بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی وفات سے انسان بکھر کر رہ جاتا ہے۔کئی دن تک اسے یقین ہی نہیں ہوتا کہ اب اس کے درمیان وہ ہر دل عزیز شخص موجود نہیں رہا۔کچھ ایسا ہی حال اس وقت راقم کا ہے جس نے تین دن پہلے اپنے محسن ومربی اورمشفق استاذ محترم پروفیسر اشتیاق دانش (2021-1960) کی اچانک وفات کا صدمہ جھیلا ہے۔دو دن سے کوشش تھی کہ ان کے حوالے سے اپنے جذبات و احساسات کوقلم بند کروں، لیکن نہ تو دل ودماغ نے ساتھ دیا اور نہ ہی ہاتھ کی انگلیاں لکھنے پر آمادہ ہوئیں۔ آج پھر کوشش کررہا ہوں اور یادوں کا ایک سیلاب ہے جو امڈاچلا آرہا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی غالباً 29/مارچ کو جب میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ بلریاگنج، اعظم گڑھ تھا تو ان سے میری ’نصف جہاں‘ جو ان کی شاگردہ ہیں،کی فون پر گفتگو ہوئی تھی۔سر اس وقت بہت خوش تھے کیوں کہ وہ جامعہ ہمدرد میں پھر سے واپسی کر رہے تھے، انہوں نے اپنی اس خوشی کا اظہار بھی کیا تھا، نیزانہوں نے دورانِ گفتگو اپنی طبیعت کی اضمحلالی کا ذکر کیا اور کہا کہ ٹھیک ہوجاؤں تو ان شاء اللہ جوائن کرلوں گا۔ کسے خبر تھی کہ اس مبارک موقع سے پہلے ہی موت کا فرشتہ انہیں لینے آجائے گا۔ بہرحال یہ دنیا فانی ہے اوراللہ تعالیٰ کی جو مرضی ہو اس کے آگے ہم سب کو سرتسلیم خم کرنا ہے۔
پروفیسر اشتیاق دانش 13/فروری 1960 میں یوپی کے مردم خیز علاقے اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جامعۃ الفلاح سے فراغت کے بعد جدید تعلیم کے حصول کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے انگریزی میں بی اے، ایم اے اور پھر ویسٹ ایشین اسٹڈیز سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی۔ بعد میں ان کا تقرر جامعہ ہمدرد کے شعبہ اسلامک اسٹڈیزمیں بہ حیثیت اسسٹنٹ پروفیسر ہوا اور پھر اسی میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔اسی دوران شعبہ کے دو بار صدر بھی رہے۔ ان کی دل چسپی کے موضوعات اسلامیات، مغربی ایشیا، ہندوستان میں اسلام کی آمد و سرگزشت اور مسلمانوں کے مسائل وغیرہ تھے۔ انہیں تحریر وتصنیف کا شوق شروع سے ہی تھا چنانچہ انہوں نے اسلام اور گلوبلائزیشن، اسلام اور تکثیریت، اسلام اور فروغ علم اور مغربی ایشیا کے اہم مسائل وغیرہ جیسے اہم موضوعات پرتحقیقی و مدلل مقالات لکھے۔ ان کی تحریریں اردو اور انگریزی دونوں میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ اسی طرح انہوں نے مختلف موضوعات پر اردو یا انگریزی میں دس سے زائد کتابیں تصنیف ومرتب کیں۔حال ہی میں ان کی مرتب کردہ کتاب ”ہندوستان کا مستقبل اور اسلام“ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئ دہلی سے شائع ہوئی تھی جس میں ان کا ایک گراں قدر مقالہ ”اسلامک اسٹڈیز“کے عنوان سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامک اسٹڈیز کے طلبہ و طالبات کو اسے ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ انہیں اس حوالے سے بنیادی معلومات حاصل ہو سکے۔ان کی نگرانی میں 15 سے زائد طلبہ و طالبات نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ انہیں شعر وشاعری سے بھی دل چسپی تھی، چنانچہ فیس بک پر اکثر وبیشتر ان کی غزلیں ہاتھ سے لکھی ہوئی زینت بنتی تھیں۔ان کا پہلا مجموعہ’شورخاموشی‘ کے نام سے شائع ہوکر اہل ذوق کے درمیان پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔
استاد محترم انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز سے بھی وابستہ رہے اور یقینا انہوں نے اس کی علمی سرگرمیوں کو عروج بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی نگرانی میں کئی اہم بین الاقوامی اور قوی سیمینار کا انعقاد ہوا،نیز وہ اس ادارے کے شش ماہی جرنل آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ایڈیٹر رہے۔ اسی طرح وہ تین سال شش ماہی رسالہ اسٹڈیز آن اسلام کے مدیر بھی تھے ۔ ( یہ بھی پڑھیں اشتیاق بھائی – ڈاکٹر صباح الدین اعظمی )
راقم کو باضابطہ تو کبھی استاد محترم سے استفادہ کا موقع نہیں ملا کیوں کہ وہ جامعہ ہمدرد، نئی دہلی میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہے تھے اور ناچیز نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی سے پڑھائی کی تھی، لیکن دوران پی ایچ ڈی غالباً 2014 میں ان سے جو تعلق قائم ہوا، وہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ میں نے ان سے نہ صرف اپنی پی ایچ ڈی میں بلکہ مختلف مقالہ جات کے عناوین طے کرنے اوراس سلسلے میں اہم نکات کو سمجھنے میں مدد لی، یہی وجہ ہے کہ میں انہیں اپنا مشفق استاد تسلیم کرتا ہوں۔ تقریباً سات سال کی مدت میں، میں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اس کو یہاں تحریر کر رہا ہوں جس سے قارئین کو ان کی شخصیت کے بعض پہلوؤں سے واقفیت ہوگی۔
٭ پروفیسر اشتیاق دانش کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ عمر کے اس حصے میں بھی وہ برابر کوئی نہ کوئی کتاب مطالعہ میں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہے کلاس کے لیکچرز ہوں یا توسیعی خطبات، ان میں موضوع سے متعلق مواد اور معلومات کا بھرپور خزانہ موجود رہتا تھا۔ یاد آتا ہے کہ استاد محترم نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک بار”مغربی ایشیا میں اسلام اور مسلمان:ترقیات اور چیلنجز“ اور دوسری بار ”مسئلہ فلسطین“پر توسیعی خطبہ دیا تھا اور اس میں انہوں نے واقعی موضوع کا حق ادا کردیا تھا۔ ہم نوجوانوں کو ان کی اس خصوصیت سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
٭ استاد محترم کی شخصیت اور وضع قطع کافی بھاری بھرکم تھی۔اس سے بالعموم گمان ہوتا تھا کہ وہ بہت ہی سنجیدہ اور کم گو ہوں گے، لیکن جن لوگوں نے ان سے ملاقات کی ہو گی وہ یقینا گواہی دیں گے کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ موصوف مجلس میں چھا جانے والے انسان تھے کیوں کہ وہ مختلف موضوعات پر بے تکان بولتے تھے،البتہ ان کی گفتگو موضوع سے متعلق ہی رہتی تھی، یہی ان کا کمال تھا، ورنہ زیادہ بولنے والے بالعموم اپنے موضوع سے بھٹک جایا کرتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں تکلف نہیں کہ اس سلسلے میں استاد محترم پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی مرحوم کے بعد ان کا ہی درجہ تھا۔ استاد محترم کی اس خصوصیت کا فائدہ اگر سب سے زیادہ کسی کو ہوا ہوگا تو یقینا پی ایچ ڈی کے وہ طلبہ وطالبات ہوں گے جن کا انہوں نے وائیوا لیا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پروفیسر موصوف بالعموم دو یا تین سوال کرتے تھے اور جواب مکمل ملے یا نہ ملے وہ خود ہی اس موضوع پر گفتگو شروع کر دیتے تھے جو کافی طویل ہوتی تھی، متعلقہ طالب علم یا طالبہ کو کچھ زیادہ بولنا نہیں پڑتا تھا۔ اس کا فائدہ خود راقم نے بھی 2018 میں اپنی پی ایچ ڈی کے وائیوا میں اٹھایا تھا۔ پی ایچ ڈی کے وائیوا کے تجربے سے گزرنے والے طالب علم جانتے ہیں کہ اس وقت کیا کیفیت ہوتی ہے؟مجھے جب معلو م ہوا کہ ممتحن پروفیسر اشتیاق دانش ہیں تو آدھا خوف اور ڈر تو ایسے ہی دور ہو گیا کہ شکر ہے کہ زیادہ جواب نہیں دینے ہوں گے۔ انہوں نے چار یا پانچ بنیادی سوالات کیے تھے اور پھر حسب عادت متعلقہ موضوع پرگفتگو شروع کر دی تھی۔ شاید سر ایسا اس لیے کرتے ہوں گے کہ اس سے طالب علم کو حوصلہ ملے گا اور جو کچھ بھی وہ بولے گا، اس میں گھبراہٹ اور ڈر کی وجہ سے غلطی نہیں کرے گا۔
٭ استاد محترم پروفیسر اشتیاق دانش میں عام وخاص کے لیے علمی تعاون اوراپنے شاگردوں کی رہ نمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔اس کی گواہی ان کی وفات پر ملک و بیرون میں پھیلے ہوئے سیکڑوں کی تعداد موجود ان کے خیر خواہوں اور شاگردوں کے فیس بک اور واٹس اپ پر موجود تحریروں نے دی ہے۔ مجھے تو اس کا ذاتی تجربہ بھی مختلف بار ہوا، چنانچہ جب میں نے ان سے اپنے ایک کتابچے ”برصغیر میں نعت گوئی اور چند ہندو نعت گو شعرا“ کے لیے پیش لفظ لکھنے کی درخواست کی توا نہوں نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود نہ صرف پیش لفظ تحریر کیا بل کہ پورے کتابچے پر نظرثانی کرتے ہوئے بعض اصلاحات بھی کیں، نیز عنوان میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے ”ہندو شعرا کی نعت گوئی“ کردیا۔ مجھے بہت افسوس اور دکھ ہے کہ یہ کتابچہ ابھی پریس میں ہی ہے اوراستاد محترم اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اسی طرح انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی کی جانب سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار بہ عنوان ”پروفیسر فواد سیزگین:حیات وخدمات“میں راقم نے اپنا مقالہ ”علومِ اسلامی میں مغرب کا علمی سرقہ اور پروفیسر محمد فواد سیزگین“پیش کیا تھا۔ استاد محترم نے اس عنوان کے تعین میں نہ صرف مدد کی تھی بل کہ اس کے اہم نکات کی طرف اشارہ بھی کیا تھا، نیز جب وہ اس سیمینار میں پیش کیے گئے انگریزی مقالات کو کتابی شکل دے رہے تھے تو راقم نے متعینہ وقت کے گزرنے کے باوجود ان سے درخواست کی کہ اس میں میرا مقالہ بھی شامل کر لیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر چار سے پانچ دن میں ترجمہ کرکے بھیج سکو تو شامل کر لوں گا کیوں کہ تم پہلے ہی تاخیر کر چکے ہو۔حکم کی تعمیل ہوئی،البتہ معلوم نہیں استاد محترم اسے مکمل کر سکے یا نہیں؟بہرحال اسے ان کا بڑکپن ہی کہا جائے گا اور نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزا رویہ بھی۔
٭ استاد محترم پروفیسر اشتیاق دانش انتہائی بے باک، نڈر اور جری انسان تھے۔ اس کی گواہی ان کی وہ تقریریں اور تحریریں بخوبی دیتی ہیں جو مختلف مواقع پر منظر عام پر آئی ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی زندگی حق کے ساتھ اپنے اصولوں پر گزاری اوراس سلسلے میں کسی سے سمجھوتہ نہیں کیا،خواہ اس حوالے سے ان کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کئی ٹی وی چینلوں میں بطور ڈیبیٹر شرکت کی اورمختلف موضوعات پر اپنی آراء کو بے لاگ و لپیٹ دلائل کے ساتھ پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بسااوقات بعض چینلوں نے انہیں دوبارہ اپنے کسی پروگرام میں نہیں بلایا، کیوں کہ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اس شخص کے منہ سے اپنے مطلب کے الفاظ نہیں نکلوائے جا سکتے۔ اس کا تذکرہ انہوں نے راقم سے اپنے گھر پرایک ملاقات میں کیا تھا اور غالباً ان کاموضوع ”ہندوستان میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی“ تھا۔
٭ پروفیسرموصوف اصول وضوابط کے انتہائی پابند تھے اور اس سلسلے میں وہ نہ صرف خود عمل کرتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی عمل کراتے تھے۔ وہ اکثر و بیشتر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں بحیثیت ممتحن یا مختلف مواقع پرتوسیعی خطبہ وغیرہ دینے کے لیے آتے تھے۔ مجھے اس حوالے سے انہیں کئی بار ان کے گھرابوالفضل انکلیو سے شعبہ میں لانے یا واپس پہنچانے کا شرف حاصل ہوا۔ اس دوران ان کی سخت تاکید ہوتی تھی کہ دو ہیلمٹ ساتھ لے کر ہی آنا، ایک اپنے لیے اور ایک میرے لیے، اس کے بنا وہ بائک پر بیٹھنے کے قائل نہیں تھے۔ اس علاقے سے واقف حضرات جانتے ہوں گے کہ شاہین باغ یا ابوالفضل وغیرہ سے جامعہ تک آنے میں شاذ ونادر افراد ہی ہیلمٹ کا استعمال کرتے ہیں کیوں کہ ایک تو فاصلہ زیادہ نہیں ہے اور پھر پولیس اتنا چیک بھی نہیں کرتی ہے۔ بہرحال استاد محترم سے میں نے اس ’خصوصی اہتمام‘ پر سوال بھی کیا کہ سر! اس میں اتنی سختی کی وجہ؟ فرمایا کہ کار وغیرہ کے بالمقابل بائک میں زیادہ خطرہ رہتا ہے اور پھر قانون کا پاس و لحاظ بھی تو ضروری ہے، ورنہ علم حاصل کرنے کا کیا فائدہ؟
٭ پروفیسر موصوف ضیافت،مہمان نوازی، فیاضی اور سخاوت میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ مختلف مواقع پر ان کے گھر جانا ہوا اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے بنا کچھ کھلائے پلائے جانے دیا ہو۔ ایسا رویہ ان کا ہر ایک کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ سائل کو بھی کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے میری ’نصف جہاں‘ سے پوچھا کہ تم لوگ ان سائلوں کوجو مختلف سگنلوں وغیرہ پر مانگتے رہتے ہیں،کچھ دیتی ہوکیا؟ (ان کا اشارہ ایسے افراد کی طرف تھا جو کمانے کی استطاعت کے باوجود بھیک مانگتے ہیں) اس نے جواب دیا کہ سر کبھی کچھ روپئے دیتے ہیں اور کبھی نہیں بھی، فرمایا کہ میں تو دے دیتا ہوں، اب وہ جانیں اور اللہ جانے۔ اسی طرح وہ ہمیشہ روزانہ مزدوری کرنے والوں جیسے رکشہ والے یا کوڑا اٹھانے والوں کی خاموشی سے مدد کیا کرتے تھے اور انہیں ان کی اجرت سے زیادہ ہی رقم دیا کرتے تھے۔
٭ انسان کی اصل پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ اور اعزہ واقارب کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے، اس میدان میں بڑے بڑے علماء وفضلاء کوتاہی کرتے نظر آتے ہیں، لیکن استاد محترم کی ذات یہاں پر بھی قابل ستائش ہے۔ وہ اپنی اہلیہ محترمہ عطیہ دانش اور اپنے دونوں بیٹوں اناس دانش اور نبراس دانش سے شدید محبت کرتے تھے، بالخصوص اپنی اہلیہ سے انہیں اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ اپنے بہت سے قصے جس میں محبت و پیار چھپا ہوتا تھا، اکثر و بیشتر اپنے شاگردوں کو سنایا کرتے تھے۔غالباً وہ چاہتے تھے کہ ان کے شاگرد بھی اپنی ازدواجی زندگی میں خوش وخرم رہیں۔ یاد آتا ہے کہ جب 2020 میں راقم الحروف کی شادی ہوئی تو انہوں نے ایک ملاقات میں مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میری شاگردہ کا خصوصی خیال رکھنا اور اپنی ’اعظم گڑھیت‘ اس کو نہ دکھانا۔ اسی طرح یکم /فروری 2021 میں جب شادی کا ایک سال پورا ہوا تو میں نے از راہ تفریح اس حوالے سے فیس بک پر کچھ پوسٹ ڈالی تھیں، سر کی نظر اس پر جب گئی تو انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”کیوں میری اسٹوڈنٹ کو تنگ کر رہے ہو؟“۔اسی طرح شادی میں ہی وہ اپنی شاگردہ کے لیے ایک بھاری بھرکم تحفہ خود سے اٹھا کر اس کے گھر لائے۔کہاں وہ اتنے بڑے پروفیسر اور میری اہلیہ ان کی معمولی شاگردہ۔ آج کے دور میں اس طرح کی مثالیں ملنا بہت مشکل ہے، لیکن سر کے یہاں اس طرح کی مثالیں اوروں کے ساتھ بھی مل جائیں گی جو ان کے بلند اخلاق، اعلیٰ ظرفی اور بہترین حسن سلوک کی گواہی دیتی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ استاد محترم پروفیسر اشتیاق دانش کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ جو ان سے ایک یا دو بار مل لیتا،ان کا دل سے گرویدہ ہوجاتا تھا۔ اسی طرح وہ اسلامک اسٹڈیز کے ماہرین میں سے تھے اور انہوں نے اپنے پیچھے گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا ہے، ان میں سے بعض ابھی مسودوں اورخوابوں کی شکل میں ادھورے ہیں کہ موت کے پنجے نے انہیں مہلت نہیں دی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے لائق وفائق شاگردوں میں سے کوئی انہیں پایہ تکمیل تک پہنچائے، یہی ان کے لیے سب بڑا خراج تحسین ہوگا۔ آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ استاد محترم کی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں انہیں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

