Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras جون 7, 2023
by adbimiras جون 7, 2023 0 comment

ڈاکٹر تسلیم عارف کا تحقیقی انتقاد  :  ’تحدیثِ ادب‘ – نــسیــم اشــک

 

نــسیــم اشــک
ہولڈنگ نمبر : 10/9،گلی نمبر:3، جگتدل ،24 ؍پرگنہ ،
مغربی بنگال

عمر کو ڈھلان پر آتے ہی تجربے جوان ہو جاتے ہیں۔ آنکھوں کی بینائی کمزور ہوتی ہے ، تو بند آنکھیں ٹیلی اسکوپ بن جاتی ہیں۔ ان متضاد باتوں کے واقع ہونے میں حیرت کچھ نہیں۔ ہاں! گر کچھ حیرت ہے ، تو اس بات پر کہ عمر کی یہ حد بندی غیر مناسب ہے۔ شعور تو عطائے خداوندی ہے۔ اس میں پس و پیش کیا۔ عمر کی حدیں جنون کی راہ میں نہ کل حائل تھیں، نہ آج ہیں۔ عمر کی پختگی کاروبارِ زیست کے فیصلے لیا کرتی ہے اور باقی کام ، حوصلے اور جنون انجام کو پہنچاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کام ادب کی خدمت بھی ہے۔ ان جیالوں میں جو جنون کے ہم قدم، ادب کے دشت میں آبلہ پائی کا حوصلہ رکھتے ہیں ، ان میں ایک اہم اور نمایاں نام ڈاکٹر تسلیم عارف کا ہے ، جنہوں نے آسانیوں سے خود کو دور رکھا اور مشکلات سے آنکھیں چار کیں۔ انہوں نے چلنے کو پُر پیچ راہوں کا ہی انتخاب کیا اور بقول مجروح سلطانپوری ’خار سے گل  اور گل سے گلستاں بنتا گیاُ’ کے مترادف ادب کی دشت نوردی کرتے رہے۔ تسلیم عارف اپنے معاملات میں حق پسند اور بے باک واقع ہوئے ہیں، اس لئے صاف صاف کہتے ہیں کہ وہ ترقی پسند ادب سے متاثر ہیں اور ترقی پسند ادیب ہیں۔ اس بات کی صداقت ان کی حالیہ تصنیف ’ تحدیثِ ادب‘ میں موجود ہے۔ تسلیم عارف کا شجرہ بھی اس قبیلے سے ملتا  ہے جس کے لوگ متعین راستے پر نہیں چلتے ، اپنی راہ خود بناتے ہیں۔ ادب کی اجتماعی افادیت اور مقصدیت سے حقیقت پسند حلقۂ سخن وراں میں سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔ ادب زندگی کا ترجمان ہے تو زندگی کے درپیش مسائل کا ذکر اور اس کاحل، ادب کا موضوع ٹھہرا، اس تناظر میں جب ہم ادب پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں تو ترقی پسند تحریک ہمارے سامنے سر اٹھائے کھڑی ملتی ہے۔ میری ناقص رائے میں اردو ادب کی تحریکات میں ، جس قدر ترقی پسند تحریک نے اپنے اثرات مرتسم کئے، اتنا کسی اور تحریک سے نہ ہوسکا۔ آج جبکہ ترقی پسند تحریک باقی نہیں رہی ، پھر بھی عصر حاضر کی ادبی تحریروں میں اس کی بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔
تسلیم عارف کی نثر کو میں ’بولتی نثر‘ کہتا ہوں ۔ ان کی نثر کی سحر انگیزی اس کتاب میں آپ کو جابجا ملے گی۔ ان کے نثر کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے خیال کے اظہار میں گنجلک اور الجھتی نہیں اور نہ قاری کو الجھنے دیتی ہے۔ بالکل صاف و شفاف، سلیس اور رواں نثر لکھنے پر قادر ہیں۔ ان کی نثر کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہ ہمیشہ کچھ نیا موضوع تلاش کرتے ہیں اور ایسے موضوعات ڈھونڈ نکالتے ہیں، جن پر یا تو لکھا نہ گیا ہو یا لکھا بھی گیا ہو، تو قلیل مقدار میں۔ ان کی محققانہ نظریں ادب میں قائم روایت کے درمیان نئی شے پاہی لیتی ہیں۔ یہ روایت سے ہٹ کر خیال پیش نہیں کرتے بلکہ روایت کو مزید وسعت دیتے ہوئے جدت طرازی کرتے ہیں، مثال کے طور ان کا مضمون ’نظیر: مملکت غزل کا شاعر بے نظیر‘ اسی نوعیت کا مضمون ہے۔ اہلِ اردو نظیر سے واقف ہیں اور انہیں عوامی شاعر کے نام سے جاننے کے ساتھ یہ بھی جانتے ہیں کہ نظیر نظم کے بلند پایہ شاعر ہیں مگر نظیر نے صفحہِ غزل پر بھی اپنے جمہوری خیال کی عکس ریزی کی ہے۔ بلا شبہ یہ موضوع انوکھا ہے اور دلچسپ بھی۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ نظیر کی غزلوں میں عاشقانہ رنگ غالب ہے اور وہ محبوب کے سراپے میں کھو کر دیوانہ وار لکھتے ہیں ، جنہیں دیکھنے کے بعد کچھ لوگوں کو نظیر کی غزلیں فحش اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ لگی مگر مصنف نے ان کی شاعری میں پیکر تراشی ڈھونڈ نکالا، آپ ان کے حسن نظر کی داد کیسے نہ دیں گے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے نظیر کے کچھ خوب صورت اشعار پیش کئے ہیں ، ان میں سے ایک شعر ملاحظہ کیجیے:
جبیں مہتاب آنکھیں شوخ شیریں لب گہر دنداں
بدن موتی دہن غنچہ ادا ہنسنے کی پیاری ہے
نظیر کی غزلوں کے تعلق سے تسلیم عارف یوں رقم طراز ہیں:
’’نظیر کی بیشتر غزلوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ایک خالص عشقیہ شاعر ہیں۔ محبوب کے حسن و جمال کے ساتھ اُس کی حشر سامانیوں، اُس کی ناز و ادا، اُس کا طرزِ تکلم ، اُس کے حرکات و سکنات، اُس کی نزاکت، اُس کا مسکرانا، اُس کی زلف کی خوشبو، اُس کے لبوں کی سرخی، گویا سراپائے محبوب ، نہ صرف نظیر کو دیوانہ بناتے ہیں بلکہ محبوب کے اِن اوصاف سے متعلق پُراَثر شعر بھی کہلواتے ہیں۔‘‘ (تحدیث ادب، ص: ۱۹)

دنیائے اردو ادب میں ایک قد آور شخصیت غالب کی ہے، جو اپنے وقت میں بھی سب پر غالب تھے اور اپنے بعد کے وقت میں بھی، ان کی مقبولیت کا سلسلہ آبِ رواں کی مانند بڑھ ہی رہا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ غالب جیسا خوددار اور انا پسند آدمی حالات کے آگے کتنا مجبور تھا کہ انہوں نے اُن گوروں کی مدح سرائی کی، جنہوں نے اہلِ وطن کی حیات تنگ کردی تھی۔’۱۸۵۷ء ،غالب اور دستنبو ‘ کے زیرِ عنوان مصنف نے ’دستنبو ‘ میں جو ہے، وہ کیوں ہے، اس کے وجوہات کو مدلل پیش کیا ہے۔ یہ بہت معلوماتی مضمون ہے۔ بلا شبہ غالب کی یہ تصنیف، ان کی کردار کشی کرتی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اَن کہے حالات کو بھی بیان کرتی ہے۔

نساخ کی ادبی حیثیت اردو ادب میں مسلّم ہے۔ وہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ فن پر مہارت کے ساتھ ساتھ اظہار فن میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ اس کا بین ثبوت ان کی رباعیات کا مجموعہ’ ترانہِ خامہ‘ ہے۔ ڈاکٹر تسلیم عارف نے نساخ کو بہ حیثیت رباعی گو پیش کیا ہے اور ان کی رباعیوں کا بہت گہرائی و گیرائی سے تجزیہ کیا ہے، نیز انہوں نے ادبی اداروں اور انجمنوں کو نساخ شناسی کی طرف اولولعزم بھی کیا ہے۔ گرچہ مصنف کا میدانِ عمل نثر نگاری ہے مگر ان کی شعر فہمی اور شعری بصیرت اس قدر ماہرانہ ہے کہ ان کی تشریحات پڑھ کر دل عش عش کرنے لگتا ہے۔ کلام کی تہہ داری کی پرتیں ایک ایک کر کے کھلنے لگتی ہیں۔میں تو یہ رائے قائم کرچکا ہوں کہ اُن کے ہاتھ نثّار کے ضرور ہیں ، پر آنکھیں اور دل کسی شاعر کے ہیں۔

ٍ مولانا آزاد کی سی شخصیت سے صدیوں میں جنم لیتی ہے۔ ایک ہی شخص میں اتنے سارے اوصاف حمیدہ اور اس پر حیران کن کہ جس جا دیکھو، اپنے ہنر میں وہ یکتا دکھائی دیتے ہیں۔ مولانا نے اردو شعر و ادب کو مالا مال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ، صحافت کو بام عروج پر پہنچا دیا ، ’غبار خاطر‘ لکھ کر خطوط نگاری کو ایک نئی جہت سے آشنا کرایا۔ اس مجموعے میں مولانا آزاد کی شاعری کے حوالے سے نہایت ہی پُر مغز مضمون شامل ہے جس میں مصنف نے مولانا آزاد کی شاعری کو موضوع بحث بنایا ہے اور مولانا کی نعوت ، قطعات، رباعیات کے ساتھ ساتھ اُن کی غزلیہ شاعری کو حیطہِ تحریر میں لایا ہے۔ قاری کے لئے مولانا آزاد کی شاعری کے حوالے سے کم ان کی نثری تصانیف اردو ادب کے گلیاروں میں زیادہ موضوع بحث رہی ہے۔ یقینا یہ مضمون قارئین کو مولانا آزاد کے اندر بیٹھے شاعر سے متعارف کراتا ہے، نیز ان کی شاعری میں کمالِ حسن کو منعکس بھی کرتا ہے۔ مضمون میں شامل مولانا آزاد کا ایک شعر دیکھیں اور ان کی شاعرانہ عظمت پر داد پیش کریں:
آزاد کو ہو اپنی تباہی کا کیا ملال
کس کو قیام ، ہستی ناپائیدار میں

رومانیت ایک کیفیتِ قلب ہے۔ اس سے انکار ، جھوٹی قسم اٹھانے کے مترادف ہے۔ ارض بنگالہ کے بدروہی کوی قاضی نذر الاسلام بنگال کے  ایسے مایہ ناز انقلابی شاعر ہیں کہ جن کی شاعری قافلہِ اہلِ جنوں کی راہنمائی صدیوں تک کرتی رہے گی لیکن نذر الاسلام کی شاعری میں محض انقلابی تیور ہی نہیں ہے بلکہ ان کی شاعری میں رومانیت ، بھرپور مقدار میں موجود ہے مگر اس جانب بہت کم توجہ دی گئی ، اکثر ان کی نظموں میں جارحانہ انقلابی نظریات کے بابت بات کی گئی ہے۔ تسلیم عارف کی محققانہ نظروں نے قاضی نذرل کی شاعری میں رومانیت کا پہلو ڈھونڈا ہے اور اُن کی شاعری سے، اُن کی رومانی شاعری کا انتخاب پیش کیا ہے۔ یہ بھی موصوف کا ایک خاصہ ہے کہ وہ اَن دیکھے ، اَن چھوئے موضوعات کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ جس دل جمعی کے ساتھ انہوں نے بدروہی کوی کی رومانی شاعری کا جائزہ لیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ شاعر خود عہد حاضر میں نمودار ہوکر اپنی شاعری کی تفسیر کر رہا ہے۔ طرزِ تحریر اور مواد کی فراہمی نے اس مضمون کو لاجواب کر دیا ہے۔

سجاد ظہیر کو میں ایک Era سمجھتا ہوں۔ ترقی پسند ادب و تحریک کے بانی نے ادب کو نہ صرف ایک نئی راہ دکھائی بلکہ خود اس پر تا حیات عمل پیرا بھی رہے، اردو ادب میں اُن کی گراں قدر تصنیفات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، ایک ہی وقت میں مختلف شعبہِ حیات میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ واضح ہو کہ ڈاکٹر تسلیم عارف  کے تھیسس کا موضوع ’سجاد ظہیر : حیات و خدمات‘ رہا ہے۔ سجاد ظہیر کا شعری مجموعہ ’پگھلا نیلم‘ نثری نظموں کا پہلا مجموعہ ہے۔ نثری نظموں پر غیر ضروری اعتراضات سے قطع نظر، جب آپ اُن کی نظموں کو پڑھیں گے تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اردو  کے مشہور و مقبول ناقد شمس الرحمٰن فاروقی نثری نظم کے حوالے سے ’شعر غیر شعر اور نثر‘ میں کہتے ہیں:
’’نثری نظم۔۔۔ میں شاعری کی پہلی پہچان موجود ہوتی ہے۔ شاعری کی جن نشانیوں کا ذکر میں بعد میں کروں گا ، یعنی ابہام، الفاظ کا جدلیاتی استعمال، نثری نظم ان سے بھی عاری نہیں ہوتی۔ اگرچہ رباعی کے چاروں مصرعے مختلف الوزن ہو سکتے ہیں لیکن اُن میں ایک ہم آہنگی ہوتی ہے ، جو التزام کا بدل ہوتی ہے۔ بعینہٖ یہی بات نثری نظم میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح نثری نظم میں شاعری کے دوسرے خواص کے ساتھ موزونیت بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے نثری نظم کہنا ایک طرح کا قول محال استعمال کرنا ہے، اسے نظم ہی کہنا چاہیے۔‘‘
مصنف نے سجاد ظہیر کی نظموں کا جائزہ نہایت دیانت داری سے لیا ہے اور اُن کی نظموں میں موجود زندگی کے مختلف شیڈز کو درشایا ہے، نظموں کے ان تجزیوں سے سجاد ظہیر کی شعری صلاحیتوں کا بخوبی پتا چلتا ہے اور نثری نظموں کے تعلق سے مغلط بحث کو بے معنی بھی کرتا ہے۔
ڈاکٹر تسلیم عارف نے اپنے اس مجموعے میں شعری اور نثری ، دونوں کی مختلف اصناف کو شامل کرکے اس مضموعی کو اسم بامسمیٰ بنا دیا ہے۔ جہاں انہوں نے شعری اصناف مثلاً نظم نگاری، غزل گوئی، مثنوی پر اپنی تنقیدی رائے پیش کی ہے ، وہیں نثری اصناف مثلاً افسانوں، ناولٹ، مونو گراف، مضامین اور افسانچوں کو بھی اپنی فکری بصیرت سے دیکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شاعروں کی نثری تخلیقات کو زیر بحث لا کر نہ صرف ان کے نثری کارناموں کو پردہِ خفا سے باہر نکالنے کی سعی کی ہے بلکہ قاری کو ایک نئے ذائقے سے متعارف کرایا ہے۔ مشہور و معروف شاعر جمیل مظہری کے ناولٹ ’شکست و فتح‘ کی عصری معنویت کو پیش کرنے سے پہلے انہوں نے ناول ، ناولٹ اور افسانے کے تعلق سے بہترین معلومات فراہم کی ہے اور مستند حوالے بھی پیش کئے ہیں ، جو ان کے بااستعداد محقق ہونے پر دال ہے۔ جمیل مظہری کے ناولٹ کو عصری مسائل کے سدباب کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کا موضوع عشقیہ ہے مگر اس عشقیہ کہانی میں بھی تہذیب کی تہہ داری ہے۔ مغربی تہذیب کی رو میں بہنے والے اذہان کو مشرقی تہذیب کی یاد دہانی ہے۔ زندگی انسان کو بگڑتے بگڑتے ایک ایسے موڑ پر لے کر چلی جاتی ہے ، جہاں سے بننے کی پھر شروعات ہو سکتی ہے۔ جب جاگے ، تب سویرا کے مترادف تہذیب سے بیگانے، تہذیب کے دلدادہ بن جاتے ہیں اور جذباتی غلطیوں کو سدھارنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مضمون کے آخر میں مصنف کا نقطہِ نظر بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہاں ان کا مشرقی تہذیب سے لگاؤ جھلکتا ہے اور یہی تہذیب ہمیں بطور انسان مکمل کرتی ہے۔ ترقی تہذیب کو روند کر حاصل نہیں کی جاتی کیونکہ ایسی ترقی حاصل کرنے سے غیر ترقی یافتہ ہونا قدرے بہتر ہے۔ موصوف جمیل مظہری کے ناولٹ کے عصری تقاضے کی روشنی میں سلیمہ کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ برِّصغیر کی تہذیب و ثقافت کے تقاضے کوپورا کرتا ہوا یہ کردار عصر حاضر کے چند ناول نگاروں کے لئے بھی ایک آئینہ ہے۔ شموئل احمد اورغضنفر ہمارے اہم ناول نگار ہیں لیکن ’کینچلی‘ جیسا ناولٹ تخلیق کرتے ہوئے غضنفر مذکورہ تہذیب و ثقافت کو بالائے طاق رکھ کر مینا جیسا کردار خلق کرتے ہیں جو شوہر کی معذوری کے عوض ببانگ دہل Extra Marital Affair جیسے قبیح نظریہ کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے، دوسری طرف شموئل احمد کی ’ندّی‘ میں ایک ذہین ریسرچ اسکالر خاتون اس لئے شوہر سے نبھا نہیں کرپاتی کہ شوہر مشرقی اُصولوں کا حد سے زیادہ پابند ہے۔ عصرحاضر میں تعلیم یافتہ خواتین کی ذہنی وسعت نظری کے تناظر میں سلیمہ کا کردار اس لئے زیادہ قابلِ قبول ہے کہ معاشرہ جتنا بھی ترقی یافتہ ہوجائے لیکن معاشرے میں ہر کنبے، ہر خاندان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس میں بکھرائو نہ ہو۔ آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کنبے اور خاندان کی سا  لمیت پر ہی منحصر ہے۔‘‘(تحدیث ادب، ص: ۹۸)

کلکتہ زندگی کی تصویر ہے، تہذیب و ثقافت کی نشانی ہے، ادب کا گہوارہ ہے، شاعروں ادیبوں کی سر زمین ہے۔ ہفت رنگوں سے سجا کلکتہ کا اسیر ہر وہ شخص ہے جس نے یہاں کبھی دن گزارا ہو، نثری ادب میں ایک اہم نام لطیف الرحمٰن کا ہے۔ اس مجموعے میں اُن کی ’مثنوی کلکتہ‘ کا جائزہ شامل ہے۔ یہ مضمون بھی الگ نوعیت کا ہے اور مثنوی کے فن پر سیر حاصل گفتگو بھی ملتی ہے۔

معتبر شاعر مظفر حنفی اردو شاعری میں ایک مستحکم مقام رکھتے ہیں ۔ ان کا میدان عمل شاعری ضرور رہا ہے مگر انہوں نے افسانوں کے تین مجموعے بھی اردو ادب کو دیئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں نظم و نثر تو اظہار کا ایک ذریعہ ہے ۔ دونوں اصناف کے اظہار میں سب سے اہم بات حساس دل کا ہونا ہوتا ہے۔ حساس دل ہی حقیقت پسند بھی ہوتا ہے اور حقیقت پسندی ، ترقی پسندی کی کل کائنات ہے۔ صاحبِ مجموعہ نے مظفر صاحب کے افسانوں کا معروضی جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے کو پڑھنے کے بعد قاری ’مظفر حنفی: بہ حیثیت افسانہ نگار‘ کے داخلی اور خارجی احساسات کو محسوس کر سکے گا۔

حسین الحق کے افسانے ماضی اور حال کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں اور مستقبل کی پیش گوئی بھی۔ موصوف نے ان کے افسانوں میں علامت، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی خصوصیات کے ساتھ اُن کے رومانوی افسانوں پر بسیط مضمون رقم کیا ہے۔ افسانوں کا یہ کارواں جب آگے بڑھتا ہے تو ایک توانا نسوانی آواز سماعتوں سے ٹکراتی ہے۔ ایک ایسی آواز جس میں بارش کی بوندوں سی چھم چھم بھی ہے اور پیڑ سے ٹوٹتی پھلدار ٹہنیوں کا کرب بھی ہے۔ افسانوں میں نسوانیت کا جو بلند آہنگ نور ظہیر کے افسانوں میں ملتا ہے ، اس کی مثال بہ مشکل ہی مل سکتی ہے۔ ان کا افسانوی مجموعہ’سیانی دیوانی ‘ اس بات کی وضاحت کو کافی ہے۔ اس مجموعے میں شامل ایک افسانہ ’بالوچری‘ جیسا افسانہ میں نے آج تک نہیں پڑھا ۔ وہ افسانہ ہے یا نشّہ، جادو یا کچھ اور ، معلوم نہیں مگر میرا یہ دعویٰ ہے کہ اس کی قرأت کے بعد گھنٹوں آپ اس افسانہ کے حصار سے باہر نہیں نکل سکتے۔ آج کے پُر آشوب دور میں نور ظہیر کے افسانے کس قدر اہم معلوم ہوتے ہیں ، صاحبِ کتاب نے کھل کر اس کا احاطہ کیا ہے۔ آج ملک میں جس طرح  فرقہ پرستی نے سر ابھارا ہے، اکیلا ’بالوچری‘ افسانہ اس کے مدمقابل پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس افسانے کی فہم کے لئے دل سینے میں ہو، طاق پر نہیں۔

ترقی پسند تحریک بلا شبہ اردو ادب کی سب سے مؤثر تحریک رہی ہے اور میری دانست میں دوسری تحریک نے مختلف زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں کو ایک ساتھ ، ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ اس کامیاب تحریک کے پیچھے ایک عظیم شخصیت سجاد ظہیر کی دن رات کی محنت تھی، ان کا جنون تھا، اُنہیں، اس تحریک سے بے پناہ محبت تھی۔کلکتے میں ترقی پسند تحریک کو بڑی مقبولیت ملی، شاعروں اور ادیبوں نے  ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اجتماع کلکتہ کا ، ترقی پسند تحریک کو رفتار اور سمت دینے میں نہایت اہم رول رہا ہے۔ موصوف نے اس اجتماع کے حوالے سے مفصل مضمون لکھا ہے۔

کلکتہ کو زندگی کے مختلف شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دینے میں افتخار حاصل ہے۔ یہ شہر ہی انقلابوں کا ہے۔ انقلاب کی نوعیت چاہے جس قسم کی ہو، مانو یہ سرزمین اس کی جنم داتا ہو ، جب ہم علم و ادب کی بات کرتے ہیں تو اس شہر نے وہ خدمات انجام دی ہیں کہ اُس کی دوسری مثال نہیں ملتی، صحافت کا سر چشمہ کلکتہ ، جہاںسے شائع ہونے والا ایک فراموش کردہ رسالہ اور ایک فراموش کردہ صحافی جناب محمد حنیف کی تسلیم عارف نے بازیافت کی ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں ماہنامہ ’رہبر صنعت و تجارت‘ کی اہمیت و افادیت پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ صرف ایک آدمی کی انتھک محنت نے ماہنامہ ’صنعت و تجارت‘ کو نوجوان نسل تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے سوال بھی قائم کیا ہے کہ آخر یہ رسالہ محققین کی نظروں سے کیسے اوجھل ہو گیا؟

معروف ترقی پسند ادیب، شاعر اور نقاد پروفیسر قمر رئیس کا سجاد ظہیر پر مونو گراف، سجاد ظہیر کے فن و شخصیت کو سمجھنے میں کسی دوسرے ذرائع کہ بہ نسبت زیادہ مناسب ہے۔ اوّل تو قمر صاحب نے سجاد ظہیر کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اُنہیں، ان کی معیت بھی حاصل رہی ہے ، دوسری یہ کہ انہوں نے اُن کی زندگی کے تقریباً ہر گوشے پر بات کی ہے۔ بہ حیثیت شاعر بھی انہوں نے ان کی نثری نظموں کے تعلق سے بے لاگ لکھا ہے۔ تسلیم عارف، سجاد ظہیر کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ گویا یہ مضمون سجاد شناسی کے لحاظ سے بڑی عرق ریزی سے لکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر دبیر احمد عصرِ رواں میں ایک مستحکم ادیب اور ناقد ہیں۔ ان کی تحریروں کی روانی اور اسلوب بلاشبہ منفرد ہے۔ موصوف نے ان کی کتاب ’متاع فکر و نظر‘ کے حوالے سے دبیر صاحب کی نثر نگاری کا عمیق مطالعہ پیش کیا ہے۔ تسلیم عارف ، دبیر احمد صاحب کی تنقید و تجزیے کے متعلق رقمطراز ہیں:
’’ دبیر احمد کے تنقید و تجزیے میں اعتدال و توازن ہے۔ بڑی چھان پھٹک کے بعد وہ اپنے لئے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں۔ اُن کے یہاں جو سب سے بڑی خوبی مجھے نظر آئی ، وہ یہ کہ موصوف اپنے اسلاف کی ادبی خدمات سے نئی نسل کو واقف کرانا چاہتے ہیں۔ ‘‘(تحدیثِ ادب، ص: ۱۷۴)
موجودہ عہد دور انتشار ہونے کے ساتھ ساتھ عدیم الفرصتی کا دور بھی ہے ، مصروفیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ کبھی کبھی انسان خود سے بھی کئی کئی دنوں بعد ملتا ہے۔ ایک جان اور ہزار کاج۔ اس مصروفیت نے انسانی  زندگی کے ہر شعبے میں بے شمار تبدیلیاں پیدا کردی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ادب ، جو زندگی کا ترجمان ہوتا ہے، اس میں تبدیلیاں نہ آئیں، لہٰذا وقت کی نبض پر انگلی رکھ کر ادب نے بھی اپنی رفتار بدل لی۔ ناولوں ، ڈراموں اور افسانوں کی جگہ افسانچوں نے بڑے شاہانہ انداز میں لے لیا۔ افسانچوں کی اپنی دنیا ہے، اپنا قاری ہے۔ اس افسانچوں کی دنیا میں ایک معتبر نام جاوید نہال حشمی کا ہے۔ ان کے افسانچوں کا مجموعہ ’کلائیڈوسکوپ‘ میں شامل افسانچے پر تسلیم عارف کا فنکارنہ جائزہ ملتا ہے۔ مضمون نگار نے عصر حاضر میں افسانچوں کی معنویت اور اہمیت کو بھی واضح کیا ہے اور افسانچوں کا ناقدانہ جائزہ بھی لیا ہے۔ جاوید نہال حشمی کے افسانچوں کے حوالے سے تسلیم عارف کی اس رائے سے کلی طور پر  اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ:
’’مجھے یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ جاوید نہال حشمی کے افسانچے قاری کوفکری طور پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ پڑھنے والا اپنے مزاج میں نہ صرف تبدیلی محسوس کرتا ہے بلکہ اس کا ذہن بیدار بھی ہوجاتا ہے۔عوامی مسائل اور سماج میں رونما ہونے والے واقعات کو جاوید نے بڑی خوبی سے افسانچوں کا جامہ پہنایا ہے۔ وہ مقدار سے زیادہ معیار پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور یہی توجہ انہیں اوروں سے ممیز کرتی ہے۔‘‘(تحدیثِ ادب، ص: ۱۸۷)
ڈاکٹر تسلیم عارف کی اس تصنیف کو ہر منصف دل تسلیم کرے گا، ان کے اس مجموعے کو میں ادب کا اثاثہ گردانتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کا یہ سفرِ جنوں جاری و ساری رہے اور ادب کے قارئین کو، اُن کی تحریر کے نت نئے گل و بوٹے دیکھنے کو ملتے رہیں۔ اس قوی امید کے ساتھ کہ اُن کے اِس مجموعے کو ادبی حلقے میں پسند بھی کیا جائے گا اور خوب پذیرائی بھی ملے گی۔

نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر ١٠/٩,گلی نمبر ٣
جگتدل ، 24 پرگنہ،(شمال)
مغربی بنگال

٭٭٭٭

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasNCPULادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو میں داخلہ لینے والے طلبا نتیشور کالج کو ترجیح دیں: کامران غنی صبا
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں