’’ہم سفر‘‘ :ایک منفرد آپ بیتی (حمیدہ اخترحسین رائے پوری) – مبصر :حنا اصغر
بیگم حمیدہ اختر حسین متحدہ ہندوستان کے نامور پولیس آفیسر اور اُردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار ظفر عمر کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی شادی معروف ترقی پسند نقاد ،افسانہ نگار، لغت نویس اور ماہر لسانیات اخترحسین رائے پوری سے ہوئی۔حمیدہ صاحبہ نے ساری زندگی امورِخانہ داری کی نذر کر دی۔ ان کی زندگی کے دو ہی مقصد تھے۔ بچوں کی بہترین تربیت اور مصافِ زندگی میں شوہر کی پروانہ وار رفاقت۔ان مقاصد میں انہیں بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنی اپنی دنیاؤں میں کھو گئے اور شوہر ادب اور زندگی کے میدانوں میں کامیابیوں کی داستانیں چھوڑ کر ابدی منزل کو روانہ ہوئے۔اپنے شوہر کی وفات کے بعد انہوں نے ڈاکٹر جمیل جالبی کے اصرار پر 72 سال کی عمر میں اپنی زندگی کے سنہرے واقعات و لمحات کو صفحہ قرطاس پر اتارا اور یادوں کی ایک حسین دنیا آباد کی ۔ اردو میں اسے بلاشبہ اپنے طور کی واحد منفرد آپ بیتی کہا جاسکتا ۔اس کے زیبِ قرطاس ہونے کی کہانی بھی اپنی جگہ منفرد ہے ۔بقول مشفق خواجہ:
"ڈاکٹرجمیل جالبی زندگی بھرکرم خوردہ مخطوطات سے ادیبوں کو برآمد کر تے رہے ہیں، مگریہاں معاملہ ایک جیتی جاگتی خاتون کا تھا جن میں جالبی صاحب کی چشمِ جوہر شناس کو ایک طرح دار ادیبہ نظر آرہی تھی۔ "1؎
ہوا یہ کہ معروف علمی و ادبی شخصیت کے حامل اختر حسین رائے پوری نے جب سفر آخرت اختیار کیا تو ان کی وفا شعار اور جان نثاری اہلیہ حمیدہ اختر حسین غم و الم سے بے کل ہوگئیں۔ ان کییہ کیفیت دیکھ کر ڈاکٹر جمیل جالبی میں بصد اصرار انہیں اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ بیتے وقت کی جن یادوں کے جھرمٹ میں گھری ہیں انہیں صفحہ قرطاس پر اس طرح منتقل کر دیں جیسے وہ انھیں قصہ سنا رہی ہوں یوں ان کا کتھارسس بھی ہو جائے گا اور یہ گرانقدر واقعات و تجربات نئی نسل تک بھی منتقل ہو جائیں گے۔یوں یہ منفرد آپ بیتی وجود میں آئی۔یہی وجہ ہے کہ اس کا انداز تحریر دیگر معاصر سوانح عمریوں سے بے حد مختلف ہے انداز ایسا ہے جسے قصہ گوئی کر رہی ہوں۔پیش لفظ میں حمیدہ اختر حسین لکھتی ہیں:
"کبھی کبھی ہمارے مولوی صاحب اختر سے کہا کرتے۔ بھئی! اختر تم جب بھی پشاور جانا تو اپنی بیوی کو بازار قصہ خوانی کے چوراہے پر بٹھا کر آواز لگانا،” لوگو آؤآج ایک عورت قصہ خواں سے قصہ سن لو۔”2؎
قصہ گوئی کے انداز کے سبب ان کا انداز تحریر ایسا تھا کہ خود انہی کے الفاظ میں:
” پورے مسودے میں نا پیراگراف تھانہ فل سٹاپ نہ کاما۔”3؎
ڈاکٹر جمیل جالبی کی نظر ثانی کے بعد یہ مسودہ کتابی شکل میں آنے کے قابل ہوا۔ ہمسفر کے اس پس منظر کو سامنے رکھ لینے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کس نوعیت کی سوانح عمری ہے ۔یہ آپ بیتی پہلے رسالہ” افکار” میں چھپتی رہی بعد ازاں بے پناہ مقبولیت کے باعث 1999 ءمیں مکتبہ دانیال کراچی سے چھپ کر کتابی صورت میں منظر عام پر آئی۔اس کا انتساب مصنفہ نے اپنے شوہر اختر حسین رائے پوری کے نام کیا ہے۔یہ آپ بیتی 24 ابواب اور 356صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں مولوی عبدالحق کے دو خطوط بھی شامل ہیں جو انہوں نے حمیدہ اختر حسین کے والد کو لکھے۔ اس کے علاوہ اس میں یادگار لمحوں کو تصویروں کے روپ میں پیش کر کے اس کتاب کی دلچسپی اور خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا ہے ۔کتاب کے آخر میں مولوی عبدالحق کا لکھا ہوا سہرا بھی شامل کیا گیا جو انہوں نے اختر حسین رائے پوری کی شادی پر پڑھا تھا۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو کی ادیبائیں : منظر پس منظر -ترنم ریاض )
حمیدہ اختر حسین رائے پوری کی اس آپ بیتی کے نمایاں پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو اس کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں مختلف شخصیات جن میں کچھ سیاست دان ،مشاہیر ،ادیب،نقاد،کچھ شعرا وغیرہ کے خاکے ملتے ہیں۔بہت سی اہم شخصیات "ہمسفر”کے کینوس پر جلوہ گر نظر آتی ہیں۔مصنفہ نے کرداروں کے کچھ اس طرح دل کش مرقعے پیش کیے ہیں کہ قاری نہ صرف ان شخصیات کے جملہ اوصاف سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ ان کرداروں سے براہِ راست ملاقات کرتا نظر آتا ہے۔ان میں مولوی عبدالحق،قائد اعظم، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہرلال نہرو،اختر حسین رائے پوری، سروجنی نائیڈو، خالدہ ادیب خانم، قاضی عبدالغفار، ڈاکٹر محمد اشرف، ن م راشد اور دوسرے بہت سے مشاہیر کے بارے میں ہمیں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔”ہمسفر ” میں سب سے دلچسپ خاکہ مولوی عبدالحق کا ہے۔جن کی زندگی اردو سے محبت اور جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔ہمسفر کے صفحات پر ہمیں مولوی عبدالحق سنجیدہ اور متین مولوی صاحب سے ہٹ کر ہنس مکھ،فطرت سے لگاؤ رکھنے والے،رشتوں کی قدر کرنے والے،باکمال شخصیت کے مالک ،حساس دل ،دردمند اور ایک کھلنڈری شخص کے روپ میں نظر آتے ہیں۔بقول حمیدہ اختر حسین:
"مولوی صاحب ہمارے اوپر سے کچھ اور ہے مگر ان کے اندر ایک چھپا ہو بچہ رہتا ہے۔”4؎
مشہور شخصیات کے علاوہ حمیدہ اختر حسین نے نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کا ذکر بھی بخوبی کیا ہے۔ آپ بیتی کے پہلے حصے پر نظر ڈالی جائے تو ایک چھوٹے سے واقعے کی شاخوں کے طور پر ڈاکٹر کے ایم اشرف کے بچپن سے لے کر ملازمت تک کی کہانی، بھابھی کلثوم کے مزاج اور گفتگو کا ذکر،ذکن کا ذکر کا، اپنے بھائی شوکت عمر، بھابی جمیلہ کے کردار ،صفیہ اور دیگر بہن بھائیوں کے معمولات کا ذکر بھیاس آپ بیتی کے صفحات پر نظر آتا ہے۔
ہم سفر کی دوسر ی نمایاں خوبی مصنفہ حمیدہ اختر حسین کا گہرامشاہدہ ہے۔ ان کی اس صفت کی عکاسی”ہم سفر” میں مکمل طور پر نظر آتی ہے۔ لوگوں کے چہروں کے خدوخال، ذہنی کیفیات،چال ڈھال، تاثرات گھروں کی سجاوٹ کی تفصیلات ہر چیز کی جزئیات کو مصنفہ نے اس طرح بیان کیا ہے گویا ان کی نگاہوں کے سامنے ہو۔عمیق مشاہدے کے ساتھ ساتھ یہصفت ان کی غیر معمولییادداشت کی بھی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے گہرے مشاہدے کی ایک مثال یوں درج ہے:
” اختر کے پورے وجود میں مجھے یوں لگا کہ جیسے غم کا سایہ پھیل گیا ہوں۔”5؎
اسی طرح مختلف علاقوں کے رسوم و رواج اور طرز رہن سہن کا ذکر بھی کرتی ہیں۔ جب وہ شادی کے پندرہ ہی روز بعد مولوی عبدالحق صاحب اور اختر کے کے ساتھ دورہ ِممبئی کی وجہ سے نواب منظور یار جنگ کییہاں پہلی بار گئیں تو وہاں نوابی شان پائی۔ ان کے ریاستی آداب اور رسوم و رواج اب تک چلے آتے تھے۔ حمید اختر نے ان کا عمیق نظری اور باریک بینی سے جائزہ لیا۔اسی طرح منیر بانوں کے پہلے روز اسکول جانے اور واپس آنےکے بعد ناز نخروں کا ذکر بہت تفصیل سے کیا ہے کہ کس طرح باندیوں سےبستہ پکڑا ،دوپٹہ ہاتھوں میں لیا،پاؤں دھلوائے،مساج کیا کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
مہاراجہ کے لڑکے کی سالگرہ میں بھی محل کے رواج کا ذکر کیا ہے مگر اپنے مزاج کی ازلی بے نیازی اور لاپرواہی کے ساتھ ۔اسی طرح اپنے گھر اور خاندان کی معاشرتی اقدار کا بھی ذکر کیا ہے۔ مثلاً ان کے گھر میں دستور تھا کہ 14 سال سے اوپر کے لڑکے لڑکیاں باہر کھانا کھاتے تاکہ آداب اور تمیز سیکھ سکیں۔ (یہ بھی پڑھیں شاعراتِ بنگالہ کا تانیثی شعور – ڈاکٹرارشاد شفق )
"ہم سفر” کے اوراق اور پر حمیدہ اختر حسین کییہ نمایاں صفت بھینظر آتی کہ وہ اپنے خیالات و نظریات کا جرات مندانہ اظہار کرتی ہیں۔ اختر سے پہلی ملاقات میں رسالہ مانگنے کا معاملہ اور رشتہ طے ہونے پر والدہ کی ناپسندیدگی کے باوجود رضامندی ظاہر کرنے کا معاملہ ہو ،مولوی عبدالحق کی باتوں کے ترت جواب دینے کا معاملہ ہو یا گاندھی جی سے ملاقات کا موقع ہو ،پنتھ جی سے پاسپورٹ منظور کروانے کا معاملہ ہو یا مختلف حالات و واقعات پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا معاملہ ہوبلا جھجھک بات کہہ دیتی ہیں۔مثلاً اپنے کینسر کے آپریشن کے موقع پر سرجن حمید سے جو باتیں کہیں اس کی بہترین مثال ہے:
"ہو سکتا ہے میرا جواب آپ کو ناگوار لگے مگر میں تو سچی اور کھری بات کہوں گیکاش آپ سپیشلسٹ ڈاکٹر ،انسان کو پتھر کر سمجھنا چھوڑ دیں۔۔۔۔ آخر آپ ماہرین ڈاکٹر لوگ بیچارے مریضوں کو گائے بکری کیوں سمجھتے ہیں۔۔۔ باہر کمرے میں پچاس پچاس مریضوں کو بٹھا کر منٹ دو منٹ کو بلا کر ٹرخانے جاتے ہیں۔ مریض بیچارہ جیب آپ لوگوں کے ساتھ سامنے خالی کر کے جاتا ہے ۔پھر جھڑکیاں۔”6؎
"ہم سفر” آپ بیتی حمیدہ اختر کی شوخی و ظرافت کی بھی عکاسی ہے۔ ان کا انداز بیاں بے حد بے تکلف ہے۔بے تکلفی اور بے ساختگی میں بہت سی ایسی باتیں کہہ جاتی ہیں جن سے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے انکی ظرافت ان کے مخصوص اور بے ساختہ انداز بیان کی مرہون منت ہے۔ کسی دلچسپ واقعہ کو خود بھی مزے لے لے کر بیان کرتی ہیں جس سے ان کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے:
"چائے ہی نہیں چاہ بھی مل سکتی ہے بشرطیکہ آپ یہاں بیٹھیں تو سہی اس پر دونوں نے زور کا قہقہہ لگایا۔”7؎
"ہم سفر” کے اوراق سے حمیدہ اختر حسین کا جذبہ خود پسندی بھی ابھرتا ہے۔ان کے میاں ذاتی نمود و نمائش سے بیزار اور تعریف سے بے نیاز تھے جبکہ حمیدہ اختر کا مزاج عام خواتین کی طرح خود خود نمائی والا تھا چنانچہ اس کا اظہار جابجا ہوتا ہے خاص طور پر جب وہ اپنے میاں سے چھپ کر پاسپورٹ حاصل کرنے کا کارنامہ کرتی ہیں۔اسی طرح 20 روز میں گھر بنوانے کا ذکر بھی تفاخرانہ انداز میں کیا گیا ہے۔
اپنی تعریف کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی والدہ اپنے شوہر کی بے حد تعریف کی ہے ۔ حمید اختر ایک کشادہ دل خاتون معلوم ہوتی ہیں جو ہر ایک کی ذات میں مثبت پہلو دیکھتیں اور اس کی دل کھول کر تعریف کرتی ہیں بہت کم کسی کا شکوہ کرتی ہیں ۔اپنی والدہ اور ان کی سمجھ داری کا بہت ذکر کیا ان کی والدہ نے شادی سے قبل ان کو نصیحتیں کیں اور جو آداب اور گُر وغیرہ سکھائےان کا جابجا ذکر کیا ہے۔ ان کی نصیحت کے مطابق حمیدہ اختر نے شروع ہی سے دو لفافے "برائے اشد ضروری”اور” برائے قرض "بنا لیے تھے جن میں وقتاً فوقتاً رقم جمع کرتی رہتی تھیں۔ اسی طرح ان کی والدہ نے انہیں مورِ خانہ داری کے دیگر بنیادی اصول اور ضروری کام بھی سکھا دیے تھے۔ مثلا جب انہوں نے مولوی عبدالحق کے پاؤں پر پٹی کس کر صفائی سے باندھی تو مولوی صاحب بول اٹھے:
"یہ تمہاری اماں تو مجھے کوئی بقراط سقراط معلوم ہوتی ہے جانے کیا کیا تم کو بتا دیا ہے۔”8؎
"ہم سفر” میں حمیدہ اختر ایک گھریلو خاتون کے طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں جو اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ ان کی خوشی اور آرام کے لئے انہوں نے ساری عمر چاہا سوچا۔ جب مولوی عبدالحق نے ناراضی کی بنا پر ڈکشنری کے معاونین میں اختر حسین کا نام نہ لکھا تو حمیدہ اختر نے شوہر کے صدمے کو اپنے دل پر محسوس کیا اور مولوی صاحب سے برملا شکوہ بھی کیا۔
"ہم سفر کے متعلق یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس نے ہمیں حمیدہ اختر سے زیادہ اختر حسین کی ذات چھلکتی ہے۔ ہے اس کے نام سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو لکھنے کا مقصد” آپ بیتی”بیان کرنا نہیں بلکہ "ہم سفر بیتی” بیان کرنا ہے ۔انہوں نے پوری کتاب میں اختر کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں”اختر کی شخصیت” کے عنوان سے علیحدہ باب بھی قلمبند کیا ہے ۔اکثر کے ذکر کا اہم پہلوان کی ذات کا تجزیہ ہے۔ حمیدہ اختر حسین رائے پوری نے کتاب میں جا بجا اپنی اور اختر کی زندگی اور شخصیتات کا تجزیہ کیا ہے۔ مگر اختر کے جذبات و احساسات،فطرت اور میلانات پر زیادہ غور کرتی نظر آتی ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں ما بعد نو آبا دیات :حدود ، تعارف ،اہمیت – امبرین کوثر )
ان تمام خصوصیات کے ساتھ ساتھ” ہم سفر "میں تاریخ کا ذکر بھی ملتا ہے مگر یہ حوالے بے حد سرسری ہیں۔ جہاز کے طویل سفر کے دوران راستے میں ایک آدھ تاریخی مقام بھی دیکھتی ہیں۔مگر ان کا زاویہ نظر عام خاتون کا سا ہے۔ کسی تاریخی شعور رکھنے والے مفکر سا نہیں۔ اور یہی ہم سفر کو منفرد و مقبول بنانے والی چیز ہے۔ اسی طرح انہوں نے مختلف حالات سے گزرتے ہوئے صرف اپنی دلچسپی کے واقعات کو پیش کیا ہے مثلاً وہ گاندھی جی سے ملتی ہیں مگر سیاسی حوالے سے ان کی ذات کا ذکر نھیں کرتیں۔ اسی طرح پاکستان بن جانے کے بعد کے حالات کا ذکر بھی اسی حد تک ہے ۔جس حد تک وہ حالات ان کی اور اختر کے حالات پر اثر انداز ہوئے۔ ترکی کے حالات کا ذکر بھی خالدہ ادیب خانم کی زبانی ملتا ہے مگر سرسری انداز میں کیا گیا۔ہمسفر کو ناقدین نے اختر حسین رائے پوری کی آپ بیتی”گردِراہ” کا تکملہ قرار دیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گردِ راہ میں جن چیزوں کو اجمال سے سنوارا گیا ہے”ہم سفر” میں انہیں تفصیل سے رونق اور دلچسپی بخشی گئی ہے۔
ہمسفرکے اسلوب کا جائزہ لیا جائے تو بقول جمیل جالبی ٹکسالی زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ بے تکلف اور مکالمانہ رنگ ہے۔حمیدہ اختر جمیل جالبی کو” جمیل بھائی” کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔ در اصل مصنفہ کے نزدیک اس آپ بیتی کی نوعیت قصہ گوئی کی سی ہے۔ انگریزی کے الفاظ جو عام بول چال میں تھے وہ بھی بیان کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چٹا چٹ ،جھٹا جھٹ اورسٹاسٹ جیسے گھریلو زبان کے الفاظ بھی ملتے ہیں،دیگر خصوصیات میں سادگی ،شگفتگی، مرقع نگاری،منظر کشی،جزئیات نگاری،برجستگی،بے تکلفی،روانی،محاورات کی دلکشی، نادر تشبیہات کا استعمال وغیرہ۔
المختصر ” ہمسفر "اردو کی آپ بیتی میں بے حد منفرد اور بے مثال آپ بیتی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ہمسفر حمیدہ اختر حسین رائے پوری کی خود نوشت سوانح عمری ان کے حسین لمحات کی یاد ہی نہیں بلکہ اس میں کئی اور دنیائے بھی آباد ہے فنی اعتبار سے یہ آپ بیتی بلندپایہ ہے اس میں بیانیہ کا حیرت انگیز تسلسل ہے یادوں کا دل پذیر سے سمٹاؤ ہے ، زندگی کی بنیادی اقدار اور رشتوں کا احترام ہے ،اس دور کی تہذیب کی عکاسی ہے۔ ایک مثالی گھرانے کی تصویر ہے۔ خواتین کے لئے بہترین ازدواجی زندگی گزارنے کا عملی نمونہ ہے بہت سی اہم شخصیات کا ذکر بھی ابھی اس آپ بیتی میں ملتا ہے۔
حوالہ جات۔
- حمیدہ اختر حسین رائے پوری،ہم سفر،کراچی:مکتبہ دانیال،2005ء،ص 13
- ایضاً،ص12
- ایضاً،ص12
- ایضاً،ص85
- ایضاً،ص59
- ایضاً،ص304
- ایضاً،ص149
- ایضاً،ص157
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

