کلاس میں بیٹھی پاکیزہ بہت غصہ تھی وہ دل ہی دل میں اپنے ساتھ بول رہی تھی کہ”پتہ نہیں یہ محمل کینٹن سے چیزیں خریدنے گئی ہے یا بنانے” جیسے ہی محمل کلاس میں آئی تو پاکیزہ کے چہرے کو دیکھ کراُسے اندازہ ہو گیا کہ پاکیزہ بہت غصہ ہے وہ فوراً اُسے صفائی دینے لگی کہ”یار کینٹن میں بہت رش تھا "جس پر پاکیزہ نے کہا "چلو بس ٹھیک ہے چلو باہر چلتے ہیں ۔” دونوں کلاس سے باہر ایک کیفے ٹیریا میں چلے گئے۔محمل کے ہاتھ میں چائے کا کپ اور پاکیزہ کے ہاتھ میں آلو کے چپس تھے۔محمل نے پاکیزہ کے غصے کو نظر انداز کرکے اسکے سامنے چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے کہا کہ "پاکیزہ! لو نہ آج چا چا نے بہت مزے کی چائے بنائی ہے”۔
جس پر پاکیزہ نے بہت سرد لہجے میں محمل کو نظر انداز کیا اور کہا کہ "نہیں مجھے نہیں پسند میں چپس کھا رہی ہوں”۔ پاکیزہ کے انکار سے محمل کو یقین ہوگیا کہ کوئی بات تو ضرور ہے جس پر پاکیزہ مجھ سے خفہ ہے لیکن وہ کیا بات ہے اس نے دل ہی دل میں ٹھان لیا کہ میں خفا، معلوم کرکے دم لوں گی، ۔محمل بار بار پاکیزہ کے سامنے چائے کا کپ بڑھاتی اور کہتی کہ "لو نہ؟ تم کیوں بت بنی ہوئی ہو؟ نہ بات کر رہی ہوں نہ صحیح طرح جواب دے رہی ہوں آخر مسٔلہ کیا ہے”چائے کا کپ جو کہ پاکیزہ کے قریب لایا تھا اور محمل اسے اسرار کر رہی تھی کہ پی لو ۔ جس پر پاکیزہ کو مزید غصہ آیا اور چائے کے کپ کو دھکا دیتے ہوئے کہا کہ "آخر کیا مسٔلہ ہے تمہارے ساتھ” یہ کہنے ہی والی تھی کہ چائے کا کپ پاکیزہ پر گر گیا اور اس کا سارا یونیفارم گندا ہوگیا۔پاکیزہ نے طیش میں آکر محمل کی بہت بے عزتی کی جو کہ محمل نے دوستی کا لحاظ کرکے چپ چاپ سن لی اور کلاس کے اندر چلی گئی ۔
پاکیزہ نے یونیفارم پر لگے داغ کو دیکھ کر کہا ” اوففففف اب یہ کیسے صاف ہو گا”۔ پاکیزہ اٹھی اور واش روم میں گھس گئی۔ اپنی یونیفارم پر لگے داغ کو خوب رگڑ رگڑ کر دھویا لیکن چائے کا داغ تو ہوتا ہی اتنا ضدی ہے وہ کب جاتا ہے۔
پاکیزہ نے کلاس کی گھنٹی سنی تو اپنے یونیفارم کو چھوڑ کر ہاتھ دھو لئے اور کلاس کے لئے چلی گئی۔
پاکیزہ محمل کے قریب آکر کرسی پر غصے میں بیٹھ گئی ۔ محمل نے بھی اس پر زیادہ دھیان نہیں دیا کیوں کہ پاکیزہ کے بدلتے ہوئے رویے نے محمل کو بہت افسردہ کردیا تھا۔
پاکیزہ بھی کرسی پر بیٹھ کر اپنے یونیفارم کا ایسا معائنہ کر رہی تھی جس طرح کوئی فلسفی کرتا ہے ۔
پاکیزہ داغ کو دیکھ کر اندر ہی اندر غصہ کر رہی تھی ۔ ساتھ ساتھ بڑ بڑا بھی رہی تھی کہ "اس محمل کی بچی کو میں نے منع بھی کیا لیکن نہیں اس نے تو میرے یونیفارم پر چائے گرانے کا قسم کھایا ہوا تھا۔ دیکھو گرا بھی دیا” ۔ کلاس میں قریب بیٹھی محمل کو اس نے غصے بھرے نگاہ سے دیکھا ۔
کہ "دیکھو کتنی آرام سے بیٹھی ہے کوئی پرواہ ہی نہیں ہے اس بیگم صاحبہ کو” کلاس شروع ہوئی لیکن پاکیزہ کا دھیان کلاس میں نہیں بلکہ اپنے یونیفارم پر لگے داغ پر تھا ۔ جو اسے اندر ہی اندر کاٹ رہا تھا۔
اپنے یونیفارم پر لگے داغ کو وہ معاشرے کے نگاہ سے جانچ رہی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ ” آخر عورت کے دامن پر یہ داغ کیوں نشان چھوڑ دیتے ہیں جب کہ مرد لاکھ گناہ کرکے بھی پاک ہوتا ہیں ۔ کیوں ہم لوگ عورت کو قصوروار ٹھہراتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ عورت کے دامن کو داغ داغ کرنے میں ہمارے انہی شرفاء کا ہاتھ ہوتا ہے”۔ پاکیزہ ایسا اس لئے سوچ رہی تھی کہ اُسے کوئی پسند تھا اور اظہار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ ہمارے معاشرے میں جب مرد اپنے پسند کے لئے ڈٹ جاتا ہے تو کہا جاتا ہے مرد ہو تو ایسا مگر یہی بات جب عورت پر آ تی ہے تو اُسے بے شرم اور بے حیا جیسے نام دیے جاتے ہیں ۔
سوچوں میں گم پاکیزہ کا خیال اپنے محلے کی اس شازیہ کی طرف جو کبھی اپنے گھر کی نہیں بلکہ پورے محلے کی لاڈلی ہوا کرتی تھی۔ اس کی ہر خواہش حرف آخر سمجھ کر پورا کیا جاتا تھا۔ ایک دن اس لاڈلی نے ان کی محبتوں کو لات مار کر باپ کی پگڑی کو پیروں تلے روندکر اپنے کالج کے چچا کے ساتھ بھاگ گئی۔ وہ لاڈلی اب وہ لاڈلی نہیں رہی تھی جو ہر مہینے پانچ چھ جوڑے بنوایا کرتی آج وہ کالج کی لڑکیوں کی اترن پہننی لگی ۔ اس کے ماں باپ کو جب پتہ چلا تو انہوں نے علاقہ چھوڑ دیا ۔ آج بھی شازیہ بھاگی ہوئی لڑکی کے نام سے یاد ہوتی ہے۔ سوچوں میں غرق تھی کہ استانی نے قریب آکر اس کےسر پر ہاتھ رکھا ۔ پاکیزہ کن خیالوں میں گم ہو۔ جس پر پاکیزہ نے اپنے دامن پر لگے داغ کو دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔

