وتعدیل سے کام نکل جائے تو کیا کہنا ،ورنہ بہ حسب رائے طبیب تنقیہ کر ڈالیے۔‘‘(ایضاً  ص۹۸۱)

لفظ’’ تنقیہ‘‘ کاذکر غالب نے منشی بنی بخش حقیر کے نام بھی ایک خط میں کیا ہے ؛ اس میں غالب نے اپنی بیماری کے ضمن میں اس لفظ کا استعما ل کیا ہے :

’’ حکیم احسن اللہ خاں صاحب سے ربط بڑھ گیا اور اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے اور یہ بھی پایۂ علم وعمل میں کسی سے کم نہیں ہیں ۔اس واسطے انھی کی رائے کے مطابق تنقیہ کیا گیا ۔‘‘ ( ایضاً  ص۱۱۲۰)

حقیر کو ہی دوسرے خط میں لکھتے ہیں اوروہاں بھی اپنی بیماری کا ذکر کیا ہے :

’’بات یہی ہے کہ ان امراض کا علاج منحصر کثرت تنقیہ میں ہے اور اس کو حضورِ طبیب وفراغِ خاطر شرط ہے ۔‘‘  (ایضاً  ص  ۱۱۵۶)

ان خطوط کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب کے زمانے میں آنتوں کو صاف کرنے کے لیے تنقیہ پر زیادہ زور دیاجاتاتھا۔

3۔  مسہل :  (مذکر ، اسہال لانے والا،دست آوردوا ،وہ دوا جس سے دست آئے ۔مرکبات میں اس کا استعمال مسہل دینا( یعنی جلاب دینا ،دست آور دوا استعمال کر انا ) اور مسہل لینا (یعنی جلاب لینا ،دست آور دوا کھانا)۔

عہد غالب میں علاج کاطریقہ دورحاضر سے مختلف تھا ،اس دور میں مسہل عام طور پر لیا جاتاتھا ،بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ بغیر کسی بیماری کے یوں ہی مسہل لیا جاتا ۔ایسا اتفاق غالب کے ساتھ بھی ہوا ۔انھوں نے بغیر بیماری کے مسہل لیا تو اس کی اطلاع تفتہ کو ان الفاظ میں دیتے ہیں :

’’میں مسہل میںہوں ،یہ نہ سمجھنا کہ بیمار ہوں ،حفظ صحت کے واسطے مسہل لیا ہے۔‘‘ (ایضاً ص ۲۶۶)

مسہل کی اصطلاح غالب کے خطوط میں بے شمار جگہ آئی ہے ۔مذکورہ بالا خط سے معلوم ہوا کہ مسہل دووجہ سے لیا جاتا تھا ۔ایک تو بیماری کی وجہ سے ،دوسرے حفظ صحت کے واسطے ۔علاج کا جو طریقہ اس دور میں رائج تھا ،آج وہ دیکھنے کو نہیں ملتا مثلاً جو نکیں لگوائی جاتی تھیں اور اس سے فاسد خون باہر نکالا جاتا تھا، ساتھ ہی دست آور دوا بھی استعمال کرائی جاتی تھی، تاکہ معدے کا فسا د باہر نکل جائے ۔ایک مرتبہ نواب مصطفی خاں شیفتہ اپنے علاج کے لیے دلی آئے ہوئے تھے اور انھیں بھی غالباً خون کی ہی کوئی بیماری تھی ۔غالب تفتہ کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے لکھتے ہیں ،جس میں لفظ مسہل کا بھی ذکر ہوا ہے :

’’ پرسوں سے نواب مصطفی خاں صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ایک ملاقات ان سے ہوئی ہے ،ابھی یہیں رہے گے، بیمار ہیں ۔۔۔ فصد ہوچکی ہے ،جونکیں لگ چکی ہیں ،اب مسہل کی فکرہے ۔‘‘ (ایضاًص۳۴۶)

علائی کو ان کے والد نواب صاحب کے مسہل کی اطلاع دیتے ہوئے غالب لکھتے ہیں۔

’’پرسوں تمھارا خط آیا ۔کل جمعے کے دن نواب کا مسہل تھا ۔گیا رہ بجے وہاں سے آیا ۔‘‘( ایضاً ص۳۸۴)

غالب نے ایک جگہ اپنے مسہل لینے کاذکر شفق کے نام خط میں کیا ہے :

’’بندہ عرض کرچکا ہے کہ مسہل میںہوں ،چنا نچہ کل تیسرا مسہل ہوگا۔‘‘(ایضاً  ص۹۸۲)

حقیر کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :

’’ حکیم احسن اللہ خاں میرے چارہ گر ہیں ۔انھوں نے فرمایا کہ آمد فصل نو ہے، تو مسہل لے ڈال ۔ چنانچہ دس بارہ منضِج اورتین مسہل ہوئے ۔تیسرا مسہل تھا آج ۔تبرید پی کرتم کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔‘‘

( ایضاً ص  ۱۱۱۹)

