ڈپٹی نذیر احمدکے تعلیمی افکار و نظریات – ڈاکٹر شاداب تبسم

by adbimiras
1 comment

۱۸۵۷ کا انقلاب  تاریخ ہند کا وہ اہم موڑ ہے جس نے قومی درد رکھنے والے افراد کوحالات کا جائزہ لینے پر مجبور کیا۔مسلمانوں میں مذہبی ، تہذیبی اور معاشرتی خرابیاں تو پہلے سے ہی موجود تھیں لیکن سیا سی زوال کے بعدان خرابیوں کا احساس دن  بدن بڑھتا گیا۔ ایسے نازک وقت میں ملک کے دانشور طبقے نے اسباب زوال تلاش کیے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی معاشرتی، تمدنی اور تعلیمی پسماندگی سب سے بڑی وجہ ہیے۔اس صورت حال سے نجات دلانے کے لیے کوششیں بھی شروع ہوئیں اس سمت میں سرسید اور ان کے رفقا کی کوششیں سب سے نمایاں نظر آتی ہیں۔ سرسید کی تعلیمی اور اصلاحی سرگرمیوں میں ڈپٹی نذیر احمد نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کے ذہن میں مذہب اور اخلاق کا ایک مخصوص تصور تھا جس کو وہ معاشرے میں عام کرنا چاہتے تھے۔ یہی چیز ان کے تعلیمی افکار و نظریات کی بنیاد ہے اور ان کے فکری ڈھانچے میں تعلیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی نظموں اور خطبات سے ان کے تعلیمی افکار و نظریات کو پیش کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے ناولوں میں بھی ان کے تعلیمی افکار و نظریات کی واضح شکل نظر آتی ہے۔ میرے پیش نظر چونکہ ان کے ناول ہیں اس لیے میری آگے کی گفتگو کا محور و مرکز  ناول ہی رہیں گے۔

ڈپٹی نذیر احمد کے ناول اپنے دور کے نمائندہ ناول ہیں جو صرف تعلیمی و اصلاحی مقصد کے پیش نظر لکھے گئے۔ ڈپٹی نذیر احمد کا شمار سرسید کے اہم رفقا میں کیا جاتا ہے لیکن ان کی ایک الگ تعلیمی فکر بھی تھی۔ ان کے پیش نظر دہلی کا وہ معاشرہ تھا جس میں قسم ہا قسم کے توہمات اور خامیاں درآئی تھیں۔ خواتین کے حقوق کی پامالی سے معاشرے کا توازن بگڑ رہا تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد نے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کا خیال تھا کہ خواتین کا استحقاق اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک ان کی معاشرتی اخلاقی اور ذہنی، حالت بہتر نہ ہو اور یہ بہتری مناسب تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مرده خانہ میں عورت ” …استعاراتی بیانیہ.- نازیہ پروین (فیصل اباد))

ڈپٹی نذیر احمد کی تصنیف ’’مراۃ العروس‘‘ کا مقصد کوئی ناول لکھنا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی قصہ نگاری۔ اس ناول کی تصنیف کا مقصد اپنی اولاد کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ ڈپٹی ندیر احمد نے جس وقت مراۃ العروس تصنیف کی، اس وقت مستورات کو پڑھانے لکھانے کا رواج نہیں تھا البتہ بڑے شہروں میں اشراف کی خواتین میں قرآن مجید مع ترجمہ اور مذہبی مسائل و پند و نصائح کے بعض اردو رسائل پڑھنے کا رواج تھا۔

اولاد کی تربیت ایک اہم فریضہ ہے۔ بچپن میں بچے کو شفقت، پیار اور سرپرستوں کا ڈر، ان دو چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس طرح بچہ شفقت اور ڈر کے درمیان زندگی کی ایک منزل طے کرتا ہے۔ والدین کافرض ہے کہ اپنے بچے کے ساتھ نہ صرف شفقت سے پیش آئیں بلکہ بچے کو اس کے خاص ہونے کا احساس بھی دلائیں۔ ماہرین نفسیات نے شفقت اور خوف کے امتزاج پر زور دیا ہے کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی زیادتی بچے کی سیرت کی تعمیر میں تخریب کا باعث ہوسکتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کے تعلیمی نظریات کا اہم پہلو یہ ہے کہ بچے کی تربیت میں دونوں امور پر توجہ دینی ضروری ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ میں اکبری کے کردار میں جو خامی پیش کی ہے وہ بچپن میں بے انتہا لاڈ و پیار کی وجہ سے ہے۔ ]۱[وہیں اصغری کی خوبیوں کو بچپن سے ملنے والی تربیت کا ثمرہ بتاتے ہیں۔ ]۲[

اپنے اس ناول کے ذریعے ڈپٹی نذیر احمد ایک ماں کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ہر ماں اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔ کیونکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ لہٰذا اس فریضے کو پورا کرنے کے لیے ماں کا باشعور اور تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ نذیر احمد کی تمام تر کوششیں خواتین میں ان کی اس ذمہ داری کا شعور پیدا کرنے میں صرف ہوتی ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

جب ذرا طبیعت متوجہ دیکھی جھٹ کوئی حرف پہچنوا دیا۔ یا کچھ گنتی ہی یاد کرادی۔ کہیں پورب پچھم کا امتیاز کرادیا۔ مائیں تو باتوں باتوں میں وہ سکھا سکتی ہیں۔ اور مائوں کی تعلیم میں ایک یہ کتنا بڑا لطف ہے کہ لڑکوں کی طبیعت کو وحشت نہیں ہونے پاتی او ر شوق کو ترقی ہوجاتی ہے۔  ]۳[

’’مراۃ العروس‘‘ میں ڈپٹی نذیر احمد نے اصغری کے کردار میں ازدواجی رشتہ میں منسلک ہونے کے بعد بھی اس کے علم سے لگائو کو باقی رکھا ہے۔ یہاں پر مصنف نے ایک استاد کے اوصاف بھی بیان کیے ہیں۔ استاد کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خود دار اور اپنے منصب کے وقار سے واقف ہو اور کسی بھی حال میں اس کا سودا نہ کرے۔ اس کا علم ناول میں اس مقام سے ہوتا ہے جہاں اصغری ایک امیر خاندان کی لڑکی حسن آرا کو اس کے گھر جا کر تعلیم دینے سے انکار کردیتی ہے۔ ]۴[

یہ بات آج کی سماجی ضرورت کے پیش نظر بہت اہم ہے کہ جس طرح سورج کی روشنی سے ہر کوئی یکساں طور پر فیضیاب ہوتا ہے اسی طرح علم کی دولت بھی مثل سورج کی روشنی سب تک پہنچے۔ چنانچہ آج کا جمہوری نظام تعلیم Mass Education کا دور کہلاتا ہے۔ اس نظام تعلیم میں مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے تمام طلبا پر یکساں توجہ دی جاتی ہے۔ مختلف ذہنی استعداد رکھنے والے طلبا ایک ہی درجے میں پرھتے ہیں لیکن معلم اپنے فرائض کی ادائیگی میں یکساں کردار ادا کرتا ہے۔لیکن یہاں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد طبقاتی کشمکش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ تمام وعدوں اور دعووں کے باوجود ان کا ذہن صرف اشرافیہ کے بچوں کی تعلیم و اصلاح میں اسیر نظر آتا ہے۔ ]۵[

ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات کے مطابق اچھا معلم ایک مربی کی طرح ہوتا ہے۔ ابتدائی درجات کے استاد کو اپنے اور شاگرد کے درمیانی فاصلے کو محبت اور شفقت سے کم کرنا چاہیے ۔ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں استاد اپنے معیار علم کی مدد سے، تبحر علمی اور فاضلانہ رکھ رکھاؤ کے ذریعے شاگرد کو اپنے قریب کرلیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد بھی وہی باتیں پیش کرتے ہیں جو جدید تعلیمی نفسیات کے ماہرین نے پیش کی ہیں۔ ’’مراۃ العروس‘‘ میں استانی اصغری بہت ہی مشفق معلمہ ہے جس کی وجہ سے مکتب کی تمام طالبات اس کی مرید نظر آتی ہیں۔ شفقت کے ساتھ ساتھ اصغری کا طریقۂ تدریس بھی طالبات کی ارادت کی وجہ ہے۔ جس کا کچھ اندازہ ذیل کے اقتباس سے ہوتا ہے:

اصغری سب کے ساتھ دل سے محبت کرتی تھی اور پڑھانے کا طریقہ ایسا اچھا تھا کہ باتوں باتوں میں تعلیم ہوتی تھی ۔  ۔  ۔  پس یہ لڑکیاں شاگرد کی شاگرد سہیلی کی سہیلی تھیں۔  ]۶[

درج بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصغری کھیل کود کی باتوں میں سب کو کام کی باتیں سکھاتی تھی۔ یعنی تعلیم میں دلچسپی کا عنصر برابر شامل رہتا تھا۔ موجودہ دور میں ہم تعلیم اطفال میں Play way method یعنی تعلیم بذریعۂ کھیل پر زور دیتے ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد بھی خواتین کی تعلیم کے سلسلے میں اسی طریقۂ تعلیم کو رائج کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس دور میں خواتین کو تعلیم سے رغبت نہیں تھی۔ ڈپٹی نذیر احمد دلچسپی کے عنصر کے ساتھ ساتھ مقصد تعلیم کو بھی نگاہ سے اوجھل نہیں ہونے دیتے۔

ناول ’’مراۃ العروس‘‘ میں ڈپٹی نذیر احمد نے لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ دستکاری کو ضروری قرار دیا تا کہ خواتین بہ وقت ضرورت مردوں کی کفالت کے بغیر بھی اپنی کفالت کرسکیں۔ ]۷[  ۱۹۸۶ میں قومی تعلیمی پالیسی میں بھی اس تصور پر زور دیا گیا کہ بچوں کو اسکولوں میں پڑھائی لکھائی کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھایا جائے۔ جس سے وہ حصول تعلیم کے بعد سیکھے گئے ہنر کے ذریعے کوئی پیشہ شروع کرسکیں۔

مکتب میں کہانی کا سننا اور سنانا بھی اس کے معمولات میں شامل تھا۔ جس کا مقصد تھا کہ تفریح کے ساتھ ساتھ طالبات کی زبان شستہ و مہذب ہو، نصیحت حاصل ہو، اور زبان بھی سیکھیں۔ اصغری کے ذریعے اختیار کیے گئے طریقۂ تعلیم سے لڑکیوں کو کھیل کھیل میں بہت سی باتوں کی تعلیم کے ساتھ کسی ہنر کا سکھانا اور کہانیوں کے ذریعے طالبات کی لسانی استعداد کو بڑھانا جیسے تین پہلو سامنے آتے ہیں جن کا مقصد تعلیم کو عملی زندگی سے منسلک کرنا ہے۔

ڈپٹی نذیر احمد خواتین کو صرف امور خانہ داری، حرف شناسی یا معمولی خط و کتابت تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے بلکہ علوم جدید کی تعلیم کا نقشہ بھی انھوں نے ناول ’’بنات النعش‘‘ میں پیش کیا ہے۔ اس زمانے میں خواتین کی تعلیم کا عام رواج نہیں تھا اس لیے ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے اس ناول میں معلومات عامہ کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھا ہے اور اس بات کی کوشش کی ہے کہ خواتین کو ابتدائی سائنس اور کچھ علوم سے متعلق عام واقفیت بھی ہوجائے۔ مثلاً علم جرثقیل، حساب کی دلچسپ باتیں، زمین کی کشش، وزن مخصوص، ہوا کا داب، کشش اتصال، مقناطیس، زمین کی گردش، خوردبین، زمین کی ساخت، جغرافیہ، سمندر کے منافع، مینہ، بجلی بادل، وغیرہ کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں بتائی گئی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ علم عقل کی ترقی کی اسی طرح بنیاد ہے جس طرح جسم کی توانائی اور بالیدگی غذا پر موقوف ہے۔

’’بنات النعش‘‘ میں ان کے تصورات و نظریات کی نمائندگی کرنے والی معلمہ اصغری کو معلوم ہے کہ پہلے علم سیکھنے کا شوق پیدا کیا جائے اور بعد میں پڑھانا شروع کیا جائے۔  استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ علوم کو تدریس کے دوران اس انداز سے پڑھائے کہ طلبا کی تشنگی بجھ سکے اور تشفی کا سامان فراہم ہو۔ یہ تمام خصوصیات اصغری کے کردار میں نظر آتی ہیں۔ پڑھنے اور پڑھانے کے تعلق سے اصغری کے ذریعے ایک اہم نقطے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ کہ جب طالب علم کا دل پڑھنے کی طرف راغب نہ ہو تو پہلے اس کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جائے کیونکہ خلاف خواہش پڑھانا اکارت ہوجاتا ہے۔ ]۸[

’’بنات النعش‘‘ میں جہاں ان کا مثالی مکتب ان کے تعلیمی افکار و نظریات کو واضح کرتا ہے وہیں مکتب کی استانی اصغری کا کردار ایک ذمہ دار معلمہ کی شکل میں نظر آتا ہے۔ معلمہ کے فرائض، مقاصد تعلیم، بچوں میں تعلیم سے دلچسپی پیدا کرنے کے طریقے، استاد کا مربی جیسا برتائو، معلمہ کی خودداری اور غیرت مندی، امیر و غریب طالبات کی سماجی و نفسیاتی کشمکش وغیرہ پر تفصیل سے گفتگو ملتی ہے۔

اصغری کے کردار میں ایک استانی کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس میں علمی اعتبار سے اتنا وزن اور وقار ہے کہ وہ ابتدائی درجات کے بچوں کو مکمل اعتماد کے ساتھ پڑھا سکتی ہے۔ مصنف نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

ناول ’’توبۃ النصوح‘‘ میں نصوح کو جس وقت اپنے خاندان کی اصلاح کا خیال آتا ہے اس وقت اس کا بیٹا کلیم اور بیٹی نعیمہ سن بلوغت کو پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ نصوح کی بیوی فہمیدہ کو نعیمہ کی تربیت و اصلاح کے وقت کے گذر جانے کا احساس ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ نعیمہ کی زبان درازی سب سے بڑی برائی ہے۔ کلیم اور نعیمہ کے علاوہ سلیم اور علیم بھی ابتدائی تعلیم ختم کرچکے ہیں اور وہ ثانوی جماعتوں میں تعلیم پارہے ہیں۔ ان کرداروں کی جو عمر ناول نگار نے بیان کی ہے وہ اصول تعلیم و تربیت کے مطابق بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ ایک جگہ فہمیدہ اس بات کا اظہار کرتے ہوئے نصوح سے کہتی ہے:

تم میری رائے پوچھتے ہو تو میں بے شک ناممکن اور محال ہی سمجھتی ہوں اور وجہ یہ ہے کہ ان کی عادتیں راسخ ہوتے ہوئے طبیعت ہوگئی ہیں برابر کی بیٹیاں ہیں مار ہم نہیں سکتے، گھرک ہم نہیں سکتے، جبر ہم نہیں کرسکتے، بھلا پھر ہم ان عادتوں کو جن کے وہ مدتوں سے خوگر ہورہے ہیں، کیونکر چھڑادیں گے؟  ]۹[

نذیر احمد نے اس بات کی وضاحت کی کہ عمر کے جس درجے میں نعیمہ اور کلیم پہنچ چکے تھے، اس میں تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنا مشکل تھا۔ بچپن میں تربیت اور تعلیم کے فقدان کی وجہ سے بچے بڑے ہو کر رسوائی کا موجب بنتے ہیں۔

ڈپٹی نذیر احمد نے کلیم اور نعیمہ جیسے کرداروں کے ذریعے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک خاص عمر پر پہنچنے کے بعد بچہ والدین یا دیگر بزرگوں کی بات کو من و عن قبول کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتا اس کے پاس خود کی آزادی کا ایک تصور قائم ہوجاتا ہے۔ یہاں ڈپٹی نذیر احمد نے کلیم کے کردار کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی ہے۔

ڈپٹی نذیر احمد ہمیشہ خواتین کو معاشرے میں ان کی باوقار حیثیت دلانے کی وکالت کرتے رہے لیکن ان کا سب سے اہم موضوع تعلیم نسواں ہی تھا۔ تعلیم کو انھوں نے مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ لیکن خواتین کی تعلیم کو خاص طور پر اس لیے بھی موضوع بنایا کہ خاتون کا تعلیم حاصل کرنا صرف اسی کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ تو کئی نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد  ناول ’’توبۃ النصوح‘‘ میں تعلیم نسواں کی حمایت کس انداز سے کرتے ہیں اس کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے:

اصلاح خاندان کے لیے بی بی سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں اور خدا کو کچھ اس خاندان کی فلاح ہی منطور تھی کہ نصوح نے بی بی کو پڑھا لکھا بھی لیا تھا۔  ۔  ۔ اس کا دل اس بات کو مان گیا تھا کہ عورتوں کے لکھانے پڑھانے میں چند در چند فوائد دینی و دنیوی مضمر ہیں۔ ]۱۰[

تعلیم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ طلبا کو زندگی سے مفاہمت اور مطابقت کے لیے تیار کیا جائے لیکن مکتب میں اگر ماحول تنگ ہو اور وسائل محدود ہوں تو طلبا کے ذہنی ارتقا پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد کو اس بات کا ادراک بھی بخوبی تھا جس کا اظہار انھوں نے ’’فسانۂ مبتلا‘‘ میں مبتلا کے کردار کے ذریعے کیا ہے۔ اسی ناول میں انھوں نے تعقل پسندی اور مادری زبان کے تعلق سے بھی اپنے نظریات کو پیش کیا ہے اور ذریعۂ تعلیم کے طور پر مادری زبان کی پرزور وکالت کی ہے۔ڈپٹی نذیر احمد تعقل پسندی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی انتہا پسندی کے قائل نہیں تھے بلکہ میانہ روی اور اعتدال کے حامی تھے۔ ڈپٹی نذیر احمد اپنے ناولوں میں سیرت کی تربیت کے لیے مذہبی تعلیم کو اہم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اس معاملے میں وہ اس گروہ سے بھی واقف تھے جو مذہب کو رجعت پسندی اور دقیانوسیت کا آلۂ کار سمجھتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد اپنے ایک کردار میر متقی کے ذریعے اس امر کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

علوم جو پڑھائے جاتے ہیں اکثر جدید، زمانۂ حال کے ایجاد۔ کوئی مسئلہ نہیں جس میں متقدمین کی غلطی جس میں سابقین کی خطا ظاہر نہ کی جائے ۔  ۔  ۔اب جو ان کی غلطی ثابت ہوتی ہے تو طالب علموں کو جو مذہب سے ہیں کورے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے باپ دادا جو مذہباً اسی لغو اور بیہودہ باتوں کو تسلیم کرتے چلے آئے نرے احمق تھے اور ان کا مذہب سراسر ہیچ اور پوچ ہے۔ ]۱۱[

کہتے ہیں فلسفے کے ذریعے شک کے دروازے کھلتے ہیں جب کہ عقیدہ سکون کا سامان فراہم کرتا ہے۔ میر متقی کے اس خیال کی اساس علوم جدیدہ کا وہ نظریہ ہے جس کے لیے ہر بات کی دلیل اور ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مذہب کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد عقیدے پر ہوتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کے تعلیمی تصورات میں میر متقی کا کردار ایک مثالی کردار ہے۔

ناول ’’ابن الوقت‘‘ میں جو تعلیمی گفتگو ملتی ہے اس میں تعلیم بذریعۂ مادری زبان کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ انگریزی زبان کے تعلق سے ڈپٹی نذیر احمد کا خیال تھا کہ ہندوستانی ساری عمر کوشش کرنے کے باوجود مہارت حاصل نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یہ ان کی مادری زبان نہیں ہے۔ ]۱۲[ڈپٹی نذیر احمد کے تعلیمی افکار و نظریات طبقاتی نظام کے اسیر نظر آتے ہیں۔ اور اس حوالے سے شریف اور رذیل جیسی اصطلاحیں بھی ان کے یہاں مستعمل ہیں۔ وہ سب کو ایک ہی طرح کی تعلیم دینے کے بھی خلاف تھے۔ ان کی نظر میں ایسا کرنے سے ملک کا نقصان ہورہا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کی یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ ہندوستانیوں کو ایسے علوم و فنون کی ضرورت تھی جن سے صنعت و حرفت کو ترقی ہو لیکن انگریزی عملداری میں اہل حرفہ اپنے پیشے چھوڑ کر سرکاری ملازمت کو فوقیت دینے لگے تھے۔]۱۳[نذیر احمد کی اس بات پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض ملازمت کے حصول کے لیے حاصل کی جانے والی تعلیم کے خلاف تھے۔

یوں تو ’’ایامیٰ‘‘ کا بنیادی موضوع نکاح بیوگان ہے لیکن اس میں بعض تعلیمی مسائل بھی بنیادی نوعیت کے ہیں۔ کم از کم ایک موضوع ایسا ہے جس کا ذکر یہاں بہت ضروری ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد مادری زبان میں تعلیم کے زبردست حامی تھے ۔ اس ناول میں انھوں نے ایک دلچسپ اور طویل مکالمے کے ذریعے اس بحث کو چھیڑا ہے کہ بچے کو پہلے مادری زبان کی تعلیم دی جائے یا قرآن کی تعلیم دی جائے۔ البتہ نذیر احمد نے اس بحث میں کوئی فیصلہ نہیں لیا، صرف طرفین کی باتوں کو مدلل اور باوزن طریقے سے پیش کردیا۔ ]۱۴[

انیسویں صدی کے نصف آخر میں تعلیم اور معاشرتی نظام کا کوئی سائنٹفک تصور قائم نہیں ہوا تھا۔ بلکہ ایک اہم موضوع پر غور کیا جانے لگا کہ اگر مخصوص وضع کی تعلیم سے فرد کی مخصوص بناوٹ ہوجائے تو اس کا رد عمل دیگر افراد خاندان یا معاشرے کے تئیں کیسا ہوگا۔ اس طرح تعلیم محدود دائرے سے نکل کر وسیع تر معنوں میں سامنے آجاتی ہے۔ مخصوص وضع کی تعلیم سے تشکیل پانے والے فرد کا معاشرے اور خاندان کے تئیں رد عمل ہی ’’رویائے صادقہ‘‘ کا تعلیمی نظریات کے حوالے سے فکری پہلو ہے۔ یہ ناول جدید تعلیم اور مذہب کے مابین ہونے والی آویزش کو پچھلے تمام ناولوں سے زیادہ کھل کر پیش کرتا ہے۔اس ناول میں سید صادق کو اگر جدید تعلیم کا نمائندہ سمجھا جائے تو صادقہ کو مذہب کا نمائندہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد تعلیم اور مذہب کو الگ الگ رکھتے ہیں۔ وہ جدید تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی بے لگام عقلیت (یہی بے لگام عقلیت معاشرے اور خاندان کے تئیں رد عمل ہے) کے بھی قائل نہیں اور جدید تعلیم پر مذہب کا لیبل چسپاں کرنے کے بھی قائل نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ذیل کا اقتباس ملاحظہ کیجیے:

ہر چند تعلیم دنیاوی چیزوں میں دی جاتی ہے اور کسی مذہب کا نام زبان پر نہیں آنے پاتا مگر ہندوستانی مذہب کے بدوں ٹکڑا نہیں توڑتے۔ ان کی عادت ہے کہ ۔  ۔  ۔  ہر چیز مذہب میں لے دوڑتے ہیں۔ یہ تعلیم کو کیا بخشتے مدتوں لوگ اسی خبط میں رہے کہ تعلیم کا اصل مقصد عیسائی بنانا ہے۔ ]۱۵[

ناولوں میں ناصحانہ انداز بیان اور عالمانہ طرز استدلال، قصے کی دلچسپی، کرداروں کی پیش کش، غرض یہ کہ انھوں نے اپنے خیالات کی اشاعت کے لیے ہزار طرح کے جتن کیے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ ایک با ہنر اور اپنے پیشے سے محبت رکھنے والا استاد ہی طلبا میں با مقصد زندگی کا شعور پیدا کرسکتا ہے ڈپٹی نذیر احمد کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ مغربی علوم و افکار اور سائنس کی تعلیم حاصل کیے بغیر قوم کی ترقی ممکن نہیں کیونکہ سائنس کے خزانے انگریزوں کے پاس موجود تھے اور ان خزانوں تک رسائی صرف انگریزی تعلیم کی کنجی سے ہوسکتی تھی اس لیے انھوں نے نہ صرف انگریزی تعلیم حاصل کی بلکہ مسلمانوں کو اپنے خیالات اور تصورات سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ ناول ’’بنات النعش‘‘ میں علوم جدیدہ اور معلومات عامہ کی افادیت سے بھی آگاہ کرنے کی کوشش کی تا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اپنے عہد کے مطالبات کے مطابق کی جاسکییہ بات بھی لائق ستائش ہے کہ انھوں نے محض نظریات کے بیان کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے نظریات کی عملی صورت گری کر ناول ’’بنات النعش‘‘ میں ایک مثالی مدرسے کا خاکہ پیش کیا ہے۔حقیقت میں ڈپٹی نذیر احمد ایک استاد تھے ا ور تصنیف و تالیف تک و ہ تدریس کے در سے ہی پہنچے تھے  اور اس کام کی اساسی اہمیت سے واقف تھے۔ اس لیے ناولوں کے ذریعے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ پورے نظام تعلیم کی اصلاح کے اصول بھی وضع کرتے رہے۔مغربی تعلیم کے نرے پیروکار نہیں تھے۔اس کی خوبیوں کے ساتھ کمزوریوں کا بھی انھیں احساس تھا۔موجودہ دور میں مشرقی اور مغربی تعلیم کی خانہ بندی کو یٔ معنی نہیں رکھتی لیکن اس زمانے میںقومی تعلیم کا کویٔ خاکہ تیار ہو سکتا تھا تواس کا سب سے متوازن رنگ نذیر احمد کے یہاں ابھرتا ہے۔ان کے ناولوں میں نیٔ  تعلیم اور مستقبل کے نظام تعلیم کا خاکہ موجود ہے۔ اس مختصر سے مضمون میں بہت زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ اب تک ان کے ناولوں کے حوالے سے جو گفتگو کی گئی ہے اگر اسے ملخص کردیا جائے تو ڈپٹی نذیر احمد کے تعلیمی نظریات و افکار حسب ذیل قرار پائیں گے۔

۱۔ چونکہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہے اس لیے عورتوں کا تعلیم یافتہ ہونا اشد ضروری ہے۔

۲۔ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر علوم کی معلومات بھی ضروری ہے۔

۳۔ عورتوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تعلیم دینا بھی ضروری ہے ۔

۴۔ تعلیم کا عمل تفریح کے ذریعے ہونا چاہیے۔

۵۔ تدریس کا عمل اسی وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب طالب علم کی دلچسپی قائم رہے۔ لہٰذا دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تدریس کو تعلیم اور تفریح کا بہترین امتزاج ہونا چاہیے۔

۶۔ تعلیم کا مقصد محض معلومات کا ذخیرہ یا پیشہ ور کامیابی نہیں بلکہ شخصیت سازی ہے۔

۷۔ تعلیم کا ذریعہ صرف روایتی اسکول یامدرسے ہی نہیں بلکہ خاندان اور معاشرہ بھی ہے۔

۸۔ طریقۂ تدریس کا انحصار بچے کی فطری صلاحیتوں پر ہونا چاہیے۔

۹۔ مادری زبان تعلیم کا بہترین ذریعہ ہے۔

۱۰۔ باضابطہ تعلیم کی کم سے کم عمر پانچ یا چھ سال ہونی چاہیے۔

حوالے:

۱۔ مراۃ العروس، ڈپٹی نذیر احمد، کتابی دنیا، دہلی، ۲۰۰۳، ص: ۲۲

۲۔ مراۃ العروس، ڈپٹی نذیر احمد، کتب خانہ بشیر و نذیر، اردو بازار، جامع مسجد دہلی، سنہ اشاعت ندارد، ص: ۷۲

۳۔ ایضاً، ص: ۱۳ – ۱۲

۴۔ ایضاً، ص: ۱۰۲ – ۱۰۱

۵۔ ایضاً، ص: ۱۰۴

۶۔ ایضاً، ص: ۲۵

۷۔ ایضاً، ص: ۱۹ – ۱۸

۸۔ بنات النعش، ڈپٹی نذیر احمد، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، ۲۰۱۳، ص: ۱۲

۹۔توبتہ النصوح، ڈپٹی نذیر احمد، مطبع تیج کمار، لکھنؤ، ۱۹۸۵، ص: ۶۸

۱۰۔ توبتہ النصوح، ڈپٹی نذیر احمد، مطبع تیج کمار، بھارگو، لکھنؤ، ۱۹۸۵، ص: ۴۷

۱۱۔ فسانۂ مبتلا، ڈپٹی نذیر احمد، مجلس ترقی ادب، کلب روڈ، لاہور، ص: ۱۶۶

۱۲۔ابن الوقت، ڈپٹی نذیر احمد، کتابی دنیا، دہلی، ۲۰۰۰، ص: ۵۴

۱۳۔ ایضاً، ص: ۱۴۰ -۱۳۹

۱۴۔ ایامیٰ، ڈپٹی نذیر احمد، اتر پردیس اردو اکادمی، ص: ۲۶-۲۵

۱۵۔ رویائے صادقہ، نذیر احمد، کتابی دنیا، دہلی، ۲۰۰۳، ص: ۹۸

 

ڈاکٹر شاداب تبسم

P.D.F, DEPARTMENT OF URDU

JAMIA MILLIA ISLAMIA, NEW DELHI

9999149012

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

1 comment

Leave a Comment