جشن سر سید کے دوسرے رو زعالمی سیمینار ’’ادب اور سماج کے فروغ میں سر سید کا کردار‘‘ عنوان سے تین اجلاس منعقد
میرٹھ19؍ اکتوبر2021
مغلیہ سلطنت کا زوال نہ صرف ایک حکومت کا زوال تھا بلکہ ایک پوری تہذیب کا خاتمہ تھا اور یہ ایک ایسی تہذیب تھی جس کے سائے میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی اقدار نے پر ورش پا ئی تھی۔ سر سید احمد خاں نے چاروں طرف پھیلی ہوئی سیاسی ابتری، معاشی بحران،تعلیمی پسماندگی اور تہذیبی شکست و ریخت کا علاج مغربی تعلیم کے حصول میں دیکھا اور فکرو نظر کے پیمانوں کو جدید حالات اور عصری تقاضوں کے مطابق ڈھال دینے کی ضرورت کا احساس دلایا۔ سر سید احمد خاں نے سماج کے ہر پہلو پر غور کیا اور ان کا ذہن ہمہ وقت مذہبی، معاشرتی، اقتصادی، تعلیمی اور تہذیبی اصلاح کے منصو بے تیار کرتا رہا ۔سر سید احمد خاں نے اپنے عہد کے دگر گوں سیاسی حالات اور تہذیبی انحطاط،بالخصوص مسلمانوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا معروضی انداز میں مطا لعہ کرنے کے بعد ماضی کی تحقیق و تفتیش کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا۔ اس پر آشوب دور میں ایک فرد واحد کا اتنا بڑا کار نامہ ہماری ذہنی و تہذیبی تاریخ کا ایک مہتمم بالشان اور عجیب و غریب واقعہ ہے۔سر سید احمد خاں نے نہ صرف سیاسی ،مذہبی، معاشرتی، اقتصادی اور تہذیبی اصلا ح کے کامیاب منصو بے تیار کیے بلکہ اردو زبان کو بھی انہوں نے بہت کچھ دیا۔در باری اور خواص کی زبان کو سادہ،رواں اور عام فہم زبان میںلکھ کر اردو کو اس قابل بھی بنا دیا کہ وہ نہ صرف عوام کی دسترس میں آ گئی بلکہ علمی اور سائنسی موضوعات کی بھی متحمل ہو گئی۔انہوں نے اس میں مقصدیت، واقعیت اور حقیقت نگاری کے چار چاند لگا دیے جس سے زبان جاندار اور متاثر کن ہو گئی۔یہ لب لباب تھا ان مقالوں کا جوشعبۂ اردو،چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ ،سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز ایسو سی ایشن کے مشترکہ اہتمام میں مفکر قوم،معروف دانشور اور ماہر تعلیم سرسید احمد خاں کے یوم پیدا ئش ۱۷؍ اکتوبر کے مو قع پر17؍ اور18 ؍اکتوبر و روزہ پروگرام کے تحت آج دوسرے دن دوسرا ٹیکنیکل اجلاس10؍ بجے سے11:30؍ بجے تک (آن لائن)شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں پڑھے گئے۔جس میں صدور کی حیثیت سے پروفیسر عارفہ بشریٰ (صدر شعبہ اردو، کشمیر یونیورسٹی) پروفیسر ناصرہ بصری (صدر شعبہ اردو،جے پور یونیورسٹی) پروفیسر شبنم حمید(صدر شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی) اور پروفیسر ثمینہ خان(علی گڑھ یونیورسٹی )شریک رہیں گی ۔اس اجلاس میں مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر شہناز قادری(جموو کشمیر)نے شرکت فر مائی جب کہ مقالہ نگار کے بطور ولا جمال العسیلی ، نے’ ’سر سید احمد خاں اخلاقی اصلاحی مضامین کی روشنی میں‘‘مصر،محترمہ رمیشا قمر، گلبرگہ، نے’’اقوال سر سید اور اصلاح ادب و سماج‘‘ڈاکٹر آمنہ تحسین، حیدر آباد، نے ’’علی گڑھ تحریک اور خواتین کی تعلیم و ترقی‘‘ ڈاکٹر درخشاں زریں، کولکاتا، نے’’اردو زبان اور سر سید کا لسانی شعور‘‘ڈاکٹر ریشما پروین ، لکھنؤ، نے’’سر سید اور تعلیم نسواںڈاکٹر ریحانہ سلطانہ، نو ئیڈا،ڈاکٹر کہکشاں عرفان ،الہ آباد ’’ سر سید اور ان کی صحافت ‘‘عنوانات پر اپنے پر مغز مقالات پیش کیے۔ اور نظامت کے فرائض سیدہ مریم الٰہی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔یہ پورا سیشن خواتین کے لیے مخصوص رہا۔ تیسرا ٹیکنیکل اجلاس18اکتوبر،بروز پیر11:30؍ بجے سے1بجے تک(آن لائن)کا انعقاد ہوا۔جس کی محفل صدارت پر پروفیسر انور پاشا،جے این یو،ڈاکٹر رشید احمد( بنگلہ دیش) اور محترم یو سف ابرا ہم(لندن) جلوہ افروز رہے اور مہمان ذی وقار کے بطور، ڈا کٹر جمال احمد صدیقی، میرٹھ یونیورسٹی نے شر کت کی اور مقالہ نگار کے بطور محترم شاہد وصی،بہار’’سفر نامۂ پنجاب اور سر سید احمد خاں‘‘، محترم ارشد اکرام، سعودی عرب،’’سر سید بحیثیت مصلح قوم ‘‘محترم رکن الدین، راجستھان یونیورسٹی،’ ’علی گڑھ’انسٹی ٹیوٹ گزٹ کی ادبی خدمات‘‘ ،مفتی راحت علی صدیقی، جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی،سر سید کے افکار کی معنویت‘‘ شریک ہوں گے۔ نظا مت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سیانوی انجام دیں گے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پرو فیسر انور پاشا نے کہا کہ سر سید کی تعلیم سے جو فیض عوام کو پہنچا ،اسی کی وجہ ہے کہ آ ج شہر در شہر سر سید کی خدمات پر اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ تبھی سر سید تقریبات کا اصل حق پورا ہو گا۔ڈاکٹر رشید نے کہا کہ تمام مقالات کو سننے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم سر سید کی تعلیمات کو زندگی میں اتاریں تو ہم دنیا میں آنے کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پرو گرام سے سر سید شناسی میں ترقی ہو گی۔ ایسا میرا یقین ہے۔یو سف ابرا ہم ،لندن نے کہا کہ سر سید کی تمام تصا نیف اور رسائل کے مطا لعے کے بعد یہ بھی عیاں ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے وقت کا صحیح استعمال کیسے کریں۔ سر سید احمد خاں نے اپنی زندگی میں اپنے وقت کا صحیح استعمال کر کے وقت کی اہمیت کو ہمارے سامنے پیش کردیا ہے۔ڈاکٹر جما ل احمد صدیقی نے مقالا نگاران کی تعریف کرتے ہو ئے کہا کہ مقالوں میں لکھے گئے مضامین پر نظر کریں تو پتہ چلے گا کہ ایسی کوئی بھی صنف نہیں ہے جس پر سر سید احمد خاں نے قلم نہ اٹھایا ہو۔ ان کی ادبی خدمات سے ہم سب کو مستفیض ہونے کی ضرورت ہے تب ہی ہمیں سر سید کے نظریات اور ان کی تعلیم و تربیت سے فیض حاصل ہو گا۔
چوتھا ٹیکنیکل اجلاس 1:30؍ بجے سے3بجے تک(آن لائن) منعقد ہوا۔جس کی محفل صدارت پر محترم خوا جہ شاہد، دہلی،پرو فیسر فاروق بخشی، حیدر آ بادرو نق افروز رہے جب کہ مہمانان ذی وقار کے بطور ڈا کٹر ارشد اقبال(منیجر، مظفر نگر میڈیکل کالج) حکیم سراج الدین احمد اور انجینئر رفعت جمالی نے شر کت کی اور مقالہ نگار کے بطور ڈاکٹر فرحت خاتون ،نے’’سر سید کی مذہبی فکر‘‘ ڈاکٹر رشید اشرف،ممبئی نے’’ سر سید بحیثیت متنی نقاد‘‘ محترمہ ساجدہ ٹی،کیرل،’’ سر سید احمد خاں اپنے افکار کی روشنی میں‘‘محترم وسیم اکرم، رانچی،نے ’’ سر سید کا نظریۂ جہدو عمل‘‘ اور محترمہ نازیہ ،تمل ناڈو نے ’’سر سید کی اصلاحی کوششیں‘‘عنوانات پر اپنے مقالات پیش کیے۔ جب کہ نظا مت کے فرا ئض فرح ناز انجام دیے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پرو فیسر خواجہ شاہد نے کہا کہ سر سید کے سیاسی و سماجی اور تاریخی افکار کی معنویت کو ہم تبھی سمجھ سکتے ہیں جب ان کی تاریخی تصانیف کا مطالعہ بغور کریں۔ ان کی تعلیم و تربیت سے عام انسان بھی ایک خاص شخصیت کی صفات کو تلاش کرسکتا ہے۔ہمیں ان کے تاریخی،مذہبی، سیاسی خیالات کی روشنی کو ایک ایک فرد کو پہنچا نی ہے۔پرو فیسر فاروق بخشی نے کہا کہ سر سید کی تعلیمات پر اگر ہم غور کریں تو آج بھی ہم ان کی تعلیمات کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی پروفیسراسلم جمشید پوری نے سر سید کی حیات و خدمات پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کر کے سر سید سے اپنی انسیت کو ظا ہر کردیا ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

