پروفیسر اشتیاق دانش
اداسیوں کے اس موسم میں جب کہ ہر روز کہیں نہ کہیں سے کسی جاننے والے کی علالت، اسپتال منتقلی یا وفات کی خبر آتی ہے۔ دہلی سے اطلاع آئی ہے کہ ہمارے بے حد محترم، ہر دلعزیز اشتیاق بھائی نہیں رہے انا للہ و انا الیہ راجعون۔
ہمدرد یونیورسٹی کے مجیدیہ ہاسپٹل میں رمضان المبارک کے پہلے جمعتہ المبارک کو انھوں نے زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ چند دن پہلے اطلاع آئی تھی کہ ان کو علالت کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ اور آج صبح ہی رحلت کی خبر آئی۔ اللہ تعالی ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ ان کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔
اشتیاق بھائی مجھ سے کافی سینئر تھے۔ جامعتہ الفلاح میں بھی اور علی گڑھ میں بھی۔ لیکن علی گڑھ میں چونکہ تعلیم کا دورانیہ عموماطویل ہو تاہے اس لئے اکثر پی ایچ ڈی کے سینئر اسکالر اور بی اے کے نئے طلبہ ساتھ ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا۔ اشتیاق بھائی جب جامعتہ الفلاح میں فضیلت کے آخری سال میں تھے ہم ہفتم ثانوی میں پڑھتے تھے۔ اس وقت فضیلت کے آخری سال کے طلبہ ٹریننگ کے لئے ثانوی درجات کے بعض مضامین پڑھاتے تھے۔ اس پروگرام کے تحت اشتیاق بھائی نے ہماری اردو ادب کی بعض کلاسز لی تھیں۔ ان دنوں پڑوسی ملک کی کرکٹ کی ٹیم ہندوستان کے دورے پر آئی تھی اور میچزکا آنکھوں دیکھا حال ریڈیوپر نشر ہوتا تھا۔ مجھے کرکٹ میچز کی کمنٹری سننے کا چسکا تھا۔ میں دوپہر کے وقفے میں گھر آکر واپس کلاس پہنچا تھا ایک ساتھی نے پوچھا کیا اسکور ہے اسی وقت اشتیاق بھائی بھی کلاس میں داخل ہوئے ہماری گفتگو سن کر بولے ہمیں بھی بتاو کیا اسکور ہے ہمیں بھی دلچسپی ہے۔
اشتیاق بھائی کا تعلق بلریاگنج سے قریب کے گاوں نصیر پور سے تھا لیکن وہ جامعتہ کی بورڈنگ ہاوس میں رہتےتھےاور طلبہ کی سرگرمیوں میں کافی ایکٹیو تھے اس لئے جامعہ میں ان کو ہر کوئی جانتا تھا۔ شاعری بھی کرتے تھے۔ انجمن طلبہ قدیم کے غالبا پہلے اجلاس عام میں جب وہ فضیلت کے آخری سالوں میں تھے انھوں نے ترنم سے ایک غزل بھی پڑھی تھی۔جو اب تک ہم ساتھیوں کے حافظے میں محفوظ ہے۔
اشتیاق بھائی فضیلت کی تکمیل کے بعدعلی گڑھ چلے گئے۔ وہاں سے بی اے اور پھر انگریزی میں ایم اے کیا۔ دوران طالب علمی وہ طلبہ تنظیم میں بے حد ایکٹیو رہےاور اس کے آرگن کے ایڈیٹر بھی بنے۔ ایم کرنے کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے اور اسلامک فاونڈیشن یو کے میں بطور ریسرچر کام کیا۔ میں جب بی اے میں داخلے کے لئے علی گڑھ پہنچا تو وہ وہ انگلینڈ سے واپس آچکے تھے اور ویسٹ ایشین اسٹڈیز ( مرکز دراسات غرب ایشیا)ڈیپارٹمنٹ میں ایم فل کے اسکالر تھے۔ اکثر شام میں ہمارے ماموں پروفیسر جاوید احمد خان صاحب جو اس وقت اسی شعبہ میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور سلیمان ہال کےکشمیر ہاوس میں رہتے تھے۔کے کمرے ان سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ ملاقاتیں اتنی تواتر سے ہونے لگیں کہ سینئر جونئیر کا حجاب کم ہوتے ہوتےختم ہو گیا۔ (یہ بھی پڑھیں وجاہت فاروقی – ڈاکٹر عمیر منظر )
