بلا شبہ راجندر سنگھ بیدی (پـ:1؍ستمبر1915ءو:11نومبر1984ء)کاشماراُردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ہوتاہے۔ ناقدوں نے بیدی کو اُردو افسانے کاچیخوف بھی کہاہے۔ اُردوافسانہ نگاری کی تاریخ تب تک مکمل نہی ہوسکتی جب تک راجندرسنگھ بیدی کو اس میں شامل نہیں کیا جائے۔ افسانوی ناقدوں نے اُردو افسانہ نگاری میں ان کا مقام و مرتبہ کرشن چندر،سعادت حسن منٹو،اور عصمت چغتائی کے بعد طے کیا ہے۔یہ اربابِ اربعہ افسانہ نگار اُردو افسانہ نگاری کے معمارِعہد ہیں ۔انھیں چار ستونوں کے دم پراُردو افسانے کی مضبوط اور فلک شغاف عمارت وجود میں آئی۔ دوسرے لفظوں میںان چاروں افسانہ نگاروں نے ہی اپنے قلم سے ایک افسانوی عہد کی تاریخ رقم کی۔پریم چندکے بعد اُردو افسانہ نگاری کی طنابیں انھیں اربابِ اربعہ افسانہ نگاروں کے ہاتھوں میں تھیں۔اس دور میں جو دوسرے افسانہ نگار افسانہ لکھ رہے تھے ان میں اپیندر ناتھ اشک،احمد ندیم قاسمی،غلام عباس،علی عباس حسینی ،خواجہ احمد عباس ،حیات اللہ انصاری ،بلونت سنگھ،ممتاز مفتی وغیرہ سرِ فہرست تھے۔سعادت حسن منٹو نے بیدی کی افسانہ نگاری کے بارے میں کہا تھا’’تم سوچتے بہت ہو،لکھنے سے پہلے سوچتے ہو،بیچ میں سوچتے ہو،اور بعد میں سوچتے ہو‘‘۔یہ بات راجندر سنگھ بیدی کے افسانے پڑھنے کے بعد سو فیصدی سچ ثابت ہوتی ہے۔
راجندر سنگھ بیدی نے اپنے آپ کو افسانہ نگاریافن کارثابت نہیں کیا بل کہ ہمیشہ اپنے افسانوں کے ذریعے معاشرے کا نمایندہ فن کار تسلیم کیا۔انھوں نے ایک مرتبہ کہا بھی تھا کہ ’’سِکھ اور کچھ ہوں نہ ہوں کاریگر اچھے ہوتے ہیں اور جو کچھ بناتے ہیں ٹھوک بجا کر اور چول سے چول بٹھا کر بناتے ہیں۔‘‘اسی لحاظ سے انھوں نے اپنے آپ کولوگوں کی آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے والا بتایا۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ گاؤں ،دیہات کے بہت بڑے ترجمان اور دلدادہ تھے۔خاص کر پنجاب کے دیہاتوں کی عکاسی ہمیں ان کے افسانوں میں جا بجا دکھائی دیتی ہے۔اس کے علاوہ ان کے افسانوں کے کردار ہمارے دل و دماغ میں ایک خاص جگہ اور مقام بنا لیتے ہیں۔ان کرداروں میں لاجونتی ہو یا ہولی،روپا ہو یااندو،مدن بان ہو یا سنت رام،شمّی ہو یا سیتا،پولہو رام ہو یا مگن یہ تمام کردار ہمیں اپنے ارد گرد گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔بیدی نے صرف عورتوں کی نفسیات کو ہی اپنے افسانوں اور کرداروں میں خاص جگہ نہیں دی بل کہ مرد کرداروں کی نفسیات کا بھی انھوں نے مکمل احاطہ کیا ہے۔کبھی کبھی ان کے افسانوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ راجندر سنگھ بیدی ان کرداروں سے اپنی آپ بیتی بیان کرا رہے ہیں۔ افسانہ’’ غلامی‘‘جو ایک ریٹائر پوسٹ ماسٹر کی روداد ہے کو پڑھ کرقاری کو یہ احسا س ہوتا ہے کہ آخر پولہو رام کو پوسٹ آفس سے اتنا لگاؤ کیوں ہے جب کہ وہ عمر کی آخری دہلیز پار کرنے کی تیاری میں مصروف ہے۔اس نقاط کو عبور کرنے میں ہمیں نہاں خانوں کے دریچے کھولنے ہوتے ہیں۔