موجودہ دور میں فکشن کا ذوق رکھنے والا تقریباً ہر قاری حمید سہروردی کی ادبی خدمات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان کے افسانوں کا غائر مطالعہ جہاں ہمیں فرد کی بے بضاعتی، بے اعتنائی، بے وقعتی اور بے رشتگی کا احساس دلاتی ہیں وہیں سماج کی کج روی، بے جہتی اور بے ربطی کا نوحہ خواں بھی ہے۔ انھوں نے زندگی کے مختلف رنگوں کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا، بلکہ اپنے تجربات اور لفظوں کے تراش خراش کے ذریعہ ان واقعات کی پوری منظر کشی کی جیسے بذات خود وہ ان واقعات کا حصہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیشتر افسانوں کو پڑھتے ہوئے وہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے ابھر آتے ہیں جس کا ذکر ان کی تخلیقات میں در آیا ہے۔ حمید سہروردی نے اپنے بیانیہ کے لیے جس انداز بیان کا سہارا لیا ہے وہ بھی اس قدر سحر انگیز ہے کہ قاری خود کو ناظر محسوس کرتا ہے، اور یہ کسی بھی افسانہ نگار کے فن یا اس کے قادرالکلام ہونے کی دلیل ہے۔
یوں تو حمید سہروردی نے اپنی تخلیقات میں حیات انسانی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی ہے لیکن اس مختصر مضمون میں ان تمام جہات کا احاطہ ممکن نہیں۔ لہٰذا یہاں ان کے فقط ایک گوشے سے بحث کی جائے گی۔ میری مراد نفسانی یا جنسی خواہشات کی تکمیل سے ہے۔ ادب کی دنیا میں اس قسم کی خواہشات کا اظہار کوئی نئی بات نہیں ۔ ایک زمانے سے ہمارے مفکرین اور مصنفین اس پر خامہ فرسائی کرتے چلے آرہے ہیں۔ البتہ ان خیالات کی عکاسی میں جذبے کی شدت اور احساس کی گرمی کا فرق ضرور واقع ہوتا رہا ہے۔ جس کا مشاہدہ جتنا وسیع ہوگا اس کے خیالات اتنے ہی گہرے ہوں گے۔ اس ضمن میں حمید سہروردی کا مشاہدہ قدرے عمیق معلوم ہوتا ہے۔ جس کا اظہار ان کے افسانوں میں جابجا دکھائی دیتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں قصیدہ اور غزل: صنفی امتیازات و افتراقات کے پہلو – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )
’بیانیہ‘ سے تعلق رکھنے والے اصناف ادب میں جس طرح خواب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح اس امر سے بھی انحراف ممکن نہیں کہ انسان جس چیز کے لیے زیادہ فکرمند رہتا ہے، خواب بھی اسی نوعیت کے آتے ہیں اور اس خواب کے ذریعہ مصنف نہایت آسانی سے افسانے کے لیے پلاٹ یا کہانی کے لیے راہیں ہموار کرتا چلا جاتا ہے۔ حمید سہروردی نے بھی اپنی تخلیقات میں اس تکنیک کا بہترین استعمال کیا ہے۔ افسانہ ’بے بضاعتی‘ میں رومانیہ کے تئیں فیروز کی جنسی خواہشات کی تکمیل اور اسے پالینے کی خواہش اتنی شدت اختیار کرلیتی ہے کہ خواب میں وہ ساری حرکتیں کر گذرتا ہے جو اس کے لیے حقیقت میں شاید ممکن نہ تھیں۔ افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
… وہ کروٹ بدلتا ہے ۔ پھر سیدھا ہوتا ہے…
… ارے رومانیہ… رومانیہ… جلدی آئو۔!
ہاں ہاں، میرے سامنے بیٹھو… ہم دونوں ہوا کے گھوڑے پر سوار آسمانوں کی سیر کریں گے… ہم دونوں اوپر ہی اوپر جا رہے ہیں… کیوں رومانیہ! اس نے گھوڑے کی لگام اس کے ہاتھ میں تھما دی ہے اور اس کے پیٹ کو دبا کر پکڑ لیا ہے… اس کی پشت اس کی گود میں ہے… رومانیہ کچھ بھی تو نہیں کہہ رہی ہے… کیا رومانیہ بھی یہی چاہتی تھی… کتنے دن میں نے ضائع کیے… کاش…!
…رومانیہ اپنے جسم پر سے ایک ایک کپڑا اتار رہی ہے!
…بس، رومانیہ … بس! وہ اور رومانیہ آسمان سے زمین کی طرف آرہے ہیں۔۔۔ ’کھٹ۔۔۔کھٹ۔۔۔کھٹ۔۔۔کھٹ۔۔۔ سانکل کی آواز۔
کون ہے؟
میں دودھ والا، ساب…!
فیروز کی آنکھیں کھل گئیں۔
ہر روز بستر پر سونے والی بلی اس کے بستر پر نہیں تھی۔ ۱؎
۱؎ (شہرکی انگلیاں خونچکاں، بے بضاعتی، از حمید سہروردی، ترتیب وتسوید: ڈاکٹر غضنفر اقبال، انجینئرخرم مراد، کاغذ پبلیشرز، 2015، ص۔298-299)
درج بالا اقتباس کے ذریعہ مصنف نے فیروز کی شکل میں مرد کی جنسی خواہش کی شدت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ بستر پر سونے والی بلی کا بستر پر موجود نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خواب میں رومانیہ کے پیٹ کو دبا کر پکڑنے یا اس کی پشت کو اپنی گود میں رکھنے والافیروز دراصل اپنی ہی بلی کے ساتھ شاید وہ تمام حرکتیں انجام دے رہا تھا، جس کا اندازہ بستر پر بلی کی عدم موجودگی سے لگایا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پرھیں مجید حسن اور اخبار’مدینہ‘ بجنور – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )
افسانے کے پلاٹ کو سجانے اور اسے نکھارنے کے لیے حمید سہروردی نے خواب کے ساتھ تخئیل کا سہارا بھی خوب لیا ہے۔ انسان اپنے تخئیل کے ذریعہ وہ ساری چیزیں دیکھ اور کسی حد تک محسوس کرسکتا ہے جو اس کے دسترس سے باہر ہوں۔ مثال کے طور پر ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
میری نگاہ مخاطب سے بات کرتے ہوئے
تمام جسم کے کپڑے اتار لیتی ہے
یہاں شاعر تخئیل کے ذریعہ مخاطب کو جس نگاہ سے دیکھتا ہے یا جو فعل انجام دیتا ہے وہ حقیقت میں اس کے لیے ممکن نہ تھا، لیکن اپنے تصورات میں وہ اپنی نفسانی یا جنسی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ ضرور تلاش کرلیتا ہے۔ حمید سہروردی نے افسانہ ’بے منظری کا منظر نامہ‘ میں دو کرداروں کے مابین ہونے والے مکالموں میں تخئیل کا کس قدر خوبصورت نمونہ پیش کیا ہے ، دیکھیں:
تم میرے باہر ہی باہر ہو کر کتنی اندر ہوتی جارہی ہو۔۔۔ اور میں نے کہا تھا، جب تم میرے سامنے آجاتی ہو تب میں تمھیں برہنہ مورتی کی صورت میں دیکھ لیتا ہوں، اور محسوس کرنے لگتا ہوں کہ تمہارے سڈول اور جاذب نظر جسم کو کھلی آنکھوں سے دیکھوں، اور تمہارے تیکھے نقوش اور رسیلے ہونٹوں کو چوسوں… ۲؎
۲؎ (شہرکی انگلیاں خونچکاں، بے منظری کا منظر نامہ ، ص۔346)
تخئیل کے ضمن میں یہ باتیں کہی جاچکی ہیں کہ انسان اس[تخئیل] کے ذریعہ بہت سی چیزیں دیکھ اور محسوس کرسکتا ہے ۔ درج بالا اقتباس میں افسانے کا متکلم بھی اسی صورت سے دوچار ہے۔ صنف نازک کا کپڑوں میںلپٹے ہونے کے باوجود مرد کا اسے برہنہ مورتی کی شکل میں دیکھ لینا یا اس کے جسم کے خدو خال کو محسوس کرلینا ، موجودہ دور کے سماج پر گہرا طنز ہے۔
حمید سہروردی کے یہاںرات ایک استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے، اور رات استعارہ ہے کرب، خوف، مایوسی، حیوانگی، درندگی، بے چارگی، موت، دہشت، مایوسی، تنہائی، رازداری، اداسی، خاموشی، سناٹا اور زوال کا۔ اس کے علاوہ انھوں نے رات کو مستقل عنوان کے طورپر بھی برتا ہے۔ مثلاً رات: ایک مکالمہ، آدھی رات تک، اترتی رات، ایک اور رات وغیرہ۔ رات ایک ایسا لفظ ہے جس کا استعمال کر کے جدید مصنف ہر اس عمل کا خواہ وہ جنسی آسودگی کا فعل ہو، نفسانی خواہشات کی تکمیل، جرائم پیشہ افراد کی غنڈہ گردی، شیخ کی تسبیح کا ڈھونگ، یا برہمن کے زنار کا پھندا،پردہ چاک کرتا چلا جاتا ہے۔ حمید سہروردی نے بھی شب کی تاریکی میں ہونے والے بے شمار اعمال کا پردہ چاک کیا ہے۔مثال کے طور پر افسانہ ’بے وقعتی‘ میں خودکو مہاتما کہنے والا شخص جس کے پاس پہننے کو کپڑے تک نہ تھے۔ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر ایک دوشیزہ کو بلاتا ہے اورسویرے جب وہ اس عمارت سے نکلتی ہے تو فقیر ، جس نے رات اسی عمارت کے باہر گذاری تھی، کا جملہ کس قدر طنزیہ ہے غور کریں:
دوشیزہ رات بھر اوپر سے نیچے نہیں آئی… علی الصبح وہ لڑکھڑاتے قدموں سے نیچے اتری اور کار میں بیٹھنے سے پہلے اس نے فقیر کو دیکھا ۔
دوشیرہ نے فقیر سے سوال کیا: کیا تم رات بھر سردی میں اکڑتے رہے ہو؟
فقیر نے جواب میں پوچھا: اور تم رات بھر…؟
’’شٹ اپ!‘‘ دوشیزہ نے غصے سے پیر جھٹکا اور آگے بڑھی۔ اس کا پرس زمین پر گر گیا اور اس پرس میں سے لاتعداد نوٹ زمین پر بکھر گئے۔‘‘
فقیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور آنسو معدوم ہوچکے تھے۔ ۳؎
۳؎ (شہرکی انگلیاں خونچکاں، بے وقعتی ، ص۔330)
اس مختصر سے افسانچے میں حمید سہروردی نے غور و فکر کے بے شمار در وا کردیے ہیں۔ اول تواس ڈھونگی مہاتما کے چہرے سے نقاب اتارنے کی کامیاب کوشش کی جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ یہ ایسے تارک الدنیا ہیں جنھوں نے خواہشات کو ترک کر کے گوشہ نشینی اختیار کرلی ہے۔ دوسرے فقیر کی سادہ لوحی میں عوام کے چہرے کو اجاگر کیا ہے۔ تیسرے زمین پر بکھرے نوٹوں کو دیکھ کر فقیر کا مسکرانا اور آنسوؤں کا معدوم ہونا اس بات پر دال ہے کہ فقیر کو مہاتما کی اصلیت کا پتہ چل چکا تھا، چوتھے یہ کہ بکھرے نوٹوں کو دیکھ کر اس نے گمان کیا ہو کہ ان پیسوں میں شاید اس کا بھی کچھ حصہ نکل آئے اور اس خیال کے آتے ہی چہرے پر مسکراہٹ اور آنسوؤں کا معدوم ہونا بعید از حقیقت نہیں۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں، اور وہ پیسے فقیر کے لیے بینائی کی مانند تھیں۔ (یہ بھی پڑھیں ادب اور صحافت کا رشتہ- ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )
حمید سہروردی کے بعض افسانوں میں ان کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا افسانہ ’آدھی رات تک‘ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ زیر بحث افسانے میں انھوں نے اخلاقی، نفسانی اور جنسی ہیجان کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، کہ ایک بچہ جو مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے کس قدر نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوتا ہے۔ (اس کا اطلاق ہر مذہبی خانوادے یا اس کے افراد پر نہیں کیا جاسکتا لیکن اس سے سرے مو انحراف بھی ممکن نہیں۔) افسانے کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے:
۔۔۔بچپن ہی میں مجھے ایسا سبق دیا گیا ہے کہ بڑوں کی باتوں کو نہ ماننا نئی پود کا ایک المیہ ہے اور میرے گھر میں مجھے بہت ہی اخلاقی لڑکا سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ مجھ سے دھوکا کھا رہے ہیں۔۔۔میں دن بھر لوگوں کی زندگیوں پر ترس کھاتا ہوں زیادہ تر دھوکے اور ان لوگوں کو تنہائی میں گالیاں دیتا ہوں۔ یہ گندی عادت میری تب سے شروع ہوئی ہے جب سے مجھے بڑوں کا حکم جبراً ماننا پڑا تھا اور اخلاقی زنجیروں میں ہاتھ پیر باندھ دیے گئے تھے۔ روایت کا سبق دے کر مہذب بنانے کی سعی کی گئی تھی۔ ظاہری طور پر میں اخلاقی ہوں اور اصل میں دھوکے باز… میںایسا بننے پر مجبور ہوگیا ہوں۔ ۴؎
۴؎ (شہرکی انگلیاں خونچکاں، آدھی رات تک ، ص۔454)
درج بالا اقتباس میں ایک ایسے شخص کی نفسیات کی عکاسی کی گئی ہے جس نے بڑوں کی تعظیم و تکریم میں کمی نہ کی، مذہبی ارکان پابندی سے ادا کرتا رہا، اخلاقی اعتبار سے اس کی شخصیت بے داغ ثابت ہوئی، روایت کی پاسداری اس کے لیے حرز جاں تھی، غرض کہ وہ تہذیب و شائستگی کا مکمل نمونہ تھا، لیکن اس کا دل کیا ان تمام باتوں پر مطمئن تھا؟ …نہیں…! اس شخص کی ظاہری ہیئت میں جس قدر سکون اور طمانیت کا عنصر غالب تھا اس سے کہیں زیادہ بے چینی اور انتشار کا مادہ اس کے قلب میں موجزن تھا۔ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر کچھ مدت تک اس نے ان تمام دینی و دنیوی ارکان یا امور کی لاج تو رکھ لی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کینچلی بھی اترتی چلی گئی، اور بالآخر اسے یہ کہنا پڑا ’’۔۔۔میں ایسا بننے پر مجبور ہوگیا ہوں۔‘‘ دراصل حمید سہروردی نے اس افسانے میں ان خانوادوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں بچوں کی نفسیات کو سمجھے بغیر اصول و ضوابط اور اخلاق و فرائض کی بیڑیاں جبراً پہنا دی جاتی ہیں۔ نتیجہ ظاہری طور پر اخلاقی اور مذہبی ہونے کے باوجود باطنی اعتبار سے وہ دھوکے باز ثابت ہوتے ہیں، مگر درحقیقت وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ جس کا احساس وقتاً فوقتاً ضمیر کے کچوکے لگانے سے ہوتا ہے۔
حیات انسانی میں جنس کی اہمیت اور ضرورت ایسی ہی ہے جیسے زندگی کے لیے پانی۔ بلوغت کے ساتھ جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں ایک سرور ایک انبساط کی کیفیت کارفرما ہوتی ہے اور انسان نہ چاہتے ہوئے بھی جنس مخالف کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے۔ ہر شخص سے بیزار ہر شے سے بے پرواہ وہ اپنی نفسانی/ جنسی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ تلاش کرتا پھرتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ خیالات اس کے ذہن و دل پر اس درجہ حاوی ہوجاتے ہیں کہ ع ’’آنکھیں تو کہیں ہے دل غم دیدہ کہیں ہے‘‘ کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی کیفیت کا اظہار حمید سہروردی نے اپنے افسانے میں یوں کیا ہے:
’’کل ہی کی بات ہے ،یعنی کل جمعہ تھا، میں ایک مدت کے بعد مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا تھا۔ امام صاحب خطبہ پڑھ رہے تھے۔ مجھے ایک بات یاد آئی۔۔۔ میرا دماغ باہر فضا میں گھومنے لگا۔ میںنے فوراً اپنے سر کو جھٹک دیا اور امام صاحب کی طرف متوجہ ہوگیا۔ خطبہ ختم ہوا تو نماز کے لیے تیار ہوئے۔ پہلی ہی رکعت میں مجھے وہ لڑکی یاد آئی جس سے میں نے کل شام وعدہ کیا تھا! ’’آج رات آئوں گا(ٹھیک بارہ بجے)۔‘‘ آخ تھو؟ لاحول ولا قوۃ۔۔۔!۔۔۔ نماز میں اتنا برا خیال۔ رکعت توڑ کرجانا چاہا لیکن لوگوں کا ڈر مجھ پر مسلط رہا۔ میں نماز کی طرف متوجہ ہوا لیکن میرا ذہن پھر بھی باہر فضا میں گھومنے لگا۔‘‘ ۵؎
۵؎ (شہرکی انگلیاں خونچکاں، آدھی رات تک، ص۔456)
درج بالا اقتباس میں طنز کی کاٹ بڑی گہری معلوم ہوتی ہے اور یہ طنز کسی فرد پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر ہے۔ ہر شخص اپنے گریبان میں جھانک کر اس کا اندازہ کرسکتا ہے۔ اس اقتباس میں جنس کی شدت اور اس کی قوت کا احساس بھی ہوتا ہے کہ خالق حقیقی کے سامنے کھڑے ہو کر بھی انسان نفس امارہ کے ہاتھوں زیر ہے۔ بقول ذوق ؎
بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا
نہنگ و اژدھا و شیر نر مارا تو کیا مارا
بہرحال جیسا کہ عرض کیا گیا انسان بعض اعمال لوگوں کے خوف یا سماج کے ڈر سے کیا کرتا ہے جس کی واضح مثال نماز میں لڑکی کے خیال آنے اور رکعت توڑ کر جانے کے درمیان لوگوں کے خوف کا مسلط ہوجانا اور وہ اسی حالت میں نمازادا کرتے رہنا ہے۔ حمید سہروردی یہاں فقط یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ انسان کو دنیا کی پرواہ کیے بغیر کسی بھی عمل پر مضبوطی سے کاربند ہونا چاہیے۔ خواہ اس کے لیے اسے کوئی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
افسانہ جیساکہ ہم جانتے ہیں اختصار بیانی کا فن ہے اور اس مختصر پیمانے میں وہ ساری باتیں کہنا جو افسانہ نگار کے ذہن میں موجود ہے، قدرے مشکل ہے۔ بقول شمس الحق عثمانی ’’افسانہ نگار اپنے جملوں کی نوک پلک اسی طرح سنوارتا ہے جس طرح شاعر اپنے اشعار کی۔‘‘ حمید سہروردی کو جملوں کے انتخاب اور اس کے استعمال میں مہارت حاصل ہے۔ وہ اپنے خیالات مختصر مگر واضح لفظوں میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ وسائل نہ ہونے کے باوجود مرد کسی طرح اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کرتا ہے حمید سہروردی کی زبانی ملاحظہ کردیں:
’’ایک فلمی میگزین میں دل چسپی بڑھتی ہے۔۔۔ وقت قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ باہر گلی میں کتا رو رہا ہے۔ ۔ ہماری روایت کے مطابق صبح کسی کی موت کی خبر سنائی دے گی۔ اب چھوٹے کانٹے پر بڑا کانٹا کا حملہ کرنے والا ہے۔ میگزین میں میری دلچسپی بڑھتی جارہی ہے، مجھے خود بھی اس پر تعجب ہورہا ہے۔۔۔ میگزین کی ایک تصویر۔۔۔ تصویر اتنی بڑی کیسے ہوسکتی ہے!۔۔۔ حیرت نہیں لطف۔۔۔ سنسنی۔۔۔ میری گرفت میتگزین پر سخت ہوتی جارہی ہے۔ میری رگوں کا سارا لہو میگزین سے وابستہ ہوچکا ہے۔ یکایک ہاتھ کیرگیں ڈھیلی پڑجاتی ہیں۔ تناؤ کم ہوجاتا ہے، میگزین گرجاتا ہے، اور میں اچھل جاتا ہوں۔ میگزین کو میں ہمیشہ صاف رکھنے کا عادی ہوں۔ مجھے لڑکی کاخیال آتا ہے، پھر جانے کا احساس فضول معلوم ہوتا ہے۔۔۔ گلی میں کتا بھونک رہا ہے۔۔۔شاید صبح سے پہلے ہی ایک موت ہوچکی ہے۔۔۔‘‘ ۶؎
۶؎ (شہرکی انگلیاں خونچکاں، آدھی رات تک ، ص۔457)
درج بالا اقتباس میں کئی باتیں غور طلب ہیں۔ اول عجیب عجیب قسم کا پوز دیکھنا جو آج کل کے نوجوانوں کا دلچسپ مشغلہ ہے۔ دوسرے تصویر کا بڑا ہونا۔ ظاہر سی بات ہے جب انسان کسی چیز میں کھو جاتا ہے تو آس پاس کی چیزیں اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہیںاور مقصود نظر شے کا دائرہ اتنا وسیع ہوجاتا ہے کہ ناظر دنیا و مافیہ سے لاتعلق ہو کر اس میں ضم ہوجاتا ہے۔ تیسرے میگزین پر گرفت کا مضبوط ہونا اور رگوں کے سارے لہو کا میگزین سے وابستہ ہونا جنسی و نفسانی خواہشات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چوتھے یکایک ہاتھوں کی رگوں کا ڈھیلا پڑنا، تنائو کا کم ہونا اور میگزین کا گرجانا اس کی ان حرکتوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتا ہے جس کے ذریعہ جنسی آسودگی حاصل کی جاتی ہے۔ ہوس کی تسکین کے بعد لڑکی کا خیال آنا یا اس سے ملاقات کی خواہش کا غیر ضروری معلوم ہونا عین فطری ہے۔ ان ہی تمام باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حمید سہروردی نے لکھا کہ ’’شاید صبح سے پہلے ہی ایک موت ہوچکی ہے۔۔۔‘‘
مجموعی طور پر حمید سہروردی کی افسانہ نگاری کے متعلق مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ فن افسانہ نگاری میں ان کی حیثیت ایک شہسوار کی سی ہے۔ زبان کافی صاف اور رواں ہے۔ لفظوں کے انتخاب اور انداز بیان میں بھی وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ البتہ بعض جگہ خیالات کی پیشکش کا انداز سطحی سا معلوم ہوتا ہے، لیکن اس سے ان کی خلاقی یا فن کاری پر حرف نہیں آتا، کیوں کہ ’’گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں‘‘۔ بہرحال حمید سہروردی نے اپنے افسانوں کے ذریعے سماج میں پھیلی جن مختلف قسم کی برائیوں کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی۔ اس میں وہ کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

