یہاں انصاف کا سودا ہوا ہے
یہ منظر تو مرا دیکھا ہوا ہے
جبین شعر پر لکھا ہوا ہے
تری محفل میں فن رسوا ہوا ہے
کبھی جو چڑھتے دریا کی طرح تھا
اب اپنی ذات میں سمٹا ہوا ہے
ہمیں پھر زخم اپنوں نے دیے ہیں
کہ خود ہم کو کوئی دھوکہ ہوا ہے
جنون رہبری ہے جسکے دل میں
وہ خود ہی راہ سے بھٹکا ہوا ہے
غزل جب میں نے اسکے نام کر دی
تو خاص و عام میں چرچا ہوا ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے لیکن
مقدر کا بھی کچھ لکھا ہوا ہے
ہوئی ہر شے گراں اے سوز لیکن
لہو اپنا بہت سستا ہوا ہے

