انسانی جذبات و احساسات اور اس کے خوابوں اور آرزوؤں کی بے پناہ کائنات اور ان کی اندیکھی خواہشات اور آپسی رشتوں کی شدّت والفت اور اس کی باطنی وازلی کشش، بے لوثی، ایثار اور ماورا التصوّر معصومیت کی مہکار کو سمجھنا اور اسے لفظوں کے پیکر میں ڈھالنا شاید کبھی ممکن نہیں ہوپائے گا۔ کیوں کہ ظاہر کے بجائے باطن، خارج کے بجائے داخل، لفظوں کے بجائے احساس اور شور کی بہ نسبت خاموشی زیادہ مؤثر اور پرگوہوتی ہے۔ کسی سے اپنی بے پناہ محبت، بے انتہا شفقت، بے اندازہ اپنائیت، اٹوٹ لگاؤ کا اظہار کرنے کے لئے ہم چاہے جس قدر لفظوں، دلیلوں اور مثالوں کی ڈھیر لگادیں اس پر معصومیت، اپنائیت، شفقت اور بے انتہا محبت اور خلوص کے ساتھ سچے دل سے کسی کے سرپہ صرف ایک بار بھی ہاتھ پھیرنا گھنٹوں بیٹھ کرتسلّی دینے سے ہزار گنا زیادہ حوصلہ افزا اور راحت و فرحت بخش کام ہوتا ہے۔
محبت، خلوص، اپنائیت، تحفظ کے شدید احساس، اور طمانیت قلب کے ساتھ بچوں کے چہرے پر پھوٹنے والی مسکراہٹ والدین کے لیے ان کے نام لکھ دی جانے والی دنیا بھر کی جاگیروں سے زیادہ اہم اور راحت پہونچانے والی ہوتی ہے۔ وفاداری اور محبت واپنائیت کے دعویٰ کی سچائی اور تصدیق کے لئے لکھی جانے والی سیکڑوں کتابوں پر صاف دل سے بچوں کا اپنے والدین کے لیے اپنائیت کے جذبے کا اظہار بھاری پڑتا ہے۔
کسی بچے کا اپنے والدین سے بچھڑتے وقت رورو کر اپنی جدائی کے غم کا اظہار کرنے کی بہ نسبت محبت کے جذبات سے لبریز بھیگی آنکھوں سے والدین کے چہرے پر آس امید اور حسرت سے ایک نظر ڈال لینا ہزار گنا زیادہ روح فرسا اور دل کوشق کردینے والا عمل ہوتا ہے۔ مگر تیز رفتار بھاگتی دوڑتی زندگی کے شور میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی ہوڑ میں، اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی سچی آرزو میں اور کامیابی و کامرانی کی توصیف و تعریف کی للک میں انسان ان لطیف جذبوں، اور اس کے اظہار کے خاموش دل سوز نغموں پر توجہ نہیں کرپاتاہے۔ مگر لہو کا رنگ تو بہرحال اپنا رنگ دکھاتا ہے۔ اور رشتوں کی صداقت دلوں میں نور بن کر پھیل جاتی ہے۔ خوشبو بن کر مسام جان میں بس جاتی ہے، جس سے روح معطر ہوجاتی ہے۔اور دل اور نظر پر پڑے پردے چاک ہوجاتے ہیں اور پھر دل آئینے کی طرح دمک اٹھتا ہے۔ ایسے روشن اور شفاف آئینے کی طرح جس میں بچے اور والدین دونوں ایک دوسرے کے دلی جذبات کی کیفیات کی جھلکیاں آسانی سے دیکھ لیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے کچھ کہے سنے بغیر ایک دوسرے کے دلوں کی آوازیں سن لیتے ہیں۔ سچ جانیے کہ یہ سماعت ایسی دلکش ایسی روشن، ایسی منور، اور ایسی معطر ہوتی ہے کہ لفظوں اور آوازوں کا بوجھ بھی ناگوار لگنے لگتا ہے۔ یہی رشتہ والدین کو والدین اور بچوں کو بچہ بناتا ہے۔
بچے اپنے والدین کے جگر کے ٹکڑے ہوتے ہیں، اور غور کیجئے کہ جس انسان کا ایک ہی بچہ ہو اس کا کیا عالم ہوتا ہوگا۔ ان کی خوشیوں، آرزوؤں، تمناؤں، امیدوں، اور خوابوں کا بس ایک ہی مرکز ہوتا ہے۔ اس کی جدائی کا وہ بھی دائمی جدائی کا تصوّر کرکے بھی دل شق ہوجاتا ہے۔ یہ ایسی کیفیت ہوتی ہے جسے دنیا کی کسی بھی زبان کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسے صرف اور صرف محسوس کیا جاسکتا ہے وہ بھی تب جب سینے میں ایک زندہ، حساس، اور محبت و شفقت سے لبریز دل ہو۔آج جس کرب لامتناہی اور درد بے کراں سے محمدخورشید اکرم سوزاور ان کی بیگم نزہت جہاں قیصر اپنے اکلوتے بیٹے محمد شکیب اکرم کی حادثاتی موت سے گذررہے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی محال ہے۔
ظاہر ہے کہ شکیب اکرم محمد خورشید اکرم سوز اور نزہت جہاں قیصر کی شاخ آرزو پر کھلا اکلوتا گل سرسبد تھا جس کی خوشبوؤں سے ان کا دامن معطر تھا۔ ان کے گلشن میں بہار تھی، ان کے گھر میں رونق تھی۔ اسی کی چہکاروں سے ان کا گھر آنگن گونجتا تھا۔ اس کی موجودگی اور اس کے وجود سے گھر کا کونا کونا آسودہ تھا۔ اس کی شرارتوں، شوخیوں، بچپن کی معصومیتوں، لڑکپن کی اپنائیتوں اور نوجوانی کی امنگوں سے والدین کے دلوں کے غنچے مہکتے تھے۔ امید کا وہی اکلوتا روشن تارا تھا جو ان کی امیدوں کے آسمان پر چمکتا تھا۔ ان کے خوابوں کی تعبیر بن کر دمکتا تھا۔ ان کی تمناؤں کی انگلیاں پکڑ کر تعلیم و تعلم کی بلندیوں پر پرواز کرتا تھا۔ دونوں خوش تھے، ماں باپ شکرخداوندی کے جذبے سے سرشار تھے کہ اس نے اپنی مہربانی سے ایسا نیرتاباں ان کی آغوش میں ڈالا تھا صرف اس کے ہونے سے ہی زندگی حسین تر نظر آتی تھی۔ گھر کی ہر چیز مسکراتی اور کھلکھلاتی دکھتی تھی۔ زندگی کی مشکل سے مشکل اور تاریک سے تاریک راہیں روشن نظر آتی تھیں۔ یہ بات تو کبھی بھولے سے ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آئی تھی کہ ایک دن زندگی کی ساری خوشیاں یک لخت غم کی چادر اوڑھ کر سوجائیں گی۔ اور امید وآرزو، اور تمناؤں کے سارے چراغ بجھ جائیں گے۔ اور آنکھوںمیں غموں اور دکھوں کی سلائیاں پھر جائیں گی۔
یہ عجیب بات ہے کہ جو لخت جگر اپنی جان سے زیادہ عزیز ہوتا ہے، جس کے ہونے سے پاؤں کا کانٹا بھی گدگداتا ہے۔ اس کے روشن مستقبل کے لیے، اس کی بہترین تعلیم کے لیے، اسے عالم انسانیت کی خدمت کے قابل بنانے کے لیے اسے خود سے الگ کرکے کسی مادر علمی کی آغوش میں ڈالتے وقت بھی ایک عجیب طرح کی امید افزاشادمانی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جب وہی لخت جگر وداع ہوتے وقت پلٹ کر اپنے والدین پر الوداعی نظر ڈالتا ہے۔ تو دل کٹ کر رہ جاتا ہے۔ بہت اندر سے چیخ نکلتی ہے؛
یہ تیری جدائی ہے کہ تقسیم ہماری
محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم ٹوٹ رہے ہیں
اور پھر اچانک ہی اس کے رخصت ہوتے ہی محسوس ہوتا ہے گویا ساری روشنی ایک ساتھ بجھ گئی ہو۔ گھر کی ساری رونقیں ماند پڑگئی ہوں، گویا گھر سے بیٹا نہیں سکھ چین رخصت ہوگیا ہو۔ آنکھوں کی ٹھنڈک چلی گئی ہو۔ دل پر ایک گھونسا سالگتا ہے۔ اس وقت ایسی کیفیت والدین پر طاری ہوتی ہے جس کا اظہار ممکن نہیں ہے۔ مگر دل کے کسی گوشے سے امید سرابھارتی ہے۔ تسلّی کی شبنم برستی ہے کہ ہمیشہ کے لیے تھوڑے ہی جارہا ہے؟ چند ہی برسوں کی بات ہے، اپنی تعلیم مکمل کرکے لوٹ آئے گا۔ علم کی دولت سے مالامال ہوگا۔ مستقبل کی کامیابیاں اس کے قدم چومے گی۔ اپنے لیے والدین کے لیے، گھر خاندان کے لیے، ملّت کے لیے، ملک کے لیے، قوم کے لیے بنی نوع انسان کے لیے راحت کا ذریعہ بنے گا۔ اور پھر ایک دن وہ علم کی دولت سے مالا مال ہو کر، اعلیٰ تعلیم، بہترین اخلاق، عمدہ اور پاکیزہ کردار سے مزین ہو کر عملی زندگی کی شاہراہ پر خود اعتمادی سے اور قوم و ملّت کی خدمت کے جذبے کے احساس کے ساتھ جب وہ پہلا قدم رکھتا ہے تو والدین کے سینے خوشیوں کے روشن باغ بن جاتے ہیں۔ شکرخداوندی کے ننھے ننھے ہزاروں چراغ جل اٹھتے ہیں۔ اس کی شادی کی تیاریوں کے منصوبے بننے لگتے ہیں، اس کے لیے چاندسی دلہن لانے کے خواب سنجوئے جاتے ہیں۔ لیکن زندگی کے راستے تو ہمیشہ پرخطرہوتے ہیں۔ اس راستے پر کون کب حادثے کاشکارہوجائے، موت کب اپنا جال کس پر ڈال کر شکار کرلے کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے۔ یہی شکیب اکرم کے ساتھ ہوا۔ اور خورشید اکرم سوز اور نزہت جہاں قیصر کا ممتا کا باغ اجڑگیا۔ اس کی امیدوں کی دنیا کے سارے چراغ بجھ گئے۔ ان کی محنت، محبت اور شفقت کے شجر کا اکلوتا پرندہ اڑگیا۔ اور رہ گئی اس کی یادیں، اس کی میٹھی باتوں کی درد بھری لہریں۔
کیا خورشید اکرم سوز اور نزہت جہاں قیصر کے غموں اور دکھوں کے اٹھا سمندر کا ہم اندازہ کر سکتے ہیں؟ نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم تو بس ان کے لیے صرف دعائیں کرسکتے ہیں کہ اللہ ان کے غموں کو راحت میں بدلنے کی کوئی سبیل نکال دے۔ ان شگاف جگر کومرہم فراہم کردے۔ ان کے دکھوں کے اندھیرے میں ڈوبے دلوں میں امیداور حوصلے کا چراغ روشن کردے۔ انہیں اپنی بہترین نعمتوں میں سے ساری نعمتیں عطاکردے۔ باالخصوص صبر کی نعمت سے انہیں نوازدے۔ تاکہ وہ اپنے لخت جگر شکیب اکرم کی جدائی کے غم کو برداشت کرسکیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ مرحوم شکیب اکرم کے والدین، رشتے دار، بھائی بند، دوست احباب سب کو صبر جمیل عطاکرے۔ اور مرحوم کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں اپنے پاس رکھے۔ ہم سبھی اس غم میں خورشید اکرم سوز، نزہت جہاں قیصر اور ان کے اپنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ آپ کا شریکِ غم حافظ ؔ کرناٹکی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

