مشہور جرمن شاعر ” گوئٹے ” نے کامیاب شاعری کی چار خصوصیات بیان کی ہیں : – ( الف ) روانی و شیریں بیانی ( ب ) مضمون کی بلندی جس میں عامیانہ اسلوب کی آمیزش نہ ہو ( ج ) تخیل میں وسعت و گہرائی ( د ) جدت یعنی نیاپن
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ شاعری میں پیش کردہ کلام کے بارے میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ فصیح ہے یا نہیں ؟ فصاحت کے بعد کلام کو بلاغت کی میزان پر تولا جاتا ہے ۔ زبان کی فصاحت اور بیان کی بلاغت کے بعد ہی تنقیدی نقطۂ نظر سے دیگر شعری محاسن پر نظر کی جاتی ہے ۔ تخیل و محاکات ، تشبیہات و استعارات ، الفاظ و معانی کا تناسب ، صنائع و بدائع ، زورِ بیان ، سلاست و روانی ، صفائی و برجستگی ، دلکشی و شیریں بیانی اور اسلوب کی جدت و ندرت ، وہ اضافی خوبیاں ہیں جن سے کلام کی تزئین و آرائش اور حسن و دلکشی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ مطلق شعر اور ” شعرِ کامل ” میں وہی فرق ہے جو مومن اور ” مومنِ کامل ” میں ہے ۔ شاعری سے متعلق گوئٹے کا مذکورہ بالا نظریہ ” شعرِ کامل یا کامل شاعری ” کے بارے میں ہے ۔ بالفرض اگر کسی شعر یا کلام میں مضمون کی بلندی ، تخیل کی وسعت و گہرائی ، جدت و ندرت اور روانی و شیریں بیانی نہ بھی پائی تو ” برائے نام سہی ” اسے شاعری کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ ( بشرطیکہ اس میں شاعری کی دیگر بنیادی شرطیں پائی جاتی ہوں ) اور اگر شعر میں یہ مذکورہ خوبیاں پائی جائیں تو پھر کیا پوچھنا !! اس وقت شعر واقعی شعر ہوتا ہے اور شاعر کے بلند شعور و آگہی کا غماز کہلاتا ہے ۔
نازشِ فکر و قلم جناب فہیم بسمل شاہجہاں پوری ہمارے عہد کے نعتیہ منظر نامے پر اپنی اعلیٰ شاعری اور کامیاب نعت گوئی کی بدولت ممتاز حیثیت کے حامل ہیں ۔ ایک قادر الکلام شاعر ، عمدہ نثر نگار اور فصیح و بلیغ نعت گو شاعر کے طور پر ان کی ایک الگ پہچان ہے ۔ وہ دریائے فکر و فن کے کامیاب غوّاص اور بحرِ نعت کے بلند حوصلہ شناور ہیں ۔ شاہدِ فن اور عروسِ نعت کی تزئین و آرائش کے لیے انہوں نے اس بحرِ زخار سے بیش قیمت گوہرِ آب دار نکالے ہیں ۔ فصاحت و بلاغت ، لطافتِ خیال ، سادگی و صفائی ، متانت و سنجیدگی اور عشق و عقیدت کے ساتھ مافی الضمیر کی ادائیگی میں وہ والہانہ انداز اختیار کیا ہے کہ طبیعت مچل اٹھتی ہے ۔
فہیم بسمل کی فکر و شخصیت میں بڑی تہہ داری اور رنگا رنگی پائی جاتی ہے ۔ وہ بیک وقت ادیب و شاعر ، مصنف و محقق اور مدوّن و صحافی ہیں ۔ ادبی رسالہ سہ ماہی ” کاوش ” کے مدیر اعلیٰ ہیں ۔ گزشتہ ایک دہائی سے ان کا رہوارِ فکر و قلم ، ادب کے مختلف میدانوں میں برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ تذکرہ و سوانح ، تحقیق و تدوین ، تصنیف و تالیف اور ادبی صحافت ان کا خاص میدان ہے ۔ ان کے قلم کی جولانی نثر و نظم کے میدان میں مسلسل اپنا رنگ بکھیر رہی ہے ۔ مذہب اور نعتیہ ادب سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ معاصر نعت نگاروں میں ایک سب رنگ اور خوش فکر شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ اپنی ہمہ جہت علمی و ادبی خدمات کے باعث مختلف انعامات و اعزازات سے سرفراز ہو چکے ہیں ۔ مندرجہ کتب و رسائل ان کی علمی و ادبی و قلمی مہارت کے آئینہ دار ہیں :
1 – فضائے شہرِ دل ( شاہجہاں پور کے با حیات شعرا کا تذکرہ )
2 – سلسلے عقیدت کے ( حمد و نعت و منقبت کا مجموعہ )
3 – دوہا حمد و نعت ( دوہا حمد و نعت کا عالمی انتخاب )
4 – نئی روشنی ( نوجوان شعرا و شاعرات کا انتخاب )
5 – نظریات ( مجموعۂ مضامین )
6 – ذکر کچھ چراغوں کا ( شاہجہاں پور کے مرحوم شعرا کا شعری انتخاب )
7 – مدحتِ سرکار ( مجموعۂ حمد و نعت و سلام )
8 – حرفِ عقیدت ( نعتیہ مجموعۂ کلام )
ان کے علاوہ مختلف شعرا کی مندرجہ ذیل کتابیں ترتیب دے کر قابلِ قدر علمی و ادبی کارنامے انجام دے چکے ہیں :
دھڑکن ، اجالے ، وسیلہ ، باقیاتِ سحر ، رفعتِ خیال ، نغمہ و نور ، اک شخص گھنیری چھاؤں سا ، رُتیں بدل گئیں ۔
زیر طبع کتابیں :
( 1 ) آنچ دیتی چاندنی { غزلوں کا مجموعہ }
( 2 ) شاہ جہاں پور میں نعت گوئی کی روایت { تحقیقی مقالہ }
فہیم بسمل نعت گوئی کے حوالے سے اسم با مسمیٰ واقع ہوئے ہیں ۔ وہ نعت گوئی کا گہرا فہم و شعور رکھتے ہیں اور اپنے ممدوح جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کے عشق میں مرغِ بسمل کی طرح تڑپتے ہیں ۔ جذبات کا خلوص ، والہانہ انداز ، سرمستانہ اسلوب اور مچلتے جذبات و احساسات کا محتاط اظہار ان کی نعتوں کی زیریں رَو میں پنہاں نظر آتا ہے ، جو قارئین کو مسحور کیے بغیر نہیں رہتا ۔ ان کے نعتیہ کلام میں تخیل کی بلند پروازی اور جدت و ندرت نہ سہی ، لیکن عشق و عقیدت ، سوز و گداز اور شیریں بیانی بہر حال موجود ہے اور یہی ان کی کامیاب شاعری کی روشن دلیل ہے ۔ ایک سچے عاشقِ رسول کی درد بھری آواز اور عشق و عقیدت کے شبنمی دھاگوں میں پروئے ہوئے یہ دلکش اشعار ملاحظہ کریں :
دعا میری بابِ اثر ڈھونڈتی ہے
مدینے کو میری نظر ڈھونڈتی ہے
تڑپ اپنے دل کی مٹانے کی خاطر
جبیں آپ کا سنگِ در ڈھونڈتی ہے
ادا ہو جہاں سجدۂ عشق اپنا
نظر وہ درِ معتبر ڈھونڈتی ہے
تری نعت لکھوں میں سایے میں جس کے
مری فکر ایسا شجر ڈھونڈتی ہے
اڑا کر جو لے جائیں شہرِ مدینہ
تمنا وہی بال و پر ڈھونڈتی ہے
مہ و مہر کی روشنی روز بسمل
کفِ پائے خیر البشر ڈھونڈتی ہے
پا کیز گیِ نفس ہمیشہ تلاش کر
سانسوں میں نعت گوئی کا جذبہ تلاش کر
دل میں خیال آئے جو وصفِ رسول کا
ہر ایک لفظ مثلِ نگینہ تلاش کر
تو چاہے کامیابی جو دونوں جہان میں
عشقِ حبیبِ رب کا قرینہ تلاش کر
جو مالا مال کر دے ترے قلب و ذہن کو
یادِ نبی کا ایسا دفینہ تلاش کر
عشق و عقیدت اور والہانہ و سرمستانہ اسلوب کے علاوہ فہیم بسمل کو صنفِ نعت سے بے پناہ لگاؤ اور حد درجہ قلبی وابستگی ہے ۔ وہ نظم و نثر دونوں میدان میں نعتیہ ادب کی ترویج و اشاعت میں سر گرمِ عمل ہیں ۔ شعر و سخن کی طہارت اور شعور و وجدان کی پاکیزگی کے لیے وہ حمد و نعت اور منقبت کو ضروری قرار دیتے ہیں اور اس بات کا بر ملا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے فکر و فن میں پاکیزگی انہیں تقدس مآب صنفوں کی بدولت ہے ۔
نعتیں کہنا ، نعتیں پڑھنا بسمل میرا شغل ہوا
عشقِ نبی نے میرے دل پر جب سے جمایا اپنا رنگ
فکر پاکیزہ ہوئی جب سے چلا ہے قلم
حمد و نعت و منقبت کی شاعری کی طرف
مندرجہ ذیل اشعار فہیم بسمل کی نعتیہ شاعری کی تفہیم میں خضرِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
پاکیز گیِ نفس ہمیشہ تلاش کر
سانسوں میں نعت گوئی کا جذبہ تلاش کر
الہٰی نعتِ سرور کے کھِلا دے پھول تو اس میں
ہماری فکر کا گلشن بھی اب شاداب ہو جائے
مائلِ پرواز جب پنچھی ہو تیری فکر کا
دل کا رشتہ اس گھڑی نعتِ شہِ بطحا سے جوڑ
کوئی بھی فکر یا خیال نیا نہیں ہوتا ، بلکہ اسلوب کی دلکشی اس کو نیا بناتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علمائے بلاغت نے الفاظ کو معانی پر ترجیح دی ہے ۔ کیوں کہ معنیٰ ، موضوع اور خیال عام طور سے قدیم ، پارینہ اور فرسودہ ہوتا ہے ، لیکن فنکار اس کو محض خوب صورت الفاظ و اسلوب کا جامہ پہنا کر نیا کر دیتا ہے ۔ ادبیت سے مالا مال شعری تخلیق ( خواہ اس کا تعلق کسی بھی صنف سے ہو ) میں موضوع کے ساتھ موضوع کی پیشکش اور اس کو برتنے کا سلیقہ کافی اہم ہوا کرتا ہے ، جس کو ” اندازِ بیان ” یا ” اسلوب ” کا نام دیا جاتا ہے ۔ دیگر اصنافِ سخن کی طرح موجودہ نعتیہ شاعری میں جو خیالات و موضوعات عموماً پیش کیے جاتے ہیں ، وہ اگر چہ قدیم ہوا کرتے ہیں ، لیکن دیگر ادبی و فنی محاسن کے سبب نعتیہ شاعری اس لائق ہے کہ اسے تحقیق و ریسرچ کا موضوع بنایا جائے اور اس کی ادبی و صنفی حیثیت متعین کی جائے ۔ بہر کیف ! شعری و نثری تخلیق میں اگر چہ موضوع کی اہمیت مسلم ہے ، تاہم اسلوب کی اہمیت و افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی صراحت کے مطابق ” اسلوب فنکار کی شخصی قوتوں ، اس کی تخئیلی ندرتوں اور فنی مہارتوں کے سہارے ظہور پذیر ہوتا ہے اور یہی اسلوب کسی تخلیق کو ادنیٰ و اعلیٰ ، وقتی و دائمی یا صحافتی و ادبی مرتبوں پر فائز کرتا ہے ۔ یقیناً بعض موضوعات اہم ، بعض کم اہم اور بعض اہم تر ہوتے ہیں ۔ شاعری میں ان کی اہمیت کا انحصار عام طور پر دلکش فنی اسلوب پر ہوتا ہے ۔ کبھی اہم تر موضوعات شعر میں جگہ پا کر غیر اہم بن جاتے ہیں اور کبھی معمولی موضوعات اہم ترین محسوس ہونے لگتے ہیں ۔ یہ کیوں کر ہوتا ہے ؟ اس کا جواب چنداں مشکل نہیں ہے ۔ فنکار کی خوش ذوقی ، فنی مہارت ، بالغ نظری ، جمالیاتی احساس ، روایات کا پاس ، مشاہدات و تجربات کا تنوع ، قادر الکلامی اور ندرتِ فکر و خیال ایسی چیزیں ہیں ، جن کی بدولت ایک کم اہم موضوع شاعری میں اہم بن جاتا ہے ۔ لیکن اس سلسلے میں جو چیز اہم ترین خیال کیے جانے کے لائق ہے ، وہ شاعر کی ” جذباتی صداقت ” ہے ۔ جذباتی صداقت سے مراد فنکار کا اپنے موضوع سے وہ گہرا لگاؤ اور عقیدہ و اخلاص ہے جو اسے کسی موضوع کو شعر کا قالب دینے پر مجبور کرتا ہے ” ۔
( اردو غزل ، نعت اور مثنوی ؛ ص : 270 – 271 ؛ ناشر : الوقار پبلیکیشنز ؛ لاہور )
فہیم بسمل کے یہاں نعت گوئی کا محتاط رویہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ وہ اپنے پاکیزہ خیالات اور مچلتے جذبات کا اظہار عقیدت میں ڈوب کر بڑی سادگی و صفائی کے ساتھ کرتے ہیں ۔ متین لہجہ ، شائستہ اسلوب ، عام اندازِ بیان اور سب سے بڑھ کر جذباتی صداقت ( جذبات کی سچائی ) ان کی نعتیہ شاعری کے حقیقی خد و خال ہیں ۔ البتہ بعض مقامات پر روایت و جدت کی ہم رکابی بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔
وادیِ دل کو جو تم رکھنا منور چاہو
اپنی نسبت کو مدینے سے جڑا رہنے دو
عشق کی روشنی ہر سمت جہاں میں پھیلے
اپنے افکار میں طیبہ کی ضیا رہنے دو
دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت رکھ کر
سر کو دربارِ الہٰی میں جھکا رہنے دو
درِ آقا کو میں پلکوں سے بُہاروں اپنی
کام یہ میری عقیدت کو روا رہنے دو
( 1 ) وادیِ دل اور قریۂ جاں کی تنویر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کا نور ضروری ہے ۔
( 2 ) جب طاقِ فکر و خیال میں شمعِ طیبہ ضو فشاں ہو گی تو لا محالہ اس کا اثر ذات سے کائنات تک منتقل ہوگا اور نتیجتاً کائنات میں ہر طرف عشقِ حقیقی کا اجالا پھیلے گا اور انفس و آفاق کی دنیا میں عشقِ شہِ بطحا کا بول بالا ہوگا ۔
( 3 ) عبادتِ الہٰی کی صحت ایمان پر موقوف ہے اور ایمان نام ہے صدق دل سے کلمۂ طیبہ ( توحید و رسالت ) کے اقرار کا ۔ عبادتِ الہٰی کے لیے الفتِ رسالت پناہی ضروری ہے ۔
( 4 ) مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے درِ اقدس کو پلکوں سے بُہارنا یا اس کی تمنا کرنا ، عشق و عقیدت کا فکری و عملی اظہار ہے ۔
یہ چاروں باتیں نعتیہ شاعری کے عام موضوعات ہیں ۔ لیکن شاعر نے جس اچھوتے اسلوب اور والہانہ انداز میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے ، ہم ان کو روایت و جدت کا حسنِ امتزاج اور شائستگی و شیریں بیانی کا نمونہ قرار دے سکتے ہیں ۔
علاوہ ازیں مندرجہ ذیل اشعار میں رفعتِ خیال کے ساتھ حسنِ تشبیہ ، لطفِ استعارہ اور جدتِ اسلوب قارئین کو مسحور کرتی ہے :
ان کی یادوں کی شمعیں جلیں رات بھر
سر پٹکتی رہیں ظلمتیں رات بھر
” زلفِ و اللیل ” کا ذکر ہوتا رہا
رقص کرتی رہیں نکہتیں رات بھر
نام شاہِ مدینہ کا رٹتا رہا
میری سانسیں مہکتی رہیں رات بھر
ثانی ہے جس کا کوئی نہ کوئی جواب ہے
آنگن میں آمنہ کے گھِلا وہ گلاب ہے
بسمل شاہجہاں پوری کی نعتیہ شاعری میں روایت و جدت کا ایک خوب صورت اور کیف آگیں امتزاج پایا جاتا ہے ۔ روایتی اسلوب کی پاس داری کے با وجود ان کے طائرِ فکر و تخیل نے شاخِ درایت پر بھی آشیاں بنانے کی کوشش کی ہے ۔ موصوف نے جہاں روایتی انداز میں شعر و سخن کے پیکر تراشے ہیں ، وہیں منفرد ردائف و قوافی کا سہارا لے کر جدت و ندرت کی مینا کاری بھی کی ہے اور اس طرح ان کی نعتیہ شاعری کامیابی اور حسن و دلکشی کا مرقع بن گئی ہے ۔
ربط ضبط ، نیند ، سورج اور چراغ جیسی منفرد پر ان کی شاعری کے نمونے پیشِ خدمت ہیں :
دارا سے کچھ غرض نہ سکندر سے ربط ضبط
دل کا ہے صرف شافعِ محشر سے ربط ضبط
بسمل خیال و فکر میں رعنائی آ گئی
جب سے ہوا ہے مدحِ پیمبر سے ربط ضبط
جب تصور میں شہِ دیں کے مجھے آتی ہے نیند
خواب میں شہرِ مدینہ مجھ کو دکھلاتی ہے نیند
شوق کہتا ہے کہ اے دل اڑ کے چل سوئے حرم
ہجر کی شب جب مری آنکھوں سے اڑ جاتی ہے نیند
جلیں گے طیبہ میں جب میری حاضری کے چراغ
کریں گے دل کو منور نئی خوشی کے چراغ
جلیں گے دل میں جو عشقِ محمدی کے چراغ
بجھیں گے پھر تو یقیناً ہی گمرہی کے چراغ
ان کی مدحت کے جب اُگے سورج
سارے الفاظ بن گئے سورج
جلوہ شمس الضحیٰ کا جب بکھرا
ڈوبے لات و منات کے سورج
تضمین یا گرہ لگانے کا فن ، اردو شاعری میں زمانۂ قدیم سے رائج ہے ۔ خواجہ الطاف حسین حالی کے بعد اس طرزِ سخن کا با ضابطہ آغاز ہوا ۔ غالب کے متعدد تلامذہ نے اس کارواں کو آگے بڑھایا ۔ بعد ازاں صبا اکبر آبادی ، امیر مینائی ، داغ دہلوی اور ڈاکٹر اقبال جیسے مشاہیرِ شعر و سخن نے تضمین نگاری کے فن کو عروج و استحکام بخشا ۔ تضمین نگاری کی مختلف شکلیں اردو شاعری میں رائج ہیں ۔ لیکن بالعموم ” مخمس ” کی شکل میں تضمینیں لکھی جاتی ہیں ۔ یہ نہایت مشکل اور دشوار فن ہے ۔ اس کو کما حقہ برتنے کے لیے سخت محنت ، ادبی ریاضت اور فنی مہارت کی ضرورت ہے ۔ زیرِ تضمین شعر یا کلام کی گہرائی میں اتر کر شاعر کے خیال و اسلوب کی پیروی کرتے ہوئے اس کے تمام مصرعوں کو ایک وحدت میں تبدیل کر دینا اور ایک شعر میں ہے در پے تین ہم قافیہ مصرعے موزوں کرنا ، کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ اس کی صعوبتوں کا وہی اندازہ لگا سکتا ہے ، جس نے اس دشت کی سیاحی کی ہو ۔ رفعت سروش کے بقول : ” تضمین ایک مشکل فن ہے ۔ تضمین کار کا صاحبِ فکر و فن اور کہنہ مشق ہونا بہت ضروری ہے ۔ اس لیے اردو میں بہت کم شعرا نے اچھی تضمینیں کہی ہیں ۔ یہ فن قدیم اصناف میں سے ہے ” ۔
( فن تضمین نگاری : تنقید و تجزیہ ، ص : 24 ، ناشر : جے . ڈی . پبلیکیشن ، غازی آباد )
فہیم بسمل جیسے عظیم فنکار اور قادر الکلام شاعر اس صنف میں بھلا کیسے پیچھے رہ سکتے تھے ۔ انہوں نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی اور تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خان ازہری علیھما الرحمہ کے کلامِ بلاغت نظام کی بڑی کامیاب تضمین لکھی ہے ، جو فصاحت و بلاغت ، عشق و عقیدت اور زبان و بیان کے حسن و لطف کا ایک دلکش مرقع ہے ۔
تضمین بر کلام اعلیٰ حضرت رضا بریلوی :
ان کے کرم نے دل سے سب غم مٹا دیے ہیں
ان کی ضیا نے رستے سب جگمگا دیے ہیں
لطف و عطا کے موتی ہر سو لٹا دیے ہیں
” ان کی مہک نے دل کے غنچے کھِلا دیے ہیں
جس راہ چل دیے ہیں کوچے بسا دیے ہیں ”
لطف و کرم کا ان کے انداز ہے انوکھا
کونین میں نہیں ہے کوئی بھی ان کے جیسا
منگتا ہو کوئی مفلس یا تخت و تاج والا
” میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہا دیے ہیں ، دُر بے بہا دیے ہیں ”
تضمین بر کلامِ حضرت تاج الشریعہ اختر بریلوی :
اجالا دل کی وادی میں شہِ بدر الدجیٰ کر دیں
بہ نامِ گنبدِ خضریٰ عطا ایسی ضیا کر دیں
لعابِ پاک کو اقا مرے حق میں دوا کر دیں
” منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کر دیں
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلفِ دوتا کر دیں ”
نہ کوئی سدھ رہے اپنی انہیں کے زمزمے گاؤں
خوشی حاصل ہو روحانی میں شیدا ان کا کہلاؤں
مدینے میں جو مرجاؤ حیاتِ دائمی پاؤں
” گلِ طیبہ میں مِل جاؤں ، گلوں میں مل کے کھِل جاؤں
حیاتِ جاودانی سے مجھے یوں آشنا کر دیں ”
دوہا جس کو ” دوہرا ” اور ” دو پد ” بھی کہا جاتا ہے ، ہندی شاعری کی مقبول ترین صنف ہے جو قدیم زمانے سے اردو شاعری میں مروج و مستعمل ہے ۔ دکن کے صوفی شعرا نے اس کا آغاز کیا ۔ حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری ، حضرت امیر خسرو ، حضرت بو علی شاہ قلندر پانی پتی اور میراں جی شمس العشاق علیہم الرحمہ نے اس صنف عروج و استحکام بخشا ۔ دوہا کے دونوں مصرعے مقفیٰ ہوتے ہیں ، یعنی دوہا دو ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ ہر مصرعے میں چوبیس ( 24 ) ماترائیں ہوتی ہیں اور ہر مصرعے کے دوحصے ہوتے ہیں ، پہلے حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں ہوتی ہیں ۔ معنوی اعتبار سے اس کے دونوں مصرعے مکمل ہوتے ہیں ۔ اس میں ردیف کی پابندی ضروری نہیں ، لیکن قافیے کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے ۔ اس صنف میں بالعموم سادہ طرزِ بیان اور سنجیدہ لب و لہجہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ فعلن فعلن فاعلن فعلن فعلن فع/ فاع اس کا وزن ہے ۔
فہیم بسمل کی شعری کائنات نوع بہ نوع اصناف کے پھولوں سے مزین ہے ۔ حمد و نعت ، غزل و منقبت ، قطعہ ، رباعی ، گیت ، دوہا جیسی اصناف پر قدرت رکھتے ہیں ۔ موصوف ان اصناف کے تکنیکی اصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں اور بڑے فنکارانہ انداز میں شعر و سخن کے پیکر تراشتے ہیں ۔ زیر مطالعہ نعتیہ مجموعہ ” حرفِ عقیدت ” میں حمد و نعت کے علاوہ انہوں نے ” حمدیہ و نعتیہ دوہے ” بھی لکھے ہیں ، جو کمیت کے لحاظ سے اگر چہ مختصر ہیں ، لیکن کیفیت کے اعتبار سے جامع ہیں ۔ ” نعتیہ دوہا ” کے علاوہ ” نعتیہ گیت ” بھی ان کے فلک پیما فکر و فن کے طرب انگیز اور روح پرور گوشے ہیں ۔ نشاط و الم کے پر جوش جذبات کی مخصوص کیفیت کو چند مناسب الفاظ میں ترنّم کے سہارے بیان کرنے کو ” گیت ” کہا جاتا ہے ۔ نمونے کے طور پر چند اشعار نذرِ قارئین ہیں :
دوہا حمد و مناجات :
کرتا ہوں میں ابتدا ، لے کر تیرا نام
یا رب تیرے نام سے ، بنتے ہیں سب کام
مالک ہے سنسار کا ، ہے تو ہی معبود
بیشک یا رب ہے تیری ، قدرت لا محدود
دوہا نعت :
( الف )
پیارے نبی کی شان میں ، مدحت کے کلمات
میں اور وصفِ مصطفیٰ ، میری کیا اوقات
بعدِ رب کونین میں اعلیٰ ان کی ذات
ان کا دامن تھام لو ، پا جاؤگے نجات
( ب )
صلِ علیٰ کی چار سو ، گونجی جے جے کار
اس دنیا میں آئے جب ، نبیوں کے سردار
ان کا اک اک قول ہے ، قرآں کی تفسیر
رب کے وہ محبوب ہیں ، وہ ہیں بدرِ منیر
دوہا نعتیہ گیت :
لمحہ لمحہ نور کی ، ہوتی ہے برسات
شرط نہیں اوقات کی ، دن ہو یا ہو رات
ایسے مقدس شہر میں ، مچلے ہیں جذبات
پیاری جہاں کی دھوپ ہے ، ٹھنڈی جہاں کی چھاؤں
کتنا حسین و خوشنما ، پیارے نبی کا گاؤں
شاعری خواہ کسی بھی صنفِ سخن سے تعلق رکھتی ہو ، اس میں مذہبی موضوعات کو شامل کرنا ، نہ رجعت پسندی ہے اور نہ غیر شاعرانہ طرزِ عمل ۔ شاعری ، ادب کا ایک مضبوط اور روح پرور شعبہ ہے ۔ ادب کا کام تفریحِ طبع و انبساطِ قلب کے ساتھ تہذیب و شائستگی کو فروغ دینا ہے ۔ لہٰذا شاعری میں مذہبی موضوعات اور اخلاقی تعلیمات کی پیش کش ، ادب کا تقاضا بھی ہے ، شاعری کا حسن بھی اور روحانی قدروں کا فروغ بھی ۔ اسے رجعت پسندی کا نام دینا سراسر ظلم و زیادتی اور مذہب بیزاری کی علامت ہے ۔ غزل ہو یا قصیدہ ، مثنوی ہو یا نعت و مرثیہ ، شاعری کے جملہ انواع و اقسام میں مذہبی موضوعات اور اسلام کی حیات بخش تعلیمات کا ہمیں اظہار بر ملا کرنا چاہیے ۔ شاعری میں مذہبی موضوعات شامل نہ کرنے کی وکالت کرنے والوں کو ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ” نام نہاد ” اور ان کے اس مذہب بیزار موقف کو ” خام خیالی ” سے تعبیر کیا ہے ۔ تفصیل کے لیے ان کی کتاب ” اردو کی نعتیہ شاعری ، ص : 27 ، ناشر : حلقۂ نگار و نیاز ، کراچی ، کا مطالعہ کریں ۔
جناب فہیم بسمل نے اپنی نعت گوئی میں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و کمالات اور اوصاف و خصوصیات والہانہ انداز میں بیان کیے ہیں ، وہاں آپ کی انقلاب آفریں تعلیمات سے بھی اہلِ ایمان کو آگاہ کیا ہے اور جا بجا سیرتِ طیبہ و عشقِ شہِ بطحا سے رشتہ جوڑنے کی تلقین کی ہے ۔ موصوف کی نعتیہ شاعری کا یہ پہلو بھی اپنے اندر بڑی اہمیت و معنویت رکھتا ہے ۔ اشعار ملاحظہ کریں :
تو اجالے چاہتا ہے وادیِ دل میں اگر
سلسلہ فکر و نظر کا گنبدِ خضریٰ سے جوڑ
زندگی کا لمحہ لمحہ سیرتِ آقا سے جوڑ
دیکھ لی ہے خوب دنیا ، خود کو اب عقبیٰ سے جوڑ
یقیں ہے داغِ عصیاں سارے دھل جائیں گے اے بسمل
ندامت کا رواں آنکھوں سے گر سیلاب ہو جائے
جو اپنا لے حیاتِ طیّبہ سرکار کی یارو
مرا دعویٰ ہے وہ اک گوہرِ نایاب ہو جائے
تم یتیم بچوں کی ہر طرح مدد کرنا
یوں بھی تو ادا بسمل سنتِ نبی ہوگی
مٹا دوں جہاں سے میں ہر اک برائی
مجھے میرے رب ایسی ہمت عطا کر
تو چاہے کامیابی جو دونوں جہان میں
عشقِ حبیبِ رب کا قرینہ تلاش کر
پڑھنا درودِ پاک بھی لازم ہے دوستو
محفل میں نعتِ پاک کے اشعار سے پہلے
نعت گوئی کے لیے فکری و فنی ہنر مندیوں کے ساتھ سلیقۂ گفتار و قرینۂ اظہار ضروری ہے ۔ فہیم بسمل صاحب بلا مبالغہ ان اوصاف سے متصف ہیں ۔ موضوع کی مناسبت سے کون سا پیرایۂ بیان اور کون سا قرینۂ اظہار اختیار کرنا ہے ، اس تکنیک سے وہ خوب واقف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیہ شاعری سے فکر و فن کی پختگی اور عشق و عقیدت کی دل آویزی صاف طور پر مترشح ہو تی ہے ۔ ان کا نعتیہ کلام ، شعر و سخن کے لفظی و معنوی محاسن سے آراستہ ہے ، جس میں فصاحت و بلاغت ، زورِ بیان ، سنجیدہ و متین لہجہ ، سلاست و روانی ، سادگی و صفائی ، ربودگی و شیفتگی ، روایت و درایت کا امتزاج ، لطفِ محاورہ ، حسنِ تشبیہ و استعارہ ، روز مرہ کی پابندی اور محاورات کا فنکارانہ استعمال خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں ۔ مندرجہ ذیل اشعار کا بغور مطالعہ کر کے آپ ان خوبیوں کا نظارہ کر سکتے ہیں :
ازل سے جن کی صحیفوں میں بات روشن ہے
انہیں کے جلوؤں سے یہ کائنات روشن ہے
لحد میری بنے گی مثلِ جنت میرا ایماں ہے
نبی کے عشق کی گردن میں تختی باندھ رکھی ہے
روضے کے ارد گرد پرندوں کے چہچہے
لگتا ہے اک گروہِ نقیبانِ نعت ہے
عقبیٰ کے اس سفر کو فضا مشک بار دو
پڑھ کر نبی کی نعت لحد میں اتار دو
آقا مجھے بلا کے مدینے میں ایک دن
بکھرے ہیں جو حیات کے گیسو سنوار دو
اک کیف سا سمایا مرے تن بدن میں ہے
تو جب سے جلوہ بار مری انجمن میں ہے
اے مری فکرِ سخن حدِ ادب میں رہنا
کوئی آسان نہیں مدحتِ سرکار کا کام
چہرہ اسی کا ہم کو بہت پُر ضیا ملا
قدموں سے جو رسول کا لپٹا ہوا ملا
لیے ہوئے ہے ضیا اس قدر چراغِ حرا
ہوا ہے رہبرِ راہِ سفر چراغِ حرا
نہ جاتے کتنے ہی گھر تو نے جگمگائے ہیں
اُجال دے کبھی میرا بھی گھر چراغِ حرا
چمک اٹھیں گی مری زندگی کی قندیلیں
جو اپنے رخ کو تو کر لے ادھر چراغِ حرا
مری طلب کا تقاضا یہی ہے اے بسمل
دل و نظر میں رہے عمر بھر چراغِ حرا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

