Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

اخترالایمان کی نظم ’مسجد‘ کی پڑھت – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras فروری 23, 2022
by adbimiras فروری 23, 2022 0 comment

اردو نظم نگاری میں، بالخصوص ترقی پسند تحریک کے زمانے سے لے کر تقریباً 1960 تک، جسے جدیدیت کے طلوع آفتاب کا عہد بھی کہا جاتا ہے،اگر چند نظم نگاروں کے نام لیے جائیں تو ان میں اخترالایمان جزولاینفک کے طور پر آئیں گے۔ ن م راشد، میراجی اور اخترالایمان کی تثلیث بھی اسی عہد میں بنتی ہے۔ فیض، ساحر، مخدوم، مجاز، سردار جعفری اپنی جگہ، لیکن نظموں میں جو توانائی یا پھر فکری و فنی سطح پر ایک طرح کی طُرفگی و بوقلمونی ہمیں راشد، میراجی اور اخترالایمان کے یہاں نظر آتی ہے، وہ مذکورہ دوسرے شعرا میں مفقود تو نہیں، لیکن کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ بہرحال، یہاں چوں کہ اخترالایمان کی ایک نظم ’مسجد‘ کا تجزیہ پیش کیا جانا ہے، اس لیے دیگر شعرا کی نظم نگاری یا اس عہد پر گفتگو کا یہ موقع نہیں۔

اس نظم کے پہلے بند میں شاعر نے کہیں دور اشارہ کرکے ایک مسجد کی نشاندہی کی ہے۔ برگد کی گھنی چھاؤں میں ماضی اور حال گنہگار نمازی کی طرح رات کے تاریک کفن کے نیچے اپنے اعمال پر آہ و زاری کرتے ہیں۔ اسی برگد کی چھاؤں میںا یک ویران سی مسجد ہے جس کا ٹوٹا ہوا کلس پاس میں بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے۔ اسی مسجد کی ٹوٹی ہوئی دیوار پر کوئی اُلّو (چنڈول) کوئی پھیکا سا گیت چھیڑ دیا کرتا ہے۔ یہ دو بند دیکھیے:

دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملول

جس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچے

ماضی و حال، گنہگار نمازی کی طرح

اپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے

——

ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلس

پاس بہتی ہوئی ندّی کو تکا کرتا ہے

اور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھی

گیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے

برگد کی گھنی چھاؤں ماضی کے غار سے مشابہ ہے، رات کو تاریک کفن سے موسوم کیا گیا ہے۔ماضی و حال کا خاموش و ملول ہونا، شکستہ کلس کا ندی کو تکنا بے بسی، مایوسی اور یاسیت کو واضح کرتا ہے۔ ’چنڈول‘ جسے روزمرہ میں اُلّو کہتے ہیں، ایک منحوس پرندہ مانا جاتا ہے اور پھر اس اُلّو کا کوئی پھیکا سا گیت چھیڑنا، یہ بھی توجہ طلب ہے۔ نظم کے اس بند میں اخترالایمان نے نحوست اور یاسیت سے معمور فضابندی کی ہے۔

اس مسجد میں جو چراغ ہیں ان پر گرد کی تہیں جم چکی ہیں۔ ہر روز مٹی کی ایک نئی پرت ان چراغوں پر جم جاتی ہے اور سورج کی روشنی بھی دریچوںسے غائب ہوجاتی ہے۔ یہاں شاعر نے ڈوبتے سورج کے لیے سورج کے ’وداعی انفاس‘ کا استعمال کیا ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے بھی اس مسجد کی طرف سے منہ موڑ لیا ہے۔ دریچوں میں کچھ روشنی تو ہے نہیں، جسے پھونک (انفاس) مار کر بجھایا جائے، مقصد یہ کہنا ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد دریچوں سے آنے والی شعاعیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ آگے کے بندمیں شاعر نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہاں جو دعائیں مانگی گئی تھیں اورجو اثر پذیری کے لیے ترستی رہیں، شام و سحر کی ’حسرت‘ مسجد کے گنبد کے قریب انہی دعاؤں کو سنا کرتی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ یہاں کی فضاؤں میں وہ دعائیں اب بھی بکھری (پریشانی دعائیں) ہوئی ہیں۔ یہاں جو سب سے بڑی فنکاری دکھائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ان دعاؤں کو سننے والا کوئی شخص نہیں بلکہ ان دعاؤں کے گواہ شام و سحر ہیں جن کی تجسیم (Personification) کرکے ان میں شاعر نے ’حسرت‘ بھی بھردی ہے اور اس حسرت میں قوت سماعت بھی آگئی ہے۔ یہ ’حسرت‘ ہی ہے جو اپنا ٹوٹا ہوا دل تھام لیا کرتی ہے۔ اخترالایمان نے مجرّد محسوسات اور جذبات کو نہایت ہی تخلیقی ہنرمندی اور خوبصورتی سے الفاظ کے پیکر میں ڈھال دیا ہے۔ وہ بند دیکھیے جن کی تعبیر اوپر پیش کی گئی:

گرد آلود چراغوں کو ہوا کے جھونکے

روز مٹی کی نئی تہہ میں دبا جاتے ہیں

اور جاتے ہوئے سورج کے وداعی انفاس

روشنی آکے دریچوں کی بجھا جاتے ہیں

——

حسرت شام و سحر بیٹھ کے گنبد کے قریب

اُن پریشان دعاؤں کو سنا کرتی ہے

جو ترستی ہی رہیں رنگ اثر کی خاطر

اور ٹوٹا ہوا دل تھام لیا کرتی ہے

اس مسجد کی ویرانی کو مزید واضح کرنے کے لیے اخترالایمان دوسرے عوامل کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ جیسے آگے کے دو بندوں میں وہ یہ بتاتے ہیں کہ موسم سرما میں ابابیل آکر اس کے محراب شکستہ میں پناہ گزیں ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہ اس مسجد کی دیوار کے سائے میں کوئی بوڑھا گدھا بیٹھ کے اونگھ لیتا ہے یا آنے جانے والا کوئی مسافر تھوڑی دیر کے لیے ڈرا سہما ہوا دم لیتا ہوا گزر جاتا ہے۔ اس عکس سے اس مسجد کی ویرانی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ’محراب شکستہ‘ اس مسجد کی قدامت کے ساتھ لوگوں کی بے توجہی کو بھی پیش کرتا ہے۔ یہ دو بند ملاحظہ کیجیے:

ایک بوڑھا گدھا دیوار کے سائے میں کبھی

اونگھ لیتا ہے ذرا بیٹھ کے جاتے جاتے

یا مسافر کوئی آجاتا ہے، وہ بھی ڈر کر

ایک لمحے کو ٹھہر جاتا ہے آتے آتے

——

یا ابابیل کوئی آمدِ سرما کے قریب

اس کو مسکن کے لیے ڈھونڈ لیا کرتی ہے

اور محراب شکستہ میں سمٹ کر پہروں

داستاں سرد ممالک کی کہا کرتی ہے

اخترالایمان نے مسجد کو اسلامی حمیت اور ایمانی قوت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے، اس بات سے انحراف کی کوئی صورت نہیں۔ موضوع کچھ بھی ہو، دیکھنا یہ ہے کہ موضوع ’فن پارہ‘ بن پایا کہ نہیں؟ نظم میں جس تسلسل خیال اور ارتقائی صورتِ حال کا تقاضا ہوتا ہے، وہ اس نظم میں بالکلّیہ موجود ہے۔ نظم آگے بڑھتی ہے تو اس کی پیکر تراشی کچھ اور بھی نکھر آتی ہے۔ مسجد ویران ہے، ایک زمانے سے کسی نے اس کے فرش پر جھاڑو بھی نہیں لگایا۔ یہاں بیٹھ کر جو تسبیح خوانی ہوا کرتی تھی، وہ نظام کالعدم ہوچکا ہے۔ اس کے طاقوں میں جو شمعیں روشن ہوا کرتی تھیں، اب نشانی کے طور پر محض اُن کے آنسو رہ گئے ہیں۔ حال یہ ہے کہ: ’اب مصلیٰ ہے نہ منبر، نہ مؤذن نہ امام۔‘ اس کے آگے بڑھئے تو صورتِ حال مزید بگڑتی ہے۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو پائیں گے کہ اس المناک اور یاس انگیز فضا میں بھی ایک طرح کا روحانی یا الوہی ارتفاع (Divine Sublimation) نظر آتا ہے۔ الفاظ کے تفحص و ترتیب سے اس میں فکری و فنّی بلندی پیدا ہوگئی ہے۔ الفاظ کی ہم آہنگی سے المیہ فن پارے میں بھی نغمگی اور موسیقیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسلوب میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ شاعر یہاں المناک مستقبل کا اشاریہ پیش کرتا ہے جو کہ درپردہ اپنے اندر ایک طرح کا انتباہ بھی رکھتاہے۔ اب خدا کی طرف سے پیغام آنے کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے، پہاڑی اور وادی اب صدائے جبریل سے محروم ہوچکی ہیں۔ اب شاید کسی کعبہ کی بنیاد نہیں پڑسکتی کیوں کہ آواز خلیل کہیں گُم ہوگئی ہے، اور یہ آواز دشت فراموشی میں کھوگئی ہے۔ یہاں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بالکل سچ ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں انتباہ اور خوف کا رنگ بھی آگیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے لیے اخترالایمان نے بہت ہی فطری تناظر خلق کیا ہے، سابقہ بندوں کے ساتھ رکھ کر پڑھنے کے بعد ہی اس بند کی معنویت زیادہ صاف طور پر سامنے آپاتی ہے۔ یہ دونوں بند دیکھیے:

فرش جاروب کشی کیا ہے سمجھتا ہی نہیں

کالعدم ہوگیا تسبیح کے دانوں کا نظام

طاق میں شمع کے آنسو ہیں ابھی تک باقی

اب مصلّیٰ ہے نہ منبر، نہ مؤذن نہ امام

——

آچکے صاحب افلاک کے پیغام و سلام

کوہ و در اب نہ سنیں گے وہ صدائے جبریل

اب کسی کعبہ کی شاید نہ پڑے گی بنیاد

کھوگئی دشتِ فراموشی میں آوازِ خلیل

اخترالایمان نے اس کے آگے جو منظرکشی کی ہے، وہ بہت ہی المناک مگر دل فریب ہے۔ اس مسجد کو انھوں نے ’نگارِ دل یزداں‘ کہا ہے جو کہ بہت ہی بامعنی اور پُرقوت و پُرجمال ہے۔ یہ مسجد ’نگارِ دل یزداں‘ کا جنازہ ہے جس پر ستاروں کی دُھلی ہوئی چادر ہے، چاند بھی محض پھیکی سی ہنسی ہنس کر گزر جاتا ہے۔ اس جنازے پر اگر نم ہوتی ہے تو وہ صرف شبنم کی آنکھ ہے۔ اخترالایمان نے کس تخلیقی طبّاعی اور ہنرمندی سے چاند، ستارے اور شبنم سب کو اس ’مسجد‘ کے ساتھ شریک کرلیا ہے۔ سب سے زیادہ بلیغ اور تخلیقی نشان تو ہے مسجد کو ’نگارِ دلِ یزداں‘ قرار دینا۔ بند یہ ہے:

چاند پھیکی سی ہنسی ہنس کے گزر جاتا ہے

ڈال دیتے ہیں ستارے دُھلی چادر اپنی

اس نگارِ دلِ یزداں کے جنازے پہ، بس اک

چشم نم کرتی ہے شبنم یہاں اکثر اپنی

اخترالایمان نے اس مسجد کے دیے کو بھی قوتِ ہم کلامی عطا کردی ہے۔ ایک مَیلا اور اداس و فسردہ دیا کسی رعشہ زدہ ہاتھ سے کہتا ہے کہ ایک بار جو دیا جلا کرجاتے ہو تو پھر لوٹ کر آتے بھی نہیں۔ اس کے پس پردہ وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اب اس مسجد میں چراغ بھی روشن کرنے والا کوئی نہیں۔ پہلے بھی کہا جاچکا ہے: گرد آلود چراغوں کو ہوا کے جھونکے- روز مٹی کی نئی تہہ میں دبا جاتے ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ: طاق میں شمع کے آنسو ہیں ابھی تک باقی۔ یہاں یہ بھی غور کرنا ہے کہ اسی نظم میں تین بندوں میں اخترالایمان نے چراغ، شمع اور دیا جیسے مختلف ظروف انوار (منبع انوار) کا ذکر کیوں کیا ہے؟ میرے خیال سے شروع میں چراغ سے کسی بڑے اور تازہ منبع انوار کا تصور ابھرتا ہے اور جب اس کی صورت یعنی اس کی روشنی ماند پڑتی ہے (گرد آلود ہونے کے سبب) تو اس سے چھوٹا ظرفِ نور یعنی شمع کا تصور (جس کے صرف آنسو باقی رہ گئے ہیں) ابھرتا ہے۔ اس کے آخر میں جو روشنی کا منبع ہے وہ محض ایک دیے کی شکل میں سامنے آتا ہے جو مَیلا بھی ہے، تنہا، افسردہ و ملول بھی۔ اس میں یہ رعشہ زدہ ہاتھ آخر کیا ہے جو اس دیے کو روشن کرکے چلا جاتا ہے؟ شاید اس قوم کی دم توڑتی ہوئی حمیت کا نشان (Sign) ہے۔ ماضی کی یاد دہانی اور عہد رفتہ کی عظمت کا قصہ سنانے والا ہاتھ ہے۔ رعشہ زدہ ہونے کا مطلب یہ بھی ہے، کہ یہ بھی اب دم توڑنے کو ہے اور اب یہ سلسلہ بھی منقطع ہونے کو ہے۔ اس لیے کہ یہ ہاتھ دیا جلا کرجانے کے بعد آتا بھی نہیں یا یہ کہ طویل عرصے تک خاموشی رہتی ہے: تم جلاتے ہو، کبھی آکے بجھاتے بھی نہیں۔

اب وہ بند دیکھیے:

ایک مَیلا سا، اکیلا سا، فسردہ سا دیا

روز رعشہ زدہ ہاتھوں سے کہا کرتا ہے

تم جلاتے ہو، کبھی آکے بجھاتے بھی نہیں

ایک جلتا ہے مگر ایک بجھا کرتا ہے

نظم کے آخری بند میں اخترالایمان نے مسجد کے پاس بَہتی ہوئی ندی کو کچھ اتنا تونگر اور پرتمکنت بنا کر پیش کیا ہے کہ اس کائنات کی ناپائیداری کا برملا اظہار ہوجاتا ہے۔ یوں بھی دیکھا جائے تو ’مسجد‘ کا کردار شروع ہی سے نحیف و نزار دکھایا گیا ہے۔  ن م راشد کی نظم ’سباویراں‘ میں بھی ملک سبا اور حضرت سلیمانؑ کے عہد کی خوبصورت مرقع کشی ہے لیکن تاریخی بیان کے بجائے فنی اور تخلیقی ہنرمندی نے اس موضوع کو ایک خوبصورت فن پارہ بنا دیا ہے۔ اخترالایمان نے بھی موضوع کے ساتھ انصاف کیا ہے:’ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلس۔ پاس بہتی ہوئی ندّی کو تکا کرتا ہے‘۔ اس ’تکا کرنے‘ میں جو بے چارگی اور خودسپردگی کے آثار ہیں، وہ کوئی راز سربستہ نہیں۔ اگر ندی کو وقت کا استعارہ (Metaphor) تسلیم کرلیں، جیسا کہ اکثر کہا اور لکھا گیا ہے، تو پھر مطلع اور بھی صاف ہوجاتا ہے کہ وقت تو سب سے زیادہ بلوان ہوتا ہے، اس کے آگے سب کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ یہاں تو اخترالایمان نے اس ندی کو گویائی عطا کردی ہے جو دور ہی سے ’فانی فانی‘ کہہ کر چیخ رہی ہے اور انجام کار یہ چیلنج بھی کرتی ہے کہ کل یعنی آئندہ میں ساحل کی قید سے آزاد ہوکر مسجد پر حملہ آور ہوں گی اور پھر ’گنبد و مینار‘ پانی پانی ہوجائیں گے۔ یعنی، پانی میں مل جائیں گے۔ اسے وقت کا وجود پر حملہ تصور کرنا چاہیے۔ مفہوم یہ ہے کہ مسجد کا وجود ختم ہوجائے گااور یہ ’گنبد و مینار‘ جو کسی قوم کے مذہبی نشان ہیں، وہ معدوم ہوجائیں گے۔ خود اختر الایمان نے مجموعہ کلام ’آب جو‘ میں جو لکھا ہے وہ بھی سنیے:

