خاموش رات کے سائے بڑھنے لگے تھے۔ گاؤں کی سرحد پر ٹین کی چھت والے دیسی شراب کے ٹھیکے میں ابھی بھی گہما گہمی تھی۔ نہال سنگھ شام ڈھلتے ہی چرن سنگھ کے ساتھ وہاں آگیا تھا۔ چرن سنگھ اُس کے بچپن کا دوست اُس کی تکلیف سے بخوبی واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ بے بے کے چلے جانے کے بعد اب اپنا ہی گھر اُسے پرایا لگنے لگا ہے وہ اپنی زندگی سے بیزار ہو گیا ہے۔ شراب پیتے پیتے وہ اُسے زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتا رہا۔ حسبِ وعدہ وہ خاموش اُس کی باتیں سنتا رہا۔ نشہ چڑھنے کے بعد اُسے چپ سی لگ جاتی تھی۔ وہاں سے اٹھنے سے پہلے ایک بار پھر اس نے نہال کو اپنے ساتھ چلنے کا زور ڈالا۔ ڈگمگاتے قدموں اور لڑکھڑاتی زبان سے کبھی اُونچی تو کبھی دھیمی آوازمیں کچھ کہی، کچھ ان کہی باتیں کبھی خود سے تو کبھی اِک دوسرے کو کہتے سناتے دونوں گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔ پھر اک موڑ پر دونوں کے راستے الگ الگ ہوگئے۔ رات کے اس پہر گاؤں کی گلیاں ویران ہو چک تھیں ۔ دور سے مینڈک کے ٹرٹر کی آوازیں چُپی کو توڑ رہی تھیں۔ بے ترتیبی سے اُٹھتے قدم نکّڑ پہ سوئے کُتے پر جو پڑے جو وہ چُوں چُوں کرتا ہوا اٹھ کر پہلے پیچھے ہٹا پھر اُسے آگے چلتے دیکھ پیچھے سے بھونکنے لگا۔ اُس نے رک کر پیچھے دیکھا اور موثی سی گالی دی پھر آگے بڑھ گیا۔ گھر کا دروازہ بند تھا۔ دو تین بار زور زور سے کھٹکھٹانے کے بعد دروازہ پمونے کھولا۔ منہ میں کچھ بُڑبڑاتی ہوئی رسوئی کی طرف بڑھ گغی۔ وہ صحن میں پیچھے تخت پر جا کر بیٹھ گیا۔ اس کی بے بے تو ہمیشہ کام سے فارغ ہو کر اسی تخت پر بیٹھی تھی۔ اس نے پیار سے بستر پر ہاتھ پھیرا اور پھر آستین سے ہی بہتی آنکھیں صاف کرنے لگا۔ پمو دو منٹ بعد تھالی میں دال روٹی لے کر اُس کے پاس آئی۔ بنا کچھ کہے تخت پر تھالی رکھی اور مڑنے لگی تو اُس نے پمو کی کلائی پکڑ لی اور پوچھنے لگا۔
’’مکھنی سو گیا کیا؟‘‘
اپنے چھوٹے بھائی مکھن سنگھ کو وہ پیار سے مکھنی ہی کہتا تھا۔
پمو نے ایک جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑالی اور بِنا کسی بات کا جواب دیئے رسوئی کی طرف بڑھ گئی۔
’’تجھے اب میں زیادہ تکلیف نہیں دوں گا۔ چلا جاؤں گا یہاں سے‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ کھانا کھانے لگا۔ شراب پی کر وہ گلے تک رج چکا تھا، دو نوالے ہی منہ میں ڈالے باقی کھانا وہیں چھوڑ وہ زینہ چڑھ کر چھت پر پہنچ گیا۔ کھُلے آسمان کے نیچے ہرروز کی طرح اس کا بستر لگا ہوا تھا۔ وہ جاتے ہی بسترپر گِر گیا۔ تاروں بھرے آسمان کی طرف دیکھا تو اُسے بادلوں میں بے بے کی شکل نظر آنے لگی۔ آنکھیں کھول کر دوبارہ دیکھنا چاہا تو آنکھیں کھولنے کی طاقت ہی نہ رہی۔ دو منٹ میں ہی وہ بے سُدھ ہو کر سوگیا۔
نہال سنگھ کوئی شرابی نہیں تھا۔ سال میں پانچ چھ مرتبہ ہی شراب پیتا، کبھی زیادہ غم ہو یا پھر کوئی خاص شادی بیاہ کا پروگرام ہو تو ۔ ہاں اگر کبھی تین چار مہینے بعد چرن سنگھ کے ساتھ شہر میں نتھنی والی کے پاس جانے کا پروگرام بن جاتا تو وہ چُپ چاپ شراب گٹکا لیتا تھا مگر گاؤں میں بے بے کے سامنے پی کر جانے کی اُس کی ہمت نہ ہوتی۔ گھر میں صرف وہ ہی تو تھا جو بے بے کی گھوری سے ڈرتا تھا یا یوں کہو کہ بے بے کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا ۔ اُس کے دکھ میں ترپ اُٹھتا تھا۔ اس کے دو چھوٹے بھائی مکھن سنگھ اور بیساکھا سنگھ ڈٹ کر شراب پیتے تھے اور روڈا سنگھ تو بے بے کے قابو میں بالکل نہیں تھا۔ وہ تو پکا نشئی ہو چکا تھا۔ ہزاروں نوجوانوں کی طرح اُسے بھی افیم گانجے کی لت لگ چکی تھی۔اُسے نہ کسی کا خوف تھا اور نہ لحاظ۔
