دسمبر کے آخری ہفتے کی سرد، یخ راتیں تھیں جب دانت بجتے ہوں اور سارے بدن میں ٹھنڈک ہڈیوں تک اتر کر…
افسانہ
-
-
”ممّی میری رِبّن کہاں ہے“ آسیہ نے پُکار کر پوچھا اور اس سے پہلے کہ ممّی باورچی خانہ سے جواب دیتیں، عمران…
-
’’ابو۔۔۔۔۔ابو۔۔۔آنکھیں کھولیں۔۔۔ابو‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی دیکھیں نا ابو کو کیا ہوا ہے۔ رات تک بالکل صحیح تھے۔ ابو سانس کیوں نہیں لے رہے ہیں۔تبسم…
-
مُنیربھائی کو حیدآباد سے بہت مُحبّت تھی لیکن وہ پاکستان چلے گئے۔ یہ ۱۹۵۸ کی بات ہے۔ اُنہیں حیدآباد کی ہر چیز…
-
خاموش رات کے سائے بڑھنے لگے تھے۔ گاؤں کی سرحد پر ٹین کی چھت والے دیسی شراب کے ٹھیکے میں ابھی بھی…
-
عشاء کی اذانیں ہو چکی تھی ۔ اندھیرا بھی آسمان پر کالے چادر کی طرح پھیل چکا تھا۔ ٹھٹھرتی رات تھی ۔…
-
چورے لمبے لمبے قدموں سے ڈھابے کی طرف بڑھ رہا تھا رامو چائے کے بھگونے میں چائے ابال رہا تھا صبح کے…
-
سُلگتی ہوئی مٹی کے سیاہ دھبوں پہ ،لاکھوں لاشے خون سے لت پت آدھے اُدھورے شریر کے ساتھ زمین پر پڑے ہوئے…
-
بلڈنگ کا نصف حصہ ایک زور دار آواز کے ساتھ گرا ہی تھا کہ فلک شگاف چیخیں گونج اٹھیں۔ اس بلڈنگ میں…
-
میں مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے اترہی رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر کچھ ٹھٹک سا گیا۔وہ عورت یہ…

