شاعری کے علا وہ اردو نثر میں بھی غالب ایک منفر د حیثیت کے مالک ہیں۔انھوں نے خطو ط نو یسی کو ایک مستقل صنف کا وقار اور اعتبار بخشا ہے ۔غالب سے پہلے بھی اردو میں خطو ط کے نمو نے ملتے ہیں مگر غالب جیسی خصوصیات اور انفرا دیت ان میں نہیں ملتی ۔بلا شبہ غالب کے خطو ط اردو نثر کا بیش بہا سر مایہ ہیں۔غالب جدت پسند تھے،پر انی روش پر چلنا ان کو گوارا نہ تھا ،انھو ں نے جس طر ح شا عر ی میں اپنی راہ الگ نکا لی اسی طر ح نثر میں بھی ایک نئے اسلو ب کی طر ح ڈالی اور اردو مکتو ب نگا ری کے فن کو نیا رنگ و آہنگ دیا ۔ایک جگہ خو د لکھتے ہیں کہ ’میں نے وہ انداز تحریر ایجا د کیاہے کہ مر اسلہ کو مکالمہ بنا دیا ہے ۔ہز ار کو س سے بہ زبان قلم با تیں کیا کرو ،ہجر میں وصال کے مزے لیاکرو۔‘ غالب نے فارسی میں بھی خطو ط لکھے مگر ان میں وہ دلکشی اور شگفتگی نہیں جو ان کے اردو خطو ط کا امتیا ز ہے۔ان کی زبان صاف ،سادہ اور تصنع سے پاک ہے ،بالکل بو ل چا ل کی زبان میں خط لکھتے ہیں اور یہی ان کی مکتوب نگاری کی بنیادی خصو صیت ہے ۔ان کا یہ دعو یٰ کہ انھوں نے تحریر کو گفتگو کا رنگ دیا اور خط کو ملا قات کا بدل بنا دیا بڑی حد تک درست ہے ۔
اگر چہ فو رٹ ولیم کا لج کے ذریعے جد ید نثر یعنی سادہ و سلیس نثر کا آغا ز ہو چکا تھا مگر اس نثر میں زندگی اور تو انا ئی غالب کے خطو ط نے پید اکی ۔چھو ٹے چھو ٹے جملے لکھ کر بڑی سے بڑی با تیں کہہ دینا غالب کا فن ہے ۔غالب کے بہت سے خطو ط ایسے بھی ہیں جس میں ادبی نکتے بیان کئے گئے ہیں ،اشعا ر کے معانی بیان کئے گئے ہیں اور شعرا سے متعلق را ئے بھی دی گئی ہے ۔اس کے علا وہ غالب کے خطو ط میں علمی و تہذیبی حو الے بھی بکثر ت مو جو د ہیں ۔ان سب خو بیوں کے سا تھ سا تھ ان کے خطو ط میں طنز و ظر افت کے نہا یت خو بصورت اور اعلیٰ نمو نے بھی ملتے ہیں ۔راقم نے اس مضمو ن میں ان کے طنز و ظر افت کی بعض تفصیلا ت پیش کر نے کی کو شش کی ہے
غالب فطرتا ً ظر یف انسان تھے ان کے مزاج میں ظرافت اور شو خی کا عنصر بہت غالب تھا ۔اپنی ذاتی زندگی میں ،دوستوں کی محفلوں میں وہ اپنی باتوں سے لو گو ں کو ہنسا تے رہتے تھے ۔یہی ظرا فت اور شو خی ان کے خطو ط میں بھی بکثر ت ملتی ہے ۔معمو لی سے معمولی بات میں بھی وہ ہنسنے ہنسانے کا بہانہ ڈھو نڈ لیتے ہیں ۔مولانا الطاف حسین حالی نے ’یادگار غالب ‘میں مر زا کے حسن بیان اور ظرافتِ طبع کی ترجمانی خوبصورت اندازمیں کی ہے۔وہ لکھتے ہیں :
’’ مر زا کی تقریر میں ان کی تحریر اور ان کی نظم و نثر سے کچھ کم لطف نہ تھا اور اسی وجہ سے لو گ ان سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کے مشتاق رہتے تھے ،وہ زیادہ بولنے والے نہ تھے ،مگر جو کچھ ان کی زبان سے نکلتا تھا لطف سے خالی نہ ہو تا تھا ۔ظرافت مزاج میں اس قدر تھی کہ اگر ان کو بجا ئے حیوان ناطق کے حیوان کہا جا ئے تو بجا ہے ۔حسن بیا نی ،حا ضر جو ابی اور با ت میں سے بات پیدا کر نا ان کی خصوصیات میں سے تھا ‘‘۔ (ص۔40 )
اس سلسلۂ گفتگو کو آگے بڑھانے سے قبل منا سب معلوم ہوتاہے کہ طنز ومزاح کے فن سے متعلق چند بنیادی باتیں پیش نظر رکھی جائیں۔
ہنسنا ہنسانا انسان کی فطر ت میں دا خل ہے ۔اس کے ذریعے تھو ڑی دیر کے لیے غم دور ہوجا تا ہے اور انسان خوشی سے ہمکنا ر ہوجا تا ہے۔ہنسنے ہنسانے کا یہ فن اد ب کی اصطلا ح میں مز ا ح کہلا تا ہے ۔
مزا ح کسی کمی کسی بد صور تی پر خو ش دلی سے ہنسنے کانام ہے اس میں غم و غصہ شامل نہیں ہو تا اور مسر ت حاصل کر نے کے سوا اس کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا ۔اس کے بر خلا ف طنز با مقصد ہو تا ہے ۔طنز نگار کسی بر ائی کو اور زیادہ بُر ا بنا کر اس طر ح پیش کر تا ہے کہ لو گ اس بر ائی سے نفر ت کر نے لگیں اور اسے ختم کر نے کی کو شش کریں ۔
جہا ں تک غالب کا تعلق ہے ان کے خطو ط کے مطالعے سے اندا زہ ہو تا ہے کہ مر زا نہ تو زندگی کو طنز کا نشا نہ بنا تے ہیں اور نہ ہی سماج کی دوسر ی باتو ں کو ،بلکہ بیشتر وہ خود اپنی ہی ذات کو طنز کا مو ضو ع بنا تے ہیں ۔غالب کی نثر میں اس طر ح کی مثالیں بکثر ت مو جو د ہیں جس میں انھوں نے خود پر طنز کیا ہے ۔مر زا قر بان علی بیگ خاں سالک کو اپنے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ یہاں خدا سے بھی توقع باقی نہیں ،مخلو ق کا کیا ذکر ،کچھ بن نہیں آتی ۔اپنا آپ تما شا ئی بن گیا ہو ں ۔رنج و ذلت سے خوش ہو تا ہوں ،یعنی میں نے اپنے کو اپنا غیر تصو ر کیا ہے ،جو دکھ مجھے پہنچتا ہے کہتا ہوں کہ لو،غالب کے ایک اور جو تی لگی ۔بہت اتر اتا تھا کہ میں بڑا شا عر اور فا رسی داں ہوں۔ آج دور دور تک میر اجو اب نہیں ۔لے،اب قر ض داروں کو جو اب دے ۔سچ تو یو ں ہے کہ غالب کیا مرا۔بڑا ملحد مرا ،بڑا کا فر مر ا‘‘۔
(ج دوم،ص:820)
اس اقتبا س میں غالب نے اپنے اوپر طنز کیا ہے اور اس سے بہتر طنز خو د غالب کے یہا ں بھی مشکل سے ملے گا ۔وہ طر ح طر ح کی مصیبتیں بر دا شت کر تے ہیں جن کا سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوتا ۔اس لیے عا جز آکر کہتے ہیں کہ اب خدا سے بھی کوئی امید با قی نہیں رہ گئی۔قرض خواہ الگ پر یشان کیے ہو ئے ہیں ۔اس طر ح اپنی غر بت اور تنگ دستی پر بھی طنز کر تے ہو ئے کہتے ہیں کہ ’ لے ایک اور جو تی لگی۔‘
مندر جہ بالا اقتبا س میں بظا ہر غالب نے زندگی سے ما یو سی ،معا شی بد حالی اور اپنی غر بت وغیر ہ کا مذا ق اڑا یا ہے ،مگر ان کے ذہنی کرب کوبھی یہاں بآسانی محسو س کیا جا سکتا ہے ۔اسی طرح علا ء الدین خاںعلا ئی کو لکھتے ہیں:
’’ وہ جو کسی کو بھیک مانگتے نہ دیکھ سکے اور خو د در بہ در بھیک مانگے ،وہ میں ہو ں ‘‘۔ (ج اول ص:417)
اس عبا رت میں بھی طنز کی نشتریت مو جو د ہے ۔غالب حساس اتنے ہیں کہ کسی کو بھیک ما نگتے نہیں دیکھ سکتے مگر دوسر ی طرف اپنی غربت کے ہا تھو ں مجبو ر ہو کر کبھی کسی کے یہا ں ،کبھی کسی کے وہا ں قر ض لینے پہنچ جا تے ہیں ۔میر مہدی مجر وح کے نا م خط میں لکھتے ہیں :
’’ یہ میر ا حال سنو کہ بے رزق جینے کا ڈھب مجھ کو آگیا ہے ۔اس طر ف سے خاطر جمع رکھنا ۔رمضان کا مہینہ روزہ کھا کھا کر کا ٹا ،آئند ہ خدا رزاق ہے ،کچھ اور کھانے کو نہ ملا تو غم تو ہے ‘‘۔ (ج دوم ص: 493)
یہا ں بھی طنزیہ پیر ایہ اختیا ر کیا ہے کہ اگر رزق نہیں تو غم تو ہے ہی ،خدا رزاق ہے ،گو یا غم بھی ان کے نزدیک ایک طر ح کی رو زی ہے ۔
خطو ط غالب سے اب خالص مز اح کے بھی بعض نمو نے پیش کیے جا تے ہیں لیکن یہ ملحو ظ رہے کہ غالب کے مزا ح میں بھی طنز کی زیریں لہر موجو د ہے ۔
امر اؤ سنگھ غالب کے بہت قر یبی اور گہر ے دوست تھے ۔انھو ں نے یکے بعد دیگر ے دوشا دیا ں کیں اور دونوں بیو یوں کا انتقال ہو گیا ۔کسی نے غالب کو لکھا کہ امر اؤ سنگھ تیسر ی شا دی کر رہے ہیں تو مر زا نے تفتہ کے نا م خط میں لکھا :
’’ امر ا ؤ سنگھ کے حال پر اس کے واسطے مجھ کو رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے ،اللہ اللہ!ایک وہ ہیں کہ دو با ر ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ایک اوپر پچا س بر س سے جو پھا نسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے تو نہ پھند اہی ٹو ٹتا ہے ،نہ دم ہی نکلتاہے ‘‘۔ (ج اول ص: 305)
تا ہل کی زندگی کو بیڑی اور پھا نسی کے پھندے سے تعبیر کرنا مز اح کے سا تھ سا تھ طنز کی نشتر یت بھی لیے ہو ئے ہے ۔غالب نماز،روزے کے بہت پابند نہ تھے ،غالباً کسی نے روزہ نہ رکھنے کی شکا یت کی ہو گی اس پر مز احیہ انداز میں منشی نبی بخش حقیر کے نام خط میں لکھتے ہیں :
’’ روزہ رکھتا ہو ں مگر روزے کو بہلا ئے رہتا ہو ں۔کبھی پانی پی لیا ،کبھی حقہ پی لیا،کبھی کو ئی ٹکڑ ا روٹی کا کھا لیا ـــــــ۔۔۔۔۔۔میں توروزہ بہلاتارہتاہوں اور یہ صاحب فرما تے ہیں کہ تو روزہ نہیں رکھتا ۔یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنا اور چیز ہے اور روزہ بہلا نا اور بات ہے ‘‘۔ (ج سوم ص:1130)
اس بیان میں غالب کی طبیعت کی شو خی اور ظرافت پو ری طر ح جلو ہ گر ہے ۔
غالب اپنے تلا مذہ اور احبا ب کی نوع بہ نو ع فر ما ئشوں سے بہت عا جز رہتے تھے ۔اس لیے فر ما ئشیں ٹالنے کی نت نئی تر کیبیں بھی تر اشتے رہتے تھے ۔نو اب علا ء الدین خاں علائی کے یہا ں کسی فر زند کی ولا دت ہو ئی تو انھو ں نے غالب سے یہ فر ما ئش کی کہ تا ریخ ولا دت کہہ دیں یا کم از کم تا ریخی نا م ڈھو نڈدیں ۔اس پر غالب نے علائی کو خط لکھا :
’’ تم سخنو ر ہو گئے ،حسن طبع خدا دا د رکھتے ہو ۔ولادت فر زند کی تا ریخ کیو ں نہ کہو۔اسمِ تا ریخی کیوں نہ نکال لو کہ مجھ پیر غم زدہ ،دل مر دہ کو تکلیف دو ؟علا ء الدین خاں تیر ی جا ن کی قسم ،میں نے پہلے لڑکے کا اسم تا ریخی نظم کر دیا تھا اور وہ لڑکا نہ جیا ۔مجھ کو اس وہم نے گھیر اہے کہ میر ی نحو ست طا لع کی تا ثیر تھی ،میر ا ممدو ح جیتا نہیں ۔نصیر الدین حیدر اور امجد علی شاہ ایک ایک قصیدے میں چل دیے ۔واجد علی شاہ تین قصید وں کے متحمل ہو ئے پھر نہ سنبھل سکے ــ۔۔۔۔۔نہ صاحب دوہائی خداکی میں نہ تا ریخ ولا دت کہوں گا نہ نا م ِ تاریخی ڈھو نڈوںگا‘‘۔ (ج ص:368)
اس اقتباس میں غالب نے نہا یت خو بصو رت مزاحیہ اندا ز میں فرما ئش کی تعمیل سے انکا ر کیا ہے ۔اگر وہ چاہتے تو بر اہ راست انکار کر سکتے تھے مگر یہ خطرہ تھا کہ شا گر د کی دلشکنی ہو گی اس لیے اپنے آپ کو منحوس قر ار دے کر اس فر ما ئش سے نجا ت حاصل کر نا چاہتے ہیں۔ چنانچہ علا ئی سے کہتے ہیں کہ تم خو د ہی سخن ور ہو اور حسن طبع رکھتے ہو ،تم خو د ہی اسمِ تا ریخی نکال لو ،کیو ں مجھے تکلیف دیتے ہو ۔پھر کہتے ہیں کہ بات یہ ہے میں منحو س ہو ں جس کی تعر یف کر تا ہو ں وہ زندہ نہیں رہتا ۔حسن بیا ن اور حسن تعلیل کے ساتھ مز اح کا یہ نہا یت خو بصو رت اندازہے ۔اس طر ح کے پیر ا یۂ بیا ن سے غالب کو نجا ت بھی مل گئی اور شا گر د ودوست کی دلشکنی بھی نہیں ہو ئی ۔اس شگفتہ پیر ایۂ اظہار کی وجہ سے بیان میں خو بصورتی اور رعنا ئی بھی پیدا ہو گئی ہے ۔
دنیا کی سب سے تلخ حقیقت مو ت ہے ۔مو ت کے تذ کر ے کے وقت ،ہنسوڑ سے ہنسوڑ آدمی بھی شو خی و ظرافت کا لبا دہ اتا کر سنجیدہ ہو جا تا ہے ،لیکن غالب اپنے تعزیتی خطو ط میں بھی اپنی فطر ی شو خی اور خو ش طبعی سے با ز نہیں آتے ۔
(اسے بھی پڑھیں۔ غزل اور تدریس غزل-پروفیسر خالد محمود
مر ز ا حاتم علی مہر کی محبو بہ کے انتقال کی خبر سن کر غالب نے مہر کے پا س جو تعز یت نا مہ بھیجا وہ ملا حظہ ہو ،کہتے ہیں :
’’ مر زا صا حب !ہم کو یہ با تیں پسند نہیں ۔پینسٹھ(65)برس کی عمر ہے ۔پچاس برس عالم ِرنگ و بو کی سیر کی ہے۔ابتدائے شباب میں ایک مر شدِ کامل نے یہ نصیحت کی ہے کہ ہم کو زہد و ورع منظو ر نہیں ،ہم ما نع ِ فسق و فجو ر نہیں ۔پیو ،کھا ئو،مز ے اڑائو،مگر یہ یا د رہے کہ مصر ی کی مکھی بنو ،شہد کی مکھی نہ بنو ۔سو ،میر ااس نصیحت پر عمل رہا ہے،کسی نے مرنے کا وہ غم کر ے جو آپ نہ مر ے، کیسی اشک فشانی،کہا ں کی مر ثیہ خو انی ،آزا دی کا شکر بجا لاؤ،غم نہ کھا ئو اور اگر ایسے ہی اپنی گر فتا ری سے خوش ہو تو ’چنا جا ن‘،نہ سہی ’منا جان‘سہی۔میں جب بہشت کا تصو ر کر تا ہوں اور سو چتا ہوں کہ اگر مغفر ت ہو گئی اور ایک قصر ملا اور ایک حو ر ملی ،اقامت ِجا ودا نی ہے اور اسی ایک نیک بخت کے ساتھ زندگا نی ہے ۔اس تصو ر سے جی گھبر اتا ہے اور کلیجہ منھ کو آتاہے ۔ہے ہے وہ حو ر اجیر ن ہو جا ئے گی ،طبیعت کیوں نہ گھبر ائے گی ۔وہی زمر دیں کا خ اور وہی طو بیٰ کی ایک شا خ !چشم بد اور ،وہی ایک حور ۔بھا ئی ہو ش میں آؤ،کہیں اور دل لگا ؤ ‘‘۔
(ج دوم ص: 721-722)
کہنا صر ف اتنا ہے کہ آزا دی کا شکر بجا لا ئو کہ تم کو نجا ت مل گئی اور اگر اپنی گر فتا ری سے خو ش ہو تو کسی اور سے عشق کر و ۔استعا راتی اندا ز میں اسی با ت کو یو ں کہتے ہیں کہ ’چنّا جان ‘نہ سہی ’منّا جا ن‘سہی ۔یعنی تم کہیں دو سر ی جگہ اپنا دل لگا ؤ۔دیکھیے مز اح کا پہلو کیسا خو بصو رت نکا لا ہے کہ اگر میر ی مغفر ت ہو گئی ،جنت مل گئی تو وہا ں کی زندگی تو ہمیشہ ہمیش کی ہے ۔ایک قصر ملے گا اور ایک حور ۔وہ حور اجیر ت ہو جا ئے گی ۔کیسے دل لگے گا ۔طبیعت کیو ں نہ گھبر ائے گی ۔
نو اب علا ء الدین خاں علا ئی کے نا م خط میں لکھتے ہیں :
’’ میا ں میں بڑی مصیبت میں ہو ں ،محل سر ا کی دیواریں گر گئی ہیں ۔پا خانہ ڈھ گیا ،چھتیں ٹپک رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھت چھلنی ہے ۔ابر دو گھنٹے بر سے تو چھت چا ر گھنٹے بر ستی ہے ‘‘ (ج اول ص: 398)
اس خط میں بھی طنز و مز اح کی بہ یک وقت جلو ہ گر ی ہے ۔ایک طر ف اپنی غر بت کا احسا س ہے کہ میر ے گھر کی دیوا ریں گر گئی ہیں،میں بنو ا نہیں سکتا ۔بر سا ت کا مو سم ہے بڑی مصیبت میں ہو ں ۔دو سر ی طرف مز اح کا پہلو یہ نکا لا ہے کہ ’ابر دو گھنٹے بر سے تو چھت چار گھنٹے بر ستی ہے ۔‘اسی صورت حال کا بیا ن مر زا ہر گو پا ل تفتہ کے نا م خط میں اس طر ح کر تے ہیں:
’’ با لا خانے کا جو دالان میر ے بیٹھنے اٹھنے ،سونے جا گنے،جینے مر نے کا محل ،اگر چہ گر ا نہیں ،لیکن چھت چھلنی ہو گئی ،کہیں لگن ،کہیں چلمچی، کہیں اُگا لدان رکھ دیا ۔قلم دان ،کتا بیں اٹھا کر تو شہ خانے کی کو ٹھر ی میں رکھ دیے۔۔۔۔۔۔۔۔ کشتیٔ نو ح میں تین مہینے رہنے کا اتفاق ہو ا،اب نجا ت ہو ئی ہے۔ (ج اول ص: 345-346)
اپنے خستہ و بو سید ہ مکان کو بر سا ت کے مو سم میں ’کشتیٔ نو ح ‘ کہہ کر غالب نے بلا غت اور ظر افت دو نو ں کا حق ادا کر دیا ہے ۔
مر زا ہر گو پا ل تفتہ کے نا م ایک خط میں لکھتے ہیں :
’’یہ تمھار ا دعا گو ا اگر چہ اور امو ر میں پا یۂ عالی نہیں رکھتا مگر احتجا ج میں اس کا پا یہ بہت عالی ہے ،یعنی بہت محتا ج ہو ں ۔سو دو سو میں میر ی پیا س نہیں بجھتی ، تمھا ری ہمت پر سو ہزار آفر یں ۔جے پو ر سے مجھ کو اگر دو ہز ار ہا تھ آجا تے تومیر ا قر ض رفع ہو جا تا اور پھر اگر دو چار بر س کی زندگی ہوتی تو اتنا ہی قر ض اور مل جا تا ‘‘۔ (ج اول ص: 258-259)
اس اقتبا س میں غالب نے تعلی کا اندا ز میں اپنی مفلسی کا مذا ق اڑا یا ہے کہہ رہے ہیں کہ میر ا پایہ اور جگہ بلند نہیں مگر احتیا ج میں بہت بلند ہے ۔اظہا ر احتیا ج کا یہ اندا ز نہا یت بلیغ اور دلنشیں ہے ۔
مر زا تفتہ نے جب اپنا دوسرا دیوان مر تب کیا تو غالب سے تقر یظ کی فر ما ئش کی اس کے جو اب میں لکھتے ہیں :
’’ صا حب ! دیبا چہ و تقر یظ کا لکھنا ایسا آسان نہیں ہے کہ جیسا تم کو دیوان کا لکھ لینا ،کیوں روپیہ خراب کر تے ہو اور کیوں چھپواتے ہو؟ اگر یوں ہی جی چا ہتا ہے تو ابھی کہے جا ئو ،آگے چل کر دیکھ لینا ۔اب یہ دیوان چھپو اکر ،اور تیسر ے دیوان کی فکر میں پڑوگے ۔تم تو دو چا ر بر س میں ایک دیو ان کہہ لو گے ، میں کہا ں تک دیبا چہ لکھا کر وں گا ‘‘۔ (ج اول ص: 265-266)
یہا ں غالب نے جھنجھلا ہٹ کے سا تھ مز اح پید ا کیا ہے ۔ایک طر ف تفتہ پر طنز ہے کہ تم تو دو چار برس میں ایک دیوان لکھ لو گے میں کہا ں تک اسی طر ح دیبا چہ لکھتا رہوں گا ۔سا تھ ہی مز اح کا پہلو بھی نکا لا ہے ۔
میر مہدی مجروح کے نا م خط میں تعلّی اور مزاح کو جمع کر دیا ہے لکھتے ہیں:
’’ میا ں 1277 ھ کی با ت غلط نہ تھی ۔مگر میں نے وبا ئے عام میں مر نا اپنے لا ئق نہ سمجھا ۔واقعی اس میں میری کسر شان تھی ۔بعد رفعِ فسادِ ہوا سمجھ لیا جا ئے گا ‘‘۔ (ج دوم ص: 530)
قصہ یہ تھا کہ غالب نے 1277ھ میں اپنی مو ت کی پیشن گو ئی کی تھی ۔کسی نے تفر یح میں لکھا کہ اس سال وَبا بھی پھیلی مگر آپ سلامت رہے اس پر غالب نے لکھا کہ اس وقت مر نا اس لیے منا سب نہیں سمجھا کہ لو گ کہیں گے کہ وَبا کی وجہ سے مر گیا او ر اس عمو می مو ت میں میر ی عز ت پر آنچ آسکتی تھی ۔ا س لیے زند ہ سلامت بچ گیا۔یہا ں تعلّی بھی ہے اور مز ا ح بھی ۔
کہیں کہیں غالب نے عام روز مر ہ کی سی با ت کو مضحک بنا کر پیش کیا ہے ۔مر زا حاتم علی مہر کے نا م خط میں لکھتے ہیں :
’’ جب ڈا ڑھی مو نچھ میں سفید بال آگئے ،تیسر ے دن چیونٹی کے انڈے گا لو ں پر نظر آنے لگے ۔اس سے بڑھ کر یہ ہواکہ آگے کے دو دانت ٹو ٹ گئے ۔نا چا ر مسیّ بھی چھوڑ دی اور ڈاڑھی بھی ‘‘۔ (ج اول ص:719-720)
یہاں غالب نے ایک طرف اپنے بدلتے ہو ئے حلیے کا مذا ق اڑا یا ہے اور دوسر ی جانب اپنی انفر ادیت کا اظہا ر بھی کر دیا ہے ۔
حا صل یہ کہ غالب کے خطو ط میں طنز و مز اح کے نو ع بہ نو ع اسالیب جلو ہ گر ہیں ۔یعنی کہیں تو محض طنز ہے اور کہیں طنز و مزاح بیک وقت مو جو د ہے اور کہیں جھنجھلا ہٹ اور مز اح ہے ، کہیں تعلیٰ اور مز اح ہے اورکہیں صو رت حال کو مضحک بنا کر مزا ح پیدا کر نے کی کو شش کی گئی ہے ۔طنز و مز اح کے جتنے اسالیب اور تبسم زیر لب کی جتنی صورتیں ہمیں غالب کے خطو ط میں دیکھنے کو ملتی ہیں دو سر ے ادیبو ں کے یہاں بہت کم نظر آتی ہیں
مرا جع ومآخذ:
1۔اردو ادب میں طنز و مزا ح ،وزیر آغا ،اکادمی پنجا ب ٹر سٹ،لا ہو ر ۔مارچ 1958
2۔غالب کے خطو ط ج اول، خلیق انجم ،غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی ،2000
3۔غالب کے خطو ط ج دوم ،خلیق انجم ،غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی ،1985
4۔غالب کے خطو ط ج سوم،خلیق انجم ،غالب انسٹی ٹیوٹ ،نئی دہلی،1996
5۔غالب کچھ مضامین ،خلیق انجم ،انجمن تر قی اردو (ہند)،نئی دہلی 1991
6۔یادگار ِغالب ،مو لا نا الطا ف حسین حالی ،اتر پردیش اردو اکادمی ،لکھنؤ،1982
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں استاد ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

