Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
انشائیہ

دَمِ تحریر کی گواہی – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras جنوری 10, 2026
by adbimiras جنوری 10, 2026 0 comment
ــــــــ پروفیسر عبدُ البرکات
مہدی حسن روڈ، برہم پورہ، مظفرپور
Mob. : 8210281400

دَمِ تحریر کی گواہی

ظریفانہ گفتگو یا تحریر کو بھی سنجیدگی سے گوارا کرنے یا علمی نکات کا حصّہ بنانے کی روایت عام رہی ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرتی زندگی کے کئی معاملات پیچیدہ ہوگئے ۔کیوں کہ بطور مذہبی حوالے ان کو پیش کیے جانے لگے۔چہ جائے کہ شاعرانہ تصورات و خیالات کو بھی مذہبی تعلیمات کا گوشوارہ تسلیم کرلینے سے صورتِ حال مزید دیگر گوں ہوگئی۔ جب کہ علمیت کو دقیق معلومات کا گوشوارہ قرار دیاجاتاہے۔ دراصل علمیت بہت ہی غور و فکر ، وسیع اور گوناگوں مطالعے و مشاہدے اور تجرباتی تنوع کا متقاضی ہوتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سماج میں ایک خوشگوار ماحول بنانے، انسانی یکجہتی اور انسانیت افروزی کے جذبات کو فروغ دینے کے لیے مذہبی تعلیمات سے کشیدخیالات کو شعر و ادب کا حصہ بنانا ایک احسن عمل ہے، تاہم اس میں بھی صداقت کا شائبہ ناگزیر ہے۔قدرت نے آدمی کو بلا کی ذہانت عطا کی ہے پھر بھی کسی ایک دَور کے انسان کو نظامِ قدرت کی تفہیم؛اس کے شعور و ادراک سے بالاتر ہے۔ دراصل کائنات میں انسانیت سازی کے قدرتی تناظر مرتفع ہے کہ وقت بدلتے ہی انسان؛دورِ رواں کے فطری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جاتاہے۔لہٰذا فطری تغیرات کے تناظر کی سمجھ؛ کسی ایک دور کے انسان کے لیے ممکن نہیں کہ دور بدلتے ہی گزشتہ انسانی کارناموں کی وجہ سے نیا سماجی منظرنامہ سے سامنا ہوتا ہے جس میں نئے شعور و ادراک کے ساتھ اُبھرنے والے سماجی نظام میں آدمی اپنی گوناگوں خصوصایت کے ساتھ جلوہ گر ہوجاتاہے اور گزشتہ مشاہدات و تجربات، دریافت اور ایجادات کی قندیلیں روشن ہوجاتی ہیں جس سے اس دور کے افراد، توانائی حاصل کرتے ہیں۔تاہم خوب سے خوب تر کی جستجو سے معاشرتی نظام میں ہلچل برقرار رہتی ہے۔ اس طرح سماج نئی کروٹیں بدلتا رہتاہے اور آدمی کہہ اٹھتا ہے ع:’’دیکھیے ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں!‘‘خیر صاحب، نظر تو ؛نظریات کے تابع ہوتی ہے لہٰذا نظری تغیرات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ:
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک، تغیر کو ہے، زمانے میں
(اقبالؔ)
درحقیقت تغیرات؛ کائناتی مقدر ہے۔ پھر دورِ رواں کے انسان نے آلۂ مصنوعی ذہانت (AI Tools) کے توسط سے ایک الگ طرح کا کارنامہ انجام دیاہے۔ یعنی انسانی ورژن اپنے خالق (اے آئی تیار کرنے والے) کے ہر عمل اور قول و فعل کا ریکارڈتیار کرنے میں کامیابی حاصل کرچکا ہے،   دورِ حاضر کے شعرا کے روبرو اب ہمہ دم اپنے محتسب کا تصور رہے گا کہ میرا ورژن سب ریکارڈ کر رہاہے۔ لہٰذا واضح ہوجاتا ہے کہ شاعرانہ خیالات چیزے دیگر است؛اب یہ گنجائش نہیں بچتی کہ کہاجائے:
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا ، دمِ تحریر بھی تھا
(غالبؔ)
……٭……
اکیسویں صدی کی تیسری دہائی نے معاشرتی نظام اور سماجی زندگی کا منظرنامہ یکسر بدل دیاہے۔ کیوںکہ آدمی نے اپنا ورژن خود تیار کرلیاہے۔ یعنی کوئی انسان جب مصنوعی آلہ(AI Tools) کے توسط سے اپنا ورژن بناتا یا بنواتا ہے تو بالکل اسی قد و کاٹھی، شکل و صورت، ویسی ہی آواز اور لب و لہجہ کے ساتھ آلۂ مصنوعی ذہانت، سامنے آ کھڑا ہوجاتاہے۔انٹرنیٹ سے جڑے ہر فرد جو اپنے ہاتھ میں اینڈروئڈ موبائل یا ٹیب وغیرہ ڈِوائس رکھتے ہیں،ان کے اسکرین پر ہلکے نیلے، پیلے اور نارنگی سرکل والی منحنی سے رِنگ دعوتِ گفتگو دیتی نظر آتی ہے؛علاؤ الدین کے چراغ کی طرح کہ ’’رگڑیں‘‘ اندر سے جِن نکل کر کہتاہے’’کیا حکم ہے میرے آقا؟‘‘ بالکل اسی طرح اس منحنی رنگ پر انگلی گھستے یا ہلکی آواز لگاتے ہی، ہر سوال کا جواب حاضر۔آدمی کے جواب مشکوک ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے جواب پر مکمل اعتماد و بھروسہ ، جگر مرادآبادی نے صحیح کہاہے:
عقل و خرد نے دِن وہ دِکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
جب انسان نے اپنی اذہانی قوت کو کسی مصنوعی آلۂ ذہانت میں منتقل کردیاہو تو اس کی حاکمیت سے گریز کیوں کر ممکن ہے!! اس کے ناز نخرے اُٹھانے پڑتے ہیں جس سے خونی رشتے بکھر رہے ہیں اور برقی رشتے توانا۔ میںنے اپنے موبائل اسکرین پر لکھا ہوا پڑھا کہ "I am Meta AI” آپ ہم سے chatting کریں، جو چاہیں پوچھ لیں۔لہٰذا میرے اندر کرید ہوئی کہ اپنا ورژن بنواکر ماضی کی وادیوں میں کھو جاؤں۔پہلے میںنے اُردو میں ایک سوال لکھ مارا۔اس کا جواب انگریزی میں آیا کہ میں اُردو میں ابھی پڑھنے لکھنے کی اہلیت نہیں رکھتا ہوں، علاوہ ازیں جذبات، محسوسات اور کیفیات کی ترجمانی بھی اے۔آئی کے لیے ممکن نہیں۔ لہٰذا میں نے ورژن بنانے کا ارادہ ترک کردیا اور ہمیشہ کے لیے میٹا وغیرہ سے کنارہ کشی اختیار کرلیا، پھر اپنے تخیل کے گھوڑے کو سرپٹ ماضی کی وادیوںمیں دوڑایا اور بیسویں صدی کے ساتویں دہائی کے اوائل میں پہنچ گیا۔ جب گاؤں کیا چھوٹے شہروں تک میں سورج غروب ہوتے ہی لوگ ؛اپنے اپنے گھروں سے باہر قدم نہیں رکھتے تھے۔ باہر نکلتے بھی تو کیسے؟ہر طرف گھپ اندھیرا۔ برسات کی رات تو اور بھیانک ہوجاتی۔ ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا۔گھر میں جلتا دیا بھی بجھ جاتا۔ چور اُچکوںکے سوا کوئی باہر نہیںنکلتا، گھر میں سیندھ لگانے کی خبریں گشت کرتی رہتیں۔ ابھی کا انسان اپنے گہرے تخیلات سے اس وقت کو محسوس کرسکتاہے۔ اس وقت گاؤں میں بجلی کا تصور تک نہیں تھا۔ ماں بہنیں، مٹی کے چولہے پر لکڑی کے جلاون سے کھانا پکایا کرتیں یا پیڑوںکی سوکھی پتیاں رکھی جاتیں، جو جلاون کے کام آتی۔جلاون گیلی ہونے پر مختلف نوعیت کی پھونکنی سے پھونک پھونک کر خواتین کی آنکھیں سوج جاتی تھیں۔ ادھر دادا، دادی، نانا نانی بچوںکو جِن، دیو، بھوت اور ڈراؤنی کہانیاں سناسناکر بہلایا کرتے کہ کسی طرح کھانا تیار ہوجائے۔ اس صورتِ حال میں بچے زیادہ کھانا بھی کھاتے کہ سوائے موٹے اناج سے تیار کھانا کے کچھ نہیںملتا۔دِن میں موسمی پھل مل جاتے۔ لہٰذا بعض گھروںمیں چھوٹے چھوٹے سیاہ پتھر رکھے جاتے جو بھات کے اندر ڈال دیا جاتا، جس کے سامنے آتے ہی بچہ کھانا کا برتن چھوڑ کر اُٹھ جاتا اور تھوڑا بہت سب کو کھانا مل جاتا۔ ان سارے معاملات اور امور سے بچوںکے ذہن پر پڑنے والے اثرات سے والدین ناواقف ہوتے۔ گاؤںکی سماجی زندگی میں گھور اندھیرا تھا۔ بس زندگی ایک لکیر پر چلتی۔جنم لیا، کسی طرح بڑے ہوئے، کمائے کھائے ، بچے پیدا ہوئے اور زندگی تمام ہوگئی۔ زندگی کی حقیقت آشنائی کی سمجھ عام نہیں تھی۔اس لیے جب کوئی بیمار پڑتا، ڈاکٹر کی بات شاذ و نادر ہوتی۔ طاغوتی قوتوںکی کرشمہ سازیاں اس دور کے انسانی نفسیات کے جزو لاینفک رہی ہیں، جس قدر ان امور پر لوگوںکو اعتبار ہوتا، علاج و معالجہ پر نہیںتھا۔
حضرات! انھیں میں سے ایک نوخیز خوبرو لڑکے کا واقعہ ذہن میں ابھی رقص کرنے لگا ہے۔ وہ اس قدر حسین و جمیل تھا کہ سفید تراشیدہ ہیرے کی طرح اس کے چہرے سے  اس کے نام کی طرح روشنی پھوٹتی۔ ہم عمر بچے یا جو عمر میں اس سے دو تین برس چھوٹے رہے ہوںگے، ضیا کی صورت دیکھنے کے لیے پیچھے پیچھے گھومتے۔بلاشبہ ترقی یافتہ سماج کا ایک اہم ایجاد آئینہ بھی ہے جس میںخود کودیکھنے اور دوسرے کو بھی دِکھانے کا رواج ہے، ورنہ نرگس جس یونانی اساطیر کا حصہ بنا، اُسی طرح ضیا بھی اسطورہ کا باب بن جاتا۔ نرگس کے تعلق سے تحریر ہے کہ بلا کا حسین وجمیل اور خوبرو جوان تھا۔ ایک دن دریا کنارے جھک کر پانی پینے لگا تو اس کا عکس دریا میں اُتر گیا۔اس دور کا واقعہ ہے جب آئینہ کی ایجاد و استعمال عمل میں نہیں آیاتھا۔دریا میں اپنا عکس دیکھ کر وہ خود پر فریفتہ ہوگیا اور ایک ٹک پانی میں نہارنے لگا۔ اپنا سدھ بدھ کھو بیٹھا۔ پھر جی جان سے چلا گیا۔اس کا جسم وہیں مٹی میں مل گیا۔وہاں سے ایک پودا نمودار ہوا، جس کا پھول اس کی آنکھوں کی طرح مثالی تھا۔لہٰذا اس پھول کا نام نرگس پڑا اور اس واقعہ کے ساتھ آج تک اسی نام سے اس پھول کی پہچان ہے۔
……٭……
صاحبان! اس خوبرو جوان ضیا کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیا جس کی بنا پر اس کے معاملات و واقعات بیان کیاجائے، ورنہ وہ بھی یادگار بن جاتا۔اس کی عمر تقریباً چودہ پندرہ کی رہی ہوگی کہ ایک شام بعد نمازِ مغرب، باغیچہ کی سیر کو نکل گیا۔باغیچہ بھی گاؤں سے کوئی دور نہیں تھالیکن جن، بھوت، آسیب،چڑیل وغیرہ کی فرضی کہانیاں اس طرح گڑھ لی گئی تھیںکہ مغرب بعد اُدھر جانے سے لوگ کتراتے تھے۔ دوسرے دِن ضیا کو بخار چڑھنے لگا اور شام ہوتے ہوتے بخار کی شدت سے اس پر ہیجانی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ ہذیان بکنے لگا۔اس صورتِ حال میں پوشیدہ نفسانی خواہشات اور بچپن سے سنے سنائے گئے ڈراؤنے قصّے اس کے ذہن سے اُبلنے لگے۔ اس دور میں psychologial clinicکا تصور تک نہیں تھا،جس طرح آج کے دور میں ماہرِ نفسیات(psychetrict) کے ذریعہ نفسیاتی گرہ کشائی سے علاج و معالجہ کا چلن عام ہوگیاہے۔ بہرکیف! اس صورتِ حال میں مریض بہت سارے نادیدہ اور بچپن میں سنی گئی فرضی کہانیاں اور فریبِ نظر(illusion)کو اس طرح بیان کرتاہے جیسے یہ سب اس کے سامنے رونما ہوئے ہوں۔لہٰذا جب ضیا پر ہیجانی کیفیت طاری ہوئی تو وہ اَول فَول بکنے لگا۔اس کا کمرہ، مرد، عورت، بوڑھے جوان سے بھر گیا۔ پھر اس کے تعلق سے جتنے منہ اُتنی باتیں ہونے لگیں۔اس وقت گاؤںمیں ڈاکٹر کہاں سے آتے اور وید حکیم اس گاؤںمیں تھے نہیں۔ چند لوگوںنے کپڑے بھگوکر پیشانی پر چڑھانے اور بار بار بدلنے کا مشورہ دیا جس پر عمل کیا جارہاتھا۔ لوگوںکے مشورے پر دعا دم بھی کرائے جانے لگے اور پڑوس کے گاؤں سے ماہر اوجھا گنی بلائے گئے۔ایک مٹی کے بڑے کٹورے میں آگ سلگائی گئی، جس میں لال سوکھی مرچ اور پیلی سرسوں ڈال کر اس کے دھواں سے مریض کو دھونی دی جانے لگی۔دھونی کی وجہ سے وہاںموجود بہت سے افراد کھانستے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے اور مریض کی کیفیت مزید ڈراؤنی ہوگئی۔اُس دھوئیں کے مضر اثرات سے لوگ نابلد تھے، وہ تو اس میںزندگی کی رمق کی جستجو کر رہے تھے۔ اب وہاںموجود لوگوںنے یقین کرلیا کہ اس پر کوئی بُرا آسیب آگیاہے۔ اس طرح کی جھاڑ پھونک نے نہ جانے کتنی دوشیزاؤں کی عزت و آبرو اور لڑکے بالوںکی جان تک کو خطرے میں ڈال دیا۔ بہتوںکی موت ہوگئی جس کی وجہ سے لوگوںکے مطابق بھوتوںکی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔کچھ ماہ قبل ہی ایسی ہی صورتِ حال میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی تھی جس کی شادی کی تاریخ کا تعین ہو گیاتھا۔اس لیے گاؤں میں جو جتنا بوڑھا ہوتا، اس کی قدر اتنی ہی زیادہ ہوا کرتی تھی کہ انھوںنے نہ جانے کتنے بھوت، بیتال، پچاس وغیرہ کو پچھاڑکر اس عمر کو پایا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ وہ ساری زندگی نٹھلے رہ کر دھوپ ہی میں بال پکائے، ورنہ ان کے مشاہدات و تجربات سے گاؤں والوںکو ضرور فائدہ پہنچتا اور بہت ساری فضولیات و لغویات سے گاؤں والے گریز کرتے۔ایسے بوڑھے افراد کو گاؤں کی ہر تقریب خصوصاً شادی اور اموات کے مواقع پر خیرمقد م ہوتا اور ان کے مشورے سے ساری رسوم ادا کی جاتی جن میں انسانیت سوز رسم و راج کی کثرت ہوتی۔
……٭……
حضرات! مقصود تو یہاں ضیا کی کیفیات اور سفرِ زیست بیان کرنا تھا،لیکن دیگر منظرنامے بھی سامنے آگئے کہ اسی پس منظر میں ضیا کی زندگی رواں دواں تھی۔اب مریض کی جو کیفیت ہوگئی تھی، اس صورتِ حال میں ڈاکٹر کو بلانے کی رائے دی جاتی اور پیسے بھی جوڑ لیے جاتے، تو ڈاکٹر آتے کہاںسے!! شام کا وقت اور شہر بارہ پندرہ کیلو میٹر دور۔ آج کا گاؤں اور شہر نہیںکہ ہر گھر میں دوپہیا بائک موجود،اور چار پہیا کی بھی افراط ہے۔اتنی دوری کے لیے آج دس منٹ کافی ہے۔ اس وقت گاؤں میں صرف ایک ہی دوپہیا تھی یعنی آدمی کے پاؤں، سہارا تھا۔اگر کسی کے یہاں سائیکل ہوتی تو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ اس وقت تیس چالیس کیلو میٹر کی دوری پیدال ہی طے کی جاتی۔ رات میں آسمان پر قطب تارہ کی سمت دیکھ کر یا مرغے کی بانگ سن کرلوگ سمجھتے کہ صبح ہوگئی اور سفر پر نکل جاتے۔اس صورتِ حال میں بارہا لوگ دھوکہ بھی کھاتے۔ عام طور پر گیہوںکی کٹنی کے دِنوںمیں کاشت کار؛مزدور کے ساتھ گیہوں کٹوانے نکل جاتے۔ صبح کاذب ہونے کی وجہ سے کھیت کی مینڈ سمجھ میںنہیں آتا تو دوسرے کا گیہوںکٹوادیا اور صبح صادق ہونے پر نظرآیا کہ یہ تو فلاںکا کھیت ہے۔ پھر جھگڑے ٹنٹے سے بچنے کے لیے پلاڑی (کٹے ہوئے گیہوںکی ڈانٹ) چھوڑ کر فرار ہوگئے اور مزدوری اپنی جیب سے لگادی۔
بہر کیف!مریض کے کمرے میںموجود ایک خاتون جن کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کو رویائے صادقہ آتاہے۔انھوںنے کہا کہ
’’ایک رات میں نے دیکھا کہ سفید کپڑے میں لپٹا ایک لمبا آدمی چلا آرہاہے۔ جتنا سر اٹھاؤ، وہ لمبا ہوتا جاتا؛کنواں سے پانی نکال کر وضو کیا اور مسجد کی طرف چل پڑا۔‘‘اس خاتون کی باتوں کو سب نے کان دھر کر سنا۔ مسجد کے امام صاحب بلائے گئے، خصوصی دعا اور دم کرایاگیا، لیکن مریض کی کیفیت میںکوئی فرق نہیں آیا۔ایک دوسری خاتون نے کہا کہ اس کنویں کے پاس پیڑ پر ڈھیکی بندھی ہے جس پر برہا لٹکا رہتاہے، اسی پر سرکٹا اترتا چڑھتا ہے۔اس نے تو کتنوںکی جان لی ہے،یہ سب باتیں ہورہی تھیں اور ادھر مریض پر جاںکنی کی کیفیت طاری تھی۔ صبح کی پو پھٹتے ہی سورج کی کرنیں دھرتی پر پھیلنے لگیں اور ضیا کی روح ،خاکی بدن سے نکل کر شعاعِ آفتاب میں تحلیل ہوگئی۔
Dr. Abdul Barkat
University Professor
Iqbal Hasan Road, Quila Chowk
Near Jheel, P.O. M.I.T., Brahampura
Muzaffarpur-842 003 (Bihar)
Mob. : 8210281400
۶؍جنوری ۲۰۲۶ء

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

abdul barkatadabi meerasadabi miraasadabi mirasurdu mein inshaiya nigariادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام
اگلی پوسٹ
عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر صہیب عالم

یہ بھی پڑھیں

عقل بڑی کہ بھینس – پروفیسر عبدُ البرکات

فروری 26, 2025

جائیں تو جائیں کہاں – پروفیسر عبدُ البرکات

دسمبر 27, 2024

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ...

اگست 10, 2022

آخری افطار – پروفیسر خالد محمود

مئی 1, 2022

مسجد، مولانا اور مقتدی – سید صفوان غنی

فروری 3, 2022

ایک ادیب کے پُر ملول روز وشب –...

جنوری 5, 2022

لاک ڈاؤن کے دوران مرزا غالب سے ایک...

جنوری 3, 2022

غالب تنقید۔ اکیسویں صدی میں – ڈاکٹر جاوید...

اکتوبر 12, 2021

ادھار اور گالی – ایس معشوق احمد

ستمبر 8, 2021

بلاعنوان (انشائیہ) – کامران غنی صبا

اگست 12, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں