نئے اُفق کا متلاشی:ڈاکٹرعظیم اللہ ہاشمی – ڈاکٹر طارق اشرف
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی ایسے مصروف قلمکار ہیں جن کا قلم ہمیشہ رواں دواں رہتاہے۔شعری ادب ہو یا نثری اصناف آپ دونوں میدان کے غازی سمجھے جاتے ہیں۔ان کے تنقیدی مضامین اور افسانے کل ہند پیمانے پر مختلف سرکاری ونیم سرکار رسائل وجراید میں شائع ہوچکے ہیں البتہ ادبی محفلوں میں ان کی شرکت بہت کم ہواکرتی ہے لیکن نئے افق کی تلاش میں ہمیشہ سرگرداں رہتے ہیں۔ بقول پروین شاکر
ڈھونڈ لیے گا پھر افق کھوئی ہوئی پرواز کا
دیکھنے میں آج یہ طائر شکستہ پر توہے
صاحب کتاب نے اپنی پہلی کتاب’’ ادبی افق‘‘بہ مالی تعاون مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے پیش لفظ میں لکھاہے کہ ’’یہ ان کا پہلا خفیف سادستک ہے‘‘اس کے شائع ہونے کے تقرباًپانچ برسوں بعد جو کتاب این سی پی یوایل کے مالی تعاون سے سامنے آئی وہ’’ تفہیم وتعبیر‘‘ہے جسے پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ ڈاکٹر عظیم اللہ کی یہ وہی تعبیر ہے جو خوابوں نے کبھی دیکھا تھا۔’’تفہیم وتعبیر‘‘ میں یوں تو بنگال کی اہم شخصیات کے جذبات و احساسات کو صفحہ قرطاس پر لانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ’’پروین شاکر کی شاعری میں سائنسی اصطلاحات‘‘ اور پروفیسر شاہد اختر صاحب کا سفر نامہ ’’چلتے ہیںتو چمن کو چلئے ‘‘پڑھ کر ذہن وقلب کے نئے درواہوتے ہیں جہاں نئے افکار کی تازہ کرنیں منعکس ہوتی ہیں۔
’’ذہن ساز مجاہد اور محسن قوم سرسید احمد خان قوم کے تحت الشعور میں اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک باب سید کے میناروں سے تعلیم کی روشنی ابلتی رہے گی۔ ۱۸۵۷ ء کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کی جو زبوں حالی انہوں نے دیکھی اس کی روداد سنانے اور گریہ و زاری کرنے کے بجائے ان کی سر بلندی کے لئے اس نباض قوم اور فخر ملت نے علی گڑھ کی سر زمین پر جو عملی قدم اٹھایا اس کی نظیر کم از کم ہندوستان کی سر زمین پر نہیں ملتی ہے۔اس درویش صفت انسان نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میدان کارزار میں سرگرم ہوا لیکن اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا اتنا تر نوالہ نہیں تھا اس لئے ملت کے اس ہمدرد کو سیکڑوں مسائل سے نبردآزما ہونا پڑا۔زندگی کی اس کڑی دھوپ میں اگرقلندر پیدائشی غازی نہ ہوتا تو سپر پھینک کر میدان ِکار زار سے روپوش ہوجاتا لیکن اس نے تو مغل شہزادوںکو لال قلعے کی چھت پر چڑھ کر ہم بھوکے ہیں ہم بھوکے ہیں کی چینخ سنی تھی ۔دہلی میںآل تغلق کو گھاس کھودتے اور دودمان تیمور کو پیر دباتے دیکھا تھا۔لہذا اس نے اپنی توانائی سے طوفان کے رخ کو موڑا ایسا اس لئے کہ اس دور اندیش مدبر قوم پر عرش الہی سے ہرلمحہ یہ الہام آرہا تھا کہ قوم کے اس غم کا مداوا جدید تعلیم کی روشنی میں ہے ۔!!ایسے ہی مرد مجاہد کے لئے کبھی ڈاکٹر سر محمد اقبال نے اپنی مشہور نظم خضر راہ میں کہا تھا۔
ریت کے تودے پہ وہ آہو کا بے پرواخرام٭وہ سفر بے برگ ہوساماں وہ سفربے سنگ میل
اس الہام کا نتیجہ آج پوری دنیا علی گڑھ کی سر زمین پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں دیکھ رہی ۔‘‘
تفہیم وتعبیر ’’چلتے ہیں تو چمن کو چلئے۔۔۔پروفیسر شاہد اختر‘‘
’’دیدئہ نم‘‘ چشم تر سے مماثلت رکھتی ہے لیکن یہ ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی کا افسانوی مجموعہ ہے اور وہ جناب شمیم فاروقی کا شعری مجموعہ ۔عظیم صاحب نے اس کتاب کو بھی ماں سے منسوب کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ماں کی ممتا کو دوام حاصل ہے۔ان کا دل ماں کی محبت سے خالی نہیں ۔بلاشبہ ماں کا تقدس اور اس کی عظمت متاع گراں ہے۔منور رانا کا بھی یہی خیال ہے کہ :
ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو پھر میرے خدا
مجھ کو سجدے کی بھی جنت میں اجازت ہوتی
شاعر وادیب اپنے عہد کا پروردہ بھی ہوتاہے اور عکاس بھی۔جناب ہاشمی بھی اپنے عہد کے نشیب وفراز اور تلخ وشیریں تجربات سے غافل نہیں رہے اور اس کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی جسے ساحر کی زبان میں یوں کہیں۔
دنیا نے تجربات وحوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹارہاہوں میں
ڈاکٹر عظیم اللہ کے افسانوں کی سب سے اہم خصوصیت ،عصری حسیت ،ان کی افسانویت اور ان کا اسلوب ہے جس کا دوسرے جدید نسل کے یہاں فقدان ہے۔ان کے افسانے یا مضامین رواں دریاکی طرح بہتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے فنی تقاضوں کی کمی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی کہیں لطافت اور سلاست میں رکاوٹ یا کمی واقع ہوتی ہے۔صاحب کتاب بحر ذخار کے ایسے شناور ہیں جو قارئین کے لیے لعل وگہر تلاش کرکے استعاراتی اور علامتی انداز میں’’ دیدئہ نم ‘‘،’’ تفہیم وتعبیر ‘‘اور’’دوسراوش پان‘‘کی شکل میں پیش کرتے ہیں جو نئے لکھنے والوں کے لیے سنگ میل یا مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی کے افسانوں میں منظر نگاری بلاکی ہے۔ دیہاتی مناظر کو بھی موصوف نے بخوبی برتاہے۔بیشتر افسانوں میں دیوی دیوتائوں ،مروجہ رسومات،قدیم تہذیب ،فرسودہ نظام اور ہندی الفاظ کی آمیزش سے ان کی وسیع النظری اور دسترس اظہر من الشمس ہے۔ساتھ ہی ان کا فنی حسن بھی دوبالا ہوتاہے ۔اس لیے ہم اس تناظر میں انہیں جدید نسل کا پریم چند کہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ان کے افسانوں میں نئی تکنیک ،نئے زاویے کے ساتھ ساتھ قاری کے انداز فکر کو بھی بدلتا ہے۔
’’چاندنی رات۔!۔مہواکی شاخ پر گھونسلوں میں چڑیوں کے بچوں کی چہکار۔!!۔سرسوں کے کھیت میں لہلہاتے پیلے پیلے پھول۔!!۔آسمان پر چمکتے ستارے کی جھرمٹ میں چمکتا گول چاند…..!!اور سرسوں کے کھیت میں چاند کو تکتا چکور…..!! ایسے میں اُس کے دل میں ایک انگڑائی اُٹھتی ۔پھر کروٹ بدلتے بدلتے آدھی رات گذرجاتی ۔!ہر طرف مہیب سنّاٹا۔اُس کا جی کہتا ۔
’’کب سورج اُگے کہ یہ سیاہ رات کٹے تاکہ دیپ پر مینا کاری کا کام کیا جائے۔!!‘‘
آہستہ سے پائتانے سے چادر کھینچتی اور بدن پر ڈال کر سوجاتی۔دوسرے دن سورج اُگتا۔پپیہے راگ چھیڑتے۔کوئل کوکتی۔پیلے پیلے سرسوں کے پھول پر بھنورے آتے ۔بیلوں کی جوڑی کے ساتھ کسان ہل کاندھے پر اُٹھائے کھیت کی طرف روانہ ہوتے ۔پھر رام اوتا ر کی زندگی کا چاک ناچ اُٹھتااور چاک پر ناچتی بلرام پور کی سانولی مٹی سے دیئے کے کورے کھورے تیار ہونے لگتے۔! ! ‘‘ افسانہ: ’مٹی کا مجسمہ‘
اللہ کرے زور قلم اور ہوزیادہ۔!!
مت سہل ہمیں جانو پھرتاہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
خداحافظ
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

