فاروقی صاحب سے پہلی بھرپور ملاقات -مالک اشتر
فرض کیجئے نامور سنگھ نے اردو کے کسی ادیب سے گھنٹوں بات کی ہوتی، منزل بہ منزل اپنے تخلیقی سفر پر مفصل گفتگو کرتے اور اپنے تخلیقی عمل کے بارے میں بہت سے امور کی پہلی بار نشاندہی فرماتے۔ پھر یہ ساری گفتگو اردو میں کتابی صورت میں شائع ہوکر رہ جاتی اور ہندی میں نہ آتی۔ سوچ کر بتائیے کہ ہندی والوں کے لئے یہ امر کتنی پشیمانی اور علمی خسارے سے بھرا ہوتا؟ اب داد دیجئے میرے دوست رضوان الدین فاروقی کو جنہوں نے اردو والوں کو ایسے ہی علمی خسارے اور پشیمانی سے بچا لیا۔ ہندی کے مشہور شاعر اور ادیب ادین واجپئی تو اردو کے ممتاز ترین نقاد اور ادیب شمس الرحمان فاروقی سے کی گئی بات چیت کو ‘اپنیاس کار کا سفرنامہ’ عنوان سے کتابی صورت دے چکے تھے۔ ہندی والے اس کتاب کی مدد سے اردو کے سب سے بڑے نقاد کے تخلیقی سفر سے آشنا بھی ہو رہے تھے، لیکن خود اردو والے اس سے محروم یا بے خبر تھے۔ اب یہاں تین لوگ قابل مبارکباد ٹھہرتے ہیں۔ ادین واجپئی اور اشعر نجمی کہ جنہوں نے اس کتاب کو اردو کا لباس پہنائے جانے کی ضرورت سمجھی اور تیسرے رضوان الدین فاروقی جنہوں نے اس کام کو بڑی تیزی اور سلیقے سے کر بھی ڈالا۔ 136 صفحات کی اس کتاب میں کچھ تو تھا کہ میں دفتری مصروفیات سے ادھ مرا ہونے کے باجود دو بیٹھکوں میں اسے نمٹا گیا۔
اس کتاب میں درج سوال و جواب پر آنے سے پہلے مجھے دو ایک باتیں رضوان الدین فاروقی کے بارے میں کرنی ہیں۔ ان صاحب سے میری ملاقات فیس بک پر ہوئی۔ منتخب اشعار، اہل قلم پر تعارفی نوٹ اور کتابوں پر جامع تبصرے دیکھ کر ان کے ادبی ذوق پر رشک آتا رہا۔ دلی میں بین الاقوامی غالب سمینار اور جشن ریختہ میں ان سے ملنے کا موقع ملا تو خوش اخلاقی اور انکساری نے دل میں اور جگہ گھیر لی۔ اشعر نجمی نے اپنے رسالے ‘اثبات’ کے معاون مدیر کے طور پر انہیں منتخب کیا تو اس محاذ پر بھی انہوں نے ہم جیسے قارئین کو متاثر ہی کیا، لیکن اب یہ کتاب ‘ایک فکشن نگار کا سفر’ مجھے ایک اور کیفیت میں ڈال رہی ہے۔ رضوان الدین فاروقی کے اندر ترجمے کی ایسی اچھی صلاحیتیں دیکھ کر اندازہ لگانا دشوار ہے کہ اس نوجوان میں ابھی اور کون کون سے علمی کمالات چھپے ہوئے ہوں گے؟۔ ایک نشریاتی ادارے میں ایڈیٹر کے طور پر مجھے انگریزی، ہندی اور اردو میں ترجمے کرنے کرانے سے بھی واسطہ رہا ہے۔ اب یوں تو کسی سپاٹ متن کو بھی دوسری زبان میں سلیقہ سے منتقل کر دینا، ہنرمندی کا متقاضی ہوتا ہے چہ جائیکہ کسی گہری علمی گفتگو کے ساتھ یہ عمل کیا جائے۔ رضوان الدین فاروقی نے ہمارے عہد کے دو روشن دماغوں کی گفتگو کا صاف ستھرا اور بھرپور ترجمہ کرکے بہت سوں کو اپنا رقیب بنا لیا ہے۔
اب اس کتاب کے ترجمے کے باب میں ایک اور خوبی دیکھئے، جس کی نشاندہی ہمارے عہد کے فکشن کا تعارف بن چکے خالد جاوید نے کتاب کی تقریظ میں کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ فاروقی صاحب نے اصل گفتگو اردو میں کی تھی جس کا ہندی ترجمہ کتابی شکل میں سامنے آٰیا تھا۔ ایسے میں پوری گفتگو کو پھر سے اردو میں منتقل کرنا آسان نہیں تھا۔ یہاں دو باتیں کام کو مزید مشکل کر رہی تھیں۔ پہلی یہ کہ گفتگو ایک ایسی فرد کی تھی جس کو پڑھ اور سن کر لوگ ادیب اور شاعر بنتے رہے ہیں۔ دوسری مشکل یہ تھی کہ اصل گفتگو کا کوئی متن موجود نہیں تھا جس سے ترجمہ کو ملا کر دیکھا جا سکے۔ ایسی ’بادھا دوڑ‘ کو رضوان الدین فاروقی نے کامیابی سے پورا کیا۔ فاروقی صاحب کی تحریر و تقریر سے واقف افراد نے گواہی دی ہے کہ انہوں نے اس ترجمہ میں اصل گفتگو کی گونج سنی ہے۔
اب تھوڑی سی بات اس کتاب میں درج گفتگو پر بھی کر لیتے ہیں۔ یوں تو مجھ طالب علم نے شمس الرحمان فاروقی کو تھوڑا بہت پڑھ رکھا ہے، ایک آدھ دفعہ دلی کی کسی بزم میں ان کو سننے کا بھی موقع ملا اور یوٹیوب پر موجود ان کے انٹرویو بھی نظروں سے گزرے ہیں۔ ان سب کے باوجود لگتا ہے کہ فاروقی صاحب سے میری اصل ملاقات ‘ایک فکشن نگار کا سفر’ میں ہی ہوئی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا فاروقی روپی علم کے بلند مینار پر زینہ بہ زینہ چڑھنے جیسا ہے۔ قلم پکڑنا سیکھ رہے ایک بچے کے اپنے عہد کا ممتاز ترین صاحب قلم بننے تک کا پورا سفر، کتاب کے صفحات پر کسی فلم کی ریل کی طرح چلتا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے فاروقی صاحب کے ایسے یوٹیوب انٹرویو بھی دیکھے ہیں، جن میں وہ ٹالنے والے جواب دیتے ملتے ہیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ ادین واجپئی والے اس انٹرویو میں نہ جانے کیا بات تھی کہ فاروقی صاحب اپنی محرومیوں، نجی تلخ یادوں، فکری جھگڑوں اور اپنے پرائے کا نامزد تذکرہ کر رہے ہیں۔ فاروقی صاحب کا قدم قدم پر تفصیل میں جانا اور انٹرویو میں اس قدر involve ہونا، ان کی نگاہ میں ادین واجپئی کے مقام کو بھی دکھاتا ہے۔ یہاں فاروقی صاحب کے جوابات کی عالمانہ شان کے ساتھ ساتھ ادین واجپئی کے سوالوں کی مالداری بھی غور کرنے والی ہے۔ یہ مانے بغیر نہیں رہا جاتا کہ سوال کرنے والے کو فاروقی صاحب کے رچنا سنسار اور علم و ادب کے سروکاروں پر وہ دسترس ہے کہ ان کے پاس کھلنے کے سوا کوئی اور متبادل رہ ہی نہیں گیا تھا۔
تنقید، فکشن یا شاعری علم و ادب کی دنیا میں نہ تو کوئی نئی چیزیں ہیں، نہ ہی انہیں فاروقی صاحب نے ایجاد کیا تھا۔ ان سے پہلے، ان کے عہد میں اور ان کے بعد بھی یہ ہوتا رہا ہے، ہوتا رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ پھر فاروقی صاحب کا اختصاص کیا ہے؟۔ ان کا کارنامہ یہ نہیں کہ انہوں نے دوسروں سے بہتر تنقید، فکشن یا شاعری لکھی بلکہ ان کا اختصاص اپنے پورے عہد کا علمی حوالہ بن جانا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے قریب کی ہی، راجندر یادو کی مثال لے لیجئے۔ وہ بھی نقاد، فکشن نگار اور شاعر تھے، ان کے یہاں بھی اپنے ادبی نظریے کے فروغ کی منظم کاوش ملتی ہے، انہوں نے بھی اپنے رسالے کے ذریعہ ادیبوں کی ایک پوری نرسری تیار کی۔ ان سب کے بعد بھی کیا راجندر یادو اپنے سمے کا ویسا علمی حوالہ بنے جیسا شمس الرحمان فاروقی مانے گئے؟۔ راجندر یادو بلاشبہ ہمارے عہد کے عظیم فنکار تھے، ان کی خدمات نے ادبی راہداریوں میں نئی شمعیں جلائی ہیں اور ان کی بنائی شاہراہیں کتنی ہی پیڑھیوں کو علمی منزلوں تک لے جائیں گی۔ ان سب کے باوجود راجندر یادو اور شمس الرحمان فاروقی کا فرق صاف ہے۔ یہی وہ عظمت ہے جس پر وہ بھی ایمان لائے جو فاروقی صاحب کے نظریاتی منکر تھے۔
ویسے فاروقی صاحب کے شیدائیوں کو بھی ان کی کچھ باتوں سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کہیں کہیں فاروقی صاحب ادبی معاملات میں فتویٰ دینے والا انداز اپنا لیتے تھے، جس پر مجھے اعتراض ہے۔ اس انداز میں ایسی کوئی برائی بھی نہیں، بس کبھی کبھار بزرگانہ علمی احتیاط کے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ عرض یہ ہے کہ ان اختلافات کے ضمن میں بھی فاروقی صاحب کی روش علمی شان والی ہی رہی۔ یوٹیوب پر ڈھونڈ لیجئے، کئی نوجوان فاروقی صاحب سے اختلافی امور پر سخت سوال کرتے مل جائیں گے، جواب میں ان کا انداز سمجھانے والا ہی رہا۔
ترقی پسند ادب کی ‘کمزوریاں’، جدیدیت کا رجحان، شب خون کا اجرا، تخلیق کار کی ذمہ داری کے تعین کی بحث، فاروقی صاحب کے فکشن کے کرداروں کی اینیٹومی، تاریخ اور فکشن کے باہمی تعلق کے مباحث، غیر ملکی ادب میں ہوئے قابل ذکر تجربات، آتش، ناسخ یا مصحفی جیسے استادان سخن کی ذاتی زندگی اور اس کے شاعری پر اثرات، اردو شاعری میں لکھنوی اسکول کا ‘مفروضہ’ جیسے قضیوں سے لے کر تقسیم وطن، دیوبند و بریلی حتیٰ کہ نکاح و متعہ جیسے سوال و جواب کی عالمانہ گفتگو کتاب میں محفوظ ہو گئی ہے۔ جاننا چاہئے کہ فاروقی صاحب نے جس افراط سے موتی لٹائے ہیں، ادین واجپئی نے اتنی ہی عقیدت سے انہیں ایک ایک کرکے چن لیا ہے۔ رضوان الدین فاروقی کا کرم ہے کہ وہ یہ دولت ہم اردو والوں کے دروازے پر لے آئے ہیں۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ ہم کسی اونچی پہاڑی پر کھڑے ہوکر فاروقی صاحب کے دور تک پھیلے علمی لشکر کو نہار رہے ہیں۔ یا یوں کہئے کہ یہ فاروقی صاحب کے شہر علم کو ڈرون کیمرے کی مدد سے دیکھنے جیسا ہے۔ یہ کتاب ڈرون کیمرے کا ‘برڈس آئی ویو’ معلوم ہوتی ہے۔ خود فاروقی صاحب کے بقول انہوں نے تنقید پر تقریبا ایک لاکھ صفحات لکھے، ہرچند انہوں نے شاعری کم کی لیکن فکشن کافی لکھا، پھر مختلف مقامات پر دیئے گئے لیکچرس بھی ہزاروں میں رہے ہوں گے۔ اب ظاہر ہے علم کے ایسے مسلسل بہتے چشمے کی تاریخ تقریبا سوا سو صفحات کے کوزے میں سمٹنی تقریبا ناممکن تھی۔ اس کام کے ہونے کی بس ایک صورت تھی اور وہ یہ کہ خود فاروقی صاحب اسے انجام دے دیں۔ ‘ایک فکشن نگار کا سفر’ میں فاروقی صاحب نے ہماری یہی مشکل آسان کر دی ہے۔
(یہ تبصرہ جناب مالک اشتر صاحب کے فیس بُک وال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں۔)
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

