افسانہ اور افسانہ نگار/ نوشاد منظر – پروفیسر عتیق اللہ
اردو فکشن کی تنقید تا ہنوز ہمارا مسئلہ نہیں بنی ہے۔ان دنوں فکشن کی تھیوری پر گفتگو نے بھی سرگرم حیثیت اختیار کرلی ہے۔بیانیہ کے سلسلے میں بعض نہایت عمدہ مضامین بھی شائع ہوچکے ہیں،لیکن اردو فکشن پر اطلاق کی کوششوں میں اس وقت بھی سست روی پائی جاتی ہے۔ہمارا بیش تر زور نظری مباحث میں صرف ہورہا ہے اور ہماری نئی نسلیں بھی اچھی بری،نہایت بری تنقید کا انبار لگانے میں مصروف ہیں،کمی ہے تو فکشن کو نئے طور سے سمجھنے اور بالخصوص فکشن کی بہترین مثالوں پر عملاً اطلاق کی۔ہمارے ادب میںتخلیق اور تنقید کے مابین خلیج بھی بڑھتی جارہی ہے اور دونوں کے مابین توازن بھی محو ہوتا جارہا ہے،یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔تنقید کی کثرت ہمیشہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر تخلیقی ذہنوں کے تشکیک و تعطّل کا باعث ہوتی ہیں،بجائے اس کے کہ ہماری ذہنی صلاحیتیں تخلیقی کاموں کے لیے صرف ہوں ہم مسلسل تنقید کی جگالی میں ضائع ہورہے ہیں۔اسی تکلیف دہ صورت ِ حال کا ردّ عمل مجھے افسانہ نگاروں کی ان تحریروں میں نظر آتا ہے جو خود تخلیق کا رہیں اور تنقید ان کا منصب بھی نہیں ہے تاہم انھوں نے فکشن فہمی کو عام کرنے کے لیے غالباً یہ قدم اٹھایا ہے۔ان تحریروں کے انتخاب میں عزیزی نوشاد منظر نے کافی محنت کی ہے۔یہ ایک اچھوتا اور لائق تحسین کام ہے۔
ان تحریروں سے نہ صرف اپنے عہد کے فکشن نگاروں کے بارے میں ہمیں ایک ایسی تنقید کے تجربے سے سابقہ پڑتا ہے جو اپنی نوعیت میں تنقید کم مطالعہ زیادہ ہے۔بھاری بھرکم علوم و نظریات سے لدی پھدی پیشہ وارانہ تنقید سے یہ چند دوری اختیار کرکے چلتی ہے۔اسی لیے یہ تازہ کار ہے اور فوراً ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ۔اگرچہ اس قسم کے مطالعات میں فوری تاثرات کا دخل زیادہ ہوتا ہے اور اکثر موضوع بحث اپنے مرکز سے ہٹ جاتا ہے لیکن مجھے ان میں فوری پن کی جھلک کم ہی دکھائی دی ۔ان میں بیش تر ہمارے مؤقر فکشن نگار ہیں،ان کی گفتگو اور ان کی اپنے بارے میں رایوں کی بڑی قیمت ہے۔ممتاز شیریں تو فکشن تنقید میں ایک مستقل حوالے کا حکم رکھتی ہیں۔منٹو، بیدی، حسن عسکری اور دیگر ترقی پسند فکشن نگاروں اور ان کے بعد انور سجاد،بلراج مین را،سریندر پرکاش اور ان کے بعد کی آنے والی نسلوں کی جو حضرات نمائندگی کررہے ہیں، ان کی رائیں محض سرسری رائیں نہیں ہیں بلکہ ان سے ان کا پورا وژن ظاہر ہوتا ہے۔ یہ سب بے حد قابل قدر ہیں۔ان کے بارے میں جب بھی کچھ لکھا جائے گا یہ تحریرں یقینا حوالے کو حکم رکھیں گی۔میں امید کرتا ہوں کہ فکشن نگار زیادہ مضبوطی اور اعتماد کے ساتھ اپنی اس مطالعاتی روش کو جاری رکھیں گے، اس کی توسیع کریں گے اور پیشہ ور نقّادوں کے تحکمانہ،متکبرانہ اور خالی خولی دعووں کی کی پرواہ نہیں کریں گے۔
عزیزی نوشاد منظر کو مبارک باد اور وہ فکشن نگار بھی تحسین کے مستحق ہیں جو بے نیازانہ ایک خاص مقصد کے تحت اس قسم کے مطالعات کی طرف راغب ہیں۔
عتیق اللہ
سابق صدر شعبہ اردو
دہلی یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