رات بھر وہ بے سُدھ پڑا رہا۔ صبح سُورج سر پر چمکنے لگا تو مکھن نے آکر بھائی کو جگایا۔ نہال تو پوپھٹنے سے پہلے ہی اُٹھنے کا عادی تھا۔ ہر روز صبح بے بے کی گُربانی کی آواز رس گھولتی ہوئی کانوں میں ٹپکتی تو وہ نیند سے جاگ اٹھتا۔ اُسے صبح بہت میٹھی لگتی تھی جس کا احساس اُسے بے بے کے گزر جانے کے بعد ہوا۔ اب اسے صبح پھیکی اور زندگی بے رنگ لکنے لگی تھی۔ گھر سُونا سُونا لگنے لگا تھا۔ وہ پہلے کہا جانتا تھا کہ بھرا پورا پریوار اور گھر کی رونق صرف بے بے کے دم سے ہی ہے۔ صحن میں تخت پر بیٹھی بے بے کی نظریں چارو جانب گھومتیں۔ آواز اتنی دم دار کہ پمو کی آواز حلق میں ہی اٹک جاتی۔ اُس نے تو پمو کی آواز بھی کبھی ڈھنگ سے نہیں سُنی تھی۔ کبھی پمو سے بات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ بے بے کی ایک آواز پر وہ اس کے لیے کھانے پینے کا سامان لے آتی۔ سر پر دوپٹہ اوڑھے چپ چاپ سب کام کرتی رہتی اور منہ سے زبان تک نہ نکلتی۔ نہال سنگھ نے کئی بار پمو کو سُناتے ہوئے بے بے سے بات کی تھی ، وہ بھی کن انکھیوں سے اُسے دیکھتی، اُسے محسوس ہوتا کہ وہ اُس کی باتیں سُن کر مسکرا رہی ہے۔ ایک روز اس نے پمو کو سُناتے ہوئے بے بے سے اُس کے بنائے کھانے کی تعریف کی تو وہ سب سُن رہی تھی۔ تعریف کے دو بول بے بے نے بھی بول دئیے تو خاموش مند مند مسکراتی رہی۔ نہال نے بے بے سے پوچھا۔
’’بے بے کہی مکھن کے ساتھ کوئی ظلم تو نہیں ہوگیا؟‘‘
’’وہ کیا پُتر؟ بے بے نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’یہ گُنگی تو نہیں؟‘‘
’’چل ہٹ چندریا۔ میسنی ہے سب سُنتی بھی اور بولتی بھی ہے۔ مکھن سے پوچھ لینا کتنے کان بھرتی ہے اُس کے۔
’’لگتی تو نہیں بے بے۔‘‘ اُس نے دھیرے سے کہا۔
وہ چپ چاپ سُنتی رہی اور کام کرتی رہی۔ بے بے نے بات بدلتے ہوئے کہا۔
’’میں سوچتی ہوں چانن سے بات کروں‘‘
’’کس لئے؟‘‘
’’اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لوں تیرے لیے‘‘
’’بے بے اُس کی عمر دیکھی ہے؟ کم سے کم پندرہ سال چھوٹی ہے وہ مجھ سے۔ چاچا کبھی اس رشتے کے لیے نہیں مانے گا۔ تو بس اُمید چھوڑ دے۔‘‘
’’ ہائے ہائے اکال پڑگیا لڑکیوں کا۔‘‘
’’بے بے کیوں فکر کرتی ہے ہم اکیلے تو چھڑے نہیں ہیں اس گاؤں میں۔ یہاں نہیں ہوگی تو کہیں اور ہوگی۔ اگر قسمت میں لکھا ہوگا تو مل ہی جائے گی۔ ہمارے مکھنی کو بھی تو مل ہی گئی تیری پمو۔‘‘
’’میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے تو نہیں بیٹھ سکتی۔‘‘ یہ تو میں ہی جانتی ہوں کہ کیسے اس کا باپ راضی ہوا تھا رشتے کے لیے ۔ میں تو تیرا رشتہ لے کر گئی تھی مگر اُسے گورا چٹا مکھن پسند آگیا تھا۔
’’پھر کیا ہوا بے بے میں بھی جیٹھ ہوں۔ اور سال میں ایک مہینہ جیٹھ کا بھی ہوتا ہے‘‘۔ اس نے شرارت سے مسکراتے ہوئے پمو کی طرف دیکھ کر کہا جو کپڑے دھو کر پانی سے نکال رہی تھی۔ اس نے پھر بات سُنی ان سُنی کر دی اور بے بے نے اُس کے سر پر پیار سے چپت لگا دی۔
’’چھوٹی بھابی ہے، مذاق مت کیا کر‘‘
وقت گزرتا گیا ، بے بے کی کوششیں ناکام ہوتی رہی۔ سچ مچ لڑکیوں کا اکال ہی پڑ گیا تھا۔ وہ بھی تو چا رچار بیٹے جن کر کتنی خوش تھی۔ اُس نے بھی تو جانے انجانے قدرت کے فیصلے کو نکارا تھا۔ بغاوت کی تھی قدرت سے۔ شاید اسی کی سزا آج وہ بھُگت رہی ہے۔ اُس کا ضمیر اُسے دُھتکارتا۔ وہ تڑپ اُٹھتی مگر کسی سے کچھ نہ کہتی اپنی تکلیف اپنے اندر ہی پی جاتی۔
بے بے نہال کو بہت مانتی تھی۔ چاروں بیٹوں میں وہ اُسے سب سے زیادہ عزیز تھا۔ شاید اس لیے کہ وہ اُس کی پلیٹھی کی اولاد تھی۔ نہیں پلیٹھی کی اولاد کو تو اُس کی ساس نے دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس کی کوکھ میں مروا ڈالا تھا۔ انہیں بیٹی نہیں چاہیے تھی اور اس کا مجازی خدا ، ماں کے فیصلے کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بولا، بُت بنا اس کی بے بسی دیکھتا رہا۔ اس کی فریاد کو نظر انداز کر دیا۔ اس کے سامنے دو راستے تھے یا اپنی کوکھ کو بچا لے یا پھر اپنی شادی کو۔ اور اس وقت کمسِن ، لاچار، نمانی کیسرو نے اپنی شادی کو بچانے کے لیے اپنی پلیٹھی کی اولاد قربان کر دی۔ بہت روئی تھی، بہت سسکی تھی پھر اس چوٹ نے اسے توڑنے کے بجائے اور مضبوط بنا دیا تھا۔ ایک لمبے عرصے تک اُس نے اپنے مجازی خدا پر یتم سنگھ کو اپنے پاس نہیں بھٹکنے دیا تھا۔ اس کی مردانگی چکنا چور کر دی تھی۔ ہتھوڑے کی طرح کیسرو کی بات اُس کی انا پر برسی تھی جب ایک رات کیسرو نے اس کا ہاتھ اپنے جسم سے حقارت سے یہ کہہ کر جھٹک کر پیچھے دھکیل دیا تھا۔
’’اپنی بے بے سے اجازت لے کر آیا ہے کہ نہیں؟ نہیں لایا تو پلہے پوچھ لے اپنی بے بے سے، پھر آنا۔ ماں کا دینا۔‘‘
یہ گالی اُس نے دھیمی آواز میں دی تھی جو پگھلتے سیسے کی طرح اس کے کانوں میں پڑی تھی۔
اتنا کہہ کر وہ کمرے سے نکل کر صحن میں آگئی تھی اور اُس رات پریم سنگھ انگاروں پر لوٹتا رہا ۔ اس رات اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ مرد ہو کر بھی اُس سے زیادہ کمزور، ، کم ظرف ہے۔ اُس رات کے بعد اس نے اپنی بے بے کا پلو چھوڑ کر بیوی کا آنچل تھام لیا تھا۔ بے بے تلملاتی رہی اور کیسرو دن پردن نکھرتی گئی سنورتی گئی۔ ایک کے بعد ایک کیسرو نے چار بیٹے جنے۔ سب سے بڑا بیٹا پیدا ہوا تو دادا دادی اسے دیکھ کر نہال ہو گئے تو دادی نے اس کا نام ہی نہال سنگھ رکھ دیا۔
اس کے دو سال بعد گورا چٹا بیٹا پیدا ہوا تو کیسرو نے اس کا نام مکھن سنگھ رکھ دیا۔ پھر اُس کے اگلے سال ایک اور بیٹا پیدا ہوا جیسے دیکھتے ہی دادی نے کہا تھا۔
’’پریتم یہ کیا؟ سردار کے گھر روڈا بچہ؟‘‘
’’اس روز سے پریتم نے اسے روڈا ہی کہہ کر بلانا شروع کر دیا ۔
تین سال لگا تار اِدھر کھیتوں میں فصل کی کٹائی ہوتی تو اُدھر گھر میں کیسرو کی فصل بھی تیار ہو جاتی۔ سب سے چھوٹا بیٹا بیساکھا، بیساکھی والی شام کو ہی پیدا ہوا تھا۔ اس سال بیساکھی کی خوشیاں دوبالا ہو گئی تھیں۔
جیسے جیسے کیسرو کے پیر جمتے گئے، ساس کے ہاتھوں سے گھرہستی کی کمان ڈھیلی ہوتی گئی۔ دادی پوتوں کی ریل پیل دیکھ کر خوش تھی مگرپریتم سنگھ بیٹوں کی جوانیاں نہیں دیکھ سکا۔
نہال جوان ہوا تو کیسرو کے دل میں بیٹے کے سر پر سہرا دیکھنے کی خواہش جوان ہونے لگی۔ اس نے رشتے کے لیے اِدھر اُدھر ہاتھ پیر مارنے شروع کر دیئے۔ نہال سے بڑی عمر کے کئی جوان گاؤں چھوڑ کر شہر جا بسے تھے صرف اس وجہ سے کہ اُن کو گاؤں میں شادی کے لیے لڑکیاں نہیں مل رہی تھیں۔ اس کی بے بے نے بھی نہال کے لیے کئی دروازے کھٹکھٹائے، آس پاس کے گاؤں تک جا پہنچی مگر اس کے سنجوک سوئے رہے۔ بے بے نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے ہیرے جیسے بیٹے کے لیے دلہن ملنا اتنا مشکل ہو جائے گا۔ جب خالی جھولی لے کر گھر لوٹتی تو اکثر کہتی۔
’’لگتا ہے لڑکیوں کا اکال پڑ گیا۔ جس کے گھر دیکھو لڑکے ہی لڑکے ہیں اور اگر کہیں لڑکی ہے تو ان لوگوں کے نخرے ہی بہت ہیں زیادہ بڑے زمیندار چاہیے انہیں‘‘
وقت گزرنے لگا تو بے بے کی فکر بھی بڑھنے لگی ۔ چا رچار جوان بیٹے ، وہ بھی بِنا باپ کے ،نہ کسی کا ڈر نہ کسی کا لحاظ مشٹنڈوں کی طرح سارے گاؤں میں دندناتے پھرنے تک گاؤں کے کسی کونے میں وقت گزاری کے لیے کبھی دارو، کبھی تاش، کبھی تالاب کے پاس آتی جاتی گاؤں کی لڑکیوں ، عورتوں کا سر سے پاؤں تک بے باک جائزہ لیتے تو کبھی موبائل پر دیکھی فلموں پر تبصرہ کرتے۔ بے بے ان کے پاؤں میں ذمہ داری کی بیڑیاں پہنانے کو بے چین تھی۔ اب تو صرف نہال ہی نہیں بیساکھا تک کی عمر شادی کے لائق ہو چکی تھی۔ اس میں اتنی قوت نہیں تھی کہ اُن کی جوانیاں سنبھال کر رکھتی۔ اُسے تو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا کہ کہیں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھیں جس کی شرمندگی سبھی کو تا عمر اُٹھانی پڑے۔ گاہے بہ گاہے وہ انہیں اشاروں اشاروں میں تاکید کرتی رہتی۔ وہ اکثر اپنی بوڑھی ساس سے کہتی:
’’دیکھ لیا چار چار پوتوں کا سُکھ۔ کیا اسے گھر کہتے ہیں؟ نہ کسی کے آنے جانے کا وقت، نہ انہیں اُٹھنے بیٹھے کا سلیقہ، گھر میں بہن ہوتی تو اس طرح ننگ دھڑنگ بے شرموں کی طرح سارے گھر میں نہ گھومتے پھرتے۔ گاؤں کی کوئی بھی عورت ہمارے گھر آنا اسی لیے پسند نہیں کرتی کہ ان کم بختوں کو زندگی کے طور طریقے نہیں آتے۔ اب تو میں سوچتی ہوں کسی کی بھی شادی ہو جائے۔ گھر میں ایک لڑکی آجانے سے کم سے کم یہ گھر گھر تو بن جائے گا اب تک تو یہ راکھشوں کا اکھاڑا لگتا ہے۔‘‘
بوڑھی دادی پوتے کے سر پر سہرا دیکھے بنا ہی پوری عمر بھوگ کر چل بسی۔ کھیتوں کا کام چاروں بھائی سنبھالتے تھے۔ گھر اور مویشیوں کی ذمہ داری بے بے کے سر تھی۔ اکیلی جان گھر کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے اب تھک چُکی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اب نسل آگے کیسے بڑھے گی۔ اس روز منجیت بتا رہی تھی کہ چودھری کا لڑکا گاؤں کے ایک لڑکے کے ساتھ بھاگ گیا۔ کل کو اگر اس کا کوئی بیٹا ایسانکلا تو۔۔۔؟یہ خیال آتے ہی وہ لرز اٹھی ۔ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہیں بیٹھ سکتی۔ بہو تلاشنے کی مہم ایک بار پھر تیز کر دی تھی۔ اس بار وہ کامیاب ہو گئی تھی۔ رشتہ تو وہ نہال کے لیے مانگنے گئی تھی مگر پمو کے گھر والوں کو مکھن زیادہ پسند تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی نہال کو چھوڑ کر اسے پہلے مکھن کے سر سہرا سجانا پڑا۔ دُلہن کے گھر آجانے سے گھر کے نقشے میں کچھ سُوعار تو ہوا تھا۔
نئی نویلی دُلہن کو گھر میں گھومتے دیکھ نہال کو کچھ اٹ پٹا سا لگا تھا۔ وہ گھر کا بڑا بیٹا، اگر اُس کی شادی پہلے ہو جاتی تو یہ چوڑیوں کی کھنک یہ پازیب کا مدھم سنگیت وہ بے جھجھک اس رس میں ڈوب جاتا پر اب وہ ان سب سے کترانے لگا تھا۔ زیادہ سے زیادہ وقت وہ گھر سے باہر ہی گزارتا۔ پمو کے آنے سے پہلے وہ گرمیوں میں صحن میں بستر بچھا کر اپنے بھائیوں کے ساتھ سو جاتا تھا مگر اب انہوں نے صحن کے بجائے چھت پر سونا شروع کر دیاتھا۔ پہلے تین بھائی چھت پر سوتے تھے پھر دو رہ گئے۔ روڈے کی راتیں اکثر گھر سے باہر گزرنے لگیں تھیں۔ اُسے نشے کی اسی لت لگ چکی تھی کہ بے بے اور نہال کوششوں کے باوجود اُسے اس جنجال سے نکال نہیں پائے تھے۔ پھر وہ دن بھی آیا جب لاکھ کہنے کے باوجود اس نے کھیتوں پر آنا تو چھوڑ ہی دیا تھا اوپر سے اپنے حصے کا تقاضا بھی کرنا شروع کر دیا ۔ سب جانتے تھے اُسے اپنا حصہ کس لئے چاہیے۔ اس کے پردادا کے پاس پچاس ایکڑ زمین تھی جو بٹتے بٹتے اس کے والد کے حصے میں دس ایکڑ ہی رہ گئی تھی۔ اب اس دس ایکڑ کے بھی چا رحصے لازمی تھے۔ بے بے نے جب اسے پیار سے ، ڈانٹ سے، غصہ سے منانا چاہا وہ پھر بھی اپنی ضد پر اڑا رہا تو بے بے نے چار کی جگہ زمین میں پانچواں حصہ مانگ لیا۔ وہ پانچواں حصہ خود اس کے لیے تھا۔دو ایکڑ کا حصہ لے کر وہ گھر سے الگ ہو گیا۔
پمو نے بہت جلد گھر کے سبھی کام اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ بے بے صحن میں بیٹھی بیٹھی اس کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگی تھی۔ کام بھی کرتی جاتی ، پاٹھ میں کرتی رہتی، بہو سے باتیں بھی کرتی اور نہال اور بیساکھا کی ہر ضرورت کا خیال بھی رکھتی۔ ایک بار نہیں ہزار بار اُس نے یہ بات سُنا کر پمو کی پکّا کر دیا تھا کہ:
’’دیکھ نُورانی یہ بات پلتے باندھ لے جب تک تیرے جیٹھ اور دیور کی شادی نہیں ہو جاتی، ان کے سب کام تو ہی دیکھے گی۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال تو نے ہی رکھنا ہے۔ جب ان کی بیویاں آجائیں گی تو وہ جانیں یا یہ جانے ہمیں تو اپنے فرض سے پیچھے مت ہٹنا۔‘‘
وہ سر کو ذرا سی جنبش دے کر ’’ہاں‘‘ میں سر ہلا دیتی۔
ایک رات نہال اور بیساکھا کھانا کھا کر چھت پر سونے کے لیے پہنچ گئے ۔ دونوں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر بیساکھا نے کچھ رُک کر کہا:
’’ویرے میں نے ضروری بات کرنی ہے تجھ سے ‘‘
’’اتنی دیر سے غیر ضروری باتیں کر رہا تھا‘‘۔ اس نے کروٹ اس کی طرف بدل کر کہا۔
’’سوچتا تھا کہوں یا نہ کہوں؟‘‘
’’ایسی بھی کون سی بات ہے، اب کہہ بھی دے۔ نیند آ رہی ہے مجھے اب۔ جلدی سے بتا کیا بات ہے؟‘‘
’’بُدھ کو جگتار ٹرک لے کر کلکتہ جا رہا ہے۔ مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہہ رہا ہے۔ میں سوچتا ہوں میں بھی چلا جاؤں۔‘‘
جگتار اور کلکتے کا ذکر سُن کر اُس کا ماتھا ٹھنکا۔ نیند یکدم غائب ہوگئی اور وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’تو نے کیا کرنے جانا ہے اُس کے ساتھ؟‘‘
’’وہ میں۔۔۔‘‘ وہ ہکلانے لگا۔
’’دیکھ بیساکھے مجھے صاف صاف سب بتا دے میں جگتار کو بھی جانتا ہوں اور تیرے ارادے بھی مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے۔ بتا کیا بات ہے؟‘‘
’’تھک گیا ہوں میں میرے، لوگوں کی باتیں سُنتے سُنتے۔ کل کے چھوکرے پھبتیاں کستے ہیں، اپنے ہی یار دوست جن کے ساتھ بچپن میں کھیل کر جوان ہوئے، ہمیں دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں اور اگر اُن کے گھر چلے جاؤ تو باہر دروازے سے ہی بھگا دیتے ہیں۔ ویرے ہماری شادی نہیں ہوئی، اس کا مطلب یہ تو نہیںکہ ہماری کوئی عزت ہی نہیں‘‘
’’یہ عزت والی بات کہاں سے آگئی؟ بے بے نے کتنی کوشش کی ۔ بے بے نے ہمارے لیے لڑکی دیکھنے کی اگر قسمت میں نہیں بیاہ لکھا تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟ اور پھر ہم اکیلے ہی تو اس گاؤں میں چھڑے ملنگ نہیں ہیں اور بھی تو ہیں ہمارے ساتھی۔‘‘
’’مجھ میں تم جیسا صبر نہیں۔‘‘
’’کیا مطلب ؟ تو کہنا کیا چاہتا ہے صاف صاف بتا۔‘‘
’’میں جگتار کے ساتھ کلکتہ جا ؤں گااور وہیں سے اپنے لیے دُلہن لے آؤں گا۔ وہ کہتا تھا وہاں آسانی سے لڑکیاں مل جاتی ہیں‘‘
’’اوہ! تو یہ بات ہے۔ تو دلہن خرید کر لائے گا؟‘‘
’’ایسا ہی سمجھ لو‘‘
’’مگر بے بے اس کے لیے کبھی راضی نہ ہوگی۔ کسی بنگالن کو وہ اپنی بہو کبھی نہیں مانے گی۔ اور یار سوچ تو کل تیرے بچے ہوںگے۔ سردار کے بچے، جٹ کے بچے بنگالی صورت والے‘‘ سوچتے ہوئے اسے بے ساختہ ہنسی آگئی۔
’’جو بھی ہوگا ٹھیک ہوگا۔ ہونگے تو میرے ہی بچے‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا۔
’’دیکھ بیساکھے یہ تیری زندگی ہے تُو اپنی مرضی کا مالک ہے مگر میں جانتا ہوں بے بے کبھی راضی نہ ہو گی۔ وہ تو نائی کی کملیشو کا سُن کر بھڑک اٹھی تھی تو کیا ہوا اگر وہ نائی کی بیوہ بیٹی تھی ، تھی تو اپنے علاقے کی۔ اگر تو بنگالن لے آیا تو اُس کی بات کو سمجھے گا؟‘‘
’’کچھ بھی ہو ۔ اچھا ہے نہ وہ کسی کی بات سمجھے اور نہ کوئی اس کی بات سمجھے۔ کم سے کم میرا گھر تو بس جائے گا۔ لوگوں کے منہ تو بند ہو جائیں گے‘‘
’’سوچ لے ایک بار پھر۔ اور سُن بے بے سے بات کر لینا اُسے منا کر ہی جگتار کے ساتھ جانا۔‘‘
’’یہ ہی تو مشکل کام ہے ۔ دیکھتا ہوں بے بے سے بات کر کے‘‘
’’ویرے تو ہی بے بے سے میری سفارش کر دینا‘‘
’’اگر مجھے کبھی بات کرنی ہوگی تو میں اپنے لیے کروں گا تیرے لیے کیوں کروں؟‘‘
’’بڑا بھائی نہیں تُو میرا؟‘‘
’’چل اچھا سو جا صبح ہوتی ہے تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟‘‘
جس بات کا اُنہیں ڈر تھا وہی ہوا۔ بے بے کو پتا چلا تو اُس نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔ وہ کسی بھی قیمت پر راضی نہیں ہوئی۔ نہال بیچ میں پڑا تو بے بے نے رونا شروع کر دیا۔ آنسو اور وہ بھی بے بے کی آنکھوں میں، نہال نے ہتھیار ڈال دئے اور بیساکھا غصّے سے پیر پٹکتا نکل گیا۔ اُس رات وہ گھر نہیں آیا۔ نہال اُسے تلاش کرتا کرتا جگتار کے اڈے پر جا پہنچا اُسے سمجھا بجھا کر گھر تو لے آیا مگر اُس نے اپنی ضد نہیں چھوڑی اور بدھ کی صبح وہ بیگ لے کر گھر سے نکل گیا۔ بے بے روتی چلّاتی رہ گئی مگر وہ رُکا نہیں۔ تین مہینے اس کی کوئی خیر خبر نہیں آئی اور پھر ایک روز اچانک ایک بنگالی دلہن کو ساتھ لے کر گھر لوٹ آیا۔ آتے ہی بے بے کے قدموں میں گر گیا۔
’’بے بے تیری بہو۔ آشرباد دے دے‘‘
وہ ہکّی بکّی اُس آدھی پسلی کی مریل سی لڑکی جس کے سانولے چہرے پر دوبڑی بڑی کالی آنکھیں خوف اور بے بسی کی دہائی دے رہی تھیں۔ جسے دیکھتے ہی بے بے نے اپنا سر پکڑ لیا اور بے ساختہ منہ سے نکلا:
’’وے جین جوگیا، اے کیہہ لے آیا وے؟ نہ منہ نہ متھا جن پہاڑوں لتھا‘‘
’’بے بے تیری بہو ہے۔ شادی کرا کے لایا ہوں‘‘
’’کتنے میں خریدی‘‘
’’بے بے خریدی نہیں۔ غریب باپ کی بیٹی ہے۔ اس کے باپ کی نہیں اپنے سسر کی صرف مدد ہی کی ہے‘‘
’’اوئے اسے خریدنا ہی کہتے ہیں اور بکی ہوئی عورت کی کو ئی عزت نہیں ہوتی۔ نہ گھر میں نہ سماج میں۔ نہ ہی لوگ اس کی عزت کریں گے اور نہ ہی کل تُو اس کی عزت کرے گا۔‘‘
’’بے بے بیوی ہے میری۔ ایسا مت کہہ۔ گھر بسانا ہے مجھے اس کے ساتھ تُو بس آشیرباد دے دے‘‘
’’ایک بات تُو میری سُن لے۔ تو نے اپنی مرصی کی ، ہماری ایک نہ سُنی۔ تُو اپنی مرضی کا مالک۔ اسے لے کر اپنی الگ سے گھر ہستی بسا لے۔ اب اس گھر میں تیرے لئے کوئی جگہ نہیں۔‘‘
’’ مگر بے بے میں اسے لے کر جاؤں گا کہاں؟‘‘
’’یہ تو تجھے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ تیرے بڑے خیر خواہ ہیں یہ صلاح بھی دے دیں گے‘‘
اب تک بات سارے گاؤں میں پھیل چکی تھی اور نہال بھی یہ خبر سُن کر گھر کی طرف لپکا۔ اپنے گھر کے باہر لوگوں کو اُچک اُچک کر اندر دیکھتے بھڑک اٹھا۔
’’تماشا ہو رہا ہے کوئی؟ بھاگو اپنے اپنے گھروں کو‘‘
اس کی زور دار آواز سن کر لوگ تتّر بتّر ہو گئے۔
’’بے بے یہ کیا کر رہی ہو؟ کیوں تماشا بنا رہی ہو؟ بیاہ کر لایا ہے بھگا کر نہیں لایا۔‘‘ بے بے کے کاندھے پر پیار سے ہاتھ رکھ کر اُسے سمجھانے لگا۔
’’مگر دیکھ تو کیا گُل کھلایا ہے اس چندرے نے‘‘ بے بے کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔
’’چپ کر بے بے رونا ۔ جو ہوگیا سو ہوگیا۔ تو بس ٹھنڈ رکھ۔‘‘ ماں کو سینے سے لگا کر چُپ کرانے لگا۔
بیساکھا اپنی دلہن کے ساتھ وہی پریشان کھڑا رہا۔ پمو رسوئی میں کام کرتے کرتے باہر دیکھ رہی تھی۔
’’چل اوئے بیساکھیا لے جا اپنی دلہن کو اندر۔ جا منہ ہاتھ دھو کر کچھ کھا پی لے۔‘‘
یہ سنتے ہیں بیساکھے نے راحت کی سالس لی اور بیوی کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے جلدی جلدی کمرے میں چلا گیا۔
’’پمو۔ جا کر دیکھ انہیں کیا چاہیے‘‘ بہت کم وہ پمو کو اُس کے نام سے بُلا کر کوئی کام کہتا تھا۔
پمو کو اُس نے کمرے میں اُن کے پیچھے جاتے دیکھا اور خود وہ بے بے کو منانے کی کوشش کرنے لگا۔ بیساکھے کا اس طرح بنگالی لڑکی بیاہ کر لے آنا اُسے بھی اچھا نہ لگا تھا۔اُس کا درد ، اُس کی محرومیاں ، اُس کی خواہش، اُس کی ضرورتیں اُس کی تشنکی کو محسوس کر سکتا تھا۔ وہ بھی تو اسی کشتی کا مسافر تھا فرق صرف اتنا تھا کہ وہ بے بے کو دُکھ دے کر کوئی کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جی تو اُس کا بھی چاہتا تھا کہ کوئی اُس کی راہ دیکھے اُس کے سب کام کرے، تھک ہار کر جب کھیتوں سے لوٹے تو دو بول پیار کے بولے۔ اُس کے بھی گھر میں بچوں کا شور ہو۔ وہ صرف ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔
بہت ہی جلد آٹھ ایکڑ زمین کے پھر حصّے ہو گئے۔ د وایکڑ ے اپنے حصّے کی زمین لے کر بیساکھا اپنی بیوی کو لے کر الگ گھر بسانے کے لیے دہلیز پار کر گیا۔
زمین اور گھر کے بٹاورے تو سب نے دیکھے مگر بے بے کے دل کے کتنے ٹکڑے ہوئے،کتنے ارمان سسک سسک کر ٹوٹے، یہ کسی کو دکھائی نہیں دیا۔ اسے جسمانی تکلیف کوئی نہیں تھی بس موہ کا روگ لگ گیا۔ بیٹوں کا موہ دیمک کی طرح اُسے اندر سے کھوکھلا کر تارہا۔ اپنے سب سے فرمانبردار لاڈے بیٹے کے گھر نہ بسا سکنے کی ناکامیابی اُسے تڑپاتی رہی اور ایک روز یہ ارمان لئے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
بے بے کے گزر جانے کے بعد مکھن اور پمو اُس کا پورا خیال رکھتے۔ مکھن کھیتوں پر اُس کے ساتھ کام کرتا۔ مندی بھی ایک ساتھ جاتے اور کوشش کرتا کہ وہ کہیں دوستوں کے ساتھ رُک نہ جائے، سیدھے اس کے ساتھ ہی گھر چلے۔ پمو بھی اُس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی۔ وقت پر کھانا دینا ، اس کے کپڑے دھونا ، اس کا بستر چھت پر لگانا، سب وہ بِنا کہے ہی کرتی۔ پھر بھی نہال کو وہ اپنا گھر نہیں لگتا تھا وہ اسے پمو کا گھر کہنے لگا تھا۔ بے بے کے جاتے ہی اُس کے سر کا پلو بھی ڈھلک گیا تھا۔ اپنے گھر کا احساس شاید بے بے اپنے ساتھ ہی لے گئی تھی۔ روڈا تو اپنی زمین بیج کر نہ جانے کہاں نکل چکا تھا۔ بیساکھا اپنی بنگالن کے ساتھ خوش تھا بس وہ ہی تنہا رہ گیا تھا۔ اُسے چرن سنکھ کی بات بار بار یاد آ رہی تھی۔ سُنتے ہی جس بات کو اس نے انکار دیا تھا ، اب وہ ہی بات اُسے بھلی لگنے لگی تھی۔ وہ سوچنے لگا کب تک وہ ایسے ہی بے مقصد زندگی جیتا رہے گا؟ کب تک وہ چوروں کی طرح نتھی والی کے پاس اپنی ضرورتیں پوری کرنے جاتا رہے گا؟ اُسے بھی کوئی اپنا چاہیے۔ بیساکھا بھی تو خوش ہے، لوگ ایک دن باتیں کریں گے ، دو دن کریں گے، پھر خاموش ہو جائیں گے۔بچے کالے پیلے پیدا ہو بھی گئے تو کیا؟ ہونگے تو اُسی کے۔ جب یہ ہی بات بیساھے نے اُس سے کہی تھی تو وہ کیسے کھلکھلا کر ہنستا تھا۔ اب وہ بھی تھک گیا ہے۔
رات صحن میں تخت پر بیٹھے دونوں بھائی کھانا کھا رہے تھے اور پمو رسوئی سے ایک ایک کر کے گرم گرم روٹی اُن کو پروس رہی تھی۔ نہال نے باتوں باتوں میں چرن سنگھ کا ذکر چھیڑ دیا۔
’’مکھن یار چرن سنگھ بڑا زور ڈال رہا ہے ساتھ چلنے کو‘‘
’’کیا؟‘‘
’’کہہ رہا ہے کچھ دنوں کے لیے اُس کے ساتھ بہار چلوں‘‘
’’بہار؟ وہاں کیا ہے؟‘‘
’’اس کے کچھ رشتے دار رہتے ہیں۔ اُن کی بہت جان پہچان ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی لڑکی پسند آجائے۔‘‘
’’ویرے تو بھی۔۔۔؟‘‘ اُس نے حیرت سے بھائی کو دیکھا۔
’’کیا کروں یار؟ میری بھی تو کچھ ضرورتیں ہیں کچھ ارمان ہیں۔ اب اکیلے زندگی نہیں کٹتی۔ پنجاب کی زمین تو ہمارے لیے بنجر ہوگئی۔‘‘ اُس کی آواز میں مایوسی اور بیزاری نمایاں تھی۔پمو کے ہاتھ روٹی سیکتے رُک گئے۔ اُس نے کان اُن کی باتوں کی طرف لگا دئے۔
اس رات نہ جانے کیوں پرمو چین سے سو نہیں سکی۔ بے بے کی باتیں اُسے رہ رہ کر ستانے لگیں۔ اس نے تو وعدہ کیا تھا بے بے سے کہ وہ اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھے گی، اُسے کوئی تکلیف نہیں ہونے دے گی۔ ساتھ سویا مکھن سنگھ خراٹے بھرتا رہا اور وہ کروٹیں بدلتی رہی۔
پتا نہیں وہ زمین کے ایک اور بٹوارے، گھر کے بٹوارے، اپنی حکومت کے بٹوارے یا پھر مرد کے بٹوارے ، نہ جانے کس کے خوف نے اس کے اندر کی سوئی ہوئی دروپدی کو بیدار کر دیا۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر کل کی طرح اس نے دوبارہ اس کی کلائی پکڑ لی تو وہ اُسے چھڑوائے گی نہیں اور نہ ہی بھگوان کرشن کو اپنی مدد کے لیے پکارے گی۔ اسے تو اپنے فرائض پورے کرنے ہیں، اسے تو بے بے سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنا ہے۔
٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

