چورے لمبے لمبے قدموں سے ڈھابے کی طرف بڑھ رہا تھا رامو چائے کے بھگونے میں چائے ابال رہا تھا صبح کے…
افسانہ
-
-
سُلگتی ہوئی مٹی کے سیاہ دھبوں پہ ،لاکھوں لاشے خون سے لت پت آدھے اُدھورے شریر کے ساتھ زمین پر پڑے ہوئے…
-
بلڈنگ کا نصف حصہ ایک زور دار آواز کے ساتھ گرا ہی تھا کہ فلک شگاف چیخیں گونج اٹھیں۔ اس بلڈنگ میں…
-
میں مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے اترہی رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر کچھ ٹھٹک سا گیا۔وہ عورت یہ…
-
سردیاں شروع ہو چکی تھیں۔راتیں طویل ہونے لگیں اور دن کا تو کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کب صبح ہوئی کب شام،ظہر…
-
گھنیرے پیپل کی چھاؤں میں بوڑھا آبِ جوکے کنارے بیٹھ کرپانی کے بہاؤکو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے اور من ہی…
-
(۱) ایک چھنّا کا ہوا اور اندر ہی اندر کوئی چیز ٹُوٹ کر کِرچی کِرچی ہوگئی۔ اُنہوں نے سراُٹھاکر اپنے شوہر کی…
-
دل کے بگولے اور من کے پھپھولے ایک ساتھ اُبھرے تو جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔!! اُس دن مدُھراپورمیں گئوگھاٹ کے سامنے بن…
-
خاموش اور سہمی ہوئی رات کی تاریکی میں۔۔۔ ایک اکیلا ستارہ۔۔۔جو دور افق پر چمک رہا تھا۔۔۔گویا کوئی خوبصورت آنکھ، محبت سے…
-
طارق کی عمر بڑھتی تو جارہی تھی لیکن اس کی عمر کا اُس کے قد پر کچھ خاص اثر نہیں پڑھ رہا…

