ایک آدمی ڈرا مے کو کامیاب نہیں بنا سکتا: عارف نقوی
شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں’’ ڈراما نگارسشیل کمار سنگھ سے ایک ملاقات ‘‘ پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ14؍جون2022
ڈراما سماج کی حدوں سے دور کی چیز ہے۔ اس میں نہ صرف حال کو بیان کیا جاتا ہے بلکہ ایک ڈرا ما نگار کی نظر مستقبل پر بھی ٹکی ہوتی ہے۔ آج نئی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ تھیٹر کرنا اور فلمیں بنانا پہلے سے آسان ہو گیا ہے۔ ہمیں اس فن کوزندہ رکھنا ہوگا۔
یہ الفاظ تھے معروف ڈرامانگار سشیل کمارکے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن (آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’ڈراما نگار سشیل کمار سنگھ سے ایک ملاقات‘‘ موضوع پراپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازمحمد شاکرنے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت علما پروین نے پیش کیا۔ اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وسفر نامہ نگار عارف نقوی(جرمنی) نے انجام دیے۔مہمانانِ خصوصی کے بطور معروف تھیٹر پروڈیوسر و ہدایت کار نیرج شرما اور بھارت بھوشن شرما(ڈائریکٹر،سوانگ شالا،میرٹھ) شریک ہوئے۔جب کہ مہمان مقررین کے بطور معروف ڈراما نگار سشیل کمار اورآیوسا کی صدر ڈاکٹر ریشماپروین، لکھنؤ نے شرکت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم،تعارف ڈاکٹر آصف علی،نظامت ڈاکٹر الکا وششٹھ اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دی۔
استقبالیہ کلمات اداکرتے ہوئے ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ سشیل کمار نے ڈراما نگاری کو جو عروج بخشا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔آپ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کا تحریر کردہ ڈراما’’ سنگھاسن خالی ہے‘‘کو تقریباً پانچ ہزار بار اسٹیج کیا جاچکا ہے۔اس کے علاوہ بھی آپ نے بہت سے ڈرا مے تخلیق کیے اور اسٹیج ڈرا مے کے فروغ میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ آج کے اس پروگرام کے ذریعے بڑے ڈراما نگاروں سے ہمارے طالب علم وابستہ ہوں گے۔ معروف ڈراما نگار سشیل کمار نے اپنی پوری زندگی ڈرا مے کے نام وقف کردی۔ ان کے علاوہ محترم عارف نقوی نے بھی بہت سے اچھے ڈرامے لکھے جن میں دور کے ڈھول، وغیرہ نے ڈرامے کی دنیا میں عارف نقوی کو منفرد پہچان دلائی۔بھارت بھوشن شرما نے بھی میرٹھ کے علاوہ پوری دنیا میں ڈرا مے کے ذریعے مقبولیت حاصل کی۔ اُپٹا اور سوانگ شالا کے ذریعے بھارت بھوشن شرمانے ڈرا مے کے میدان کو وسیع کیا ہے۔
مہمان خصوصی نیرج شر ما نے کہا کہ شعبۂ اردو اور سوانگ شالا کے ڈائریکٹر بھا رت بھوشن شرما نے جو MOU سائن کیا ہے وہ آج ہمیں بھلے ہی چھوٹی چیز محسوس ہو تی ہو لیکن آ نے والے وقت میں اس کی بڑی اہمیت ہو گی۔ آج ہم کو سشیل کمار کے تجربوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ان پر Ph.D.ہو نا چاہئے۔ عارف نقوی اور پروفیسراسلم جمشید پوری کی زبان میں جو مٹھاس ہے وہ سننے لائق ہے۔ نئے لوگ اپنے سینئر کا احترام کرنا سیکھیں اور ان کے تجربات سے مستفید ہوں۔ بھارت بھوشن شرما،سشیل کمار سنگھ، عارف نقوی، اسلم جمشید پوری جیسے لوگوں سے نئی نسل کو خوب سیکھنا چاہئے۔
بھارت بھوشن شرما نے کہا کہ سشیل کمار نے جتنا لکھا ہے وہ کمال ہے۔ ہم اس کو پڑھ کر یا سیکھ کر ہی اس میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں اور لگاتار سیکھ رہے ہیں۔ آپ کے ڈرا موں کو دیکھ کر ہی ہم میرٹھ یا میرٹھ سے با ہر بھی رنگ منچ کو آگے بڑھا نے کا کام کررہے ہیں۔ ہم چھوٹے شہر کے ضرور ہیں لیکن چھوٹے شہروں میں ٹیلنٹ کی بھرمار ہے اور ساتھ ہی چھوٹے شہر وں اور قصبات کے لوگ محنتی اور اپنے کام کے تئیں نہایت وفادار ہوتے ہیں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ خواہ چھوٹے شہر ہوں یا بڑے ،محنت ، لگن، ایمانداری اور سچے دل سے کام کریں گے تو یقینا ضرور کامیاب ہو ں گے۔
لکھنؤ سے آ یو سا کی صدر ڈا کٹر ریشما پروین نے کہاکہ آج کی یہ ادبی نشست بڑی کامیاب رہی اور سشیل کمار جیسے عظیم ڈراما نگار کو سننا واقعی بہت اچھا لگا۔مجھے یقین ہے کہ ایسے پروگراموں سے ہمارے طالب علم اور ادبی ذوق رکھنے والے ہمارے بہت سے دوست و احباب ضرور اس پرو گرام سے مستفیض ہوں گے۔ڈرامے کے تعلق سے جو نالج آج ہمیں یہاں معلوم ہو ئیں وہ واقعی قابل تعریف اور ہم سب کے لیے نہایت سود مند ہے۔ آج میں نے جو کچھ بھی سنا اس سے یہ ثا بت ہو جاتا ہے کہ ڈرا ما ایک جدو جہد کا نام ہے۔ بڑی مشکل سے ڈرامے کے کردار اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
جرمنی سے معروف ادیب عارف نقوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرا ما میں ہر ایک کردار کو ڈوب کر کام کرنا ہو تا ہے۔ ایک آدمی ڈرامے کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ آپ کے سامنے سماج کی زندگی، اپنی زندگی کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ ڈرا ما میں اپنے الفاظ سے سننے والوں کے دلوں میں بیٹھنا ہو تا ہے۔ ڈرا ما میں ہر اچھا ڈرا ما نگار اشا رہ کرتا ہے کہ سماج میں اگر غلطیاں ہو رہی ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے۔ آج ہتھیار بندی، جھگڑے فساد اور ہتھیاروں کو پیدا کرنے کی کہانی ہے۔
پرو گرام میں ڈاکٹر نگار عظیم،خورشید حیات،ڈاکٹر عرش منیر، علی محمد یوسف۔، ارشد اکرام، سعودی عرب، ڈاکٹر ولا جمال العسیلی، مصر،ڈاکٹر عبد الرزاق، ڈاکٹر عرفان عارف،غلام نبی کمار،انیس الرحمن، ڈا کٹر عامر نظیر ڈار، آصف ملک جلال پور، عظمیٰ پروین، منظور حسین، فیضان ظفر،محمد شمشاد، سعید احمد سہارنپوری، وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

