Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

ہماری تعلیم اور سائنسی نقطۂ نظر – ڈاکٹر وسیم انور

by adbimiras نومبر 22, 2021
by adbimiras نومبر 22, 2021 0 comment

ہندوستانی آئین میں درج بنیادی فرائض میں سے ایک کے مطابق، ہندوستان کے ہر شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ سائنسی نقطہ نظرکو فروغ، انسانیت پرستی اورحصول علم اور اصلاحات کے جذبے کو پروان چڑھائیں۔ سائنسی نقطہ نظر کی عدم موجودگی توہم پرستی کو فروغ دیتی ہے توہم پرستی ہمارے سماج اور ملک اور دنیا کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اس لیے ہندوستان کے شہریوں کا بنیادی فرض ہے کہ وہ توہم پرستی کو سماج سے باہرنکال پھینکیں۔ توہم پرستی وہ تاریکی ہے جسے سائنسی نقطہ نظر کی روشنی میں جڑسے مٹایا جاسکتا ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ پڑھے لکھے اور فنی علم رکھنے والے لوگ بھی توہم پرستی میں مبتلا ہیں۔ یہ اس لیے ممکن ہے کیونکہ سائنسی نقطہ نظر سے سائنس اور تکنیکی علم کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ سائنسی نقطہ نظر کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس لیے سائنس سے زیادہ سائنسی نقطہ نظر اور سائنسی شعور کے فروغ کی بات کی جاتی ہے۔

ہندوستانی آئین نے ہم ہندوستانیوں کو ’’اپنے رسم و رواج، روایات اور اپنے متعلقہ مذاہب کو برقرار رکھنے‘‘ کی آزادی دی ہے۔ رسم و رواج، ثقافت اور مذہب کے نام پر ایسے کام کرنا، جن کے کرنے کی وجہ معلوم نہ ہواوربغیر جانچے پرکھے اس کو ماننا اورقبول کرنا، توہم پرستی کے زمرے میں آتے ہیں۔ وجہ جاننے کے باوجود اگر وہ اعمال مطلوبہ نتیجہ نہ بھی دیں تب بھی ان کاموں کو کرتے رہنا توہم پرستی ہے۔ توہم پرستی نہ صرف ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر بھی کمزور کرتی ہے۔ یہ ہماری سوچنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتی ہے اور ہمیں انتہا پسنداورجنونی بنا دیتی ہے۔ توہم پرستی ایک ایسا نشہ ہے جس کے مضر اثرات سب جانتے ہیں۔ لیکن یہ لوگوں کو اس کے بارے میں بات کرنے یا اس کے عادی ہونے کے بعد صحت یاب ہونے کی کوشش کرنے سے بھی روکتاہے۔ نتیجے کے طور پر، لوگ اپنی توہم پرستی کو روایت اور مذہب کے نام پرڈھوتے رہتے ہیں۔ توہم پرستی کا فروغ فرد اور سماج، ملک ا و رقوم کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ لہٰذا، ہم ہندوستانیوں کا، ہندوستان کے شہری ہونے کے ناطے، معاشرے سے توہم پرستی کو ختم کرنا بنیادی فرض ہے۔

سائنسی نقطہ نظر بنیادی طور پر ایک نظریہ یا سوچ ہے جو کسی بھی حادثہ یا واقعہ کے پیچھے کے عمل کو جاننے کے رجحان پر مبنی ہے۔ سائنسی نقطہ نظر ہمارے اندر استفسار کی جبلت پیدا کرتا ہے اور دانشمندانہ فیصلے لینے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر کی شرط یہ ہے کہ کوئی بھی بات دستیاب دلائل وشواہد کے مطابق ہی قبول کی جائے، یعنی سائنسی نقطہ نظر ہمیں منطقی طور پر سوچنا سکھاتا ہے۔

آزادی کے بعد احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے اور ملک کے لیے سائنسی نقطہ نظر بہت ضروری ہے، لیکن ہمارے ملک کی روایات، رسم و رواج اور توہمات اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے اور ہمارے معاشرے میں سائنسی رویہ پروان نہ چڑھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ 1976 میں آئین کی 42ویں ترمیم کے ذریعے سائنسی رویہ کی ترقی کو بنیادی فرائض میں شامل کیا گیا اور پھر آہستہ آہستہ اس میں کچھ کام سامنے آنے لگے۔ ہمارے ماہرین تعلیم نے فیصلہ کیا کہ طلبائ کے پڑھنے کے مواد اور پیشکشوں کو سائنسی انداز میں پیش کیا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اپنے تجسس کو بڑھانے کے لیے عملی جوابات تلاش کریں۔ آہستہ آہستہ سائنسی طریقہ کار اور سائنسی نقطہ نظر کی سمجھ پیدا ہو سکتی ہے۔ ہماری ہر قومی تعلیمی پالیسی میں کسی نہ کسی حد تک سائنسی نقطہ نظر موجود ہے لیکن اسے نصاب میں شامل نہ کرنے اور سائنسی نقطہ نظر سے متعلق مضامین کی کمی کی وجہ سے طلبہ میں سائنسی رویہ پیدا نہیں ہو سکا۔ ہمارے آئین سازوں نے شاید سائنسی رویہ کو بنیادی فرائض کی فہرست میں یہ سوچ کر شامل کیا ہو گا کہ مستقبل میں سائنسی علم اور علم کے اضافے سے سائنسی رویوں کا حامل سائنسی شعور رکھنے والا معاشرہ تشکیل پائے گا، لیکن موجودہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ جب سائنس دانوں کا سماجی رویہ براہ راست سائنسی نقطہ نظر کے خلاف ہو تو دوسرے دانشوروں اور عام پڑھے لکھے لوگوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

سائنسی نقطہ نظر کا تعلق استدلال سے ہے۔ جو چیز تجربہ اور نتیجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ درست ہے جس میں سبب کا تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ فلسفہ کی زبان میں اسے علت و معلول(کاز اینڈ ایفیکٹ) کہتے ہیں، جو انسان، سماج اور کائنات کے درمیان نظم و ربط کو سمجھنے اور سمجھانے میں فکری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ بحث، دلیل اور تجزیہ سائنسی نقطہ نظر کے اہم حصے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سائنسی نقطہ نظر انصاف، انسانیت، جمہوریت، مساوات اور آزادی کی تعمیر میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر روزمرہ کی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہماری عام فہم کو فروغ دیتا ہے۔ اس رجحان سے انسان توہمات اور تعصبات سے نجات پا سکتا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ آج کا دور سائنس کے ساتھ مکمل طور پر ترقی کا دور ہے۔ ایسی صورت حال میں نہ صرف بنیادی اسباق کارآمد ہوں گے بلکہ بچوں میں شروع ہی سے سائنسی سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا۔ توہم پرستی سے پاک، سائنسی نقطہ نظر کے ساتھ، روایتی مذاہب، ذات پات اور نسل پرستی سے ماورا، باہمت تعلیم یافتہ، صحت مند اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے مزین ’’ہیومنسٹ ورلڈ سوسائٹی‘‘سائنسی نظریے کے بنیادی ستون ہیں۔ یہ بھی زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔

ہمارے یہاںسائنس کی تعلیم بہتر انداز میں نہیں دی جا رہی ہے۔ زیادہ زور رٹے پر ہی ہوتا ہے۔ انفرادی سوچ کی اہمیت پر کم ہی دھیان دیا جاتا ہے۔ اسباق کی رٹنت سے اچھے نمبر مل سکتے ہیں لیکن بچے میں استدلال کی قوت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب بچہ مسلسل کسی چیز کے بارے میں غور و فکر کرتارہتا ہے۔ موضوع پر بحث کرنے کے لیے متعلقہ موضوع پر اچھی گرفت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے تندہی اور خلوص سے مطالعہ کرنا چاہیے لیکن اگر کسی موضوع کا مطالعہ کیا جائے اور پھر اس پر منطقی گفتگو کی جائے تو اچھے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

سائنسی نقطہ نظر سے متعلق مضامین اور طریقوں کی دستیابی کے باوجود وہ کون سے حالات ہیں جو طلبہ میں سائنسی رویہ کی نشوونما میں رکاوٹ ہیں اور طلبہ میں سائنسی رویہ کی کمی کے ذمہ دار ہیں؟ جدید سائنس کی آمد کے ساتھ، طبعی اور حیاتیاتی دنیا کے بارے میں انسان کے علم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سائنس نے انسان کی صلاحیتوں اور حدود کو وسعت دی ہے۔ آج، بے شمار آلات و اوزار ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ہمارے معاشرے کی اکثریت خواہ وہ تعلیم یافتہ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ، ظالمانہ اور راسخ العقیدہ مذہبیت کے کٹر حامی ہیں۔ لیکن دوسری طرف برائیوں، خرافات، دقیانوسی تصورات، توہمات اور منافقت نے بھی ہماری زندگی اور معاشرے میں جگہ بنائی ہوئی ہے۔ آج ہر پڑھا لکھا آدمی سائنسی ایجادات کو جاننا اور سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ ٹی وی، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے ہر روز نئی خبریں تلاش کرتا ہے۔ دوسری طرف یہ پڑھے لکھے لوگ بھی برائیوں، خرافات، دقیانوسی تصورات، توہمات اور منافقت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سے سائنسدان بھی ان توہمات اور برائیوں کا شکار ہو کر حیرانی میں ڈال دیتے ہیں۔