کیوں کہ ایک لمبے عرصے تک بیدی نے بھی لاہور پوسٹ آفس میں خدمات انجام دیں تھیں۔ان کا ایک اورافسانہ’’صرف ایک سگریٹ‘‘ جو زیرِ بحث ہے میں سنت رام کا کردار بھی بیدی کے کردار سے مشابہ ہے۔یہ افسانہ شہری زندگی کی مکمل ترجمانی کرتا ہے۔ایک معمر شخص سنت رام کے نفسی جذباتوں کو سلیقہ شعاری سے بیدی نے افسانے کے قالب میں ڈھال کر قاری کے سامنے پیش کیا۔یہ خیال رہے کہ بیدی کے زیادہ تر افسانے دیہات کی زندگی کی ترجمان ہوتے ہیں ۔لیکن ’’صرف ایک سگریٹ‘‘ شہری طرزِ زندگی اور اس زندگی کی داخلی کشمکش کابہترین افسانہ ہے۔راجندر سنگھ بیدی نے جب یہ افسانہ تخلیق کیا تو وہ اُس وقت ممبئی جیسے عروس البلاد شہر میں فلموں کے لیے کہانیاں اور مکالمے لکھ رہے تھے۔ یہ ان کی زندگی کے سنہری دن تھے۔بیدی کی عمر بھی رفتہ رفتہ کم ہوتی جا رہی تھی۔نفسیاتی طور پر وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی جذباتی بن گئے تھے۔افسانہ ’’صرف ایک سگریٹ‘‘ کے بارے میں اطہر پرویز رقم طراز ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اردو ناول اور استعماریت:انیسویں صدی کے ناولوں کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ – حنا اصغر )
’’صرف ایک سگریٹ ،کا سنت رام بہ ظاہر تو اپنے درد میں مبتلا ہے۔وہ تنہائی کا شکار ہے۔بقول سرور صاحب ’’وہ بوڑھا ہو رہا ہے۔زودِ حس اور زودِ رنج ہوتا جاتا ہے۔اور اسے پیار کی شدید ضرورت ہے۔‘‘سنت رام جب اپنے لڑکے کو ڈانتا اور اس سے کہتا ہے ’’میں تم سب کو سمجھ گیا ہوں۔منھ تک نہ لگاؤں گا کسی کو۔۔۔۔لیکن پھر جب وہ غبار دُھل جاتا ہے ،غلط فہمی دور ہو جاتی ہے تو ویسا ہی محبت کرنے والا باپ بن جاتا ہے۔محبت انسانی شخصیت میں درد مندی پیدا کرتی ہے۔اس میں سوز و گداز پیدا کرتی ہے۔بیدی کا ہر کردار ان سے یہ درد مندی وصول کر لیتا ہے۔ہو چاہے سنت رام ہو یا پال ،سندرلال ہو یا لاجو،اندو ہو یا مدن اور اس کے پتا جی،روپا ہو یا اس کی بھابھی۔بیدی ان کے درد کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔‘‘
(راجندر سنگھ بیدی اور ان کے افسانے،صفحہ8تا9،ایجوکیشنل بک ہاؤس،علی گڑھ،1998ء)
’’صرف ایک سگریٹ‘‘بیدی کے افسانوی مجموعے ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘(سنِ اشاعت1974ء) میں شامل ہے۔اس کے علاوہ اس افسانوی مجموعے میں ’افسانے’کلیانی ‘‘،’’متھن‘‘،’’باری کا بخار‘‘،اور’’سانفیا‘‘شامل ہیں۔افسانہ ’’صرف ایک سگریٹ‘‘کا فی طویل افسانہ ہے۔یہ افسانہ صبح کے چار بجے سے شروع ہوکراگلے روز کے صبح چار بجے اختمام پذیر ہو جاتا ہے۔یعنی یہ افسانہ ایک خان دان کے چوبیس گھنٹوں کی نفسیاتی روداد بیان کرتا ہے۔خاص کر اس افسانے کے مرکزی کردار سنت رام کے نفسیاتی حالات کو ان چوبیس گھنٹوں میں بیدی نے قاری سے روبرو کرایا ہے۔سنت رام سگریٹ پینے کا آدی ہے ۔صبح سویرے جب ہر انسان اپنے پالن ہار کو یاد کرتا ہے اُس وقت سنت رام کو سگریٹ چاہیے۔سنت رام اپنی بیوی دیبی کو پیار سے دھوبن بلاتا ہے۔دھون سارے دن گھریلو کاموں میں مصروف رہتی ہے۔اس کا بیٹا پال نئے خیالوں کا ہے۔ماں باپ کی عزت و احترام اس پر لازم نہیں۔ادھر اس کی بیٹی لاڈو اپنے شوہر سے ناراض ہو کر سنت رام کے گھر آ گئی ہے۔سنت رام سگریٹ پینے کی غرض سے جلدی اُٹھ جاتا ہے۔کیوں کہ اُس کی ذہنی الجھنوں کی گرہیں کھولنے میں سگریٹ ہی معاون و مدد گار ہے۔کہانی کا تانا بانا سگریٹ اور سنت رام کی ذہنی اور نفسیاتی کشمکش کے اُوپر بنا گیا ہے۔سگریٹ ہی وہ واحد شے ہے جو سنت رام کی زندگی میں اُٹھنے والے خانگی طوفانوں کے طلاطم کو روک سکتی ہے۔اسی لیے وہ سگریٹ کی تلاش میں اپنے بیٹے کے کمرے میں داخل ہو جاتا ہے اور ٹیبل پر رکھی’’ اسٹیٹ ایکسپریس ‘‘کے ڈبّے سے ایک سگریٹ ڈرتے ڈرتے پی لیتاہے۔راجندر سنگھ بیدی نے فلسفیانہ انداز میںسنت رام کے ذریعے سگریٹ کی تڑپ اور چاہت کے علاوہ سگریٹ کی خوبیوں اور خامیوں کا بھی تذکرہ قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’سگریٹ بھی کیا چیز ہے ۔جس نے بھی اسے ایجاد کیا حد کر دی کیا ایک ننھا سا رفیق زندگی کا جو آپ کے تنہا لمحوں میں کسی دوسرے کے موجود ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے اور اس کے نام سے آپ کبھی اکیلا نہیں محسوس کرتے بل کہ وہ خود زندگی ہے ۔جس کا ایک کنارہ خود زندگی کی طرح دھیرے دھیرے سلگتا اور دوسرا موت کے منھ یا منھ کی موت میں پڑا ہوتا ہے۔وہ آپ ہی ہر سانس کے ساتھ جیتا اورمرتا ہوا خود راکھ ہو جاتا ہے لیکن آپ کے بکھرے ہوئے خیالوں کو ایک نقطے پہ سمیٹ لاتا ہے۔آپ چند ایسے راز سمجھ چکے ہوتے ہیں جن کے بعد اور کچھ سمجھ نیکی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔لوگ کہتے ہیں اس سے کینسر ہو جاتا ہے۔۔۔ہوا کرے ۔جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے وہ کون سی خضر کی حیات جیتے ہیں؟دنیا کے ہر بشر کو آخر کوئی نہ کوئی بہانہ تو موت کو دینا ہے۔سگریٹ کا بہانہ کیوں نہ ہو۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں "قیدی” میں قید بطور استعارہ – ڈاکٹر محمد کامران شہزاد )
اس طرح سنت رام اپنے کاروباری اور اقتصادی خسارے کو سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ کم کرنا چاہتا ہے۔لیکن ایک سگریٹ جو اس نے اپنے بیٹے پال کے سر ہانے سے اُٹھا کر پی لیا تھا ،نے اس کی الجھی ہوئی زندگی میں ہنگامہ برپا کر دیا۔سنت رام اُس لمحے کو سوچ کر لرز اور سہم اُٹھتا ہے جب اس کے بیٹے پال کو اس بات کا علم ہوگا کہ اس کی ایک سگریٹ کو سنت رام پی گیا ہے۔سنت رام صبح ہونے کا انتظار کرنے لگتا ہے۔وہ اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں غور و فکر کرنے لگتا ہے کہ کیسے اُس نے اپنی جان کھپا کر اس گھر اور کاروبار کو کھڑا کیا۔آج جب اس کا کاروباراور زندگی دونوں خسارے میں ہے تو اس کے ساتھ گھر کا ہر فرد سوتیلا برتاؤ کیوں کر رہا ہے۔یہاں تک اس کی بیو ی دھوبن بھی اس سے سخت لہجے میں بات کرتی ہے۔بیٹا تو کبھی اس کی باتوں پہ کان نہیں دھرتا ۔بیٹی بھی اپنی ماں کی ہی طرف داری کرتی ہے۔اسی کشمکش میں سنت رام آفس میں جاکر اپنے کیبن میں سگریٹ نوشی کرتا ہے۔اسی جگہ سے افسانے میں نفسیاتی اور ذہنی کشمکش زور پکڑ تی ہے ۔بیدی نے اپنے قلم سے سنت رام کے کردار میں ایک مفکر کو پیدا کیا۔ جو ہر اُس لمحے کومفکرانہ طریقے سے یاد کرتا ہے جو اُس کی زندگی میں بیت چکا۔داخلی جد و جہد کی یہ بہترین مثال ہے۔سنت رام گھر پر پی گئی سگریٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے سگریٹ کا ایک کارٹون پہنچا دیتا ہے۔لیکن سنت رام کا بیٹا جو صبح گھر چھوڑ کرچلا گیا تھا واپس شام کو گھر لوٹ آیا ہے اور سنت رام کی جانب سگریٹ کا ایک پیکٹ ا ُچھالتا ہے۔سنت رام کو یہ بات نا گوار گزرتی ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ صبح ایک سگریٹ پی لینے کا علم پال کو ہو گیا ہے۔اور اسی بات کا بدلہ وہ مجھ سے لے رہا ہے۔یعنی بیٹا باپ کی بے عزتی کر رہا ہے ۔ایسا سنت رام سوچ کر واپس پیکٹ پال کی جانب پھینک دیتا ہے۔پال کے چہرے پر ایک کٹ سے خون چھلک جاتا ہے۔بیٹے کے جسم سے خون نکلتا دیکھ کر سنت رام کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔وہ غصے میں تمام اہل ِخانہ کو خوب کھری کھری سناتا ہے۔اپنی ناکامی اور کامرانی کے عروج و زوال کے لیے اپنے آپ کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔گھر میں ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔تمام افراد ایک گناہ گار کی طرح سنت رام کی باتوں کو سننے پر مجبور ہیں۔یہ وہی سنت رام ہے جو کبھی کسی سے لب کشائی نہیں کرتا ۔بل کہ اپنے اندر ہر غم کو سمو لیتا ہے۔لیکن آج وہ پہلے والا سنت رام نہیں ۔آج پہلے والا سنت رام کی جگہ دوسرے سنت رام نے جنم لیا ہے۔جو اپنے باطن کو سب کے سامنے ظاہر کر رہا ہے۔صرف ایک سگریٹ پی لینے کے سبب یہ سب ہنگامہ بپا تھا۔لیکن پال ،سنت رام کے سگریٹ پینے کے عمل سے بے خبر تھا۔سنت رام غصے سے کانپ رہا تھا۔وہ نیچے گرنے ہی والا تھا کہ پال نے اس کے گرتے ہوئے بدن کو تھام لیا۔اور باپ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے۔پال اپنی حرکتوں پر نادم اور شرمندہ تھا۔
اس طرح سنت رام نے اپنے دل کا غبار نکال ہی لیا جو ایک عرصے سے اس کے دل میں ایک عرصے سے بھرا ہوا تھا۔اس ہنگامے کا ایک فائدہ یہ ہو ا کہ سنت رام کا قد گھر میں بہت اُنچا ہو گیا تھا۔دھوبن جو اس کی باتوں کو ان سنا کر دیتی تھی وہ اب خاموش تھی،بیٹی بھی اپنے سسرال جانے کے لیے تیار تھی اور سب سے بڑھ کر اس کا بیٹا پال بھی نادم نگاہوں سے اپنے بستر میں دراز ہو چکا تھا۔لیکن سنت رام حسب ِ معمول اگلی صبح چار بجے اُٹھ کر پھر سے ایک سگریٹ تلاش کر رہا تھا وہ بھی اپنے بیٹے پال کے کمرے میں۔اب سنت رام کو سکون حاصل تھا۔وہ سگریٹ کو پینے کے بعد اپنے پالن ہار کے کمرے کی جانب چلا گیا۔اس منظر کو راجندر سنگھ بیدی نے نفسیاتی اور داخلی کشمکش کا ایک انوکھا سنگم بنا دیا ہے۔سنت رام اب پہلے والا سنت رام نہیں تھا۔بل کہ اب وہ ایک پختہ مزاج ، ذمہ دار باپ اور شوہر کے روپ میں قاری سے روبرو تھا۔یہ منظر افسانے کا نقطہء معراج ہے۔کیوں کہ اب اس کی الجھی ہوئی سوچ کی گرہیں کھل چکی تھیں۔افسانے کا آخری اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’اگلے روز سنت رام حسبِ معمول صبح کے چار بجے اٹھ گیا تھا۔اسے پھر سگریٹ کی طلب ہوئی۔دھوبن کو ڈسٹرب کیے بغیر وہ ساتھ کے کمرے میں چلا آیا۔جہاں پال،لاڈواور اس کا بچہ بابی سوئے ہوئے تھے۔سنت رام نے زیرو پاور کا بلب جلایااور ان کی طرف دیکھنے لگا۔پلکی سی مدھم روشنی میں وہ سب فرشتے معلوم ہو رہے تھے۔ایک سے ایک حسین اور خوب صورت اور خوشبو دار آج بابی کی بانہہ میں کے گلے میں نہ تھی۔وہ آزاد اور بے فکر سو رہا تھا۔
سنت رام نے اسٹیٹ ایکسپریس کا کارٹن نکالا اور اسے اپنے بیٹے کے سرہانے رکھ دیا ۔رات اس جھگڑے کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کو دے ہی نہ سکا یھا۔چلو یہ اور بھی اچھا ہوا۔جاگے گا تو ایک دم پورا کارٹن پا کر کتنا خوش ہوگا ۔۔۔پھر سنت رام نے بیٹے کے دیے ہوئے رشین سو برائن کے پیکٹ میں سے ایک سگریٹ نکالا،اسے جلایا اور دھوئیں کے بڑے بڑے کش چھوڑے ۔زیرو پاور کے بلب کی روشنی پہلے ہی کچھ نہیں ہوتی ۔اس پہ دھوئیں نے اور بھی منظر کو دھندلا دیا تھا اور بچے فرشتوں سے بھی زیادہ حسین لگنے لگے تھے۔سنت رام کا جی چاہاکہ وہ آگے بڑھ کر پال کا چہرا نہیں چومے،جانے کیوں؟اس وقت تو سنت رام نے یہی سوچا کہ اگر اس نے ایسی حرکت کی تو وہ جگ جائیں گے۔
سو برائن کے چوتھے کش میں کوئی نشہ تھا یا شاید سنت رام کی آنکھیں بیٹے کی شراب سے چڑھ گئی تھیں،اس نے دھواں صاف کرتے ہوئے ایک بار پھر سب کی طرف دیکھا اور پھر پراتھنا کے لیے پوجا کے کمرے کی جانب چل دیا۔‘‘
افسانے کے اختمام پر قاری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا انسان کو ’’صرف ایک سگریٹ ‘‘جیسے فطری واقعے کو اتنی دل جوئی سے مطالعہ کرنا چاہیے یا صرف اسے سماج کے نفسیاتی مطالعے کے طور پر پڑھنا چاہیے۔اس افسانے میں ایک چھوٹے سے واقعہ کو راجندرسنگھ بیدی نے ایک طویل افسانے میں تبدیل کر دیا ہے۔یہ بیدی کے فن کا کمال ہی ہے کہ قاری اس میںاپنی کہانی تلاش کرتا ہے۔متوسط خان دانی جھگڑے ،باپ اور بیٹے کی داخلی کشمکش کو اساطیری طور پر پیش کرکے بیدی نے ایک طرح سے قاری کو اپنے قلم کے سحر میں باندھ لیا ہے۔جیسے جیسے افسانہ آگے بڑھتا جاتا ہے سنت رام کی اند رونی زندگی کے خلفسار کے ساتھ اس کی سماجی حیثیت کے تانے بانے میں جگہ جگہ سوراخ نظر آتے ہیں۔ایسے میں سنت رام کوگھر اورباہر دونوں جگہ اسے اپنی شکست ہوتی نظر آتی ہے۔سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ وہ ان تمام مسائل کو سلجھا نا چاہتا ہے۔لیکن ایسا ممکن نہیں ۔سنت رام کو فتح و کامرانی اس وقت ملتی ہے جب وہ پوری طرح سے اپنی گذشتہ زندگی کا احاطہ کرتاہے۔سنت رام افسانے میں ہمیں ایک مفکر ،ایک دوست،ایک کاروباری اورایک ایسا انسان نظر آتا ہے جو غم زدہ اور خوف زدہ ہے۔اس کا پُرسانِ حال کوئی نہیں ۔سب لوگ اس سے صرف دولت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔وہ ن لوگوں کی خواہشات کو پورا کرتے کرتے اپنی اصل حقیقت کو بھول چکا ہے۔افسانہ پڑھتے وقت قاری کا دل راجندر سنگھ بیدی کے قلم کو چومنے کے لیے بیتاب نظر آتا ہے۔کیوں کہ بیدی نے موقع و محل کے اعتبار سے کرداروں سے وہ مکالمے ادا کرائے ہیں جو افسانے کی ضرورت تھے۔ہمیں افسانے میں کسی بھی کردار سے کوئی شکایت محسوس نہیں ہوتی۔ایک گھر کی کہانی کو کئی طریقے سے بیدی نے قاری کے سامنے رکھا۔قاری اگر افسانہ پڑھتے ہوئے 1974ء کے ماحول کو مد نظر رکھے توزیادہ بہتر ہوگا۔کیوں کہ اس وقت سگریٹ پینا ایک اسٹیٹ سمبل مانا جاتا تھا۔مڈل کلاس لوگ سگریٹ کو اپنا بڑے ہونے کا ذریعہ مانتے تھے۔اس لیے بیدی جیسے عظیم افسانہ نگار کو بھی سگریٹ کے ذریعے اپنی کہانی پیش کرنا پڑی۔لیکن بیدی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے پورے افسانے میں تہذیب کا دامن تھامے رکھا۔افسانے میں ہر کردار بولتا ہوا نظر آتا ہے۔بیدی کے مکالمے شاعرانہ ہوتے ہیں ۔بیدی کے فن ِافسانہ نگاری اور کہانی ایک سگریٹ کے بارے میں وارث علوی لکھتے ہیں۔
’’ایک سگریٹ بے حد نستعلق کہانی ہے اور داخلی خود کلامی اور نفسیاتی حقیقت نگاری کا بے مثال نمونہ ۔باپ اور بیٹے میں کوئی بہت بڑاتصادم نہیں ہے،لیکن شک اور خوف کی حالت میں معمولی شخصی اور کاروباری اختلاف کیسے رات کی تنہائی میں باپ کے بے خواب ذہن میں آسیبی صورتیں اختیار کر لیتے ہیں اور ذہنی تناؤ اور خلفسار کو جنم دیتے ہیں۔اس کا بیان بیدی نے اتنے حساس اور فن کارانہ طریقہ پر کیا ہے کہ اس قول کی صداقت پر ایمان تازہ ہو جاتا ہے کہ شیکسپئیر جیسا بڑا فن کار اسٹیج پر ایک رومال گرا کر جو تاثر پیدا کرتا ہے ،معمولی لکھنے والا اسی تاثر کو پیدا کرنے کے لیے پورے اسٹیج کو نذرِ آتش کر دیتا ہے۔‘‘
(کلیات راجندر سنگھ بیدی،صفحہ 22،جلد اول، مرتب وارث علوی ،قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان ،نئی دہلی،2008ء)
اس طرح راجندر سنگھ بیدی نے اپنے فن کارانہ جوہر کو دکھاتے ہوئے اپنے افسانہ’’ صرف ایک سگریٹ‘‘ میں شہری زندگی کے داخلی گوشوں کو موضوعِ بحث بنایا۔کیوں کہ رات کے چار بجے اُٹھ کر سگریٹ پینے کا عمل شہری زندگی کا جز ہے نہ کہ دیہات کا۔دیہات میں چوپال پر آج بھی بزرگ لوگ بڑی شان سے حقہ گڑگڑاتے ہیں اور اپنے تمام ذاتی اور اجتماعی مسائل کا حل مل جل کرتلاش کرتے ہیں۔لیکن اس کے بر عکس شہر کے لوگ اجتماعی زندگی سے کوسوں دور ہیں۔ یہ ان کی سماجی دیوالیے پن کی علامت ہے ۔اسی وجہ سے وہ اپنی زندگی کے مسائل تنہائی میں سگریٹ پیتے ہوئے تلاش کرتے ہیں۔ شہر کی لاکھوں کی بھیڑ میں بھی انسان اجنبی اور اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے۔یہ نئے دور کا علمیہ نہی تو اور کیا ہے؟یہی نقطہ قاری کے ذہنوں کے نہاں خانوں میں ہل چل پیدا کرتا ہے۔
ابراہیم افسر
ibraheem afsar
ward no-1,mehpa chuoraha, nagar panchayat
meerut (u.p)
mobile 9897012528
email:ibraheem.siwal@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |