۔۔۔۔ اور پھرچہار اطراف کھڑی ہوئی بلند فصیلیں ۔۔۔۔ نا قابل عبور ۔۔۔۔۔ اور انکے درمیان ،دھرتی پہ پھوڑوں سمان اگے ہوئے…
افسانہ
-
-
ارم رحمن۔۔۔لاہور عورت کیا چاہتی ہے ؟ کیا سوچتی ہے ؟ صرف جسم اور جنس تک محدود نہیں کیا…
-
(افسانہ) یہ جون کی ایک حبس بھری رات تھی کہ اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ بارش کے قطرے کھڑکیوں پر…
-
افسانہ کوئی بیحد سہانی رت اسکے اندر آ کر رک گئی تھی۔ فضا پہ بھینی بھینی خوشبو کا اثر تھا ۔خنکی مائل…
-
ارم رحمٰن ایڈووکیٹ لاہور, پاکستان سردیوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا اور اللہ داد کا عشق بھی انگڑائی لے کر جاگنے…
-
مجھے احساس تھا کہ برف گر رہی ہے۔ میرا وجود شل ہے۔ پاؤں نے چلنا بند کر دیا ہے۔ دھند کی ایک…
-
کالج کے وسط میں ایک خاصا وسیع و عریض چوک تھا۔ موسم گرما کے آخری دن چل رہے تھے۔ سہ پہر…
-
افسانہتراجم
1934کے نیوریمبرگ میں ایک جوان ہوتی ہوئی لڑکی – ترجمہ:احسن ایوبی
by adbimirasby adbimiras1934کے نیوریمبرگ میں ایک جوان ہوتی ہوئی لڑکی ـ’’تمہیں کیسے پتا؟‘‘ ’’کیا؟‘‘ ’’کہ وہ مر گئے ہیں؟‘‘ ابھی سردیاں شروع ہوئی تھیں…
-
ہرطرف ہُوکا عالم تھا، گلیاں سنسان تھیں۔ دکانیں، مارکیٹ بند، سڑکیں ویران، ایسا لگتا تھا سارا شہر قبرستان میں بدل گیا ہے۔…
-
اب کاچاہی دروغہ صاحب۔ ارے تم کو دیکھنے کا من کرتا ہے تو آجائے ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آئی رہو۔…

