ہرطرف ہُوکا عالم تھا، گلیاں سنسان تھیں۔ دکانیں، مارکیٹ بند، سڑکیں ویران، ایسا لگتا تھا سارا شہر قبرستان میں بدل گیا ہے۔ ہر طرف صرف ایک ہی ساز سنائی دیتا تھا۔ اور وہ ساز موت پری کے پازیب کی ساز کا تھا۔ موت کی پریاں ہر طرف رقص کررہی تھیں۔ کوئی اگر مسرور تھا تو وہ یہ پریاں ہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا ان پریوں کو محبوب چننے کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہو۔ اور وہ اس اختیار کا پورا فائدہ اٹھاکر اپنی محفلیں سجا رہی تھیں۔ وہاں رنگ تھا، سرور تھا، شراب تھی، شباب تھا، ان کے آنگن میں ہر طرف چراغاں تھا۔ مگر ان چراغوں کی روشنی نے دوسری دنیا کے گھروں میں اندھیرا کردیا تھا۔
وہ آج بھی خالی ہاتھ لوٹا تھا، بچے نے دروازہ کھولتے ہی سوال دوہرایا۔ پاپا کچھ لائے نہیں؟ بچے کے سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس نے خاموشی سے سرجھکالیا۔ بچہ دوڑ کر ماں کی گود میں بیٹھ گیا۔ بیوی نے اس کی طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں شکوہ کیا۔ سرفراز اٹھ کر سیدہ کے پاس آیا اوراس نے مایوسی سے کہا۔ اب ہم لوگوں کو گائوں لوٹ جانا چاہئے۔ دو دن سے تم لوگوں نے کچھ نہیں کھایا۔ میرا کیا ۔۔میں دو چار دن اور بھوکا رہ لوں گا مگر ’’بنیاں‘‘ بچہ ہے کل سے اس کو ہلکا بخار بھی ہے۔
صبح کے قافلے میں تین مہاجر اور شامل ہوگئے۔ راستے میں تھوڑی راحت تھی۔ جگہ، پانی کی بوتل، کھانے کا پیکٹ مفت مل رہا تھا۔ سیدہ سوچ رہی تھی دو دن پہلے ہی نکل آتی تو سفیان کو بھوکا نہ رہنا پڑتا۔مگر سیدہ نے سن رکھا تھا کہ باہر موت پریاں پورے جوش میں ناچ رہی ہیں اور جو ان کو پسند آجائے اسے فوراً اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔
سیدہ نے کلمہ پڑھا اور اپنے بچے اور شوہر پر دم کیا۔ بچے کی پیشانی کوچوماتو سیدہ کو پیشانی کچھ گرم معلوم ہوئی اس نے کہا سرفراز ذرا دیکھو سفیان کو بخار لگ رہا ہے۔ سرفراز نے دیکھا ۔۔کچھ حرارت تھی۔ اس نے کہا دیکھتا ہوں کہیں کیمپ لگا ہے تو دوا لے آئوں۔
بہت پوچھ تاچھ کے بعد معلوم ہوا کوئی چار پانچ میل کے بعد کوئی شہر ہے جہاں سرکاری کیمپ ہے۔ سیدہ یہ سن کربہت خوش ہوئی۔ اب اس کے قدموں میں روانی آگئی تھی وہ کہیں رکنا نہیں چاہتی تھی۔ ہر لمحہ قدموں کی رفتار بڑھ رہی تھی۔ مگر سفیان کے قدم اب ڈگمگا رہے تھے۔ سرفراز نے گود سے اس کا سر اٹھایا۔ سفیان نے ایک طرف اشارہ کیا ۔پاپا ،کیلے اور بسکٹ دلادونا۔ سرفراز نے پیار سے سمجھایا۔ بیٹا آپ کو بخار ہے۔ ابھی پہلے ڈاکٹر کو دکھادیں۔ ڈاکٹر کہے گا تو تم کھالینا۔ بچہ سمجھ دار تھا۔ اس نے باپ کے کندھے پر خاموشی سے اپناسر ٹکالیا۔ کچھ دیر بعد سفیان نے کہا، پاپاجنت میں کسی کو بھوکا تو نہیں رہنا پڑتا ہے۔ سرفراز نے تڑپ کر ایک نظر اپنے سات سالہ معصوم بچے پر ڈالی۔ جس کا بدن بخار کی شدت سے جل رہا تھا۔ اس نے کہا، نہیں۔۔۔ آگے اس کی زبان ساتھ نہیں دے سکی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے چند قطرے آستین میں جذب ہوگئے۔ وہ اورتیز قدموں سے کیمپ کی طرف بڑھنے لگا۔
ڈاکٹر نے بچے کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ آلہ لگایا۔ پھر پوچھا کب سے بخار ہے۔ سیدہ نے کہا ،دو دن سے۔ ڈاکٹر نے دوائیاں دے دی۔ سرفراز نے بچے کو گود میں اٹھایا۔ اور کہا ڈاکٹر صاحب میرا بچہ کھانے کے لیے ضدکر رہا ہے ۔اصل میں جگہ جگہ کیلے اور بسکٹ کے پیکٹ بٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا بچہ جو کہے کھلا دیجئے۔ سفیان نے ڈاکٹر کی بات سن کر آنکھیں کھولیں۔ اور تھوڑا سا مسکرایا۔ ایسا لگا کہ وہ ڈاکٹر کا شکریہ ادا کررہا ہے۔
شام ہوگئی سب نے چادریں اور چٹائیاں بچھانا شروع کردیں۔ رات کی تاریکی نے نہ جانے کتنوں ہی کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔صبح ایک ہنگامہ برپا تھا۔ کوئی کسی کے لیے آہ وزاری کررہا تھا تو کوئی کسی کا ماتم کررہا تھا۔ سرفراز نے گھبرا کر سفیان کو جگایا۔ ایک بار ۔۔دو بار۔۔ مگر بے سود۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ موت پری نے اس کے آنگن کے چراغ کو اپنی محفل میں روشن کرلیا تھا۔
سیدہ نے پوچھا کیا ہوا۔ سرفراز نے کہا نہیں، نہیں سب ٹھیک ہے۔تم چلنے کی تیاری کرو۔ بس چند گھنٹوں میں ہم گائوں پہنچ جائیں گے۔سرفراز نے بچے کو اپنے کندھے پر اٹھالیا۔ اور سر پر چادر ڈال لی۔ سیدہ نے عجب نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ سرفراز نے کہا۔ ڈاکٹر نے کہا ہے ’’وبا‘‘ بہت پھیلی ہے اس لیے چادر۔۔۔
کچھ دور چل کرسیدہ نے کہا تھک گئے ہوگے۔ لائو کچھ دیر میں بچے کو لے لوں۔ سرفراز نے کہا نہیں میں ٹھیک ہوں اور اس نے رفتار بڑھادی۔
سیدہ کا دل عجب ہورہا تھا۔ اس کا گائوں قریب آرہا تھا۔ مگر اس کا دل کہیں کسی ان جانے خوف سے لرز رہا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی اور بچے پر دم کیا۔
یہ اس کے گائوں کا چیک پوسٹ تھا۔ باہر سے آنے والوں کی چیکنگ ہورہی تھی۔ اگلا نمبر سرفراز کا تھا۔ افسر نے پوچھا چادر میں کیا ہے۔ سرفراز کی زبان گنگ تھی۔ افسر نے دوبارہ چلا کر پوچھا کیا چھپایا ہے۔ سرفراز کی آنکھوں سے آنسوجاری تھے قبل اس کے کہ وہ کچھ کہنے کی ہمت کرپاتا۔ افسر نے حکم دیا چک کرو کیا ہے۔ مگر دوسرے ہی پل سرفراز پھٹ پڑا اس نے کہا لاش ہے۔ لاش۔۔ جسے میں دو دن سے سینے سے لگائے ٹہل رہا ہوں۔ اس نے روتے ہوئے کہا جانتے ہو کیوں۔ تاکہ اس کی ماں گائوں تک زندہ پہنچ سکے۔ اتنا کہہ کر اس نے لاش کو پھر کندھے سے لگا لیا۔
عافیہ حمید
ریسر چ اسکالر
خواجہ معین الدین چشتی لنگویج یونیورسٹی ،لکھنو
7897811988
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

