کمپیوٹر پر اردو زبان کی ابتدائی مشکلات اور ان کا حل ( یونی کوڈ ) – ساجد حمید

by adbimiras
4 comments

اس بات میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے۔ کوئی میدان بھی ایسا نہیں ہے جس میں کسی نہ کسی مرحلے پر کمپیوٹر کا عمل دخل نہ ہو۔ آئیے دیکھیں کہ اردو کی ادبی، ثقافتی اور صحافتی دنیا اس دور میں کس طرح داخل ہوئی ہے۔

اردو کے معاملے میں کچھ مشکلات تو ہماری زبان کے حروف کی تعداد ہے جو انگریزی سے کہیں زیادہ ہے۔ (ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء لا ی ے۔ کل 39 حروف ہیں۔ مرکب حروف بھ، پھ، تھ، ٹھ وغیرہ کو چھوڑ کر۔)

اس کے علاوہ ہماری زبان کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اردو کے اکثر حروف کی دو دو یا چار چار شکلیں ہیں۔ مثلاً حرف "م” کو دیکھۓ۔

 

آم: مفرد شکل

 

مدد: ابتدائی شکل

 

کمی: درمیانی شکل

 

قلم: انتہائی شکل

اردو کا نستعلیق رسم الخط لاکھ خوبصورت سہی مگر ایک اور اہم مشکل نستعلیق رسم الخط کے باعث ہے کہ اکثر حروف کی عمودی حالت اس پر منحصر ہے کہ وہ حرف لفظ کا دوسرا، تیسرا حرف ہے یا چھٹا ساتواں۔ اسی "م” کی مثال لیں:

دو حرفی لفظ "من” میں” م” کی اصل سطر (Base Line) سے ایک مخصوص اونچائی ہے۔ ایسا ہی دو حرفی لفظ "مد” لیجۓ۔ اب اس میں م کی شکل اور اونچائی دیکھۓ۔ پتہ چلا کہ یہ بعد میں آنے والے حرف پر بھی منحصر ہے۔ اب تین حرفی الفاظ لیجۓ۔ "منت” اور "مگر”۔ نہ صرف یہ کہ ان کی عمودی حالت مختلف ہے بلکہ ان کی اونچائی بھی دو حرفی الفاظ کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہے۔ چار حرفی لفظ "منظر” لیجۓ ۔ دیکھۓ اب "م” اور اونچا ہو گیا ہے۔ اب چھے حرفی لفظ "مستقبل” کو دیکھیں۔ اصل سطر سے "م” اب کتنا اوپر اٹھ گیا ہے۔ یہی نہیں، غور کریں کہ ساتھ ہی دوسرے اور تیسرے حروف بھی اسی طرح اونچے ہوتے جاتے ہیں۔ "مست” اور "مستقبل” دونوں کے "س” کی اونچائی دیکھیں اور یہی وجہ کہ اردو پریس اب بھی کتابت سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکی ہے۔ اب بھی بے شمار رسائل اور کتابیں لیتھو پریس میں چھپتے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو زبان کا آغاز و ارتقاء – ساجد حمید )

اب دیکھیں کہ خطِ نسخ میں اگرچہ اونچائی والا مسئلہ تو نہیں ہے مگر حروف کی مفرد ، ابتدائی، درمیانی اور انتہائی شکلیں بہر حال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اردو (بلکہ دراصل عربی اور فارسی جن میں معمولی سی تبدیلی کر کے اردو بازار میں لایا گیا) ٹائپ رائٹر بنے تو یہی نسخ استعمال میں آیا۔ فارسی اور عربی میں تو نسخ خط ان علاقوں کے لیے قطعی عجیب نہیں ہے مگر ہم اردو والے اس سے اب بھی بدکتے ہیں۔ مولانا آزاد نے اردو ٹائپ کو رواج دینے کی بہت کوشش کی کہ لیٹر پریس کی چھپائی میں نسخ میں حرف کی ہر شکل کے بلاکس بن سکتے تھے اور ان کو کمپوزنگ کر کے پلیٹ بنائی جا سکتی تھی۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں بھی ٹائپ کو رواج دینے کی کوشش کی گئی۔ لاہور سے ماہنامہ "سویرا” اور ان کے مکتبے سے دوسری کتابیں بھی شائع ہوئیں۔

جب کمپیوٹر کا چلن شروع ہوا تو اس جانب بھی توجہ دی گئی اور "کاتب” اور "راقم” جیسے سافٹ ویئرز بناۓ گۓ جو DOS نامی آپریٹنگ سسٹم پر مبنی تھے اور اس کے بعد جب نوے کی دہائی میں ونڈوز 95 بازار میں آئی تو ان آپریٹنگ سسٹمز کی بہتر سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ پاکستان میں "ماہر” اور "اردو 98” نامی سافٹ وئیرز بنائے گئے۔

ہندوستان میں "ان پیج” اور "صفحہ ساز” (اردو پیج کمپوزر) بنے۔ پوری اردو دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ استعمال میں آنے والا سافٹ ویر ان پیج ہی ہے۔ اکثر پریس اسی کا استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ حیدر آباد (ہند) میں "صفحہ ساز” کا دور دورہ ہے کہ یہ یہیں بنایا گیا ہے۔

جب کمپیوٹر پر کسی بھی زبان میں کچھ ٹائپ کیا جاتا ہے تو آپریٹنگ سسٹم اسے کئی اعمال سے گزارتا ہے۔ اس کی وجہ در اصل یہ ہے کی کمپیوٹر کی اپنی زبان دوسری ہے، جسے بائنری (Binary) کہتے ہیں۔ جب بھی آپ کمپیوٹر کے کی بورڈ پر کوئی Key دباتے ہیں تو اس Key کا حرف ٹائپ رائٹر کی طرح نہیں ہوتا ہے کہ خود بخود کاغذ پر اتر جاۓ۔ ٹائپ کیے حرف کو پہلے اسکرین (مانیٹر) پر ظاہر کرنے میں چار عوامل اہم ہیں:

1۔ کی بورڈ کی قسم

 

2۔ آپریٹنگ سسٹم کا تحریری انجن

 

3۔ ایک پوشیدہ "کوڈ”

 

4۔ٹائپ یا فانٹ

اور ان سب کے پیچھے کمپیوٹر کی بائنری زبان، جو ہر حرف کو عددی نظام میں سمجھتی ہے۔

ایک مسئلہ اردو کا دائیں سے بائیں ہونا بھی ہے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ یہ مشکل ہے کہ اس کے باوجود ہمارے اعداد بائیں سے دائیں ہیں۔

اردو زبان کے لیے ہندوستان میں ایک کوڈ بنایا گیا جس کا نام رکھا گیا ط PARSCII (Persio Arabic Standard Code for Information Interchange) ۔ جس میں عربی، فارسی، اردو، سندھی، کشمیری وغیرہ شامل ہیں۔ مگر اس کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی۔ (یہ بھی پڑھیں اردو شاعری کا آغاز و ارتقاء‎ – ساجد حمید )

غرض کسی بھی تحریر کو کمپیوٹر کی زبان میں تبدیل کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی کوڈ بہت ضروری ہے۔ اردو بلکہ کسی بھی ہندوستانی زبان کے لیے جو سافٹ ویئرز بناۓ گۓ وہ سبھی اسی آسکی نظام پر تھے۔

اب میں مقبول سافٹ ویئر ان پیج کی مثال دیتے ہوۓ بتانے کی کوشش کروں گا کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے اور مثال اسی لفظ کی لوں گا جو پہلے بھی لی تھی یعنی لفظ "مستقبل” کی۔

اب میں یہ فرض کر کے چل رہا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ حرف "م” کس طرح ٹائپ ہو گا اور حرف "س” کس Key سے ٹائپ ہو گا۔ اب آپ کسی Key کی مدد سے حرف "م” ٹائپ کرتے ہیں تو اسکرین پر آپ کو مفرد حرف "م” نظر آۓ گا۔ پھر کمپیوٹر (صحیح طور پر اس کا ٹیکسٹ انجن) یہ انتظار کرے گا کہ آپ اس حرف کے بعد سپیس بار دبا کر خالی جگہ چھوڑتے ہیں یا فوراً کوئی دوسرا حرف ٹائپ کرتے ہیں۔ اگر آپ نے اسپیس بار دبائی تو وہ سمجھ لے گا کہ یہ” م” لفظ کا آخری حرف ہے اور اس کی شکل یہی مفرد رہے گی۔ مگر جب آپ مستقبل ٹائپ کرنے کے لیے اگلا حرف "س” ٹائپ کریں گے تو یہ انجن پہلے دیکھے گا کہ "م” اور "س” کی ملحقہ صورت کیا ہے اور اب آپ کو "مس” دکھائی دے گا۔ آپ کے "ت” ٹائپ کرنے پر” مس” کی شکل فوراً بدل کر "مست” ہو جاۓ گی اور اس کے بعد کا "ق” ٹائپ کرنے پر "مستق” ۔ پھر” ب” ٹائپ کرنے پر”مستق” "مستقب” سے بدل جاۓ گا۔ پھر "ل” کے بعد” مستقبل”بن جائے گا اور جب آپ نے اس کے بعد سپیس بار ( وقفہ یا کاما ) دبائی تو یہ انجن جان لے گا کہ اس لفظ کی یہی آخری شکل ہے اور "مستقبل” کی شکل میں کوئی مزید تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔ (یہ بھی پڑھیں دشتِ دہشت اور محمد حمید شاہد کے افسانے – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )

اس سافٹ ویئر میں اس طرح استعمال میں آنے والے حرفوں کے ہر مجموعے کی شکلیں (Glyphs) موجود ہیں اور یہ سافٹ ویئر کا ہی کام ہے کہ وہ دیکھے کہ اگلی شکل جو بننے والی ہے وہ کس فانٹ میں ہے اور اس شکل کا متعلقہ فانٹ کا آسکی کوڈ کیا ہے۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ "م” فانٹ نمبر ایک میں انگریزی کے "جی” کی جگہ ہے تو "مست” ممکن ہے کہ فانٹ نمبر دس میں سوالیہ نشان کی جگہ پر۔ اس طرح اس سافٹ ویئر میں نستعلیق کے لیے کل 85 فانٹ استعمال کیے گۓ ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہر فانٹ میں صفر سے 255 (کل256 ) آسکی کوڈ والے کریکٹرز استعمال میں آۓ ہیں۔ غرض ان پیج میں ان سارے فانٹس کو ایک ہی نام دیا گیا ہے اور وہ ہے نوری نستعلیق۔ جب کہ پورا لفظ "مستقبل” ہی ان میں سے ایک فانٹ کی شکل (Glyph) ہے۔

آسکی کوڈ پر منحصر کسی بھی نظام کے سافٹ ویئر کے ساتھ یہی مشکل ہے کہ جب آپ مجھے اس کی فائل دیں گے تو مجھے بھی اس کو پڑھنے کے لیے اسی سافٹ ویئر کی ہی ضرورت ہو گی۔ ہندی وغیرہ کے سافٹ ویئر میں تو یہ ہے کہ آپ مجھے فانٹ کی فائل بھی دے دیں تو میں اس فانٹ کو انسٹال کر کے آپ کی تحریر پڑھ سکوں گا۔ مگر ان پیج میں تو آپ کی تحریر میں 89 فانٹس ہیں۔ لفظ "تحریر” میں ہی دو الگ الگ فانٹس ہیں "تحر” کا الگ اور” یر” کا الگ۔ پھر آپ مجھے ان پیج کی فائل دیں تو میں بغیر ان پیج کے تو پڑھ نہیں سکوں گا۔ اس طرح اس میں فائل شیئر نہیں کی جا سکتی۔ اس کی ترکیب ان پیج والوں نے ہی یہ نکالی ہے کہ آپ ہر صفحے کو ایک تصویر (Graphics) کی شکل میں تبدیل (Import) کر سکتے ہیں۔ اب آپ اس تحریر کی تصویر دیکھ سکتے ہیں (جو کہ ایک GIF فائل کی شکل میں ہوتی ہے)۔ انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو سے متعلق بے شمار ویب سائٹس میں اسی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔

مگر پرنٹنگ پریس میں جہاں نئی نئی ٹیکنالوجی اپناتے ہوۓ ہر تحریر کو مختلف طریقے سے چھانٹا جاتا ہے۔ مثلاً رنگوں کو علیحدہ کیا جاتا ہے جو پریس میں استعمال کی جانے والی تین یا چار رنگوں میں ہی ہر رنگ پیدا کر سکے۔ ان کو تحریری فائل کی ایک اور شکل درکار ہوتی ہے جسے پرنٹرس کی زبان میں پوسٹ اسکرپٹ کہتے ہیں۔ یہ سب ان پیج میں ممکن نہیں۔ مگر ان پیج کے حالیہ ورژنز میں یہ سہولت بھی ہے کہ آپ اس کے ٹیکسٹ فریم کو تصویر کی طرح کاپی کر کے کورل ڈرا نامی ڈی۔ٹی۔پی سافٹ ویئر میں پیسٹ کر سکتے ہیں اور وہاں اس کے ہر حرف کو بنایا بگاڑا جا سکتا ہے اور اس طرح پرنٹنگ پریس والے عموماً اردو تحریر چھاپتے ہیں۔

یہ سب مشکلات اس باعث بھی تھیں کہ اردو کا الگ سے کوئی قابل قبول کوڈ موجود نہیں تھا۔ اردو ہی نہیں، دنیا کی بیشتر زبانوں کا یہی حال تھا۔ کچھ زبانیں تو اوپر سے نیچے بھی لکھی جاتی ہیں جیسے چینی اور جاپانی اور ان زبانوں میں حروف نہیں بلکہ پورے الفاظ کے لیے کوئی شکل (Glyph) اسستعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ 1991ء میں کمپیوٹر کی کچھ بڑی کمپنیوں جیسے ایپل، مائیکروسافٹ، اڈوبی وغیرہ نے ایک نئے آفاقی کوڈ کے بارے میں سوچا۔ اسے آفاقی کوڈ (Unicode) کہا جاتا ہے۔ یہ پہلے 16بٹ نظام تھا اور اس طرح اس میں دو پر 16 کی طاقت یعنی 65536 کریکٹرز کی گنجائش تھی اور اب اسے 32 اور 64 بٹ نظام کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس میں کتنی زبانوں کے ہر کیریکٹر کو شامل کیا جا سکے گا۔ اردو اس سلسلے میں عربی حصے کا ہی استعمال کرتی ہے اور اسی میں سندھی، پشتو، کشمیری وغیرہ کئی زبانوں کے کریکٹرز شامل ہیں۔ ہندی سے حاصل اردو کے مخصوص حروف ٹ، ڈ، ڑ وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں اور تین نقطوں والی ف بھی جو سندھی میں شامل ہے۔ اب اس کوڈ کا استعمال کر کے تحریر کی جاۓ تو فانٹ کی کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ جس طرح کمپیوٹر کسی مخصوص آسکی فانٹ کی عدم موجودگی میں کوئی بھی فانٹ استعمال کر لیتا تھا اور دوسری زبانوں کی مخصوص فانٹ کی تحریروں کو پڑھنے کی کوشش میں Î Ï Ð Ñ Ò Ó Ô Õ جیسے حروف دکھائی دیتے تھے، اب ایسا نہیں ہو گا اگر یونی کوڈ میں تحریر لکھی جاۓ۔ میں جس فانٹ میں یہ مضمون ٹائپ کر رہا ہوں وہ اگر آپ کے پاس موجود نا بھی ہو تو بھی کمپیوٹر کوئی دوسرا فانٹ ایسا چن لے گا جس میں اردو کے کریکٹرز شامل ہوں۔ جیسے عام فانٹ Times اور Arial اور یہ تحریر نستعلیق میں نہ سہی، نسخ فانٹ میں پڑھی تو جا سکے گی۔ یہ یونی کوڈ نظام مستقل ترقی پذیر ہے۔

مائیکرو سافٹ کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 2000 اوراس کے بعد کے ورژنز پوری طرح یونی کوڈ پر منحصر ہیں۔ ایک اور آزاد آپریٹنگ سسٹم لِنکس تو تقریباً دس سال سے اس کوڈ کو استعمال کر رہا ہے۔ اب آپ اس کے اہل ہیں کہ سادہ ٹیکسٹ ایڈیٹر جیسے نوٹ پیڈ میں بھی اردو میں تحریر لکھ سکتے ہیں۔ اسی کوڈ کا استعمال کر کے ای میل بھی بھیج سکتے ہیں، جسے حاصل کرنے والا بھی پڑھ سکے گا۔ اس کے لیے کسی مخصوص سافٹ ویئر کی چنداں ضرورت نہ ہو گی۔ اس میں دو راۓ نہیں کہ یونی کوڈ ہی مستقبل ہےاور اب آسکی نظام قریب المرگ ہے۔

 

آخر میں ایک اہم بات:

اس بات سے مجھے بے حد تکلیف ہوتی ہے کہ اس آفاقی کوڈ کے باعث جب اردو میں کام کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے تو اس کے استعمال کی ٹریننگ کیوں نہیں دی جاتی۔ کمپیوٹر رسالے (جو اردو میں نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں) ہی نہیں دوسری زبانوں اور انگریزی کے رسالےبھی اس سلسلے میں خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اس کوڈ کے ذریعے ہندوستان کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر زبان لکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح کئی اکادمیاں اردو ڈی۔ٹی۔پی کی ٹریننگ دیتی ہیں۔ مگر میری ناقص معلومات کے مطابق یہ سب بھی محض ان پیج اور اردو پیج کمپوزر کی ہی ٹریننگ دیتی ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ پاک و ہند میں قائم اردو زبان و ادب کی ترقی اور ترویج کے ادارے اس سلسلے میں پیش قدمی کریں گے۔ جب تک یہ بات عام نہیں ہوتی کہ اب کسی زبان میں کام کرنے کے لیے کسی خاص سافٹ ویئر کی ضرورت نہیں ہے، اردو دنیا میں ہر طرف ان پیج کا استعمال بلکہ اگر سچ کہوں تو اس کی چوری (Piracy) جاری رہے گی۔

ساجد حمید

ایم فل اردو

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

4 comments

راج محمد آفریدی مئی 25, 2021 - 3:12 صبح

بہت داد ۔۔۔ اردو میں لکھنے والوں کے لیے ایک اہم مضمون

Reply

Leave a Comment