ایک مدت مدید الحاد وبے دینی کی زندگی گزارنے کے بعد جب مولانا عبد الماجد دریابادیؒ (١٨٩٢-١٩٧٧) کو از سر نو اسلام کی توفیق ملی ، تو اب اصلاح دل کی فکر شدت سے دامن گیر ہوئی ، اس درد کی دوا کی تلاش میں حیدرآباد ، دہلی ، لکھنؤ ، بانسہ ، دیوہ ، ردولی ، اجمیر اور کلیر کی خاک چھانی ، گھاٹ گھاٹ کا جائزہ لیا ، لیکن دل کو کوئی نہ بھایا ، تصوف کی کتابوں کو کھنگال ڈالا؛ لیکن جوہر مقصود تک رسائی نہ ہوئی ، اسی حیرانی وپریشانی میں تھے کہ مرحوم وصل بلگرامی نے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رح (١٨٦٣-١٩٤٣)کی کتابیں مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا ، اس وقت مولانا دریابادی کے دل حضرت تھانوی رح سے صاف نہیں تھے ، لیکن جی کڑاکر کے "تربیت السالک اور قصد السبیل ” کو پڑھا ، اب دل کی کایا پلٹ ہوگئی ، حضرت تھانوی کی ایک ایک کتاب کو چاٹنا شروع کیا ، اور اسی آستانۂ اشرفی پر حاضری کی ٹھان لی ، پہلے مراسلت ہوئی ، پھر ١٩٢٨میں مولانا حسین احمد مدنی رح (١٨٧٩-١٩٥٧) اور مولانا عبد الباری ندوی (١٨٨٩-١٩٧٦) کے ساتھ تھانہ بھون حاضر ہوئے ، مجالس اشرفی نے دل پر گہرا اثر ڈالا ، حضرت سے بیعت ہونا چاہا ، مولانا مدنی نے بھی سفارش کی ، لیکن حضرت تھانوی رح نے مولانا دریابادی اور مولانا عبد الباری ندوی دونوں حضرات کو حضرت مدنی کی بیعت میں دے دیا ہے ور تربیت کی ذمہ داری قبول کر لی ۔
١٩٢٨ ء میں حضرت تھانوی سے جو تعلق قائم ہوا وہ حضرت کی وفات ١٩٤٣ تک قائم رہا ، اس بیچ کتنی آندھیاں آئیں اور گئیں ، مولانا دریابادی کے شیخ ومرشد مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا کے سیاسی شیخ مولانا محمد علی جوہر اور ان کے مربی حضرت تھانوی رح کے درمیان زبردست سیاسی اختلافات تھے ، لیکن مولانا دریابادی کی الفت ومحبت میں کوئی کمی نہیں آئی ، بلکہ روز بروز یہ بڑھتی ہی گئی ، یہاں تک کہ اپنے شیخ سے بھی زیادہ حضرت تھانوی سے عقیدت ومحبت ہوگئی ۔ ( یہ بھی پڑھیں تفسیر غاية البرهان فی تاویل القرآن کا گمنام مصنف – محمد اکرام الحق ندوی )
اس پندرہ سال کے طویل عرصے میں کئ بار مولانا دریابادی تھانہ بھون کی حاضری سے بہرہ ہوئے ، دو ایک بار طویل قیام کیا ، اور مراسلت ومکاتبت برق رفتاری سے ہوتی ، بسا اوقات ہفتہ میں دو دو تین تین خط لکھ مارتے اور حضرت تھانوی بھی جواب دینے بخل سے کام نہ لیتے ، ادھر خط گیا نہیں کہ ادھر سے خط کا جواب چھوٹا ، یہ کتاب ” حکیم الامت نقوش وتاثرات ” کوئی مستقل سوانح حیات نہیں ، بلکہ مولانا دریابادی کے حضرت تھانوی کے بارہ میں مشاہدات و تجربات کا مجموعہ ہے ، مولانا نے دیباچہ میں صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے ” یہ مجموعۂ اوراق نہ کتاب المناقب ہے ، نہ ملفوظات مرشد ، اور نہ سیرۃ الشیخ ، اس کا موضوع ان سب سے الگ ہی نہیں سب سے پست بھی ہے ” ۔
حلم وبردباری ، تحمل و برداشت ، دوسروں کی رعایت ، شفقت ومحبت ، نرم گوئی ، خوش خوئ اور رحم دلی حضرت تھانوی کے اخلاق عالیہ عالیہ کے نمایاں اوصاف تھے ، ایسے بااخلاق ونرم دل مرد باصفا کو کچھ لوگوں نے "خشک مزاج ” مشہور کردیا تھا ، مشہور کرنے والوں میں کچھ دشمن وبد خواہ تھے اور کچھ نافہم عقیدت مند بھی ، مولانا دریابادی ایسے ہی مریدین کے بارہ میں لکھتے ہیں : ” حضرت کے ہزارہا مریدوں میں سب ہی طرح کے لوگ تھے ، بعض پر حیرت ہوتی تھی کہ دل آزاری اور دل شکنی سے بچنے اور احتیاط رکھنے کا جو سبق حضرت کے ہاں کا سب سے پہلا سبق اور مقدس درس تھا یہ لوگ اسی طرف سے غافل ، بلکہ الٹا اور اسے پامال کرنے کو تیار رہتے ہیں ، ہر شخص پر عیب چینی اور خردہ گیری کی نگاہ ، اپنے اذکار ونوافل پر غرہ ، حضرت مولانا کو بدنام کرنے والے حقیقتا سب سے بڑھ کر حضرت کے مرید اسی قبیل اور قماش کے ہوئے ہیں "ص ١٧٢۔
مجالس اشرفی میں علوم ومعارف ، حکم ومصالح ، اسرار شریعت اور رموز طریقت دریا دلی سے لٹاۓ جاتے تھے صلاے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے ہر کوئی اپنی بساط وصلاحیت کے مطابق استفادہ کرتا اور اپنے دامن کو علم کے موتی سے بھرتا ، ذرا ماجدی قلم سے یہ اس روحانی مجالس کی رویداد سنیے :
” جو علوم و معارف روزمرہ کی بے تکلف مجلسوں میں سننے میں آتے رہے ، ان کی بات ہی کچھ اور تھی ، گہری سے گہری باتیں دلچسپ رنگ میں ، ادبی لطیفے ، مزاحی چٹکلے، لفظی مناسبتوں کے مظاہرے اس پر مستزاد ” ص ٨٦۔
٢٠جولائ ١٩٤٣ کو علم و حکمت ، تفسیر وحدیث اور فقہ وتصوف کا یہ روشن ستارہ اپنی ضیا پاشیوں کے بعد ہمیشہ کے لیے غروب ہوجاتا ہے ، لیکن عقیدت کیش ونیاز مند دریابادی کی اس پیکر صدق و صفا کی تدفین میں شرکت نہیں ہوپاتی ، دل میں مرشد کی آخری دیدار کی حسرت رہ جاتی ہے، بعد از مرگ جب "مزار اشرف ” پر حاضری دینے تھانہ بھون جاتے ہیں ، عجب بے خودی وسرشاری طاری ہوجاتی ہے ، جذبات واحساسات ابل ابل پڑتے ہیں ، دیکھیے دیار محبوب اور محبوب کی غیر موجودگی کو کس دل کش پیراۓ بیان میں نقشہ کھینچا ہے :
” آج کا سفر ان سارے سفروں سے کتنا مدت مختلف تھا ، ہر بار کتنا اشتیاق ہوتا تھا ، کیسا قوی اور کامل یقین کہ دکان کھلی ہوئی ہے ، مطب گرم ہے ، جاتے اور پہنچتے ہی مرہم شفا ہاتھ میں ہوگا ، ہر درد کی دوا ، ہر فکر وغم سے تشفی ! آج رات بدلی ہوئی تھی ، آج قسمت پلٹی ہوئی تھی ، دکان بند ، مطب اجاڑ ، شفا کے بجائے حسرت شفا ، دوا کی جگہ دوا کی یاد ، مکین کے عوض صرف مکان ! خوش گوار یادوں کا محفوظ رہ جانا بھی اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے "ص ٥٤٧۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ سید سلیمان ندوی اور اردو ادب – محمد اکرام الحق ندوی )
کتاب حضرت تھانوی کے اخلاقی پہلو پر قدر دستاویز ہے ، فکر تھانوی سے اشتعال رکھنے والوں کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] فکر و عمل […]