حقیرکو دوسرے خط میں لکھتے ہیں:

ــــــــــــ  "مسہل میں نے اس واسطے لیا تھاکہ میرے اعضامیںدرد رہتا تھااورفضول معدے میں جمع ہوگئے

تھی ــــــ۔”(ایضاًص۱۱۲۰)

دوسری جگہ شفق کو لکھتے ہیں :

’’ ایک فصد ،بائیس منضج ،چار مسہل ،کہاں تک آدمی کو ضعیف نہ کرے ۔‘‘  ( ایضاً ص ۱۰۰۳)

حقیر کو لکھتے ہیں :

’’ اب اگر چہ تپ نہ رہی لیکن اور عوارض پیداہوگئے ۔چنانچہ کل پانچواں مسہل تھا اور کل پھر ہوگا ۔‘‘ (ایضاًص۱۱۴۱)

حقیر کو حسین علی خاں کی بیماری کی اطلاع دیتے ہوئے غالب لکھتے ہیں :

’’آج تیرہواں دن ہے کہ حسین علی نے آنکھ نہیں کھولی ۔دن رات تپ اور غفلت اور بے خودی۔کل بارہویں دن مسہل دیا تھا ۔چا ر دست آئے ‘‘ ( ایضاً ص ۱۱۵۳)

ان خطوط کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسہل بار بار لیا جاتاتھا اور بلا ضرورت بھی لیا جاتا تھا تاکہ معدے کا فساد پوری طرح سے باہر ہوجائے۔

4۔  مْنضِج:  (مذکر ،وہ دواجومواد کو پکادے )،صاحب نوراللغات نے اس ضمن میں لکھا ہے کہ جس کو اطبّا جلاب  سے پہلے استعمال کراتے ہیں ،جس سے طبیعت نرم ہوجاتی ہے ۔

لفظ منضج کا استعمال غالب کے خطوط میں کئی جگہ ہو اہے ۔منا سب معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں نقل کر دیا جائے تاکہ اندازہ ہوکہ غالب کے زمانے میں اس کا استعمال کس طرح ہوتا تھا اور عوام کا یقین کیا تھا ،لفظ منضج کے ذیل میں فصد کا بھی ذکر ہواہے۔دونوں اصطلاحات کا ذکر ایک ساتھ کیا جاتا ہے ۔

5۔  فصد :  ( مؤنث ،رگ سے خون نکا لنا) فصد باسلیق:ایک رگ کا نام جو دل اور جگر سے ہوتی ہوئی ہاتھ میں آتی ہے یعنی انسانی جسم کی ہاتھ کی رگ ۔

منضج کے ہی ضمن میں غالب نے فصد اور فصد باسلیق کا ذکر بھی کئی جگہ اپنے خطوط میں کیا ہے ایک دومثالیں گذشتہ صفحات میں آچکی ہیں بعض یہاں پیش کی جارہی ہیں ۔

انور الدولہ شفق کے نام ایک خط میں غالب اپنی بیماری کا ذکر کر تے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ مجھ کو بھی آج دسواں منضج ہے ،پانچ سات دن کے بعد مسہل ہوگا ۔‘‘ ( ایضاً  ص  ۹۸۱)

اپنی بیماری کے ہی ضمن میں منشی بنی بخش حقیر کو خط میں لکھتے ہیں :

’’ چنانچہ دس بارہ منضج اور تین مسہل ہوئے ۔تیسرا مسہل تھا آج ۔تبرید پی کرتم کو یہ خط لکھ رہاہوں ۔‘‘ (ایضاًص  ۱۱۲۰)

دوسری جگہ شفق کو لکھتے ہیں :

’’ آپ کا بندۂ بے درم خریدہ اچھی طرح ہے ۔ایک فصد ،بائیس منضج ،چار مسہل ،کہاں تک آدمی کو ضعیف نہ کرے ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۰۰۳  )

نواب کلب علی خاں کے نام ایک خط میں غالب نے اپنے متبنیٰ کی بیماری کے تعلق سے لکھا ہے :

’’ مہینا بھر ہوا کہ نہ تپ اترتی ہے ،نہ شانے کا درد جا تا ہے ،حکیم احسن اللہ خاں کی تجویز سے فصد بھی کھلی ، مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔‘‘  ( ایضاً  ص۱۲۳۶  )

منشی بنی بخش حقیر کے نام ایک خط میں غالب فصد کے تعلق سے لکھتے ہیں :

’’ ان دنوں میں حضور والا حضرت خواجہ صاحب کی درگاہ گئے ہوئے تھے اور احقر العباد بھی ساتھ گیا تھا ۔ چنانچہ آپ کا نوازش نامہ جومیرے خط کے جواب میں تھا ، وہ میرے آدمیوں نے وہیں درگاہ میں میرے پاس پہنچایا تھا ۔فرصت جواب لکھنے کی نہیں ہوئی ۔چار دن ہوئے کہ میں درگاہ سے شہر میں آیا ۔ آتے ہی میں نے فصد کھلوائی ۔‘‘  ( ایضاً  ص۱۰۹۴ )

خلیق انجم کے مطابق خواجہ صاحب سے مراد حضرت خواجہ قطب الدین بختیا ر کا کی ہیں ۔ حقیر کو دوسرے خط میں فصد باسلیق کا ذکر کرتے ہوئے غالب لکھتے ہیں :

’’مجھ کوبھی بہ سبب فصل بہار کے ہیجان خون ہے۔احتراق کے شدائدبہ نسبت اور دنوں کے زیادہ ہیں۔ لازم یوں تھا کہ شاہترہ پیتا اور مسہل لیتا مگر کچھ نہ کر سکا ۔صرف فصد باسلیق پر قناعت کی اورآدھ سیر خون لے لیا۔‘‘  ( ایضاً  ص  ۱۰۹۵ )

جیسا کہ گذشتہ مثالوں میں یہ ذکر ہوا ہے کہ فاسد خون باہر نکالنے کے لیے فصد کھلوائی جاتی تھی اور بعض دوسری چیزیں مثلاً جونکیں لگوائی جاتی تھیں تاکہ فاسد خون باہر نکالا جاسکے۔

جونکیں لگنے کا ذکر غالب، علائی کے نام خط میں بھی ایک جگہ کر چکے ہیں ۔ علی حسین خاں غالب کے عزیز ہیں ان کے پائوں کی تکلیف سے غالب کو تشویش ہے کہ اب کیا حال ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

’’ ان کے پاؤں کا حال مفصل تم کو معلوم ہوگا ،جونکیں لگیں ،کیا ہوا ، کہاں تک نوبت پہنچی ۔‘‘ ( ایضاًص ۴۰۶)

6۔  احتراق :  ( مذکر ، گرمی کی شدت ،سوزش ،جلن) ،صاحب نوراللغات نے اس لفظ کی وضاحت کر تے ہوئے لکھا ہے کہ حرارت کے سبب سے کسی خلط کے اجزائے لطیف اور رقیق فانی ہوجائیں اور مابقی اس طرح کثیف ہوجائیں کہ وہ خلط اپنی جنس سے خارج ہونہ یہ کہ جل کر خاکستر ہوجائے اور جوخلط محترق ہوتی ہے وہ سوداے غیر طبعی ہوجاتا ہے ۔

طب کی یہ اصطلاح شفق کے نام ایک خط میں آئی ہے ۔غالب اپنی بیماری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ نہ تپ ،نہ کھانسی ، نہ اسہال ،نہ فالج ،نہ لقوہ ،ان سب سے بدتر ایک صورت پُرکدورت یعنی احتراق کا مرض ۔مختصر یہ کہ سر سے پاؤں تک بارہ پھوڑے ،ہر پھوڑا ایک زخم ، ہر زخم ایک غار ،ہر روز بے مبالغہ بارہ تیرہ پھائے اور پاؤ بھر مرہم درکار ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۰۰۱ )

’’احتراق ‘‘ کا ذکر حقیر کے نام بھی ایک خط میں آیا ہے ۔ملاحظہ ہو:

’’ یہ کافر احتراق کی بیماری جس رنگ سے ظہور کرے ،زائل ہونا نہیں جانتی ۔تخفیف اس میں بمنزلۂ صحت ہے۔‘‘ ( ایضاً  ص ۱۱۴۱ )

اسی بیماری کا ذکر غالب نے حکیم سید احمد حسن مودودی کے نام خط میں بھی کیا ہے :

’’ تین برس عوارضِ احتراقِ خون میں ایسا مبتلا رہاہوں کہ اپنے جسم وجان کی بھی خبر نہیں رہی ۔‘‘

( ایضاً  ص ۱۰۳۰ )

دوسری جگہ احتراق کا ذکر حقیر کے نام خط میں کر تے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ یہاں سب طرح خیر وعافیت ہے ،مخدوم زادہ بھی تندرست ہوتا چلاہے ۔میں بدستور احتراق کی بلامیں مبتلا ہوں۔‘‘( ایضاً  ص  ۱۱۰۴ )

انھی کے نام دوسرے خط میں لکھتے ہیں :

’’ احتراق میں مررہاہوں ،مگر آموں کو تاکتا ہوں کہ کب نکلیں۔‘‘( ایضاً  ص ۱۱۴۲)

انھی کودوسرے خط میں لکھتے ہیں:

"میرا اور آپ کالہو ملتا ہے۔جب وہاں احتراق کی شدتیں ہیں تو یہاں اس کا ظہور کیوں کر نہ ہوــ۔”ــــ

(ایضاً ص۱۰۹۱)

7۔  تپ محرق:  (مؤ نث ،میعادی بخار(تپ دق)

نواب کلب علی خاں بہادر کے نام ایک خط میں غالب نے اپنے فرزند (متبنیٰ ) کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’ ناگاہ تپ محرق نے اسے گھیر ا اور شانے کا درد علاوہ۔مہینا بھر ہوا نہ تپ اترتی ہے ،نہ شانے کا درد جاتا ہے ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۲۳۶ )

8۔ تپ لرزہ :  (وہ بخار جو لرزے کے ساتھ ہو )

غالب نے اپنے عزیز شاگرد مرزا ہر گوپال تفتہ کے نام ایک خط میں اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے کہ  جواب نہ لکھنے کی دووجہ ہے :

’’ ایک تو یہ کہ میں بیمار،چارمہینے سے تپ لرزہ میں گرفتار۔دم لینے کی طاقت نہیں ،خط لکھنا کیسا ۔‘‘

( ایضاً  ص ۲۶۴ )

9۔  حْقنہ :  ( مذکر ، کسی دواکی بتی یا پچکاری پائخانے کے مقام میں چڑھانا تاکہ پاخانہ آجائے ،پچکاری ،شیافہ ، کسی دواکی بتی یا پچکاری جو پاخانہ آنے کے واسطے دی جائے ۔

غالب نے اپنے فرزند (متبنیّٰ) حسین علی خاں کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے منشی بنی حقیر کو خط لکھا ہے، جس میں حقنہ کا لفظ آیا ہے جو ایک طبی اصطلاح ہے ۔غالب کی تحریرملاحظہ ہو:

’’ حسین علی کا حال اگلے خط میں لکھ چکا ہوں ۔ آج سولہواں دن ہے تپ کو،اور نواں دن ہے کہ دانا نہیں کھایا ،سوکھ کر کانٹا ہوگیا ہے ،آج حْقنہ ہورہاہے ،مجھ میں دیکھنے کی تاب نہیں ۔میں دیوان خانے میں بیٹھا یہ خط لکھ رہاہوں ۔ محل میں مردانہ ہے ۔بادشاہی خاص تراش حقنہ کر رہاہے ۔دیکھیے کیا ہو، مجھ کو تو یاس ہے۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۱۵۵ )

10۔  فم ّ معدہ :  ( مذکر ،معدے کا منہ)

11۔  صلابت :  ( مؤنث ،معدے میں صلابت ،معدے میں سختی ،مضبوطی ،سختی جومعدہ یا جگر کے مقام پر ہوتی ہے۔

12۔  ریگ:  ( مؤنث ،پیشاب میں ریگ ، بالو ،ریت، سراب ،وہ ریگ جو گردہ میں پیدا ہوجاتی ہے ۔

غالب نے اپنے ایک خط میں منشی بنی بخش کو اپنے فرزند کی بیماری کا حال رقم کرتے ہوئے طب سے متعلق بعض اصطلاحات ؍عناصر کا ذکر کیا ہے ۔مثلاً

فمِ ّ معدہ ،صلابت اورریگ وغیرہ ۔غالب کی تحریر ملاحظہ ہو:

’’ حسین علی اب اچھا ہے ،یعنی تپ نہیں ، پیشاب میں ریگ آتی ہے ،معدے میں صلابت ہے ،ضعف کی کچھ حد نہیں ، خداکرے بچ جائے ۔اور بالکل اچھا ہوجائے ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۱۵۵ )

دوسری جگہ لکھتے ہیں :

’’ حسین علی اچھا ہوگیا ۔مگر صلابت معدہ اورفم معدہ کی ،ہاں ورم باقی ہے ،کئی دن کے بعد کل پھر تپ چڑھ آئی ۔‘‘ ( ایضاً  ص ۱۱۵۶ )

13۔  قولنج:  ( وہ درد جو پسلی کے نیچے ہوتا ہے )

مرزا ہر گوپال تفتہ کے نام خط میں غالب نے اپنی بیماری کا ذکرکرتے ہوئے بیماری اور علاج کی تفصیلات لکھی ہیں ، جس میں قولنج کا استعمال ہوا ہے ،غالب کی تحریر ملاحظہ ہو:

’’ وہ خط پہلا تم کو بھیج چکا تھا کہ بیمار ہوگیا ۔بیمار کیا ہوا،توقع زیست کی نہ رہی ، قولنج اور پھر کیسا شدید کہ پانچ پہر مر غ نیم بسمل کی طرح تڑپا کیا ۔ آخر عصارۂ ریوند اور ارنڈی کا تیل پیا ۔۔۔۔ گلا ب اور املی کا پناّ اور آلو بخارے کا افشردہ ،اس پر مدار رہا ۔ کل سے خوف مرگ گیا ہے ۔‘‘ ( ایضاً  ص ۲۷۵ )

نواب میر غلام باباخان کے نام ایک خط میں بھی غالب نے اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے قولنج کا استعمال کیا ہے ۔ غالب لکھتے ہیں:

’’گھنٹہ بھرمیں دوبار پیشاب کی حاجت ہوتی ہے ،اگر ایک ہفتے دو ہفتے کے بعد ناگاہ قولنج دورے کی شدت ہوتی ہے ۔طاقت جسم میں حالت جان میں نہیں ۔‘‘( ایضاً  ص ۱۰۰۸ )

نواب رام پور یوسف علی خاں ناظم کو بھی اسی بیماری کا ذکر کر تے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ دعا گو ایک مہینہ بھرسے بیمار ہے ۔ ابتدا وہی قولنج دورے ، بہ سبب استعمال ادویۂ حارّ ہ کہ اس مرض میں اس سے گریز نہیں ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۱۹۵ )

مذکور ہ بالا خط میں ایک دوا حارّہ کا ذکر ہوا ہے۔لفظ حارّ حرارت رکھنے والا یا گرم رکھنے والی دوا کا نام ہے ۔حقیر کے نام ایک خط میں بھی اسی بیماری کا ذکر ہے ۔غالب کی تحریر ملاحظہ ہو:

’’ میرے وجع الصدر کی اتنی فکر نہ چاہیے ۔میرے امراض بیشر دورے ہیں ۔آگے ایک قولنج کا دورہ تھا اب وجع الصدر کا دورہ شروع ہوگیا ہے۔جب یہ درد اٹھ کھڑا ہوتاہے،چار پہر ،چھ پہر، دوپہر رہتا ہے ، پھر رفع ہوجا تا ہے۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۱۱۹ )

وجع الصدرسے مراد سینہ کا درد ہے جس سے غالب دوچار تھے ۔

14۔  رَعشہ:  (مذکر،کپکپی،لرزہ ،تھرتھر اہٹ) ،ایک بیماری جس میں خود بخود ہاتھ وغیر ہ کا نپتے ہیں ۔

نواب میرغلام باباخاں کے نام ایک خط میں غالب نے اپنی بیماری کے ضمن میں لفظ’’ رعشہ ‘‘ کا ذکر کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

’’ آگے اتنی طاقت باقی تھی کہ لیٹے لیٹے کچھ لکھتا تھا ۔اب وہ طاقت بھی زائل ہو گئی ۔ہاتھ میں رعشہ پید ا ہوگیا ۔ بینائی ضعیف ہوگئی ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۰۱۱ )

اسی بیماری کاذکر کرتے ہوئے حکیم سید احمد حسن مودودی کو لکھتے ہیں :

’’ ضعف نہایت کو پہنچ گیا ،رعشہ پیداہوگیا،بینائی میں بڑا فتور پڑا ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۰۳۲ )

نواب کلب علی خاں بہادر نواب رام پورکے نام ایک خط میں بھی اسی بیماری کا ذکر ہے ۔غالب لکھتے ہیں:

’’ خاطراقدس میںنہ گزرے کہ غالب تعمیلِ احکام میں کاہل ہے۔ بصارت میں فتور،ہاتھ میں رعشہ ، حواس مختل ۔ناچار کا تب کی تلاش کی ۔ شہر سراسر ویران ہے۔‘‘ ( ایضاً  ص ۱۲۳۲ )

انھی کے نام خط میں ایک جگہ اور لکھتے ہیں :

’’ اس درویش کا حال اب قابل گزارش نہیں ۔ امراض قدیم بڑھ گئے ۔دوران سر اور رعشہ اور ضعف بصر، تین بیماریاں نئی پیدا ہوئی ہیں ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۲۴۳ )

15۔  صداعِ شدید :  ( مذکر ،شدت کاسرد رد ،دردِ سر)

اس اصطلاحِ طبی کا ذکر منشی بنی بخش حقیر کے نام خط میں ہواہے۔ غالب اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ آخر کا رتپ چڑھی اور صْدا ع شدید عارض ہوا۔۔۔۔ تپ جو عارضی تھی ، جاتی رہی مگر صداع شاید مادی اور بجائے خود ایک مرض حقیقی تھا کہ ہنوز باقی ہے ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۰۹۱ )

گذشتہ اوراق میں تنقیہ کے ضمن میں ایک طبی اصطلاح تبرید وتعدیل کا ذکر ہوا ہے۔

16۔  تبرید:  (مؤ نث ،ٹھنڈی دوا،وہ دوا یا شربت جومسہل کے بعد اس کی حرارت کودورکرنے کے لیے دیتے ہیں ۔ صاحب نوراللغات نے اس کی وضاحت کر تے ہوئے لکھا ہے کہ وہ شربت یا دوا جوتپ کے اول تین دن اور مسہل کے بعد اس کی حرارت کے انطفاکرنے اور دل کو تقویت دینے کے واسطے دی جاتی ہے ۔

17۔  جدوار:  ( مؤ نث ، دافعِ زہربوٹی ، زہر دورکرنے والی جڑ )

منشی بنی بخش حقیر کے نام غالب نے ایک خط میں ان کے صاحبزادے منشی عبداللطیف کی بیماری کے تعلق سے لکھا ہے ، جس میں جدوار کا ذکر ہوا ہے ۔غالب کی تحریر ملاحظہ ہو:

’’ منشی عبد اللطیف کا حال معلوم ہوا۔ خداپر نظر رکھو اور تقویت کی رعایت کیے جاؤ ۔لکھ چکاہوں اور پھر لکھتا ہوں کہ جدوار بہت مفید ہوگی ۔اگر وہاں اچھی نہ ملے تو مجھ کو لکھ بھیجو ،میں یہاں سے بھیج دوں۔‘‘

( ایضاً  ص ۱۱۵۹ )

نواب کلب علی خاں کے نام خط میں بھی جدوار کا ذکر ہواہے ،غالب لکھتے ہیں:

’’اب آپ کو حفظ صحت کے واسطے گاہ گاہ نارجیل دریائی و جدوار کا استعمال ضر ور ہے ‘‘ ( ایضا ً ص ۱۲۱۸)

18۔  ماء اللحم :  ( مذکر، گوشت کا عرق (پانی ) جو کشید کرکے نکالا جائے )

حکیم غلام نجف خاں کے نام خط میں غالب نے ایک نسخۂ ماء اللحم کا ذکر کیا ہے ۔غالب لکھتے ہیں:

’’ ظہیر الدین کی دادی کا بہ عارضۂ سرفہ وسعال رنجور ہونا ۔۔۔۔ اس کی دادی اس موسم میں ہمیشہ ان امراض میں مبتلا ہوجاتی ہے ۔ ایک نسخہ اس کے پاس ماء اللحم کا ہے ، وہ کھچوا  دو اور ذرا خبر لیتے رہو۔‘‘

( ایضاً  ص ۶۳۶ )

نواب کلب علی خاں کے خط میں ان کی بیماری اور مختلف طب یونانی کے ذیل میں ماء اللحم کا ذکر آیا ہے ۔غالب نے متعدد ادویہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

ٰٰ’’ کثیرالاجزا اور معجونین ہیں مفرحِ بوعلی سینا ،خمیرۂ مروارید،خمیرۂ گاؤ زبانِ عنبری ، ماء اللحم غیر منشّی، جس میں طیور کے گوشت اور ادویۂ مفرح ومقوی حرارت وبرودت میں معتدل۔‘‘( ایضاً  ص ۱۲۱۸ )

19۔  زہرمہرہ :  ( مذکر ، ایک قسم کا پتھر جوزہر جذب کر لیتاہے )

منشی بنی بخش حقیر کے نام خط میں ان کے صاحب زادے منشی عبد اللطیف کی بیماری کے ضمن میں غالب نے لکھا ہے :

’’ حال منشی عبداللطیف اور ذکیہ معلوم ہوا ۔گرمی کا موسم ہے ۔ میں جانتاہوں ان دونوں کو زہر مہرہ کا استعمال مفید ہوگا۔ کبھی کبھی شربت نیلوفر میں گھِس کر پلا دیا کریں اور چاٹ لیا کریں۔‘‘

( ایضاً  ص ۱۰۹۷ )

انھی کو دوسرے خط میں لکھتے ہیں :

’’ واسطے خداکے اب کول آگئے ہو، وہ عرق شروع کرو، جس طرح عرض کیا گیا ، کبھی شربت نیلوفر کے ساتھ اور کبھی شربت مرکب کے ساتھ ۔ بندۂ خدا ایک پچاس دن میرا کہا مانو اور اس عرق کو پیو۔‘‘

( ایضاً  ص ۱۱۰۰ )

20۔  رُعاف:  رُعاف کا ذکر منشی نبی بخش حقیر کے نام خط میں ہوا ہے ۔ غالب زین العابدین خاں عارف کی بیماری کی اطلاع  دیتے ہوئے حقیر کو لکھتے ہیں :

’’ کیا پوچھتے ہو زین العابدین خاں کا حال اور کیا کہوں اس کی بی بی کا حال ۔ پہلے اس کی حقیقت سنو۔ بھائی اس کو ناگاہ رْعاف ہوا۔رْعاف میں ناک سے لہو آتا ہے مگر اس کو منہ سے لہو آیا ،ناک سے تھوڑا تھوڑا اور منہ کا کیا حال تھا گویا مشک کا دہانہ کھول دیا ہے ۔ایک ہفتے میں خدا جھوٹ نہ بلوائے آٹھ دس سیر خون نکلا، سیاہ اور بدبودار۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۱۰۰ )

یہاں بو کی شدت بیان کر نے کے لیے غالب نے مشک کا لفظ استعمال کیا ہے ، کیونکہ مشک کی بو بہت شدید ہوتی ہے ۔البتہ مشک خوشبو دار ہوتا ہے اور حالت رعاف میں جو خون نکلتا ہے وہ بدبودار ، یہاں مشک اور رعاف کی وجہ سے نکلنے والے خون میں حد اشتراک صرف بو کی شدت ہے۔ (یہ بھی پڑھیں برقی ادب اورمطبوعہ ادب: باہم فریق یا رفیق؟ – نایاب حسن )

مذکورہ بالا طبی اصطلاحات؍ عناصر کے علاوہ غالب کے خطوط میں بہت ساری دواؤں کا ذکر بھی ہواہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نام یہاں درج کردیے جائیں۔

منشی بنی بخش حقیر کے نام ایک خط میں غالب نے دست سے متعلق دواؤں کے ذ کرکے ساتھ ایک نسخہ تجویز

کر تے ہوئے لکھا ہے :

’’سنا میں نے کہ پھر اس کو دست آنے لگے ۔ صاحب اندیشہ نہ کر و ۔ جوں جوں یہ بڑھتا جائے گا اور حرارت اس کے مزاج میں آتی جائے گی ، ووں ووں یہ حالت رفع ہوتی جائے گی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اصل خیری ،جوارش عود وجوارش مصطگی رکھو۔ نہ ہرروز بلکہ گاہِ گاہِ اس کو چٹا دیاکر و اور خورشہائے ناگوار مت دیاکر و۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۰۹۳ )

منشی بنی بخش حقیر کے ہی نام خط میں طب یونانی کی مختلف دواؤں کا ذکر کیا ہے :

’’ میں جانتا ہوں ان دونوں کو زہر مہرہ کا استعمال مفید ہوگا ۔کبھی کبھی شربت نیلوفرمیں گھس کر پلادیا کریں اور چاٹ لیا کریں ۔ بھائی لڑکوں کا گھر ہے ۔شربت نیلوفر، شربت بنفشہ ، عرق نعناع کی سکنجبیں ،عرق کاسنی، عرق بادیان ، اس طرح کی چیزیں گھر میں تیارکرو ۔گاہِ گاہِ استعمال میں آتی رہیں ۔‘‘  ( ایضاً  ص ۱۰۹۷ )

حقیر کو ایک جگہ دوسرا نسخہ تجویز کیا ہے اور لکھتے ہیں :

’’ منشی عبد اللطیف کا ضعفِ دل ودماغ گویا خِلقی ہے ، اس کی فکر زیادہ نہ کرو۔ نوشدار وخمیرہ گاؤ زبان، خمیرۂ ابریشم ۔دواء المسک ۔ اس طرح کے مرکبات کا استعمال چلاجائے۔ نہ علی الدّ وام بلکہ گاہ گاہ۔‘‘

( ایضاً  ص ۱۱۵۷ )

غالب نے اپنے ایک خط میں نیم کی پتی کا ذکربھی طبی نقطۂ نظر سے کیا ہے ۔ حقیر کو ہی نیم کی پتی کا ایک نسخہ بتائے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ نیم کی پتیاں تم پیتے ہو ، خوب کرتے ہو، یہ کہ اس کو کھا کر ایک بیسن کی ٹکیا گھی ڈال کر کھاتے ہو ،یہ ترکیب عامیانہ ہے ۔ہاں یہ مسلم کہ چنے کی روٹی ان امراض میں اگر غذا منحصر اسی پر کی جائے اور ایک مدت تک یہ طریق نبھ جائے تو بہت نافع ہے ۔ میں ایک بات تمھیں اور بتاتا ہوں ۔ تم نیم کی مستی پیا کرو ۔یعنی بعضا نیم رستا ہے او ر اس میں سے ایک رطوبت نکل کر جم جاتی ہے ، اسے نیم کی مستی کہتے ہیں۔سبیل اس کی یہی ہے کہ دوپیسے بھر سے شروع کر و اور پانچ ماشے بڑھاتے جاؤ۔ جب پانچ تولہ پر آجاؤ تو تھم جاؤ ۔ بھلا زیادہ نہیں تو بیس دن تو پانچ پانچ پیسا بھر پیو۔ پرہیز بدستور ۔بیشتر چنے کی روٹی کھایا کرو ۔ دوا پی کر ٹکیا  کھانی زائد ہے ۔ چنے کی روٹی کے ساتھ وقت غذا کے گھی بہ قدر برداشت طبع کھاؤ ۔ گھیا ،توری، خرفے کا ساگ ، بتھوے کا ساگ، کھیرا،ککڑی ، جس کا قلیہ مرغوب ہو ،کھاؤ۔ دیکھو تو یہ ترکیب موافق آتی ہے یا نہیں۔ ‘‘ ( ایضاً  ص ۱۱۲۱ )

غالب نے منشی بنی بخش حقیر کے نام خط میں بیماری اور روگ کا فرق واضح کر تے ہوئے لکھاہے:

’’یہ جو تپ اور کھانسی مْزمِن ہوجاتی ہے تویہ بیماری نہیں ہے ،روگ ہے۔ اس طرح کے مریض برسوں جیتے ہیں اور اگر قسمت میں ہوتاہے تو اچھے بھی ہوجاتے ہیں ۔ کلثوم کو ماں کا دودھ نہ پلواؤ ،دائی رکھ لو۔ مریضہ کو بھی افاقت رہے گی اور لڑکی بھی راحت پائے گی ۔‘‘ ( ایضاً  ص ۱۱۵۳ )

اس خط میں بیماری اور روگ ایک طبی اصطلاح کا ذکر ہوا ہے اور غالب نے واضح کیا ہے کہ بیماری جب پرانی ہوجاتی ہے تو روگ بن جاتی ہے اس کے علاوہ اس خط میں غالب کے بعض دوسرے طبی تجربات کا علم ہوتاہے ۔

جیساکہ سطوربالا میں ذکر ہوا ہے کہ غالب طبیب نہ تھے لیکن طب یونانی کا بھر پور تجربہ رکھتے تھے، جس کا اندازہ مذکورہ بالا خطوط سے لگایا جاسکتا ہے ۔ غالب نے خود ایک جگہ نواب کلب علی خاں بہادر کے نام خط میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے ۔ضمناً ایک نسخے کا بھی ذکر آگیا ہے ۔غالب لکھتے ہیں :

’’بعد تسلیم معروض ہے ،میں طبیب نہیں، مگر تجربہ کا رہوں ،ستّر برس کا آدمی ہوشیا ر ہوں ۔اورسے یہ کہا نہیں جاتا ۔ حضرت پر بغیر ظاہر کیے رہان ہیں جاتا ۔خدا جانے اور طبیب کیا سمجھتے ہوں گے کہ کیا تھا ۔ میرے نزدیک بہ اشتراک معدہ وقلب یہ مرض طاری ہواتھا۔ اب آپ کو حفظ صحت کے واسطے گاہ گاہ نارجیل دریائی وجدوار کا استعمال ضرور ہے۔ اور معجون طلائی عنبری تقویت قلب میں مجوزہ ٔ حکیم ببر علی خاں مغفور ہے ۔ ورق طلا، عنبراشہب ،عرق کیوڑہ ، قند۔ کثرت اجزا اس ترکیب خاص میں ناپسند۔‘‘  ( ایضاً ص۱۲۱۸)

مذکورہ بالا خط کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب طبیب نہ ہونے کے باوجود طب یونانی میں کس قدر عمل دخل رکھتے تھے ۔ ضمناً بہت ساری دواؤں کے ذکر کے ساتھ ساتھ ایک نسخہ بھی نواب کلب علی خاں کو تجویز کیاہے ۔

اس تفصیلی گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ غالب کے خطوط صرف خیروعافیت دریافت کرنے یا اپنی خیریت سے مکتوب الیہ کو باخبر کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں ، بلکہ ان میں مختلف علوم وفنون کاایک سمندر موجزن ہے ۔خطوط ایک طرح سے کسی انسانی ذہن کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں،ساتھ ہی ان میں معاشرے میں رائج بعض ایسی باتوں کا بھی ذکر ہوتا ہے جو زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ کا اہم باب ہوجاتا ہے ۔غالب کے خطوط میں طب یونانی کا ذکر در اصل اسی تاریخی اوررائج طریقۂ علا ج کا ایک اہم حصہ ہے ۔

غالب کے خطوط کے مطالعے سے بہت سارے گوشے وا ہوتے ہیں ، بعض کا ذکر راقم التحریر اپنی تمہیدی گفتگو میں کرچکا ہے ۔ ان کے خطوط کا ایک اہم پہلو طب قدیم یا طب یونانی بھی ہے ، جس پر اس مقالے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ، کہ غالب کے خطوط میں طبی عناصر؍ اصطلاحات کے علاوہ جابجا طبی حوالے ملتے ہیں اور بہت ساری یونانی ادویات ،جڑی بوٹیوں اور گھریلو نسخوں کا علم بھی ہوتاہے ۔غالب کے زمانے میں عوام کا اعتماد او ر خود غالب کا یقین طب یونانی اور حکماء پر زیادہ تھا ۔ اس عہد میں حکماء کا اثر ورسوخ بہ نسبت ڈاکٹر ز اور بید کے زیادہ تھا ، لوگ علاج ومعالجے کے سلسلے میں حکماء کی طرف رجوع کرتے تھے ۔

امیدہے کہ اس گفتگو سے غالب کے خطوط کو ازسر نودریافت کرنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی اور مزید پہلو نکل کر سامنے آئیں گے ۔راقم الحروف کی معلومات میں اب تک خطوط غالب کا اس حوالے سے مطالعہ سامنے نہیں آیا ہے،اس لیے اسے ابتدائی کوشش سے تعبیر کیا جانا چاہیے،کو شش ہی کسی بڑے کام کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔

 

   ڈاکٹر مشیر احمد،

شعبۂ اردو،

جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی 25

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
خطوط غالبمرزا غالبمشیر احمد
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
صرف تخلیق کاروں کی خوشی کے لیے / پروفیسر سدھیش پچوری – محمد ریحان
اگلی پوسٹ
مانگنے والا – ملک عرفان

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

1 comment

لاک ڈاؤن میں جمعہ اور جمعتہ الوداع - سیف الاسلام سیف - Adbi Miras جون 16, 2021 - 7:54 شام

[…] متفرقات […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں