خوابوں کے مرثیے: یعنی عشق، رقص اور موت – شہلا کلیم
عشق ، رقص اور موت! یہ کسی مثلثِ قدیم کے وہ تین زاویے ہیں جو زندگی کے گرد ہمیشہ گھومتے رہے۔ سفیر صدیقی کی شاعری بھی ان تین جہات کا وہ تکون ہے جس کے عین وسط میں زندگی کا مسکن ہے۔ موت کی شاعری پر گفتگو کرتے وقت لفظ "زندگی” کا استعمال شاید تحیر آمیز ہو لیکن دلچسپ ضرور ہے۔ اور یہ دلچسپی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب موت میں کشش محسوس کرنے والا یہ شاعر جو "تمام عمر فقط موت کے سفر میں رہا” ؛اپنے "خوابوں کے مرثیے” کا انتساب زندگی کے نام کرتا ہے۔ اور یہ اس لئے ممکن ہوا کہ موت سفیر کے یہاں ایک ایسی کشش ثقل کا درجہ رکھتی ہے جس کا مرکز و محور زندگی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ موت سے زیادہ زندگی کے قریب کوئی شے نہیں اور یقینا موت زندگی کا خاتمہ نہیں تکمیل ہے! شاعر اسی تکمیل کا خواہاں ہے اور اس خواہش کے پورا نہ ہونے پر جھنجھلا اٹھتا ہے، وحشت میں سر پٹکتا ہے اور یہ سر کوبی کا انداز بھی کیسا نرالا ہے:
ہائے وہ لوگ کہ پتھر نہیں پہچانتے ہیں
دل کے ہوتے ہوئے دیوار پہ سر مارتے ہیں
لیکن اپنے کمرے میں تمام تر سامانِ خودکشی کی فراہمی کے باوجود (جن کو وہ سفیران عدم قرار دیتا ہے) وہ موت سے اس کا حق نہیں چھینتا بلکہ کہتا ہے:
خود کشی کا بھلا کیا کام فریقین کے بیچ
موت سے کہہ دو کہ خود آئے اگر آتی ہے
موت دراصل سفیر کے یہاں معشوق کا درجہ اختیار کر گئی۔ چنانچہ اس کے ساتھ عاشق کا سا سلوک کیا اور اس کی بے التفاتی کا اس انداز سے شکوہ کیا گیا:
شوق محرومی کی رفعت کے سوا کچھ بھی نہیں
موت بھی چاہنے والوں کو کہاں آتی ہے
حتی کہ ستم ظریفی تک قرار دے دیا:
کیا کہیں سفیر اب ہم اس ستم ظریفی کو
موت کی کہانی میں موت ہی نہیں آتی
ذرا اور آگے بڑھئے تو زندگی کی بے ثباتی اور "موت آتی ہے پر نہیں آتی ” کا یہ مضمون نئے اور منفرد تخیل کے ساتھ نظر آتا ہے۔
زندگانی کے زرد پتے پر
بن کے شبنم ٹھہر گیا ہوں میں
لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ موت سے محبت کرنے کے باوجود شاعر زندگی سے فرار گوارا نہیں کرتا بلکہ موت سے زندگی کشید کرنے کا عادی ہے۔ کیونکہ زندگی وہ رقیب بن گئی تھی جس کی عدم موجودگی میں محبت ایک بےزار کن اور بے وقعت عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ شاید اسی لئے کہا کہ:
جینے والوں سے ہی آباد ہے وحشت کا جہاں
مرنے والے تو کسی روز بھی مر سکتے ہیں
اور پھر اس رقابت کو جس خوبصورتی کے ساتھ نبھایا ہے اس کی اعلی ترین مثال یہ دو اشعار ہیں:
خود کشی روز مری روح کو چھو جاتی ہے
اور پھر دیر تلک زندگی شرماتی ہے
آؤ سر پٹکو مٹا دو غم ہستی کا غرور
زندگی موت کی شہ پر ہی تو اتراتی ہے
موت سے بھرپور محبت کے باوجود زندگی کا پیغام دینے کا ایک سبب ایمان کی یہ پختگی ہو سکتی ہے:
سفیر! ہوتی اگر خود کشی حلال تو ہم
یہ روز مرنے کا قصہ تمام کر جاتے
اور دوسری بڑی وجہ یہ کہ شاعر عشق میں وصل پر ہجر کو ترجیح دیتا ہے۔
میں مانتا ہوں کہ فرقتوں میں کمال تک جا پہنچتا ہے عشق
سو میں سفیرِ فراق تم کو وصال کا نکتہ چیں ملوں گا
چنانچہ جب وہ کہتا ہے کہ:
سفیر میری سوانح میں صرف یہ لکھنا
تمام عمر فقط موت کے سفر میں رہا
تو دراصل یہ اس بات کی گواہی ہے کہ وہ حصول منزل کی بجائے جستجوئے منزل کا قائل ہے۔ خواہ منزل جانی پہچانی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ وہ موت و حیات کے سفر کا ایک ایسا رہ نورد بن جاتا ہے جو آوارگئ صبح کے بعد آشیانے کی طرف لوٹ تو سکتا ہے ٹھہر نہیں سکتا۔ جس کی عمدہ مثال یہ شعر ہے:
ڈھلی جو شام تو سب اپنے اپنے گھر کو چلے
سو ہم بھی موت کا دروازہ کھکھٹانے لگے
موت و حیات کی یہی کشمکش جب ایک زبردست محرک قوت بن کر شعری تجربے میں ڈھل جاتی ہے تو پھر کسی قسم کے جمود کی گنجائش نہیں رہتی۔ یہی تحریک عشق بن کر ایک سرکل کے روپ میں اس طرح گردش کرتی رہتی ہے۔
مرتے رہتے ہیں ہر اک پل کہ نہ مر جائیں کہیں
جینے والوں کا عجب عشق ہے مر جانے سے
موت علاج عشق ہے یا انتہائے عشق بہر حال زندگی کی ابتدا عشق ہے۔ اور یہ وہ لفظ ہے جس کی شرح میں تمام دنیا کی ہر زبان و ادب کے شعراء نے دیوان لکھ ڈالے، کل جہان کے فلسفیوں نے ان گنت صفحات سیاہ کئے اور جس کی تلاش میں وجود کائنات کے روز اول سے ہی جانے کتنے مجنوؤں نے دشت کی خاک چھانی لیکن یہ کائناتی فلسفہ تشریح طلب ہی رہا۔ سفیر صدیقی نے انتہائی سادگی سے صرف اتنا کہہ کر ہر فلسفے کی تردید کر دی:
عشق کا ایک فلسفہ ہے ، عشق
باقی سب لغو فلسفے ہیں بھئی
سفیر کے یہاں عشق کی نوعیت کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر خالد جاوید صاحب کے اس قول سے اتفاق درج کرا دینا کافی ہوگا۔ ” غزل میں عشق جیسے رسمی موضوع کو بھی سفیر نے بالکل مختلف لب و لہجے میں برتا ہے۔ اور کم عمری کی جذباتیت (teenager’s love) سے اپنا دامن صاف بچا لیا ہے۔”
اسی جذباتیت سے دوری کا نتیجہ ہے کہ عشق کیا کیا نہ بنا؛ بہر کیف تماشا نہ بنا۔
حزن ہے، یاس ہے، بے چینی ہے، بد بختی ہے
عشق جو بھی ہے! بہر حال تماشا نہیں ہے!
چنانچہ بے خیالی میں عشق کی جانب دوڑنے والا یہ شاعر جب کہتا ہے کہ "خشک ہو جائے تیرے عشق کا بہتا دریا” تو اس جواں سالی میں ایسی جنوں خیز خواہش پر حیرت ہوتی ہے لیکن اگلے ہی مصرعے میں یہ حیرانی خوشگواری کے احساس میں تبدیل ہو جاتی ہے کہ سیرابی کی بیزاری پر تشنگی کی لذت کو ترجیح دی گئی اور عشق کی درگاہ کا یہ مجاور یادوں کے جلتے قزاق کے سہارے ہجر کی تیرگی مٹانے پر آمادہ ہو گیا۔ اور دعا کی یا پھر دعا دی کہ۔۔۔۔
خشک ہو جائے ترے عشق کا بہتا دریا
دل کے صحرا میں تری یاد کے قزاق جلیں
اور اسی عشق کی جنوں خیزی دیکھئے:
لہو سے سینچا ہے عشق کی ہر کلی کو ہم نے
سفیر ! کانٹوں پہ آ رہا ہے شباب ہم سے
وہ آداب عشق سے بھی خوب وقف ہے:
تیری دہلیز پہ آ پہنچا ہوں دیوانگی میں
پاؤں رکھنا ہے یا سر، بس یہ اشارہ کر دے
ان تمام تر موضوعات کو سرے سے جدید قرار دینا تو سراسر غلط بیانی اور مبالغہ آرائی ہوگی کیونکہ یہ وہ معاملات عشق ہیں جو وجود عشق کی طرح ہی قدیم ہیں البتہ ہر پرانے خیال کو نئے اور منفرد انداز میں اس طرح پیش کرنا کہ وہ جدیدیت کے قالب میں ڈھل جائے؛ ایک ایسا فن ہے جو تخیل کو جلا بخشتا ہے اور فن پارے کی اہمیت متعین کرتا ہے۔ اور سفیر اس فن میں کامیاب ہیں چنانچہ عشق کی پہلی شرط ایثار و قربانی، فنا اور خراب حالی کو بھی اچھوتے انداز میں یوں پورا کیا:
ان کی محفل میں میرے ہوتے اندھیرا کیوں ہو
میرے ارمان کسی شمع کے مصداق جلیں
عشق زندگی ہے، موت زندگی کی انتہا اور عشق و موت کا درمیانی مقام رقص کا ہے۔ اور سفیر کے یہاں رقص کا انداز بھی نرالا ہے:
قہقہے ساز چھیڑتے ہیں سفیر!
رقص کرتی ہے آہ چہرے پر
اور کبھی تو اس رقص کی وجدانیت اس مقام کو پہنچ گئی کہ کسی لے، کسی ساز کی بھی حاجت نہ رہی:
سبھی بمع در و دیوار رقص کرنے لگے
مری خموشی پہ مجلس میں یوں بپا ہوا رقص
رقص سے مراد دراصل وہ معاملات زندگی ہیں جو ہر ذی روح کی زندگی میں تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔ سفیر کے یہاں یہ معاملات زندگی کہیں غم و یاس، رنج و الم اور کہیں سفر اور خواب کی صورت نظر آتے ہیں۔
موت کے خط مجھے یوں ہی نہیں آئے ہونگے
زندگی نے مرے کچھ خواب چرائے ہونگے
اور بس یہی وہ مقام ہے جب شاعر ان گم کردہ خوابوں کے مرثیے پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جب دیکھتے ہی دیکھتے یکلخت خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں تو زندگی کی خوشحالی سے خراب حالی تک کے اس سفر کو اس طرح بیان کرتا ہے:
بے خودی میں رفتہ رفتہ کھینچ لائی اپنے ساتھ
ایک رسی پیڑ کے جھولے سے پنکھے تک مجھے
اور زیست کی یہ تیز رفتاری اس شعر میں ڈھل جاتی ہے۔
میں ایک خواب کی زد پر رکھا ہوا ہوں سفیر
ذرا سی آنکھ لگی اور وجود خواب ہوا
رسی ، پنکھا ،میز، دوپٹہ سفیر کی شاعری کے وہ شعری استعارے ہیں جو خوابوں کے اس تمام سفر میں ان کے ہمسفر رہے۔
میرے کمرے میں پڑی رسی ہو پنکھا ہو یا میز
سب سفیران عدم میری طرف دیکھتے ہیں
اور غم حیات میں کسی ہمنوا اور مخلص دوست کی طرح سہارا بھی:
کیا خبر شدت غم مجھ سے توازن مانگے
اور کسی جھولتی رسی کو سہارا کر دے
حیران کن امر یہ ہے کہ شاعر یاس و نامیدی کے اس انتہائی درجے کو پہنچ کر کسی انہونی سے قبل ہی حوصلہ مندی کے اس ادراک کو پا لیتا ہے اور خود کو تسلی دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
دل کی زرخیزی کے حق میں یہ ضروری ہے سفیر
آنکھ نم رہتی ہے خوابوں کے بکھر جانے سے
یہی وجہ ہے کہ حزن و یاس میں ڈوبے خوابوں کے مرثیے پڑھنے کے باوجود "مرثیہ نگار” یاسیات کے امام فانی کے درجے کو نہیں پہنچتا بلکہ دل اور دلی کے مرثیہ خواں میر کا مقلد بن جاتا ہے۔ جہاں "سوز و ساز و درد و داغ و جستجوے آرزو” کی عمدہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اسی لئے وہ غموں سے نجات کا متمنی نہیں بلکہ انہیں لازوال متاع حیات گردانتا ہے:
ہم ایسے لوگوں کی سب سے بڑی کمائی ہے
وہ ایک غم جسے کھونے کا ڈر نہیں رہتا
اور چاہتا ہے:
ضروری ہے کہ غموں کا بھی گھر بنایا جائے
تو کیوں نہ گوشہء دل کارگر بنایا جائے
"خوابوں کے مرثیے”سفیر صدیقی کی غزلوں کا مجموعہ ہے لیکن اس کے قارئین اپنے شاعر سے یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے:
تم جو غزلیں سنا رہے ہو سفیر
یہ تو خوابوں کے مرثیے ہیں بھئی
کیونکہ واقعی۔۔۔۔
سفیر لکھتا ہے خون جگر سے کاغذ پر
غزل کے رنگ میں خوابوں کے مرثیے صاحب!
شہلا کلیم
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