اشتیاق بھائی حبیب ہال میں رہتے تھے۔ میں سلیمان ہال کے بھوپال ہاوس میں رہتا تھا۔ میرا کمرہ حبیب ہال اور ان کے شعبے مرکز دراسات غرب ایشیا کے درمیان میں پڑتا تھا۔ اشتیاق بھائی اکثر اپنے ہاسٹل سے ڈیپارٹمنٹ آتے جاتے ہوئے میرے کمرے میں آجاتے۔یہ ان کی اپنائیت اور بڑکپن تھا ورنہ علی گڑھ میں یہ تصور محال ہے کہ کوئی سینئر چل کر جونئیر کے کمرے میں جائے۔ بھوپال ہاؤس کا میرا کمرہ ۔اشتیاق بھائی، عبدالرشید، طارق احسن اور بعض دیگر قریبی ساتھیوں کے ساتھ گزرے اوقات اور تفریحی گفتگوئیں آج بہت یاد آئیں۔ صوفی کا پراٹھا، موجی کے سموسے، شمشاد مارکیٹ میں کلو کے حساب سے ملنے والی بریانی یاد آئی۔ بجلی کے پتھر والے چولھے پر بنا کھانا یاد آیا اور اشتیاق بھائی کے زندگی سے بھرپور قہقہے یاد آئے۔
اکثر میرےہاسٹل کے ساتھی پوچھتے کہ اتنے سینیر ریسرچ اسکالر آپ کے یہاں آتے ہیں۔آپ لوگ باتیں کیا کرتے ہیں؟ میں کیا جواب دیتا۔علی گڑھ میں مجلسیں اور گفتگوئیں کسی ایک موضوع پر نہیں ہوتیں، باتوں کا سلسلہ چلتا رہتاہے۔ ملکی سیاست سے یونیورسٹی کی سیاست تک،میڈل ایسٹ سے لے کر امریکا تک کی پالیسیوں تک۔گاؤں کی باتوں سے کھیل کے میدانوں تک۔ ہماری گفتگووں اور دلچسیوں کا سلسلہ بہت وسیع تھا۔ میرے پاس اس وقت ایک آٹھ انچ اسکرین کا چھوٹا ساٹی وی تھا۔ اس پر اشتیاق بھائی نے ہمارے ساتھ بیٹھ کر انیس سو بانوے کا ورلڈ کپ بھی دیکھا اور وہ بیوٹی کنٹسٹ بھی جس میں ایشوریا رائے مس ورلڈ چنی گئی۔ بھوپال ہاوس کے میرے اسی کمرے میں بیٹھ کر اشتیاق بھائی نے نو منتخب صدر اسٹوڈنٹس یونین اعظم بیگ کی وہ تقریر لکھی تھی جو ان کو انسٹالیشن کی تقریب میں پڑھنی تھی۔ ان کی لکھی تقریر کو کتابت کے لئے بھیجنے سے پہلے میں نے فیر کیا تھا۔
اشتیاق بھائی نے ویسٹ ایشین اسٹڈیز میں ایم فل اور پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کی ریسرچ کا تعلق مغربی سیاحوں کے عرب ممالک کے سفرناموں سے متعلق تھا۔ ایم فل کے مقالے کےلئے جان فلبی کا سفرنامہ ان کا موضوع تھا ۔ اشتیاق بھائی نے مقالہ ٹائپ کرواکر سلیمان ہال کے گیٹ پر جلد ساز سے مقالے کی بائنڈنگ کروائی اور بڑے ہی حوصلے سے لے کر جاوید ماموں جان کو دکھانے کشمیر ہاوس میں ان کے کمرے پر آئے۔ اتفاق سے ہم سب وہیں موجود تھے۔ سب نے ان کو مبارک باد دی۔ اچانک کسی نے پڑھا فیبی۔ اشتیاق بھائی نے چونک کر دیکھا۔ ٹائٹل پیج پر حروف کی سیٹنگ کرتے وقت جلد ساز نےL کا لیٹر نہیں لگایا اور بجائے Philby کے Phiby سیٹ کر دیا تھا۔ یہ انکشاف ہوتے ہی اشتیاق بھائی کی عجیب سی کیفیت ہو گئی جیسے کسی معصوم بچے کے کھلونا ہیلی کاپٹر کا پنکھ ٹوٹ گیا ہو۔ مجھے گھبرائے ہوئے اشتیاق بھائی بہت ہی معصوم سے لگے۔ ہم سب ان کے ساتھ فورا جلد ساز کی دکان پر پہنچے اور اس نے غلطی درست کرکے دوبارہ بائنڈنگ کر کے دی۔آج اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے اشتیاق صاحب کا بھولا پن یاد آیا۔ وہ معصومیت کی حد تک سادہ تھے۔
بے حد درد دل انسان ۔دوسروں کے کی مدد کے لئے ہر دم تیار۔
اشتیاق بھائی نے علی گڑھ میں بہت لوگوں کی مدد کی۔ لیکن وہاں کی عام روایت کے مطابق جب ان کا وقت آیا تو کم ہی لوگوں نے ہاتھ بڑھایا۔
اشتیاق بھائی نے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد مرکز دراسات غرب ایشیا میں عارضی مدت کے کئے کچھ عرصے تک کام کیا لیکن مستقل نہ ہو سکے۔ بعد میں جامعہ ہمدرد دہلی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ان کا تقرر ہوا اور وہ علی گڑھ چھوڑ کر دہلی چلے گئے۔ لیکن ایک عرصے تک جمعہ کی شام علی گڑھ آتے اور دوشنبہ کی صبح کی ٹرین سے واپس دہلی جاتے رہے۔بھوپال ہاوس کا میرا کمرہ ان کا پہلا اور آخری پڑاو ہوتا ۔بیچ میں اپنے بعض دوستوں کے آنا جانا رہتا۔ہر ہفتہ دہلی سے علی گڑھ آنے جانے کا سلسلہ ان کی شادی کے بعد ختم ہوا۔ ان کی شادی میں شرکت کے لئے میں اورعبد الرشید علی گڑھ سے دہلی گئے تھے۔ ابوالفضل انکلیو سے بارات جنوبی دہلی کے ایک علاقے میں گئی تھی۔ نکاح کے بعد اہلیہ کو لے کر سیدھے والدہ کے پاس گاوں نصیر پور چلے گئے۔والدین، بھائیوں، بہنوں اور ان کی اولاد کے لئے جتنا فکرمند میں نے ان کو دیکھا گاؤں سے شہر آکر بسنے والے لوگوں میں شاید ہی کوئی دوسرا ایسا ہو۔
بیرون ملک آنے کے بعد میرا ان سے رابطہ کم ہوتے ہوتے ختم ہوگیا۔ عزیز دوست عبد الرشید سے جب کبھی بات ہوتی تو ان کی خیریت پوچھ لیتا۔کئی بار سوچا کی بات کروں گا مگر نہیں کر پایا۔ چند روز قبل معلوم ہوا کہ علیل ہیں ۔ عبد الرشید سے فون کر کے پوچھا کہنے لگا کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ابھی کچھ دیر پہلے شفا ہاسپٹل سے مجیدیہ ہاسپٹل شفٹ کیا گیا ہے۔ تفصیل پوچھی تو کہنے لگا کہ ایمبولینس سے لے جاتے وقت میں وہیں موجودتھا ۔جھانک کر اند دیکھا تو اشتیاق بھائی نے اشارہ سے پوچھا مجھے کہاں لے جارہے ہیں۔ میں کیا جواب دیتا۔ اشارے سے کہا سب ٹھیک ہے۔کئی روز فون کرکے جاننے والوں سے خیریت دریافت کرتا رہا۔ آج صبح ممبئی سے عزیز دوست طارق احسن کا فون آیا۔ اشتیاق بھائی ۔۔۔۔ میں نے فون بند کردیا۔ بھوپال ہاوس کا کمرہ۔ دہلی سے عبد الرشید، ممبئی سے طارق،میں سمندر پار اور اشتیاق بھائی کے قہقہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]