’’مسجد ایک ویران مسجد کا خاکہ ہے….. مسجدمذہب کا اعلامیہ ہے اور اس کی ویرانی عام آدمی کی مذہب سے دوری کا مظاہرہ ہے، رعشہ زدہ ہاتھ مذہبیت کے آخری نمائندہ ہیں اور وہ ندی جو مسجد کے قریب سے گزرتی ہے وقت کا دھارا ہے جو عدم کو وجود اور وجود کو عدم میں تبدیل کرتا رہتا ہے اور اپنے ساتھ ہر چیز کو لے جاتا ہے جس کی زندگی کو ضرورت نہیں رہتی۔‘‘

تو کیا یہ نظم عظمت رفتہ کے زوال کا نوحہ ہے؟ میرے خیال سے موضوع یا مضمون زوال آمیز یا زوال زدہ یا پھر زوال آگیں ہوسکتاہے، لیکن ایک ادب کے قاری یا طالب علم کے لیے اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ یہ زوال آمیز مضمون فن پارہ کے وجود پذیر ہونے میں حارج تو نہیں؟ اخترالایمان ہی کی ایک اور مشہور نظم ’پرانی فصیل‘ (مجموعہ: گرداب) ہے، یہاں بھی ’فصیل‘ وقت یا عہد کا استعارہ ہے جو طرح طرح کی گواہیاں دیتی ہے جس کے سائے میں ماضی و حال سانس لیتے ہیں۔ دو بند اس نظم کے بھی ملاحظہ کرلیجیے تاکہ ’مسجد‘ نظم کی تعبیر و تشریح مزید کھُل سکے:

یہاں سرگوشیاں کرتی ہے ویرانی ہی ویرانی

فسردہ شمعِ امید و تمنّا لَو نہیں دیتی

یہاں کی تیرہ بختی پر کوئی رونے نہیں آتا

یہاں جو چیز ہے ساکت، کوئی کروٹ نہیں لیتی

——

خراب و شورہ آلودہ زمیں خاموش رہتی ہے

یہاں جھینگر نہ جانے کس زباں میں گیت گاتے ہیں

یہاں چوہے متاعِ زندگی سے سرخ رو ہوکر

مہذّب  بستیوں میں جا کے اکثر لوٹ آتے ہیں

نظم ’مسجد‘ میں گرد آلود چراغ اور فسردہ دیا ہے تو یہاں بھی فسردہ شمع ہے۔ یہاں جھینگر گیت گاتے ہیں تو نظم مسجد میں اس کی ٹوٹی ہوئی دیوار پر بیٹھا چنڈول (اُلّو) کوئی پھیکا سا گیت چھیڑتا ہے۔ نظم ’مسجد‘ میں ابابیل محراب شکستہ میں سمٹی رہتی ہے اور بوڑھا گدھا مسجد کی دیوار کے سائے میں کبھی کبھی بیٹھ کر اونگھ لیا کرتا ہے۔ ’پرانی فصیل‘ میں جھینگر اور چوہے بطور کردار کے آئے ہیں۔ غور کیجیے تو اندازہ ہوگا کہ یہ وہ کردار ہیں جو مہذب انسانی معاشرے پر طعنہ زن ہیں۔ یہی وہ کردار ہیں جو عہد رفتہ کی کہانی بھی پیش کرتے ہیں اور جھوٹے مہذب سماج کی قلعی بھی کھولتے ہیں۔ ساتھ ہی، ایک ایسا شعری مرقع پیش کرتے ہیں جو ادب کے قاری کو صرف پسند ہی نہیں آتا، بلکہ اس کے باطن میں اس طرح اترتا ہے کہ یہ مرقع اس کے لیے حِرزِ جاں بن جاتا ہے۔ کسی خیال یا موضوع کو فن پارہ اور اس فن پارے کو اس طرح پیش کرنا کہ وہ ایک مرقع بن جائے، آسان نہیں۔ اس کے لیے موضوع کو تخلیق کار پہلے اپنے لیے حرز جاں بناتا ہے اور تبھی وہ مرقع قاری کے لیے حرز جاں بنتا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ اخترالایمان نے اپنی تخلیقیت میںجو توانائی بھرنے کا فریضہ انجام دیا ہے وہ مضمون کے سبب ہے یا واقعی ان کی قوت تخلیق ہی ہے جو خود آگ سے پیدا ہوکر آگ کا سا اثر پیدا کرتی ہے جس کے سبب توانائی اور گرمی کا احساس ہوتا ہے؟ اگر ایسا نہ ہوتا تو بوڑھے گدھے، چنڈول کے گیت، گرد آلود چراغ، فسردہ سے دیے، پھیکی سی چاندنی، محراب شکستہ میں ابابیلوں کے مسکن بنائے جانے اور تسبیح کے دانوں کے نظام کے کالعدم ہوجانے، صدائے جبریل اور آواز خلیل کے معدوم اور کھوجانے کے بعد، یہاں تک کہ ندی کے ذریعہ مسجد کو بہا لے جانے کے بعد بھی یہ نظم ’فن پارہ‘ کیسے ہے؟ ادب کے قاری کے لیے یہ ایک خوبصورت منظوم مرقع ہے، جس میں کہ یاسیت اور بے چارگی نے توانائی اور امید کی شعاعیں بھرد ی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظم کو پڑھ کر مایوسی اور قنوطیت کا رنگ نہیں ابھرتا بلکہ باطن میں ایک جگنو کی چمک اور روح میں سرشاری کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

جہاں تک اس نظم کے اسلوب اور شعری لوازم کی بات ہے، اس باب میں عرض یہ کرنا ہے کہ اس نظم پر اور پُرانی فصیل پر بھی ’جدید اقبالیت‘ کا رنگ واسلوب حاوی ہے۔ آپ ن م راشد کے بیشتر اور اخترالایمان کے تقریباً نصف نظمیہ متون پر علامہ اقبال ہی کا رنگ غالب طور پر محسوس کریں گے۔ نظم مسجد سے چند الفاظ و تراکیب اور مصرعے یا نصف مصرعے ملاحظہ کیجیے، شاید میرے موقف کی تائید و توثیق ہوسکے گی:

وداعی انفاس، حسرتِ شام و سحر، محرابِ شکستہ، کالعدم ہوگیا تسبیح کے دانوں کا نظام، اب مصلیٰ ہے نہ منبر، نہ مؤذن نہ امام، صاحبِ افلاک، صدائے جبریل، کھوگئی دشتِ فراموشی میںآوازِ خلیل، نگار دلِ یزداں، تلاطم بردوش، گنبد و مینار بھی پانی پانی وغیرہ۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ اخترالایمان نے یا ن م راشد نے اقبال کے ڈکشن کو خود پر Impose کرنے کے بجائے اپنے متن اور اپنی تخلیقیت میں جذب کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا اپنا اپنا اسلوب بھی تشکیل پاتا گیا ہے۔ یہ کام ہر ایک کے بس کا نہیں کہ اس کے لیے چیزوں کو اور اسالیب فن کو صبر و ضبط کے ساتھ Assimilate کرنا پڑتا ہے۔ اخترالایمان نے سیدھے اور سپاٹ مگر گہرے بیانیہ انداز کی نظمیں بھی کہی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ انھوں نے ترقی پسندوں کی حددرجہ اوڑھی ہوئی مقصدیت اور جدیدیت کی بے جا جدت طرازی اور آپادھاپی سے خود کو بچائے رکھا اور ن م راشد اور میراجی کے بعد بلکہ دونوں کے ساتھ ساتھ اقبال کے بعد کی نظمیہ شاعری کی تثلیث بنائی۔ یہ کام آسان نہ تھا، ہم اخترالایمان کی شاعری کو ان کے نجی نظام شاعری میں رکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ اسلوبِ متن کی طرح ہمارا بھی نجی اسلوبِ قرأت ہوسکتاہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
انتخابی ماحول میں بھی بنکروں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری! جاوید بھارتی
اگلی پوسٹ
قومی اردو کونسل بچوں کے لیے اہم سائنسی موضوعات پر کتابیں شائع کرے گی :پروفیسر شیخ عقیل احمد

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں