افکار و اظہار: مضامین کا مجموعۂ غزل – سفیر صدیقی
اظہارِ خیال کے وسائل میں نظم و نثر کے مابین ایک خط امتیاز موجود ہے، لیکن بعض اوقات یہ خط امتیاز بہت حد تک دھندلا ہوجاتا ہے۔ اور خاص کر آج تو یہ اور بھی دھندلاتا جارہا ہے جہاں ‘‘نثری نظم’’ کی اصطلاح نہ صرف استعمال ہورہی ہے بلکہ مقبول ہوتی جارہی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس اصطلاح سے بڑی الجھن ہوتی ہے۔ مجھے یہ عجیب لگتا ہے کہ ‘‘نثری نظم’’ کوئی بامعنی اصطلاح ہوبھی سکتی ہے، یہ ترکیب میٹھے ادرک کی ترکیب جیسی عجیب لگتی ہے۔ لہٰذا میں ذاتی طور پر اس اصطلاح کا استعمال پسند نہیں کرتا، لیکن محترم معین شاداب کی نثر کےلیے اگر اس اصطلاح کو استعمال کرلیا جائے تو شاید کوئی مضائقہ نہیں، کیوں کہ معین شاداب کی نثر میں شعریت، ابہام، ذومعنویت اور زبان کا خلاقانہ استعمال و افسانوی طرز بیان، ہر وہ خاصیت موجود ہے جو مبینہ ‘نثری نظم’ کی بتائی جاتی ہے۔ ان کے تازہ مجموعۂ مضامین ‘افکار و اظہار’ میں شامل ہر مضمون کسی نثری نظم سے کم نہیں۔ یوں تو ان کی شناخت شاعر، صحافی اور ناظمِ مشاعرہ کے طور پر مستحکم ہے، لیکن ان مضامین کے مطالعے کے بعد یہ امتیاز کرپانا ذرا مشکل ہے کہ وہ بہترین شاعر ہیں یا بہترین نثرنگار۔ ان کی نثر کو صرف رواں دواں نثر، شاداب نثر یا تخلیقی نثر کہہ کر ہی پیچھا چھڑایا نہیں جاسکتا، بلکہ ان کی نثر میں تخلیق سے بہت آگے کی شاعرانہ خصوصیات بھی شامل ہیں۔ یہاں ایک بات عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میرے ذاتی خیال میں کوئی بھی ادبی نثر تخلیقی عنصر سے خالی نہیں ہوسکتی۔ لہذا نثر کا عام ادبی فن پارہ بھی کسی نہ کسی سطح پر تخلیق سے عطر کشید کرتا ہی کرتا ہے۔ ورنہ وہ نثر، نثر تو ہو سکتی ہے، لیکن ادبی نثر نہیں۔ افسانوی نثر کے تخلیقی ہونے میں تو خیر کوئی شبہ ہی نہیں، لیکن غیر افسانوی نثر کی بھی تقریباً تمام اصناف کا جائزہ لیں، تو خواہ وہ خاکہ ہو یا انشائی، سوانح ہو یا رپورتاژ، خطوط ہوں یا ادبی مضامین، تمام کے تمام تخلیقی حسیت سے یکسر خالی ہوکر وجود میں نہیں آسکتے۔ بقول ڈاکٹر خالد مبشر افسانوی اور غیر افسانوی نثر کا بنیادی فرق بس یہی ہے کہ افسانوی نثر میں ایک خاص نتیجۂ فکر پہلے سے معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد پر افسانوی نثر کے تابے بانے بنے جاتے ہیں، جب کہ غیرافسانوی نثر کی بنیاد کسی نتیجۂ فکر پر نہیں ہوتی، بلکہ اس کی مدد سےنتائج کا استخراج کیا جاتا ہے۔ لہذا ادبی نثر کا محض تخلیقی ہونا ہی انتہائے کمال نہیں ہے، بلکہ کمال تو یہ ہے کہ اسے سہل ممتنع شعر کی نثر جیسا مقام حاصل ہوجائے، جو بظاہر تو نہایت سادہ، رواں اور آسان ہو، لیکن اس کے بطن میں جہانِ معنی پوشیدہ ہو۔ اور یہ کمال معین شاداب صاحب کی نثر میں حد درجہ موجود ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو رسم الخط: خوش فہمیاں، غلط فہمیاں اور نافہمیاں – سفیر صدیقی )
‘افکار و اظہار’ معین شاداب صاحب کے مضامین کا تازہ مجموعہ ہے جس میں ان کی وہ تحریریں شامل ہیں جو انھوں نے مختلف شعرا کے حوالے سے رقم کی ہیں۔ اس کتاب کی سب اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شامل اکثر مضامین ایسے شعرا پر مبنی ہیں جو یا تو کم معروف ہیں یا غیرمعروف۔ یعنی انھوں نے ایک جوہری کی طرح عام پتھروں جیسے نظر آنے والے ہیروں کی پہچان کے ساتھ ساتھ ان کی چمک کو اجاگر کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ اور یہ کام آسان بالکل نہیں ہے۔ ہماری ادبی صورتِ حال یہ ہےکہ کسی غیرمعروف ادبی شخصیت پر لکھنا کارِ بےجا خیال کیا جاتا ہے اور اس تحریر کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی، جو مسلمہ معروف شعرا کے علاوہ کم معروف شعرا پر لکھی جاتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے یہاں زندوں کی خدمات کا اعتراف بھی کوئی مستحسن رویہ نہیں ہے، بلکہ ہم تو مردوں کے گن گانے کو ہی وجہِ افتخار اور لائق اعتنا سمجھتے ہیں۔ اس رویے کی بنیادی وجہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آسکی ہے۔ لہٰذا معین شاداب صاحب اس بات کے لیے خاص طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جس طرح انھوں نے شاعری میں اپنی ایک الگ راہ بنائی ہے، اسی طرح نثر میں بھی انھوں نے مروجہ رسوم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے جس کے بارے میں مناسب سمجھا، لکھا۔ اور ادبی ماحول کے کسی منفی رویے سے خائف نہیں ہوئے۔ اور میرا بھی یہ ماننا ہے کہ معروف شعرا پر اس قدر کام ہوچکا ہے کہ ان پر کوئی نئی بات کرنا بالکل بھی آسان نہیں ہے۔ ایک ہی موضوع پر کئی کئی کتابیں موجود ہیں۔ اور ان کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب میں بات ایک ہی کہی گئی ہے، نیا کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن میں کچھ نیا پہلو پیش کیا جاتا ہے۔ ورنہ اس طرح کی عمومی کتابوں میں بس الفاظ کی در و بست اور اندازِ بیان کے نئے پن کے علاوہ اور کچھ بھی نیا نہیں ہوتا۔ ‘مضمون آفرینی’ کا یہ عمل شاعری میں تو مستحسن ہے لیکن نثر اور خاص کر علمی نثر میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اس بات کا احساس خود معین شاداب کو بھی ہے۔ وہ پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
‘‘اس کتاب سے ہمارے بہت سے اکابر مایوس ہوسکتے ہیں کہ اس میں بڑے لوگوں یا قدیم اور کلاسیکی شعر و ادب یا نصابی شعرا اور ادیبوں پر مضامین نہیں ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بڑے ادیبوں اور بڑے ادب پر لکھ کر ہی کوئی قلم کار قابلِ اعتنا ہوسکتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس کلیشے سے باہر آکر کہ کس پر لکھا گیا ہے، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا لکھا گیا ہے اور کیوں لکھا گیا ہے۔’’
‘‘افکار و اظہار’’ میں شامل مضامین کی فہرست ہی قاری کو اپنے سحر میں گرفتار کرلیتی ہے۔ معین شاداب صاحب نے جس طرح کے خلاقانہ عناوین اپنے مضامین کے قائم کیے ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہیں:
‘‘شوکت پردیسی: اندھیرے میں گم سائے کی تلاش’’
‘‘اظہار اثر: خلا میں گونجتی صدا’’
‘‘گوہر عثمانی: نشانِ دیارِ وفا’’
‘‘طاہر تلہری: شہر کے نقشے میں صحرا’’
‘‘رباب رشیدی: پرانے لوگ اب کہاں مگر ہمیں کو دیکھ لو’’
‘‘ظفر مرادآبادی: زرد موسم میں گلوں کی تلاش’’
‘‘ نفیس بانو شمع: پس عمرِ رواں ٹھہرا ہوا غم’’
‘‘اقبال اشہر: ریگ زاروں سےکشید کی گئی روشنی’’
اور ‘‘زاہد ٹانڈوی: چشم پرنم میں سلگتے خواب’’
ایسے طلسماتی اور تخلیقی عناوین ہیں جو پہلی نظر میں ہی قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور متعلقہ مضامین کی قرات پر شدت کے ساتھ ابھارتے ہیں۔
معین شاداب صاحب کا کمال یہ ہےکہ زیرِ نظر مجموعے میں شامل مضامین نہ صرف صاحبِ مضمون شعرا کی شعری زندگی سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں، بلکہ ان کی اصل شخصیت کا خاکہ بھی کھینچ دیتے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل مضامین میں سے کئی بھرپور ادبی خاکے بھی نکالے جاتے ہیں۔ بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، لیکن یہاں بس ایک مثال دیکھیں۔ اعجاز انصاری کے بارے میں معین شاداب ایک جگہ لکھتے ہیں:
‘‘اعجاز صاحب لین دین کے بہت صاف ہیں، پائی پائی کے حساب میں یقین رکھتے ہیں۔ انھیں اس وقت تک قرار نہیں آتا جب تک وہ واجب الادا رقم آنہ پائی سے چکتا نہ کردیں۔ لیکن یہی توقع وہ سامنے والے سے بھی کرتے ہیں، یعنی ان کی وصولی بھی اصولی ہوتی ہے۔ معاملات میں صاف ستھرا ہونے کی عادت سے مجبور اعجاز انصاری جب تعلق اور رشتوں کو بھی آنہ پائی سے ناپنے تولنے لگتے ہیں تو سب کچھ گڑ بڑ ہوجاتا ہے اور ان کا یہ لمحاتی برتاؤ ان کے طویل مدتی سلوک احسن پر پانی پھیر دیتا ہے۔’’ (یہ بھی پڑھیں بجنور کا شعری احساس وآہنگ – ڈاکٹر معین شاداب )
‘‘افکار و اظہار’’ میں شامل مضامین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ معین شاداب نے جس شاعر پر بھی مضمون لکھا ہے اس کی شخصیت اور اس کی شاعری کے حوالے سے مفصل اور مدلل گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ تقریباً سب کے بارے میں ایک جملہ ایسا کہہ دیا ہے جس میں نہ صرف پورے مضمون کا نچوڑ ہوتا ہے بلکہ مذکورہ شاعر کی مکمل ادبی شخصیت کے بنیادی عناصر اس ایک جملے میں سمٹ آتے ہیں۔ یہ جملے ایسی گہریت معنویت، تخلیقیت، استعاریت اور ایمائیت سے لبریز ہیں کہ صرف ایک جملہ اپنے جزئیات پر تفصیلی گفتگو کیے جانے کی صورت میں ایک بھرپور مضمون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ان میں غزل کا سا ایجاز و اختصار، ایمائیت و معنویت اور شاعرانہ طرز اظہار، سب کچھ موجود ہے۔ کچھ مثالیں دیکھیے اور ان جملوں کی معنویت کے ساتھ ساتھ ان کی تخلیقیت اور شعریت پر بھی سر دھنیے:
پنڈت آنند نرائن ملا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ‘‘آنند نرائن ملا کی شاعری تاریکیوں کو روشن کرنے کا عمل ہے۔’’
مانی جائسی کے بارےمیں رقم طراز ہیں کہ ‘‘خوں نابۂ دل سے لکھی گئی مانی جائسی کی شاعری دراصل درد کی ایک ایسی خاموش صدا ہے جو نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے غم کی بھی شرح کرتی ہے۔’’
ثروت میرٹھی کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ‘‘ثروت میرٹھی نے اپنا فکری کوہ طور خلق کرکے در اصل جمال کی پریشانی اور چشم کی حیرانی کو اس طرح ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے کہ مادیت اور روحانیت کے فاصلےمٹ گئے ہیں۔’’
اسی طرح شوکت پردیسی کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ ‘‘شوکت پردیسی کی شاعری کا مطالعہ کرنے کےبعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا یہ رومان صرف عشقیہ رومان نہیں بلکہ زندگی کا رومانس بھی ہے۔۔۔ ان کی شاعری وہ نوائے نیم شب ہے جو رات کے بانکپن کو سحر کی رعنائی سے آمیز کردیتی ہے۔’’
اس جملے میں ‘‘زندگی کے رومانس’’ میں ایسا جہانِ معنی پوشیدہ ہے جس پر جتنا سر دھنا جائے اتنا کم ہے۔
گوہر عثمانی کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ ‘‘گوہر عثمانی نے رسم صلیب و دار نبھاتے ہوئے منصور اور سقراط کی تہذیب کی توسیع کی ہے۔ عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید احساس میں روایت کی نمک آمیزی نے ان کے سخن کو خوش ذائقہ بنا دیا ہے۔’’
شاہد احسن مرادآبادی کے تعلق رقم طراز ہیں کہ ‘‘ان کی شاعری میں لکھنؤ کی شام بھی ہے اور بنارس کی صبح بھی، کہیں کہیں تو ان کے اشعار مصر کا بازار بن جاتے ہیں۔’’
یوسف بہزاد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ‘‘بہزاد کی شاعری اجتماعیت کی بے چہرگی کا عنوان ہے اور انفرادی چہرے کی تلاش بھی۔’’
طاہر تلہری کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں کہ ‘‘نہ وہ دل پر یادوں کے شب خون سے گھبراتے ہیں اور نہ چلچلاتی دھوپ میں سرخ ریگ کو ننگے پاؤں ناپنے میں انھیں کوئی دقت ہوتی ہے۔ غم کا یہی راگ، دل سے اٹھتا ہوا یہی دھواں اور صلیب حیات پر جھولتے ہوئے یہی لمحات ان کے یہاں نغمہ بن کر پھوٹتے ہیں۔’’
عرفان صدیقی کے حوالے سے کیا ہی اہم اور بنیادی جملہ لکھتے ہیں کہ ‘‘عرفان صدیقی کی شاعری پر بات کرنے کے لیے ناسخ و آتش کے لہجے اور انیس و دبیر کے آہنگ سے واقفیت ضروری سمجھی گئی ہے۔’’
ظفر اقبال کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘‘ظفر اقبال کی شاعری نیم شبی میں مانگی ہوئی وہ دعا ہے جو ‘صبحِ آمین’ کے انتظار میں ہے۔’’
معراج فیض آبادی کی شاعری کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں کہ ‘‘معراج فیض آبادی اداس راتوں کی بیداری اور جاگتی راتوں کے اضمحلال سے اپنی شاعری کو دھوپ چھاؤں بخشتے رہے۔’’
مینا نقوی کے مجموعے بادبان کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ‘‘بادبان کے صفحات پر جگہ جگہ آنکھوں کی وہ اجاڑ بستیاں ہیں جہاں موسلادھار اشک باری نے خوابوں کی فصل کبھی اگنے ہی نہ دی۔’’
نفیس بانو شمع کی شاعری کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ ‘‘ان کی شاعری پھولوں کی مسکراہٹ اور بہاروں کا نغمہ نہیں بلکہ صحرا کی آگ کا سیلاب ہےجو دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔’’
منیر ہمدم کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ ‘‘تیز بارش کے بعد جب فلک کا چہرہ دھل جاتا ہے اور قوس قزح کے رنگ کھل اٹھتے ہیں تو میر و غالب کی دلی کے اس البیلے شاعر کی فکر انگڑائی لیتی ہے۔’’
اقبال اشہر کے تعلق سے ایسا بھرپور جملہ معین شاداب کے علاوہ شاید ہی کوئی اور کہہ سکے کہ ‘‘وہ ان معدودے چند شعرا میں شامل ہیں جو ‘کتاب’ اور ‘اسٹیج’ کا فاصلہ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’’
اس طرح کے اور بھی بامعنی اور تخلیقیت و معنویت سے بھرپور جملے کثرت سے ‘‘افکار واظہار’’ کے صفحات کی سیاہی میں ستاروں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ اور مثال میں پیش کیے گئے جملے میری اس تاثراتی تحریر کے عنوان کا جواز فراہم کرنے میں کامیاب ہیں۔میں معین شاداب سر کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ ان کا شکرگزار بھی ہوں کہ انھوں نے ایک بہترین کتاب کے مطالعے کا موقع دیا۔ قوی امید ہے کہ یہ کتاب ادبی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی اور اس کے کئی مضامین حوالے کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

