عہدِ حاضر میں پروان چڑھنے والے رحجانات میں تانیثیت ایک غالب رجحان کی حیثیت سے ادب کے دامن میں سرایت کرگئی ہے۔ تانیثی شعور مرد اور عورت دونوں کی تخلیقات میں بخوبی دیکھاجاسکتا ہے ‘لیکن بالخصوص عورت کے ذریعہ پیش کردہ ادب میں تانیثی فکر اپنی پوری جلوہ سامانیوں کے ساتھ رونما ہوتی ہے۔ تانیثیت ایک تحریک ہے جو عورت کے ساتھ رواں رکھے جانے والے رویے پر نہ صرف تنقید کرتی ہے بلکہ معاشرے میں عورت کی سماجی ‘سیاسی ‘معاشی ‘تہذیبی اقدار کی حامی ہے۔ مردوں نے عورت ذات کو کمزور،کم عقل اور بزدل صنف جان کر زندگی کے ہر میدان میں جس طرح ردّ کیا ‘ تانیثیت اسی ردّل عمل سے پیدا ہوئی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ عورت کے ساتھ مردوں کا سلوک شروع سے نارواں رہا ہے۔ مردانہ سیاست نے ہر محاذ پرصنفی برتری کو ڈھال بنا کرعورت کو شکست دی ۔ انسانی زندگی ہمیشہ سے ارتقا پذیر رہی ہے لیکن اس ارتقا پذیری میںمرد کے تئیں خیالات و تصورات بدلتے رہے ہیں لیکن عورت کی زندگی جوُ کی توُ رہی ہے ۔تانیثیت مرد کے ان تمام رویوں پر نہ صرف تنقید کرتی ہے بلکہ عورت کو انفرادی وجود کی حیثیت سے پیش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
یوں تو اردو شاعری میں خواتین شاعرات کے یہاں تانیثی نظریہ کسی نہ کسی صورت میں پروان چڑھتا رہا ہے لیکن مغرب میں اس فکر کو تحریک کی شکل اختیار کرنے کے بعد دنیا کے ہر ادب میں اس کے نقوش وضع ہوتے گئے۔ بالخصوص خواتین کے زریعہ تخلیق کردہ ادب میں تانیثی و مزاحمتی رویے کی گونج صاف سنی گئی۔ اردو شاعری میں جن شاعرات نے اس رویے کو شعوری طور پر برتا ان میں ادا جعفریؔ،زہرہ نگاہؔ،کیشور ناہیدؔ،پروین شاکرؔ،شارہ شگفتہؔ،فہمیدہ ریاضؔ،زاہدہ زیدیؔ، ساجدہ زیدیؔ، (یہاں اور ناموں کا اضافہ ہوسکتا ہے)نے تانیثی فکر کی ایسی روایت قائم کی جس کی طنا بیں آج بھی اردو کے ہر خطے کی شاعرات کے یہاں مضبوط دکھائی دے رہی۔ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی کی دہلیز پر بنگال میں نِسائی ادب (شاعرات کے حوالے سے) – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
بنگال کی شعری فضا میں بھی تانیثی شعور شاعرات کے ریشمی لب ولہجے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر سرایت کئے ہوئے ہے۔ بالخصوص معاصر شاعرات کے یہاں اس رجحان کی گونچ صاف سنائی دے رہی ہے۔ عہد حاضر میں بنگال کی ادبی اُفق پر نمودار ہوکر اپنے انمٹ نقوش چھوڑنے والی شاعرات میں شہنازنبی،ریحانہ نواب، کوثرپروین کوثر،شگفتہ طلعت سیما،زرینہ زریں،شگفتہ یاسمین غزل، نغمہ نور،صابرہ خاتون حنا،عروشہ عرشی،مہناز وارثی،نسیم منان،نگار سلطانہ، سلمٰی سحر،فاطمی داؤد سحر ، بشریٰ سحر،سعدیہ صدف، فردوس انجم،نادرہ ناز پرویز،شہنور حسین شبنم،شاہدہ صدف ،شوکت جہاں،فرحت مشتاق،فریدہ حشمت،شاہدہ بانو قاسمی،فوزیہ ا خترردا،نگار بانو ناز،نازنین انجم،رقیہ آسی،سیدہ رفعت ترنم،سیدہ ساجدہ ناز،اور طلعت فاطمہ وغیرہ کا نام خصوصیت سے قابل ذکر ہے جو بنگال کی شعری فضا کو نسوانی فکر سے معطر کر رہی ہیںلیکن ان سب کے یہاں تانیثی شعور جلوہ گر نہیں ہے۔دراصل ادب کا یہ کلیہ بھی نہیں کہ کسی تحریک یا رجحان کا اثر اس عہد کے تمام لوگوں پرپڑے ۔لہذا ارضِ بنگالہ کے جن شاعرات کے یہاں تانیثی فکر نمایاں ہے‘ اس مضمون میں انہیں کا ذکر کیا گیا ہے۔
شہناز نبی کی شخصیت معاصر شاعرات کی صف میںنمایاں ہے۔’’پسِ دیوار گریہ‘‘اور’ ’بھیگے رتوں کی کتھا‘‘ کے شعری منظرنامے پر عورت ایک انفرادی وجود کی حیثیت سے سامنے آتی ہے۔ ان کی شاعری کی عورت مرد دشمن واقع ہوئی ہے۔ وہ نہ صرف پدرانہ نظام کی اونچ نیچ پر طنز کرتی ہے بلکہ اپنے مخصوص نسائی لہجے میں ہی مردانہ سیاست کی قلعی کھولتی ہے۔ ان کے اشعار کی عرق ریزی سے ایک ایسی عورت کا ہیولی ابھرتا ہے جو مردذات سے خائف نہیں نہ ہی اسے مرد کی بے وفائی سے صدمہ پہنچتا ہے۔وہ سب کچھ کھونے کے بعد بھی اس لیے مطمئن ہے کہ اس کا ایک اپنا وجودہے جسے وہ کسی بھی حال میں کھونا پسند نہیں کرتی :
وہ میرے سر پر کبھی چھت کی طرح چھا نہ سکا
میرے اطراف فصیلیں ہی اٹھانے آتا
ریحانہ نواب کا لہجہ تلخ ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں طنز کا ہلکا سا عنصر ملتا ہے۔ الفاظ کے مخصوص استعمال سے انہوں نے اپنے اشعار میں حرارت پید ا کی ہے ۔ان کے یہاں تانیثی شعور ملتا ہے ۔وہ عشق کے ہاتھوں گھائل ہیں ۔محبوب کی بے اعتنائی نے انہیں بھی نڈھال کیا ہے لیکن وہ موجودہ معاشرے کی جیتی جاگتی ،چلتی پھرتی عورت ہیں‘ان کی شاعری میں ایک باشعور ذہن رکھنے والی موجودہ معاشرے کی عورت رقم ہوئی ہے ‘یہی وجہ ہے کہ وہ دیگر شاعرات کی طرح عشق میں ناکام ہوکرمحبوب کی بے رخی کو دل میں سموئے زندگی کا سفر طئے کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ ان کی شاعری کی عورت کو خوداری کا احساس ہے وہ کسی بھی حال میں اس خوداری کو قربان کرنا پسند نہیں کرتی بلکہ اس کی خوداری کا یہ عالم ہے کہ وہ زندگی کا سفر ہر محاز پر جاری رکھے ہوئے ہے:
تو یہ سمجھ رہا تھا کہ میں ٹوٹ جاؤں گی
جاری ہے زندگی کا سفر تیرے بعد بھی
عاشق کے چھوڑ جانے پر بھی زندگی کا سفر طئے کرنا روایتی عورت کے نقوش نہیں ابھارتے بلکہ یہ عہد حاضر کے اس عورت کی فطرت ہے جو کسی کے رہنے یا نہ رہنے سے بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لہذا ریحانہ نواب کے یہاں ایک ایسی عورت ملتی ہے جو زندگی کے خار جار پر اکیلی ہونے کے باوجود گھبراتی نہیں ‘ڈرتی نہیں ۔اس کے اندر حوصلہ موجود ہے ۔وہ آزاد فرد کی حیثیت سے سانس لیتی ہے۔حالانکہ رشتوں اور ہمدردوں کی بے رخی اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن وہ روایتی عورت کی طر اسی غم کو دل میں دبائے مایوسی کا رونا نہیں روتی ۔وہ دھوپ میں چھاؤں کی تمنا کئے بغیر زندگی کا سفر طئے کرنا باعث فخر سمجھتی ہے: (یہ بھی پڑھیں ندا فاضلی کا تخلیقی گاؤں – پروفیسر کوثر مظہری )
وہ رنگ ہے شفق میں نہ وہ کیف شام میں
ہونے کو ہورہی ہے گزر تیرے بعد بھی
ٹہرے کہاں کہ چھاؤں بلاتی نہیں ہمیں
کرتے ہیں دھوپ دھوپ سفر تیرے بعد بھی
سلمی سحر کا سادہ لب ولہجہ ان کی انفرادیت کی دلیل ہے۔ سلمی کے یہاں عورت کے روایتی روپ پر کڑی چوٹ ملتی ہے۔ انہیں عورت کی انفرادیت کا احساس ہے۔ان کے مطابق عورت کی زندگی کا نقشہ تب ہی بدل سکتا ہے جب وہ اپنے تئیں بنے بنائے پرانی رسموں کو توڑ کر آگے بڑھنے کا حوصلہ کرے۔سلمی کے پیش نظر عورت کی بدحالی کی اصل وجہ اس کی اپنی ذہنیت ہے جس کے دام میں اسیر ہوکر اس کی زندگی بد سے بدتر ہوگئی ہے۔ موصوفہ نے عورت کے اس ذہنیت کو طنز کا نشانہ بنایا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے فکر وشعور میں ایک ایسی عورت جنم لے رہی ہے جو اپنی دنیا اپنے آپ تخلیق کرنے کا مادہ رکھتی ہو:
پرانی رسمیں دل وجاں سے ہیں عزیز اسے
یہی سبب ہے کہ وہ ایک کھنڈر میں رہتی ہے
اسے خبر نہیں انجام اس کا کیا ہوگا
وہ اک لڑکی خیالوں کے گھر میں رہتی ہے
شگفتہ طلعت سیما کا لب لہجہ دھیما ہے یہی وجہ ہے ان کے یہاں مرد اساس معاشرے پر طنزنہیں ملتا۔ان کی غزلوں میں احساس کی شدّت پنہا ہیں ۔عورت ذات کی فطری عکاسی ان کی غزلوں میںگاہے بہ گاہے دیکھنے کو مل جاتی ہے۔بالخصوص سماج اور معاشرے کے ہر خوشی سے محروم عورت کا ذکر ان کی شعری فضا میں ایک ایسا نقش واضح کرتا ہے جس میںصنف نازک پر ہوئے صدیوں پرانے زخم ایک ایک کرکے صفحہ قرطاس پر بکھرتے چلے جاتے ہیں:
چاروں جانب سرد ہوائیں
اور سلگتا میرا بستر
پیاسے پیاسے میرے ہونٹ
پنگھٹ گاگر میرے خلاف
ایک صدی بیت گئی ریت پہ چلتے چلتے
کیا کریں پاؤں جلتے ہیں مگر پانی میں
چارو جانب سرد ہوائوں کا چلنا ‘ بستر کا سلگنا ‘پنگھٹ گاگر کا خلاف ہونا اور پانی میں بھی پائو کا جلنا دراصل اس ظلم وجبر کی علامت ہے جس کی آگ میں عورت شروع سے جلتی آئی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شہناز نبی ؔکی شاعری میں تانیثیت کے بنیادی مسائل اور مباحث: ایک تجزیہ (شعری مجموعہ’’ اگلے پڑاؤ سے پہلے‘‘ کے تناظر میں) – ڈاکٹر ابراہیم افسر)
نغمہ نور کے یہاں تانیثی شعور تو ملتا ہے لیکن ان کا ریشمی لب ولہجہ مرد اسا س معاشرے پر تنقید نہیں کرتا۔نغمہ نور کے یہاں ایک ایسی عورت کا تصور اُبھرتا ہے جو فطری طور پر البیلی ہے۔جہاں باپ کی لاڈلی ہے وہی محبوب کی دلدادہ بھی۔نسوانی فطرت کی عمدہ عکاسی ان کے اشعار میں ملتی ہے۔انہوں نے نسائی شعور کے ساتھ ساتھ نسائی زبان بھی استعمال کی ہے لیکن ان کے اشعار میں احتجاجی صفت موجود نہیں جس سے اندازہ ہو کہ وہ عور ت پر ہورے ظلم وجبر کے خلاف صف آراہیں ۔ لیکن مرد ذات سے آزادی کاتصور ان کے بعض اشعار میں مل جاتے ہیں۔ مثلا ایک شعر میں گویا ہیں:
تمہارا ذکر ہونٹوں پر تلاوت سے ذراکم ہے
محبت سے زیادہ ہے عبادت سے ذرا کم ہے
یعنی نغمہ نور کی شاعری کی عورت‘ مرد کی محبت کو محبت کی سطح تک ہی قبول کرنے پر اکتفاکرتی ہے ۔وہ روایتی عورت کی طرح مرد کی محبت کو عبادت سے تعبیر نہیں کرتی کہ یہ نسائیت کی توحین ہے ۔وہ محبوب کی محبت کو اسی سطح تک قبول کرنے پر مصر ہیں جہاں تک اس کی نسوانیت مجروح نہ ہو۔
صابرہ حنا کے یہاں بھی عورت اپنی پوری توانائی کے ساتھ مرد معاشرے پر حاوی دکھائی دیتی ہے۔ شاعرات بنگالہ میں موصوفہ ہی ایسی شعری فطرت کی مالک ہیں جن کے یہاں عورت کا روایتی عکس اس درجے پروان نہیں چڑھا جنتا دیگر شاعرات کے یہاں دیکھنے میں آیا ہے۔ وہ مرد کے امتحان کو کمتر جانتی ہیں کہ زندگی میں عورت کے لیے مرد ہی سب کچھ نہیں ‘نہ ہی عورت کی زندگی اتنی کمتر ہے کہ مرد کی بے وفائی سے سے بکھرتا رہے :
غم زیست کے امتحاں اور بھی ہیں
ستم گر میرے مہرباں اور بھی ہیں
شگفتہ یاسمین غزل کے یہاں جو عورت ہے وہ باشعورزمانے کی فرد ہے۔ ا ن کی شاعری کی عورت بھی گوشت پوست کی عورت ہے جو اپنے اوپر ہونے والے ظلم و جبر پر کھل کر رائے جنی کرتی ہے۔ شگفتہ یاسمین کی شاعرانہ انفرادیت میں جہاں ان کی منفرد سوچ اور تخلیقی صلاحیت کارفرماں ہے وہیں انکے مخصوص لب و لہجے کے ریشمی آنچل نے ان کی شاعری کو دوآتشہ رنگ عطا کیاہے ۔شگفتہ یاسمین کے اشعار میں عورت پر ہونے والے ظلم وجبر کا نقشہ اُبھرتا ہے ۔وہ عورت جو صدیوںسے مرد اساس معاشرے میں تنقید کا نشانہ بنتی رہی ‘جس کی ہر خواہشات کو پائو ں تلے کچلاگیا اور جس کی زندگی کی راہیں محض عورت ہونے کی وجہ سے دشوار کی گئیں:
میں سنگ ریز راہوں پر چل کر جواں ہوئی
پھولوں نے میرا راستہ دشوار کردیا
لیکن اس دشواری کے باوجود بھی موصوفہ کی غزلوں کی عورت تھکتی نہیں ۔ ان کے لہجے میں ایک عزم واعتماد پنہا ہے جو صاف عیاں کرتا ہے کہ ان غزلوں میں سانس لینے والی صنف نازک زندگی کے ہرخارزار پر ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وہ اب اکیلی نہیں اور نہ ہی اسے اب کسی سہارے کی ضرورت ہے۔اس کے اندر کے جذبات اب کسی کے منتظر نہیں ۔نہ وہ مرد کی آہٹ سے سہمتی نہیں نہ ہی اس کے جذبات اب صرف محبت کے آرزومند ی کرتے ہیں :
پہلے ہلکی سی آہٹ پر دھڑکن تک رُک جاتی تھی
وقت نے اب تو سکھادیا ہے طوفاں سے ٹکرانا بھی
زرینہ زرّیں کے لہجے میں انفرادی شعور کافرما ہے انہوں نے ترقی پسندی اور جدیدیت کے دائرے سے نکل کر شعری تخلیق کی ہے۔ زمانے کی ابتری اور خونچکا حالات کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کے اشعار میں مرد ذات سے شکوہ ‘شکایت کا ایک زوایہ بھی ا بھرتا ہے جس سے ان کے اشعار میں مرد دشمنی کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔زرینہ زریں کی شعری پیکر مرد ذات سے ڈرتی نہیں بلکہ خود پر ہوئے ظلم کا دو ٹوک اظہار کرتی ہے:
نہ پوچھوحالِ شکستہ دل‘ کہ دل ہلاک ستم ہوا ہے
تمہاری جاں کی قسم ہے جانم تمہارا یہ کرم ہوا ہے
عروسہ عرشی کی شاعری عہد حاضر کے کرب کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔عروسہ کے اشعار میں زمانے کی تلخی بیان ہوئی ہے ۔ان کے یہاں سماجی اور سیاسی دونوں شعور کی کارفرمائی ہے لیکن مر د اساس معاشرے پر تنقید کے بیان سے ان کے اشعار خالی ہیں۔البتہ بعض غزلوں میں ایسی عورت کا نقش ابھرتا ہے جو مرد کی محبت میں گرفتار نہیں ہے ‘نہ ہی اس کے چہرے پر مرد کی جدائی سے کرب کے آثار نمایاں ہوتے ہیں ۔مثلا ایک شعر میں کہتی ہیں:
نہ ملے وہ تو غم نہیں کرتے
خود پہ اب ہم ستم نہیں کرتے
یعنی مرد کی محبت نہ ملنے سے خود پر ستم نہ کرنا دراصل ایک ایسی عورت کا نقشہ پیش کرتا ہے جو ہر حال میں اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ۔اس کے اندر اب خوداعتمادی کا مادہ اجاگر ہوچکا ہے۔ وہ محبوب کے آنے سے اب خوش نہیں ہوتی نہ ہی اس کے چلے جانے سے اس کے تمام ارمان ٹوٹ کر بکھرتے ہیں بلکہ اپنی حیثیت اور خوداری پر جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ اسے دل سے عزیز تر ہے:
مسکراتے نہیں جو وہ آئے
جائے تو آنکھ نم نہیں کرتے
جو ملے اس پہ شاد ہوں عرشی
کچھ نہ پایا تو غم نہیں کرتے
بنگال کی شاعرات کے یہاں تانیثی شعور کے اس محاکمے کے بعد بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ہر خطے کی طرح یہاںکی شاعرات بھی اپنے شعری پیکر میں عورت کے روایتی روپ پیش کرنے سے نہ صرف اجتناب برت رہی ہیں بلکہ انکے تفکر میں ایک ایسی عورت کا نقش اجاگر ہورہا ہے جو ہر حال میں ایک وجودی شئے کی حیثیت سے اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ تاہم ان شاعرات کے حوالے سے یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ ان کے یہاں مرد اور مردانہ معاشرے پر اس نہج کی تلخی نہیں ملتی جو اردو کے صفِ اوّل کی شاعرات کا خاصہ رہا ہے۔ان شاعرات کا نظریہ مرد دشمنی کا قائل نہیں بلکہ مدمقابل (Competitor)کا سا ہے۔
٭٭٭
—
Dr. Irshad Shafaque
H/No: 1/A, BL.No:23,
Kelabagan, Jagatdal,
24pgs(N), 743125,
West Bengal-India
Ph: 8100035441
Email: irshadnsr5@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

