انیس اشفاق کا ناول “ہیچ” : جنوں کی جولاں گاہ – شہلا کلیم
انیس اشفاق کا ناول "ہیچ” اردو ادب کے موجودہ منظرنامے میں ایک منفرد اور فکر انگیز اضافہ ہے۔ یہ ناول ۲۰۲۴ میں ریختہ پبلی کیشن سے شائع ہوا۔ اس سے پہلے ان کے تین ناول، “دکھیارے‘‘ (۲۰۱۴)، ’’خواب سراب‘‘ (۲۰۱۷)، ’’پری ناز اور پرندے‘‘ (۲۰۱۸) شائع ہوئے۔ اور حال ہی میں ان کا پانچواں ناول ’’گردابِ حیرت‘‘ (۲۰۲۵) منظر عام پر آ چکا ہے۔
انیس اشفاق اردو ادب کے ان معتبر ناموں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے اسلوب اور منفرد بیانیے کے ذریعے اردو ناول نگاری کو ایک نئی سمت عطا کی۔ ان کے ناول محض کہانیاں نہیں بلکہ ایک بچھڑی ہوئی تہذیب کا نوحہ اور گم گشتہ اقدار کی بازیافت ہیں۔
انیس اشفاق کے ناولوں کا بنیادی محور لکھنؤ کی زوال پذیر تہذیب ہے۔ وہ اس شہر کی گلیوں، عمارتوں، زبان کے چٹخاروں اور وہاں کے مخصوص آدابِ زندگی کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس ماحول کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔
انیس اشفاق نے لکھنوی تہذیب کی ادبی نقش نگاری اور اس کے تہذیبی و ثقافتی خدوخال کو فکشن میں ڈھالنے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔“دکھیارے” اور “خواب سراب” کے بعد ان کا ناول “ہیچ” بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
“ہیچ” جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، عدم، نیستی اور لایعنیت کے گرد گھومتا ہے۔ یہ ناول انسانی وجود کی بے وقعتی اور زندگی کے ان گوشوں کو تلاش کرتا ہے جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ مابعد الطبیعیاتی (Metaphysical) سوالات اٹھاتا ہے کہ انسان کی حیثیت اس وسیع کائنات میں کیا ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ سوالات مصنف کے بیانیے کے ذریعے نہیں بلکہ کرداروں کے مکالموں کے ذریعے اٹھائے گئے ہیں۔ یعنی ناول کے کردار ایسے پڑھے لکھے اور باشعور ہیں؛ جنہیں تاریخ ،ادب اور فلسفے سے شغف ہے۔ جو بات بات پہ شعر کہتے ہیں۔ جو فلسفیانہ گفتگو کرتے ہیں۔ جو سوچتے ہیں اور جو نہ صرف ملکی بلکہ عالمی منظر نامے کو لیکر بھی ہمہ وقت فکر مند رہتے ہیں۔ حتی کہ ناول کا ایک اہم کردار ذہنی انتشار اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہونے کے باوجود، خود کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور شعوری گرفت سے الگ نہیں کر پاتا۔ گویا اس کا دماغی خلل اسے لاشعور کی وادیوں میں گم تو کرتا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر بے خبر نہیں ہو پاتا؛ فکر و احساس کی قید اسے مسلسل اپنے حصار میں رکھتی ہے۔اور دماغی توازن کھو دینے کے باوجود اس کی زبان سے اس قسم کے فکر انگیز جملے ادا ہوتے ہیں:
"نہیں تم لوگ نہیں لے جاؤ گے… میں خود ہی چلی جاؤں گی… لوگ وہاں مارے جا رہے ہیں… کوئی انہیں بچانے والا نہیں… وہ دیکھو تارے ڈوب رہے ہیں۔ ان کی چھاؤں میں کہیں سے اذان کی آواز آ رہی ہے۔ اذان سننے والے کو بہت سے لوگ مار رہے ہیں… وہ مر رہا ہے… مر گیا… ہیچ… دنیا ہیچ است۔”
(ہیچ: ص ۳۶۰)
ناول کے اسلوب اور زبان و بیان کی بات کی جائے تو انیس اشفاق نے اس ناول میں تجریدی اور علامتی اسلوب اختیار کیا ہے۔ جبکہ بیانیہ بالکل سادہ اور زبان انتہائی شستہ و سلیس ہے۔ یہی سبب ہے کہ علامتی ہونے کے باوجود ہر منظر نگاہوں کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جب ناول نگار کسی بھی مخصوص واقعے، کسی خاص مقام یا کسی فردِ خاص کا نام لیے بغیر ان کا ذکر کرتا ہے تو تاریخ کی معمولی شد بد رکھنے اور عصری منظر نامے سے ذرا سی واقفیت رکھنے والے عام قاری کے ذہن پر بھی باآسانی اصل معاملات واضح ہو جاتے ہیں۔ ناول کا پلاٹ نصف صدی سے زائد پر پھیلا ہوا ہے۔ تقسیم ہند سے لے کر عالمی وبا تک جس قدر واقعات سر زمین ہند پر رونما ہوئے، ناول نگار نے بڑی چابکدستی سے ان تمام واقعات کو علامتی پیرائے میں ڈھال کر قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے۔
ناول “ہیچ” تقسیم کے بعد کی ہندوستانی تاریخ کے ان تمام زخموں کی داستان ہے جنہوں نے سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ناول نگار نے تقسیمِ ہند سے لے کر عہدِ حاضر تک کے تمام اہم اور کربناک واقعات کو ایک لڑی میں پرونے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس ناول کے کینوس پر گاندھی جی کا قتل، ایمرجنسی کا نفاذ، کارگل جنگ، اندرا گاندھی کا قتل اور اس کے بعد برپا ہونے والے سکھ مخالف سانحات، گجرات فسادات، آرٹیکل 370 کا خاتمہ، جے این یو کی سیاسی فضا اور شاہین باغ تحریک سے لے کر جامعہ کی لائبریری میں ہونے والے تشدد جیسے تمام واقعات سلسلے وار ابھرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ یکساں سول کوڈ (UCC)، سی اے اے / این آر سی کی مخالفت اور عالمی وبا کے سائے بھی اس ناول کے منظر نامے کا حصہ ہیں۔ جو تاریخ کے تسلسل کو واضح کرتے ہیں۔ گویا یہ ناول فکشن کے روپ میں آزادی کے بعد کے ہندوستان کی تاریخی دستاویز ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عالمی منظر نامے پر بھی مصنف کی نظر ہے ۔ ناول نگار تقسیم ہند کے بعد وجود میں آنے والے نئے ملک کے سیاسی حالات سے بھی بے خبر نہیں اور ان پر نکتہ چینیوں سے بھی نہیں چوکتا۔
ناول کے دو اہم مرکزی کردار شہنام عرف شہنو اور شہلا لکھنوی معاشرت کے آئینہ دار اور اس زوال آمادہ تہذیب کی آخری اساس کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ ان کرداروں کا تعلق اس نسل سے ہے جنہوں نے تقسیم ہند سے لے کر موجودہ عہد تک ، سر زمین ہند پر کھیلے جانے والے خونی کھیل کے تمام روپ دیکھے۔ یہی سبب ہے کہ یہ کردار ضرورت سے زیادہ حساس ہیں۔ لکھنوی معاشرت میں جنم لینے والے ان کرداروں کا بچپن بٹوارے کے خونی مناظر دیکھتے اور اپنے عزیز و اقارب کی جدائی سہتے گزرا۔ بالغ عمری لکھنؤ کی رو بہ زوال تہذیب کا نوحہ کرتے اور لکھنؤ کی زمین پر ہونے والے شیعہ سنی فسادات کی آگ میں جلتے گزری۔ بقیہ عمر ہندوستان کے تیزی سے بدلتے منظر نامے کا دکھ جھیلتے اور سیاسی جبر سے جوجھتے گزار دی۔
ہجرت ایسا موضوع ہے جس میں ناسٹیلجائی کیفیت سے فرار ممکن نہیں۔جہاں ایک طرف وطن چھوڑ کر جانے والوں کو اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کا غم اور اپنی زمین چھوڑ دینے کا دکھ لاحق ہے وہیں دوسری طرف پیچھے رہ جانے والے بھی چھوڑ جانے والوں کے غم اور ان کی یاد میں اسی شدت سے مبتلا ہوتے ہیں۔ لہذا اس ناول کے کرداروں کی فطرت میں بھی ناسٹیلجیا بدرجہ اتم موجود ہے۔ چنانچہ جب مصنف اپنے ایک مرکزی کرادار کے قلم سے کہانی لکھوانا شروع کرتا ہےتو گزری زندگی واقعات در واقعات کسی اسکرین پر بدلتے مناظر کی طرح اس کی نگاہوں میں پھرنے لگتی ہے اور قلم اٹھاتے ہی وہ بے ساختہ کہہ پڑتا ہے۔
“ کل ہم آئینے میں رخ کی جھریاں دیکھا کیے”
شہلا ناول کا بڑا مضبوط کردار ہے ۔ کہیں نہ کہیں یہ زنانہ کردار ناول کے مردانہ کردار شہنو سے زیادہ بھرپور اور طاقت ور نظر آتا ہے۔ شہلا کے سوا ایک اور اہم کردار شہناز کا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض معاملات میں یہ دونوں زنانہ کردار اپنے مقابل کے مرد کردار پر فوقیت رکھتے ہیں۔ اور وہ ان خواتین کرداروں کے آگے کمزور اور کم گو نظر آتا ہے۔ تین سو چونسٹھ صفحات پر مشتمل اس ناول کے تین سو تریسٹھ صفحات سے گزر کر بھی ناول کا یہ مردانہ کردار قاری کے ذہن میں اپنی کوئی خاص شبیہ نہیں بنا پاتا لیکن ناول کا آخری صفحہ یک لخت قاری کے ذہن کو الٹ کے رکھ دیتا ہے۔آخری صفحہ پڑھ کر وہ بے ساختہ ناول کے پہلے پنے کی طرف لپکتا ہے جس سے وہ ابتداً سرسری ہوکے گزر آیا تھا۔ اور یکدم دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ وہ تمام کردار جو پوری کہانی میں حاوی رہے، اس دکھ کے آگے ماند پڑ جاتے ہیں۔ قاری کے ذہن میں دکھ بھری کہانیاں جنم لینے لگتی ہیں بے شمار سوالات سر ابھارنے لگتے ہیں۔ ناول کے بقیہ تمام کرداروں کا انجام نگاہوں کے سامنے ہے لیکن وہ ایک کردار جو خاموشی سے زندگی کے تمام دکھ جھیلتا آیا اور اب ان غموں کا بوجھ اٹھائے جنوں کی اس جولاں گاہ میں تنہا رہ گیا۔۔۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

