دلیپ کمار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نصیرالدین شاہ نے ایک مضمون لکھا ہے، جس میں تحسین کے ساتھ ساتھ تنقید بھی ہے۔ فلمی دنیا اور اہل فلم سے وابستگی اور آشنائی کے باوجود، فنکاری کے رموز و نکات اور اس کی فنکارانہ نزاکتوں سے ناچیز کی اتنی ہی واقفیت ہے جتنی کلاسیکی رقص اور سنسکرت زبان سے۔ اس لیے اس حوالے سے گفتگو لافِ بے جا سے کچھ زیادہ نہ ہوگی۔ البتہ ایک ماہر اور ممتاز فنکار کے بطور معروف نصیرالدین شاہ نے دلیپ کمار سے یہ شکوہ کیا ہے کہ انھوں نے اپنی فنکاری کا وہ گُر جو سحرانگیزی کا حامل اور ناظرین کو بے حد متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے بارے میں کبھی کسی کو یا اپنے بعد والوں کو بتایا نہیں۔ ممکن ہے انھیں خود اس کا استحضار ہو، اور اس لیے شکوہ بھی، لیکن ایک بات تو طئے ہے کہ جس خوبی نے دلیپ کمار کو پردہ سیمیں کا جادوگر بنایا ، وہ ان کی زبان تھی، ان کے لہجے کی شیرینی تھی۔اور زبان صرف اس سے آشنائی کا نام نہیں ، اس کو اس کے تقاضوں اور نزاکتوں کے ساتھ برتنے اور ادا کرنے کا نام ہے۔ بہت سارے لوگ اردو سے آشنا بلکہ اس کے ماہر اور اسکالر ہو سکتے ہیں، لیکن اسے زبان سے ادا کرنا سب کو نہیں آتا۔ اس حقیقت کا بخوبی ادراک ایک مدت تک بی بی سی اردو سروس والوں کو رہی، چنانچہ انھوں نے لکھنو اور اس کے گرد و نواح سے تعلق رکھنے والوں کو نیوز ریڈر کے بطور رکھا۔ وقار احمد، یاور عباس، رضا علی عابدی اس دور اور معیاری اور فصیح اردو لہجے کے نمائندے ہیں۔ عام طور سے اودھ، مغربی یوپی، یا دہلی کے پڑھے لکھے ادب دوست گھرانوں میں بولی جانے والی اردو اور اس کی شیرینی سحرآور سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ لیکن اب وہ بھی تقریبا فناپذیر ہو چکی ہے۔ نصیرالدین شاہ اسی علاقے سے ہوتے ہوئے بھی اس سے ناآشنا ہیں۔ اسی لیے غالب سیریل المیہ ہوکر رہ گئی۔ طرہ یہ بھی رہا کہ گلزار جیسا نیم اردو خواندہ اس کے ڈائرکٹر تھے، سو اسے ‘دُرد دو آتشہ’ ہونا ہی تھا۔ فلم کا تو پورا کاروبار ہی لہجہ اور حسن ادائیگی پر ہے۔ ظاہر ہے انگریزی زدہ لہجے کی ماری آج کی نسل وہ تاثر اور تاثیر پیدا نہیں کرسکتی جو پرتھوی راج کپور، دلیپ کمار اور مینا کماری کرتے ہیں۔ لیکن سامع اور ناظر تو حساس ہوتا ہے۔ شرابی چاہے زندگی بھر ٹھرے کا عادی ہو لیکن اسے شیمپین مل جائے تو نہال ہوگا ہی۔یہی حال موسیقی کا ہے۔ راگ، ساز ، اور آلات موسیقی کی چاہے جتنی آرائش کرلیں، اگر غزل سرا کا تلفظ درست نہ ہوا تو "گجل” گا گا کے ہی سمع خراشی کرتا رہے گا، جیسا آج دیکھنے میں آرہا ہے۔ ہمارے بہت سارے محقق اور نقاد جو میر و غالب کے رمز آشنا رہے، لیکن لہجہ میں کھردراپن تھا۔ انھیں ایکٹنگ کرنی نہیں تھی، ورنہ وہ بھی ناکام ہوجاتے۔ فلمی دنیا اور اہل ہنر کو یہ راز جتنی جلدی سمجھ آجائے ، اتنا ہی بہتر۔۔۔۔اگر چہ اب بھی بہت دیر ہو چکی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں پیگاسس – پروفیسر اخلاق آہن)
البتہ اس زبان و لہجہ کی مسماری کا ذمہ بھی اسی مذکورہ طبقہ پر آتا ہے جو اس لہجہ شیریں کا پاسدار تھا۔ یہی طبقہ سب سے بے وفا ، خودغرض اور کم ہمت ثابت ہوا۔ اس کا ایک حصہ اپنے آباءکی قبریں، عمارتیں، عبادتگاہیں،سب نشانات، سب وراثتیں چھوڑ چھاڑ کا یکسر چلا گیا۔ دوسری طرف کیا صورتحال رہی نہ رہی اس کا درست اندازہ تو نہیں، لیکن جوش، جان ایلیا، رئیس امروہوی، افتخار عارف، خورشید رضوی وغیرہ کی گریہ و زاری اور حزن و ملال دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنوں کے لمس، مٹی کی خوشبو کے ساتھ ساتھ لہجہ کے اسی نغمہ شیریں سننے کو ترستے رہے۔جو حصہ یہاں رہ گیا، وہ اتنا خائف ہوگیا اور اپنی شناخت، اپنی وراثت، اپنی تہذیبی قدروں، اور سب سے بڑھ کر اپنی زبان اور ادب سے اتنا بے تعلق بلکہ احساس کمتری کا شکار ہوگیا کہ بڑی بے دردی سے اسے مٹانے میں منہمک ہوگیا۔چنانچہ تقسیم کے بعد دوسری نسل کے آتے آتے سارے نشانات تقریباً مٹ گئے۔ اس کی کوشش کا محور اپنے مذہبی اور ثقافتی شناخت سے بُعد اور دوری رہ گیا۔ اس نے انگریزیت میں ضم ہونے کو راہ فرار و امان جانا۔یہاں تک کہ اپنی زبان چھوڑ دی، بعضوں نے سات سمندر پار بس جانا بہتر جانا، جو یہیں رہے انھوں نے راہ و رسم اور رشتے ناطے توڑ کر ، ارباب اقتدار کے آستانوں پر سجدہ ریز ہوکر اور ان کے اشاروں کے غلام بن کر خود کو دھرتی پُتر ثابت کرنے میں محو رہے۔ جو طبقہ افتادہ و ناخواندہ اس دور ابتلا میں کوشش کرکے اٹھا، اس کے سامنے کوئی منزل نہ تھی سو انھیں نشاناتِ راہ کو راہنما جانا اور چل پڑا۔ اردو بے چاری ایسوں کے ذمہ آئی۔ پھر اس نے بھی بے وفائی کی۔ تب اور لاچاروں، کم سوادوں، مدرسوں کے مکینوں نے اس کی عزت آبرو کی حفاظت کا ذمہ لیا، جو اکثر و بیشتر ذیلی لہجوں اور زبانوں کے پروردہ تھے اور اس زبان و ادب کے مذکورہ دھارے سے کم آشنا۔ موجودہ زبان و ادب بجا طور پر انھیں کی رہین منت ہے اور مشکور۔ ( یہ بھی پڑھیں داستان چائے – پروفیسر اخلاق آہن )
18جولائی2021 ء
پروفیسر اخلاق آہن،
جواہرلال نہرو یونیورسٹی، دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]