Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
سماجی اور سیاسی مضامین

دستور امارت شرعیہ میں اوصاف امیر شریعت – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

by adbimiras ستمبر 27, 2021
by adbimiras ستمبر 27, 2021 0 comment

امارت شرعیہ کے دستور کا خاکہ سب سے پہلے بانی امارت شرعیہ ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد ؒ نے بنایا تھا، اس خاکہ میں امارت شرعیہ کے مقاصد، نصب وعزل امیر کے اصول وضوابط، قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکر کیے گئے تھے، انہوں نے اس دستور میں امیر شریعت کے انتخاب کے لیے ارباب حل وعقد کی ایک مجلس بنام ’’مجلس ملی‘‘ بنانے کی بات بھی کہی تھی ، لیکن حضرت کی زندگی میں دستور کا کام مکمل نہیں ہو سکا، ۱۹۵۷ء میں جب حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ چوتھے امیر شریعت منتخب ہوئے تو انہوں نے اس طرف توجہ دی، اور مجلس شوری کے مختلف اجلاس میں دستور کی دفعات پر بحث وتمحیص کا سلسلہ جاری رہا، بالآخر ۱۹۶۶ء میں انہیں کے دور میں دستور کا مسودہ مرتب ہو گیا، لیکن مجلس شوری سے منظوری کا کام برسوں التوا میں رہا اور حضرت امیر شریعت  ۷؍ مارچ ۱۹۹۱ء میں آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے ، حضرت امیر شریعت خامس مولانا عبد الرحمن صاحب کے دور میں ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو مجلس شوریٰ نے ایک گیارہ نفری کمیٹی دستور کے کام کو مکمل کرنے کے لیے بنائی ، اس کمیٹی نے مجلس شوریٰ میں پیش کی گئی ترمیمات اور انتخاب امیر کے تحت منظور شدہ دفعات کو مسودہ کا حصہ بنا کر اس کام کومکمل کر دیا، ۲۲؍ ستمبر ۱۹۹۶ء کو منعقد مجلس شوریٰ کے اجلاس میں یہ مسودہ پیش ہوا،مکمل دستور کی خواندگی کے بعد مجلس شوریٰ نے منظور کرکے طباعت کی اجازت دیدی، چنانچہ اب یہ دستور مطبوعہ شکل میں موجود ہے اور نافذ العمل ہے ، اس دستور کی دفعہ ۱۰؍ میں اوصاف امیر کے تحت پانچ باتیں ذکر کی گئی ہیں۔

’’۱۔ عالم با عمل ہو یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معانی اور حقائق کا معتد بہ علم رکھتا ہو، اغراض ومصالح شریعت وفقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہو اور احکام شریعت پر عمل پیرا ہو۔ ۲۔ سیاسیات ہندوسیاسیات عالم اسلامیہ سے واقفیت رکھتا ہو، اور حتی الامکان تجربہ سے اکثر صائب الرائے ثابت ہو چکا ہو۔ ۳۔ ذاتی قابلیت ووجاہت کی وجہ سے عوام وخواص کے اکثر طبقات کی ایک معتد بہ جماعت پر اس کا اثر ہو۔ ۴۔ حق گو ، حق شنو، جری اور صاحب عزیمت ہو۔ ۵۔ فقہی تعبیر میں اس کی ذات کو مایزول بہ مقصود الامارۃ سے تعلق نہ ہو‘‘

اس دفعہ کی شق اول میں امیر شریعت کے لازمی اوصاف میں عالم با عمل ہونے کی بات کہی گئی ہے ، اس شق کو سمجھنے کے لیے عالم کی تعریف کا جاننا ضروری ہے۔ عالم کے معنی لغت میں جاننے والے کے آتے ہیں، اس کے لغوی معنی میں ایسا عموم ہے کہ کسی بھی طرح کی باتیں جاننے والوں کو عالم کہا جا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے ، عام بول چال میں عالم کے عمومی معنی متروک ہو چکے ہیں ہر جاننے والے کو کوئی عالم نہیں کہتا ، بلکہ اس کا اطلاق کچھ خاص قسم کی صلاحیت رکھنے والے پر ہی ہوتا ہے ، گویا عرف عام نے اس لفظ کو لغوی معنی سے نکال کر ایک الگ معنی میں استعمال کرنا شروع کیا، جس کی وجہ سے عالم کی الگ اصطلاح وجود میں آئی، منطق کی اصطلاح میں اسے منقول اصطلاحی کہا جاتا ہے ۔ دار العلوم دیو بند نے اپنے ایک فتویٰ میں لکھا ہے کہ :’’ علوم دینیہ کے مخصوص نصاب کو ثقہ اساتذہ سے پڑھ کر فارغ ہونے والے شخص کو عرفا عالم کہا جاتا ہے‘‘۔ (جواب نمبر 16857)

اس فتویٰ میں دو باتیں اہم ہیں، ایک مخصوص نصاب اور دوسرے ثقہ اساتذہ سے اس مخصوص نصاب کی تعلیم کے بعد فراغت ، دار العلوم دیو بند کے اس فتویٰ کا حاصل یہی ہے، اس فتویٰ کی رو سے ان کے نزدیک مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں، لیکن مخصوص نصاب کا ثقہ اساتذہ سے پڑھ کر تکمیل ضروری ہے۔ یعنی درمیان میں کچھ پڑھ کر تعلیم منقطع کرنے والے کو بھی عالم نہیں کہیں گے ۔

دار العلوم دیو بند کے دوسرے فتویٰ میں لکھا ہے کہ دور حاضر کے عرف میں عالم وہ شخص ہے جو قرآن وحدیث کو با قاعدہ پڑھے ہوئے ہو اور قرآن وحدیث کو، اس کے احکام کو براہ راست سمجھتا ہو، جماعت میں نکلنے والا اگر کچھ باتیں دین کی سیکھ لے تو اسے عالم نہیں کہا جائے گا، اسی طرح جس نے محض کتابوں کا مطالعہ کرکے کچھ باتیں سیکھ لیں وہ بھی عالم نہیں کہا جائے گا، جب تک کسی مستند عالم کے پاس یا کسی مستند مدرسہ میں رہ کر تمام علوم آلیہ کو سیکھ کر علوم قرآن اور اس کی تفسیر کو نہ پڑھے اور اسی طرح علم حدیث کو نہ سیکھے تو وہ اہل علم کے یہاں اصطلاحی عالم شمار نہیں کیا جائے گا، عالم کے لیے با قاعدہ تمام علوم کو سات آٹھ سال تک پڑھنا ضروری ہے۔ (فتویٰ 146973، 28دسمبر ۲۰۱۶ء )

ارشاد الفحول میں علامہ محمد بن علی شوکانی نے عالم ہونے کے لیے پانچ شرطوں کا ذکر کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم وہ شخص ہوگا، جو نصوص قرآن وسنت صحاح ستہ اور حدیث کی دوسری کتابوں کا عالم ہو، تخریج پر قادر ہو، صحیح اور ضعیف احادیث ، لسان عرب، لغات کے معنی اسکی ترکیب کو جانتا ہو، مسائل اجماع کا عارف، ناسخ ومنسوخ کا عالم اور اصول فقہ کا علم رکھتا ہو، کیوں کہ اصول فقہ احکام شرعیہ کے استنباط کی بنیاد ہے۔ (جلد 2صفحہ 297-303)

عالم کے اسی اصطلاح اورعرف کی وجہ سے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کے بارے میں ان کی علمی عبقریت وعظمت کے باوجود ترجمان جلد 14شمارہ 3صفحہ 227 کے حوالہ سے فتاویٰ محمودیہ میں ان کا اقرار نقل کیا ہے کہ’’ مجھے گروہ علماء میں شامل ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ، میں ایک بیچ کی راہ کا آدمی ہوں جس نے جدید اور قدیم دونوں طریقہ ہائے تعلیم سے کچھ کچھ حصہ پایا ہے ، دونوں کوچوں کو خوب چل پھر کر دیکھا ہے‘‘ ۔(فتاویٰ محمودیہ ۱؍ ۳۶۷) (یہ بھی پڑھیں امارت شرعیہ کی فکری و انتظامی انفرادیت – مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی)

اسی عرف کی وجہ سے یونیورسٹی کے شعبہ مطالعات اسلامی(اسلامک اسٹڈیز) سے فارغ ہونے والے کو بھی عالم نہیں کہا جاتا ، ان کے لیے عرف میں اسلامک اسکالر کا لفظ مستعمل ہے ، عام طور پرنہ تو ان کو عالم سمجھا جاتاہے اور نہ ہی انہیں مقتدیٰ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے، الا یہ کہ وہاں جانے کے پہلے انہوں نے کسی دینی تعلیمی ادارے سے متعینہ نصاب کی تکمیل کی ہو۔دار العلوم دیو بند ہی کے ایک فتویٰ 255-278/N=4/1441میں لکھا ہے کہ ’’جانتے ہوئے کسی غیر عالم کو عالم ، غیر حافظ کو حافظ یا غیر مفتی کو مفتی کہنا درست نہیں ہے ، اور اگر کوئی شخص لا علمی میں یا دوسروں کی دیکھا دیکھی کہتا ہے تو اسے حقیقت بتادی جائے۔‘‘ایک اور فتویٰ دار العلوم دیو بند کا ہے جس میں لکھا ہے کہ عالمیت کا کورس پڑھے بغیر اپنے آپ کو عالم کہنا درست نہیں ۔

دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فتاویٰ ندوۃ العلماء میں مذکور ہے کہ ’’جو شخص با قاعدہ کسی دینی درسگاہ یا کسی عالم دین سے علم حاصل نہیں کیا ہو، انہیں عالم کے لقب سے پکارنا درست نہیں ہے اور نہ ہی اپنے کو عالم کہلانا درست ہے‘‘۔

ایک اور طبقہ ہے جس نے کسی مدرسہ میں پڑھے بغیر بورڈ سے صرف عالم فاضل کی سند حاصل کی ہے ، عرف میں وہ بھی عالم نہیں سمجھا جاتاکیوں کہ ان کی نصابی تعلیم نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ ذریعہ معاش کے حصول کے لیے امتحان دے کر سند حاصل کر لیتے ہیں، اس لیے عرف عام انہیں عالم ماننے کو تیار نہیں ، یہ بات آج کے پس منظرمیں کہی جا رہی ہے ، ماضی میں بورڈ کے مدارس کے فارغین کی حیثیت بھی عالم کی ہوتی تھی ، بھلا حضرت مولانا عبد الرحمنؒ امیر شریعت خامس کے عالم با عمل ہونے سے کسے انکار ہو سکتا ہے ۔

عالم با عمل کے بعد اس اجمال کی تفصیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ کتاب اللہ اورسنت رسول کے معانی اور حقائق سے بھی واقفیت رکھتا ہو، معتد بہ کا لفظ اکثرحصہ کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اقل کے لیے نہیں، یعنی کسی کے پاس علم ہو لیکن قرآن واحادیث کا علم بنیادی دینی تعلیم تک محدود ہو تو سندی عالم ہونے کے باوجود وہ امیر شریعت بننے کا اہل نہیں ہوگا، کیوں کہ اس کے پاس قرآن واحادیث کا معتد بہ علم نہیں ہے ، اسی طرح اگر کوئی ایسا شخص ہو جس نے علوم دینیہ حاصل ہی نہیں کیا تو وہ بھی امیر شریعت بننے کا اہل دستور کے مطابق نہیں ہوگا، اغراض ومصالح شریعت کی واقفیت کی قید لگا کر اسے اور پختہ کیا گیا ، ظاہر ہے تھوڑے بہت دینی علوم کی واقفیت سے اغراض ومصالح شریعت تک رسائی نہیں ہو سکتی، اس کے لیے امام غزالی کی احیاء العلوم، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجۃ اللہ البالغہ کے سمجھنے اور اس سے مسائل کے اخذ واستنباط کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے، جو اسرار وحکم شریعت کی نمائندہ کتابیں سمجھی جاتی ہیں۔

علم کا وافر حصہ پایا ہو لیکن بدعملی اور بے عملی کا شکار ہو تو وہ بھی امیر شریعت نہیں بن سکتا، کیوں کہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے ،قرآن کریم میں ایمان اور عمل صالح کو ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ عمل صالح کے بغیر علم شرعی بھی اس کے کام کا نہیں ہے ، یہ معاملہ بے عملی کی صورت میں ہے اور اگر معاملہ بد عملی کا ہو اور اس قدر بدعملی آگئی ہو کہ وہ ’’محارم متفق علیہا ‘‘کا ارتکاب کرنے لگے، کفریہ اعمال کرتا ہو، اور یہ محض ظنی نہیں ، یقینی ہو تو دفعہ ۱۴؍ کے تحت وہ معزول کر دیا جائے گا، اور بعض حالتوں میں خود سے معزول ہوجائے گا۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لفظ عالم کا استعمال کیا گیا ، مولانا کا نہیں ، اس لیے کہ مولانا صرف عالم پرہی نہیں عرف عام میں غیر عالم پر بھی بولا جاتا ہے ، مذہبی معلومات کے ساتھ وضع قطع اسلامی انداز کی ہو، لانبا کرتا، ٹخنہ سے اوپر پاجامہ اور چہرے پر ڈاڑھی کے ساتھ وعظ وخطابت دعوت وتبلیغ اور اسلامی افکار واقدار کی ترویج واشاعت سے جوجڑ گیا اور بادی النظر میں خلاف شرع کام کرنے والا نہ ہو تو اسے مولانا صاحب کہتے ہیں،یہ بھی ایک عرف ہے ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا شفیع داؤدی ، مولانامظہر الحق وغیرہ کے نام کے ساتھ اسی عمومی معنی کے اعتبار سے مولانا لگاتے ہیں،حالاں کہ ان حضرات کی تعلیم کسی درسگاہ اسلامی میں نہیں ہوئی تھی،  اس کے لیے کسی درس نظامی کا فارغ ہونا ضروری نہیں ہے ۔تبلیغی جماعت میں کثرت سے ایسے افراد مل جائیں گے جو کہیں کے تعلیم یافتہ نہیں ہیں، لیکن ان کی عالمانہ وضع قطع اوردعوت وتبلیغ سے جڑے ہونے کی وجہ سے ناواقف لوگ انہیںمولانا کہا کرتے ہیں،  اس سے معلوم ہوا کہ تمام لوگ جو مولانا کہے جا رہے ہیں ان کا عالم ہونا ضروری نہیں ہے ، لیکن جو عالم اصطلاحی ہیں وہ مولانا کہے جاتے ہیں،منطق کی اصطلاح میں ان دونوں میں عموم خصوص کی نسبت ہے ، یعنی ہر عالم، مولانا کہا جا تا ہے ، لیکن ہر مولاناکہا جانے والا عالم نہیں ہوتا، البتہ بعض صورتوں میں فرد واحد عالم اور مولانا دونوں ہو سکتا ہے ۔

اوصاف امیر کے دوسری شق میں یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ محض عالم با عمل ہی نہ ہو ، اس کی نگاہ ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر بھی ہو؛ تا کہ وہ موقع کی مناسبت سے درست فیصلے لے سکے، اسی وجہ سے اس شق کے آخر میں یہ بات جوڑی گئی کہ وہ صائب الرائے ہو، اور اس کا صائب الرائے ہونا تجربہ سے ثابت ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو صائب الرائے نہ ہو اسے بھی امیر شریعت کا عہدہ نہیں دیا جا سکتا ، کیوں کہ اس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملت کو نقصان پہونچے گا، یہ جوکھم مول نہیں لیا جاسکتا کہ پوری ملت کو خطرے میں ڈال دیا جائے، اسی لیے تجربہ کی قید بھی لگائی گئی تاکہ امیر شریعت سے غلط فیصلے کا امکان کم سے کم ہو ، اب اگر کسی کا تجربہ ہمیں نہیں ہے، یا اس کے معاملات ہمارے سامنے کسی بھی وجہ سے نہیں آسکے ہیںتو اسے بھی ترجیحی بنیاد پر امیر بنانا صحیح نہیں ہوگا۔

تیسری شق میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ذاتی قابلیت ووجاہت کی وجہ سے عوام وخواص کے اکثر طبقات کی ایک معتد بہ جماعت پر اس کا اثر ہو، یعنی جو امیر شریعت ہوگا اس کا صرف اپنے حلقہ میں متعارف ہونا اور با اثر ہونا کافی نہیں ہے ، اسے دستور کے مطابق عوام وخواص کے اکثر طبقات کی ایک معتد بہ جماعت کی نظر میں با اثر ہونا ضروری ہوگا، کیوں کہ امیر شریعت کی سمع وطاعت عام مسلمانوں پر واجب ہے، اب اگر وہ صرف ایک طبقہ کی نمائندگی کرے گا تو دوسرے طبقات اس سے کٹ کر رہ جائیں گے ، اسی لیے دستور کی اس شق میں عوام وخواص کے اکثر طبقات کی معتد بہ جماعت پر اثرکا ہونا ضروری بتایا گیا ہے، یہ اثرات ذاتی قابلیت اور وجاہت کی وجہ سے بھی پڑتے ہیں، اور عوامی خدمات اور ملی معاملات میں انہماک کی وجہ سے بھی حاصل ہوجاتا ہے ، یہ شق بھی انتہائی اہم ہے، امیرکی ذات میں اس شق کے مندرجات کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سابق امراء شریعت میں انتخابی طریقۂ کار  – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی)

چوتھی شق میں اس کے حق گو، حق شنو، جری اور صاحب عزیمت ہونے کی بات کہی گئی ہے ، ظاہر ہے اگر وہ حق گو نہیں ہوگا، حق سننے کا حوصلہ نہیں رکھے گا، صاحب عزیمت اور جرأت سے عاری ہو گا تو مقاصد امارت شرعیہ کی تنفیذ نہیں کر سکے گا، اس کے گرد خوشامد پسندوں، جی حضوری اور دربار ی کرنے والوں کا جمگٹھہ ہوگا، جس کی وجہ سے صحیح صورت حال سے امیر شریعت کو واقفیت نہیں ہو سکے گی اور بر وقت وہ فیصلہ نہیں لے سکے گا،جس کا نقصان ملت کو پہونچے گا، حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ نے لکھا ہے کہ ملت کو سب سے زیادہ نقصان خوشامد کرنے والوں نے پہونچایا ہے، اس نقصان سے بچنے کی یہی شکل ہے کہ وہ حق بولنے پر قادر ہو اور دوسروں کی حق بات سننے کا بھی اپنے اندر حوصلہ اور جذبہ رکھتا ہو، صاحب عزیمت ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ مشورہ کے بعد فیصلوں کو نافذ کرسکے ، اگر اس کے اندر عزیمت نہیں ہوگی تو احکام کی تنفیذ کا کام وہ صحیح طریقہ سے نہیں کرسکے گا، تنفیذ کے لیے اس کا جری ہونا ضروری ہوگا، اگر اس کے اندر جرأت نہیں ہوگی تو وہ حکومت وقت کے سامنے ظاہری اور تھوڑے مفاد کے لیے قدم بوس ہوجائے گا، اور تعظیم اقتدار میں وہ اس قدر آگے بڑھ جائے گا کہ دستار گرنے کا بھی ہوش نہیں رہے گا، اس لیے اس کے اندر جرأت اظہارہونی چاہیے کہ وہ ملی مسائل پر حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے ، وہ اتنا مستغنی اور بے نیاز ہو کہ حکومت کی جانب سے پھینکے گئے عہدے اور منصب کو اپنی جوتیوں کی نوک پر رکھ سکے ، کیوں کہ جو لوگ اقتدار سے ذاتی نفع کے طالب ہوتے ہیں، حق بولنے کی ہمت ان میں ختم ہوجاتی ہے اور زبان لڑکھڑا نے لگتی ہے ، ایسے امیر سے ملت کے لیے کوئی بہتر توقع نہیںرکھی جا سکتی ۔امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ سرکاری عہدے قبول کرنے سے جو ادارے کو نقصان پہونچتا ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، یہ نقصان عوامی سطح پر بھی ہوتا ہے کہ لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ عہدہ قبول کرکے ادارہ کو حکومت کے پاس گروی رکھ دیا، خود اس شخص کی ذات کو بھی نقصان پہونچتا ہے،جو کلیدی عہدے پر رہتے ہوئے سرکاری عہدیدار بن جاتا ہے۔

آخری شق میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کی ذات ما یزول بہ مقصود الامارۃ سے متعلق نہ ہو، یعنی وہ فکری اعتبار سے مرتد نہ ہو،اس پر ہر وقت جنونی کیفیت طاری نہ ہو ، وہ اس طرح کا قیدی نہ ہو جس کی رہائی کی امید باقی نہ رہے، وہ ایسے امراض کا شکار نہ ہو جس میں وہ سب کچھ بھول گیا ہو ، وہ اندھا ، بہرہ گونگا نہ ہو، وہ اس قدر معذور نہ ہو گیا ہو کہ مصالح مسلمین کے قیام اور تنفیذ پر قادر نہ ہو، ظاہر ہے اس قسم کے امراض واعذار کی شکل میں امارت شرعیہ کے اغراض ومقاصد کی تکمیل نہیں ہو سکے گی ، اس کے امیر باقی رہنے یا منتخب کرلینے سے امت کا بھلا نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ امیر شریعت کی ذات ان امراض واعذار سے پاک ہو؛ تاکہ وہ پورے طور پر مقاصد امارت شرعیہ کی تکمیل کے لیے اپنی ذہنی صلاحیت اور جسمانی قوت کا استعمال کر سکے۔

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

(مضمون نگار کا مختصر تعارف مفتی محمد ثناء الہدیٰ)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

مفتی ثنا الہدی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
انسانی نفسیات کا رمز شناس: کیول دھیر – حقانی القاسمی
اگلی پوسٹ
عالم بیگ کی عجب غضب کھوپڑی – راجیو  پرکاش ساحر

یہ بھی پڑھیں

صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:...

جون 1, 2025

لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –...

دسمبر 4, 2024

معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد...

نومبر 30, 2024

دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –...

نومبر 30, 2024

باکو میں موسمیاتی ایجنڈے کا تماشا – مظہر...

نومبر 24, 2024

سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور مدارس اسلامیہ...

نومبر 8, 2024

مسلمانوں کے خلاف منفی رویہ: اسباب اور حل...

اکتوبر 3, 2024

وقف کی موجودہ صورت حال اور ہندوستانی حکومت...

اکتوبر 1, 2024

مدارس اسلامیہ کا خود کفیل ہونا مفید یا...

جولائی 31, 2024

نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤگے – مفتی محمد...

جون 2, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں