چلو پھر سے !
ماضی کے سفر پر چلیں ہم
حال میں ہیں صرف غم ہی غم
صبح بے نور ہے
شام مجبور ہے
مسرتیں کھو گئیں کہیں
دلکشی اب باقی نہیں
خوبصورت نظارے سبھی کھو گئے
ہر لمحہ مغموم سے ہوگئے
کھو گئے سبھی جگنو سفر کے
سورج مدھم ہو گئے شہر کے
اب تو صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے
جدھر دیکھو موت کا ہی سایہ ہے!!