آخر سائنس میں اتنی ترقی کے بعد بھی ہم خیالی بھوتوں، ٹوناٹوٹکا، تناسخ، نجوم اور دیگر خرافات اور توہمات پر کیوں یقین رکھتے ہیں؟ لڑکی کی پیدائش پر لوگ عورتوں کو کیوں مارتے ہیں؟ جبکہ ہماری کتابیں برسوں سے یہ درس دے رہی ہیں کہ لڑکی یا لڑکے کی پیدائش کے لیے ماں ذمہ دار نہیں ہے، راہو کیتو کوئی سیارہ نہیں ہے، چاند گرہن عام آسمانی مظاہر ہیں، بھوت پریت نفسیاتی امراض ہیں، علم نجوم اور واستو شاستر سائنس نہیں ہیں، روحانی اورشیطانی طاقت نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ کچھ نجومیوں، تانترکوں، سادھوؤں اور منافق بابائوں، سنتوں وغیرہ کے سیاہ اعمال ہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سے غیر سائنسی نظریات ہماری عوام میں عام ہیں اور ہمارے مشترکہ جذبہ ایمانی کا حصہ ہیں۔ جیسے جنات کو کوئی غیرمرئی مخلوق تصور کرنا، جنات کی حاضری، جنات کا انسانی اجسام کو چمٹ جانا وغیرہ۔ سائنسی نظریہ کی قبولیت کے لیے قدیم مذہبی تقلیدی عقائد اور ایمانیات سے نکلنا بہت ضروری ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ توہمات، راسخ العقیدت اور برائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ کسی بھی چیز کو بغیر کسی ثبوت کے ماننے کا رجحان ہے، یعنی سائنسی نقطہ نظر کا مکمل فقدان۔ ان دنوں بہت سے سیوڈو سائنسی نظریات رائج ہیں، جن میں ایکیوپنکچر، ایکیوپریشر، آیوروید، ایکسٹرا سینسری پرسیپشن، نیومرولوجی، میگنیٹ تھراپی، علم نجوم، فینگ شوئی ٹپس، ریکی تھراپی، واستو شاستر، پامسٹری، ہومیوپیتھی، ٹیلی پیتھی، کوانٹم میڈیسن، وغیرہ شامل ہیں۔ سائنس ان میں سے کسی بھی سیوڈو سائنسی تھیوری کو تسلیم نہیں کرتی۔ سیوڈو سائنسی نظریات پر عمل کرنے سے ہمارا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، معاشی نقصان ہوتا ہے، مفید چیزیں تباہ ہوتی ہیں اور بیان بازی اور فریب کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس لیے اسے مزید فروغ نہیں دینا چاہیے۔

سائنسدان ہو یا عام آدمی، ہر ایک میں سائنسی رویہ کا فقدان ہے۔ لیکن سائنسدان بھی غیر سائنسی برتاؤ کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ سائنسدانوں میں بھی عام انسانوں کی طرح بچپن میں سکھائی جانے والی اقدار کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہوتی اور وہ کسی نادیدہ قوت یا مافوق الفطرت طاقت سے ڈرتے ہیں۔ آج ہمیں دانشور یا سائنسداں کہلانے کا حق صرف ان لوگوں کو دینا چاہیے جو اپنے رویے میں واقعی سائنسی ہوں۔ موجودہ صورت حال بہت تشویشناک ہے کیونکہ آج توہمات، خرافات اور سیوڈو سائنسی حقائق تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آج بھی روایت کے نام پر جھوٹی روایتی رسومات کو فروغ دیا جا رہا ہے جو ہماری ضروریات کے مطابق نہیں ہیں۔ ایسے رسم و رواج پر نظرثانی کی ضرورت ہے، جو سائنسی نقطہ نظر کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے ہندوستان میں سائنسی نقطہ نظر کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں سائنسی نقطہ نظر اپنائیں تو ذاتی اور سماجی واقعات کے عقلی اسباب کو جان سکیں گے۔ جس سے عدم تحفظ اور غیر ضروری خوف کے احساس سے نجات مل جائے گی۔ توہمات کیوں پروان چڑھتے ہیں؟ اس کے پیچھے بھی نفسیات ہے۔ توہم پرستی سوچنے کا ایک طریقہ ہے، ہماری ذہنی ساخت کا ایک لازمی حصہ ہے اور بعض حالات میں ظاہر ہوتا ہے۔ توہم پرستی ہمارے جذباتی رجحانات پر پنپتی ہے۔

قدرتی مظاہر، افعال اور ان کے پیچھے کارفرما وجوہات جاننے کے انسانی تجسس نے ایک منظم طریقہ کار کو جنم دیا جسے ہم ’سائنسی طریقہئ کار‘ یا ’سائنسی طریقہ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں سائنس دان سائنسی کام میں جو طریقہ استعمال کرتے ہیں اسے سائنسی طریقہ کہتے ہیں۔ سائنسی طریقہ کار کی اہم اکائیاں:تجسس، مشاہدہ، تجربہ، معیار اور مقداری تجزیہ، ریاضیاتی ماڈلنگ اور پیشن گوئی ہیں۔ سائنس کے کسی بھی اصول میں ان اکائیوں کی موجودگی ضروری ہے۔ سائنس کا کوئی بھی اصول، چاہے وہ آج درست کیوں نہ ہو، ان معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے رد کر دیا جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر رکھنے والے لوگ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے سائنسی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سائنسی طریقہ صرف سائنس سے متعلق کاموں میںاستعمال ہوتا ہے، اس کا اطلاق ہماری زندگی کے تمام کاموں میں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ہم سب کے تجسس سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر شخص چاہے وہ سائنسدان ہو یا نہ ہو، سائنسی رویہ اپنا سکتا ہے۔ درحقیقت، سائنسی نقطہ نظر روزمرہ کی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہماری عام فہم کو فروغ دیتا ہے۔ زندگی میں اس رجحان کو اپنا کر توہمات اور تعصبات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

توہمات اور تعصبات کے مسئلے کو حل کرنے اور طلبائ اور اساتذہ میں سائنسی رویہ پیدا کرنے کے لیے عملی اور نظریاتی دونوں پہلوؤں پر یکساں طور پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ طلبائ اور اساتذہ کے مسائل کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنا، اساتذہ کی ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد، اساتذہ کا سروے کرکے ڈیٹا اکٹھا کرنا، ماہرین تعلیم سے ملاقات کرتے ہوئے عمومی اور خصوصی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اگر اساتذہ میں سائنسی رویہ پیدا ہو جائے تو رفتہ رفتہ طلبہ اور معاشرے میں سائنسی رویہ کے فروغ کی راہیں کھلتی ہیں۔ استاد طلبہ کا پہلا رول ماڈل ہوتا ہے، طلبہ کتابوں سے سیکھنے سے زیادہ استاد کی شخصیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے استاد میں سائنسی رویہ پیدا کرنابے حدضروری ہے۔ تاکہ وہ اپنے مسائل خود حل کر سکیں، تدریس کو آسان بنا سکیں اور تدریس کے ایسے طریقے تیار کر سکیں جو طلبائ کی صلاحیتوں کو نکھار کر ایک ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادکے لیے زمین ہموارکر سکیں۔ طلبائ کو ایسے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ ان میں سائنسی رویہ پیدا ہو سکے۔ وہ کسی بھی چیز کو منطق کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی قبول کریں۔ وہ اپنے معاشرے کی غلط فہمیوں کو ترک کر دیں۔ تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو اچھے شہری تیار کرے، جو معاشرے کو ایک نئے زاویے سے دیکھیں۔ وہ اپنے تجسس کو اپنے ساتھیوں، والدین، اساتذہ کے سامنے رکھیں، انہیں سمجھیں اور اپنی سمجھ کو منطق کی بنیاد پر استوار کریں۔

مختصر یہ کہ ہمارے اساتذہ اور طالبہ کو سائنسی سوچ اور سائنسی نقطہ نظر سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک تعلیمی اداروں میں جدیدعلوم و فنون اور سائنسی نقطہ نظر سے آراستہ تعلیمی ماحول مہیا نہیں کیا جائے گا، معاشی و سائنسی پسماندگی سے نجات ممکن نہیں ہے۔ یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ انسانیت پسندی اور سائنسی نقطہ نظر ایک ساتھ ترقی کرتے ہیں، کیونکہ یہ شخصیت کی نشوونما کی دو مختلف جہتیں ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو طلبائ میں سائنسی رویہ اور تجسس پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے، تاکہ بچے اپنے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کر سکیں۔ آج کا طالب علم کل کا شہری ہے، سائنسی نقطہ نظر اور منطقی سوچ سے جو ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل پائے گا وہی دیس دنیا کی ترقی کی بنیاد ہوگا۔ اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ سائنسی نقطہ نظر اور سائنسی شعور کو اپناتے ہوئے ایک ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں۔

٭٭٭

 

Dr. Waseem Anwar

Assistant Professor

Department of Urdu

Dr. H. S. Gour University, Sagar M. P.

wsmnwr@gmail.com, 9301316075

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ناموسِ رسالت کی توہین : ہم کیا کریں؟ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ
انجمن ترقی اردو دہلی  کے زیر اہتمام اور  غالب انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے یوم ذوق کا انعقاد

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں