ہمہ جہت شخصیت کی مالک ترنم ریاض اردو ادب کی مشہور فکشن نگار ہونے کا ساتھ ساتھ ایک معروف شاعرہ بھی ہیں۔ انھوں نے جہاں فکشن میں بہترین افسانے اور ناول تخلیق کئے وہیں شاعری میں غزلیں، نظمیں اور ماہئیے لکھ کر اپنا منفرد مقام بنایا ہے۔ ترنم ریاض کے افسانوں اور ناولوں میں عورتوں کے احساسات و جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ مرد اساس معاشرے میں ترنم ریاض کو جدید عورت کے مسائل کے تخلیقی بیان کے لئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔
نسائی لہجے کی شاعرہ ترنم ریاض کی ولادت سرینگر میں 1963ء میں ہوئی۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق پاکستان سیالکوٹ سے تھا۔ دادا چوہدری خدا بخش خان نے علی گڑھ سے قانون کی ڈگری لی تھی۔ اور جموں کشمیر میں وزیر وزارت تھے۔ جہاں انھوں نے الگ الگ جگہوں پر زمینیں خریدی تھیں۔ والد چوہدری محمد اختر خان ائیر فورس میں ایک قابل پائیلٹ تھے۔ ترنم ریاض اپنے والدین کی دوسری اولاد تھیں۔ ترنم ریاض کا اصل نام ترنم فریدہ تھا ، پروفیسر ریاض پنجابی سے شادی کرکے ترنم فریدہ سے ترنم ریاض ہو گئیں۔
ترنم ریاض کی ادبی زندگی کا آغاز افسانے سے ہوتا ھے۔ ان کی پہلی کہانی روزنامہ آفتاب میں شائع ہوئی۔ یکے بعد دیگرے ان کی کہانیوں کے چار مجموعے ” میرا رخت سفر، یمبرزل، ابابیلیں لوٹ آئیں گی، یہ تنگ زمین”، دو ناول برف آشنا پرندے، مورتی، اور تنقید و تحقیق کی دو کتابیں بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب، چشم نقش قدم، ایک مضامین کا مجموعہ اجنبی جزیروں میں شائع ہو کر منظر عام پر آئے ۔ شاعری میں ترنم ریاض نے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ انھیں کا مرہون منت ہے۔ ان کے دو شعری مجموعے ” پرانی کتابوں کی خوشبو”، زیر سبزہ محو خواب” اور ایک ماہیوں کا مجموعہ ” بھادوں کے چاند تلے” شائع ہو کر منظر عام پر آ چکے ہیں۔
شاعری میں ترنم ریاض نے غزلوں سے لے کر آزاد نظم، پابند نظم ، نثری نظم اور ماہیئے لکھ کر اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا ہے۔
” بھادوں کے چاند تلے” ترنم ریاض کے ماہیوں کا شعری مجموعہ ہے۔ جو 2015ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے شائع ہوا۔ ترنم ریاض نے فہرست میں عناوین کے تحت ماہئے دئیے ہیں۔ جو آٹھ عناوین پر مشتمل ہیں۔ حمدیہ ماہئے، ماہئے برہا کے، ماہئے ہر رت کے،ماہئے محبتوں کے، ماہئے برساتوں کے، ماہئے ملن کے، ماہئے گرمیوں کے، کچھ ماہئے مایوسیوں کے وغیرہ۔ اس شعری مجموعے میں ترنم ریاض کی شاعرانہ عظمت کھل کر سامنے آتی ہے۔
ماہیہ پنجابی لوک گیت کی ایک ایسی قسم ہے جسے پنجاب کے شادی بیاہ تیوہاروں پر بڑے شوق سے گایا جاتا ہے۔ ترنم ریاض کا تعلق چونکہ سرینگر سے تھا اس لئے بچپن سے ہی اپنے ارد گرد کے ماحول میں ماہیئے سنتی رہی تھیں۔
"بھادوں کے چاند تلے” کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں کہ
"اردو میں ماہیوں کی مقبولیت دیکھ کر مجھے بچپن کے گاؤں میں گزارے دن یاد آ جاتے۔ ان دنوں گھر میں اتنی اہمیت تو بچوں کو حاصل نہ تھی کہ بڑوں کے ساتھ گانے کی اجازت ہوتی البتہ اخروٹ توڑتی ہوئی لڑکیوں کو گاتے دیکھ کر بہت اچھا لگا کرتا تھا۔جیسے کوئی منچلی پہاڑن ہمارے خوبرو چچازاد کو سامنے سے گزرتا دیکھ کر دھیرے سے گاتی،
” منڈا پٹھانوں دا
تکدا وی نئیں مڑ کر
کی کہنا ہے ماناں دا ”
( لڑکا پٹھانوں کا،
دیکھے نہیں مڑ کر،
کیا کہنا اس غرور کا )
(بحوالہ: ترنم ریاض، بھادوں کے چاند تلے، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی، صفحہ 15)
"بھادوں کے چاند تلے” میں حمدیہ ماہیوں سے لے کر برہا کے ، محبتوں کے، برساتوں کے ، ملن کے ،اور مایوسیوں کے بے شمار ماہئیے موجود ہیں۔ جن میں ترنم ریاض کا مخصوص لب و لہجہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے۔ حمدیہ ماہیوں میں ترنم ریاض کی خدا سے بے پناہ عقیدت کے ساتھ زمانے کا غم، سکون کی تلاش، اور وادی کشمیر پر ہو رہا ظلم و جبر بھی نظر آتا ہے، اور جس کے لئے وہ خدا سے دعا بھی کرتی ہیں،
ہر مشکل حل ہو جائے
وادی مری پہ خدا
برا وقت کبھی نہ آئے
ہر سرحد ڈھے جائے
اب نہ ہو جنگ خدا
بندوق پہ زنگ آئے
عزت لیں ، اماں چھینیں
کچھ ترے بندے خدا
معصوموں کی جاں چھینی
کہیں چھوڑ نہ دوں جینا
زہر ہے جیون ، رب
مجھے روز پڑے پینا
اردو ادب میں ماہیئے اسی کے دور سے لکھے اور پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ماہیوں کا پہلا شاعر کون ہے اس بابت اختلافات ہیں کچھ کے نزدیک اردو ماہیوں کے بانی ہمت رائے شرما ہیں اور کچھ قمر جلالآبادی کو اردو ماہیئے کا بانی قرار دیتے ھیں۔ اس وقت ماہیئے پنجابی کے تین یکساں وزن کے مصرعوں پر ہی لکھے جاتے تھے۔ لیکن بعد میں غور و فکر کرکے اس کے وزن میں تبدیلی کی گئی اور دو اوزان مقرر کئے گئے۔ جس میں پہلا مصرعہ ” فعلن فعلن فعلن” ، دوسرا مصرعہ "فعلن ، فعلن، فع”، اور پھر تیسرا مصرعہ ” فعلن، فعلن، فعلن” ہے۔ اسی طرح دوسرے اوزان میں بھی پہلا اور تیسرا مصرعہ برابر اور بیچ والے مصرعے میں ایک رکن کم کر دیا گیا۔ ترنم ریاض نے اردو ادب کے انھیں مقررہ اوزان پر اپنے ماہئیے لکھے۔
تقدیر سنور جائے
آئینہ دیکھوں میں
تو مجھ کو نظر آئے
مجھے وعدہ یہ کرنا ہے
جینا ہے ساتھ ترے
اور پہلے ہی مرنا ہے
ماہیئے عشق و محبت کی داستان پر مبنی پنجابی لوک گیت ہیں۔ جو بالو اور ماہیا کے عشق کی داستان پر مبنی ہیں۔
” بھادوں کے چاند تلے ” کے پیش لفظ میں ترنم ریاض لکھتی ہیں،
"روایت ہے کہ ماہیا میر پور میں لکڑیوں کا کاروبار کرنے والے محمد علی نامی نوجوان کا ایک مقامی لڑکی اقبال بانو سے عشق کی داستان پر مبنی لوک گیت ہے۔ اقبال بانو کو بالو بلایا جاتا تھا۔ اور بالو محمد علی کو پیار سے ماہیا بلاتی تھی۔ والدین کو ان کے تعلق پر اعتراض تھا اور بات عدالت تک جا پہنچی پھر وہاں جو سوال و جواب ہوئے اس میں دونوں نے اس سہ مصرعی صنف شعر ماہیئے میں اپنا اپنا مدعا بیان کیا ۔ تبھی سے یہ ماہیئے کی یہ صنف بطور پنجابی لوک گیت مشہور ہو گئی۔”
(بحوالہ: ترنم ریاض، بھادوں کے چاند تلے، صفحہ 14)
عشق مجازی ہو یا عشق حقیقی شاعری میں اس کا اظہار کھل کر کیا گیا ہے۔ ترنم ریاض نے بھی ماہیوں کو عشق کے حسین پیکر میں ڈھالا ہے۔ اور محبت کی اس صنف کو مزید عشق کے رنگوں سے بھر دیا ہے۔
مصری کانوں میں گھلے
تو میرا نام جو لے
بھادوں کے چاند تلے
نینوں میں ستارے ہیں
ریشمی پلکوں پر
کچھ خواب کنوارے ہیں
میں پگلی بھولی حجاب
جی بھر تکنے کو
میں نے الٹ دی کھٹ سے نقاب
اندیشے ہوا کر دو،
قدموں کی مٹی سے
تم مانگ مری بھر دو
میں دل کی بات کروں
مکھ پہ ترے دمکے
اس تل کی بات کروں
ترنم ریاض نے کشمیر کی خوبصورتی کا اس کے ایک ایک جزو کا مطالعہ و مشاہدہ کھلی آنکھوں سے کیا تھا۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ مناظر فطرت کی گود میں پلی بڑھی اس شاعرہ کی شاعری میں اس وادی کی خوبصورتی اور مناظر فطرت کی عکاسی نہ ہوتی۔ ترنم ریاض نے ماہیئے ہوں یا نظمیں اس وادی جنت کا ایک ایک منظر لفظوں میں اس خوش اسلوبی کے ساتھ پرو دیا ہے کہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے رقص کرتے نظر آتے ہیں۔
وہ پیڑ چناروں کے
وادی میری میں سکھی
صحرا گلزاروں کے
کیا حسن پہاڑوں میں،
وادیوں کا جوبن
کوئی دیکھے اساڑھوں میں
وہ جھیل ہری نیلی
وادی ہے پھولوں کی
فصلیں پیلی پیلی
مثل سیماب کہیں
چشموں کی جنت ہے
جس کو لولاب کہیں
ترنم ریاض ایک درد مند دل کی مالک تھیں۔ حساس طبیعت اور مزاج میں شگفتگی رچی بسی تھی۔
"اجنبی جزیروں میں” کے پیش لفظ میں ریاض پنجابی لکھتے ہیں:
” مصنفہ کے حساس ذہن ، سماجی اور سیاسی رجحانات پر ان کی گہری نظر قومی و بین الاقوامی پر آشوب حالات پر ان کے پر تجسس ذہن کی عکاسی ان کی تحریروں سے ہوتی ہے۔ لیکن ان کے اندر کی عورت بقول ان کے (ترنم ریاض کے) ایک پیدائشی ماں ہے۔ جس انداز سے وہ تمام معاملات کو محسوس کرتی ہیں وہ ان کی تحریروں کو دوسروں سے الگ کرتا ہے۔ اور حالات کو دل کی گہرائیوں میں اتارنے کے بعد صفحہ قرطاس پر سجا دینے کے عمل میں رواں جذباتی عنصر ان کے انداز بیان کو ایک نرم سی روانی عطا کرتا ہے۔”
(بحوالہ:- ترنم ریاض ، اجنبی جزیروں میں ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، صفحہ 14)
ایک عورت ہونے کے ناطے ترنم ریاض عورتوں کے دلی جذبات سے بخوبی واقف تھیں۔ وہ جانتی تھیں عورت کا دل شیشے کی مانند ہوتا ہے جو اک ذرا سی ٹھیس پر ٹوٹ جاتا ہے۔ تبھی تو برہا کے ماہیوں کے محض تین مصرعوں میں عورتوں کے خالص جذبات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے۔
ترا دامن چھوٹ گیا
دنیا مری اجڑی
اور رب بھی روٹھ گیا
جا رب تیرا رکھوالا
انکھیاں تو روئیں گی،
لب پر ہوگا تالا
سن کر پچھتائیں گے
ذکر وفا پہ کئی
نیناں بھر آئیں گے
سرمایہ میرا وہ دن
جانے سے پہلے تک
ہم ساتھ رہے جو دن
ترنم ریاض کو اپنے فن پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ مزاج کا رکھ رکھاؤ ، فکر انگیزی، اور نسائی احساسات و جذبات کی پاکیزگی ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔ ترنم ریاض اپنے ماہیوں میں لفظوں کے خوبصورت چہرے بناتی نظر آتی ہیں۔ ایک طرف جہاں وہ ملنے اور بچھڑنے کا غم لکھتی ہیں تو دوسری طرف محبت سے سرشار ماہئے لکھ کر اپنے تخلیقی ذہن کا ثبوت دیتی ہیں۔ کبھی سسرال میں بیٹھ کر مائیکہ یاد کرتی ہیں تو کبھی مائیکہ چھوٹ جانے کا شدید دکھ ظاہر کرتی ہیں۔ غرض یہ کہ ان کے یہاں شاعری کا ہر رنگ موجود ہے۔ جو بھادوں کے چاند تلے میں ہمیں جا بجا دکھائی دیتا ہے۔
ہو بیٹھے میاں بیزار
لگتی ہے بیگم اب
اک دن کا پڑھا اخبار
یوں خود کو جگاتے ہیں
چائے پہ پی کر چائے
ہم نیند بھگاتے ہیں
دلہن کس کو بتلائے
جسم تو ساتھ آئے
دل مائکے میں رہ جائے
ماں جی نہ ڈرایا کریں،
امی کی طرح مجھے،
دھیرے سے جگایا کریں
ترنم ریاض کی شاعری کے متعلق ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں،
” ترنم ریاض الفاظ کی موسیقی سے زمینی حقیقت کی گرہیں کھولتی چلی جاتی ہیں۔ اور اکثر مقامات پر خوشی، غم کے فرغل میں لپٹی محسوس ہوتی ہیں۔ ترنم ریاض کے احساس کی وسعتیں بیکراں ہیں۔”
(بحوالہ ترنم ریاض،بھادوں کے چاند تلے، صفحہ 211)
ترنم ریاض نے زندگی کو کھل کر جیا اور اس کا ایک ایک پل محسوس کیا۔ وہ عورتوں اور لڑکیوں کے خوشی اور غم سے بخوبی واقف تھیں۔ انھیں عورت ذات سے ہمدردی تھی۔ ان کے نزدیک عورت روح کی طرح ہے جو اللہ میاں کے حکم سے جسم میں داخل تو ہو گئی ہے مگر اس مسکن کو چھوڑنے کے خیال سے ہی افسردہ ہو جاتی ہے۔ ایک لڑکی جو آزادی چھوڑ کر پنجرے کی ہو جاتی ہے اسی پنجرے کی محبت میں عمر گزار دیتی ہے۔ ترنم ریاض کا ماننا ہے کہ سسرال جسے لوگ پیا کا گھر کہتے ہیں اصل میں ساس اور نندوں کا گھر ہوتا ہے اور مائیکا بھابھیوں کا۔
اب اپنا یہی سنسار
جائیں کہاں ہم کو
پنجرے سے ہوا ہے پیار
مرا دل تڑپاتے رہے
مائیکے کی گلیوں کے
بچے یاد آتے رہے
مائیکا ہوا بھابھی کا
ساس نند کا یہ گھر
کس گھر کو کہوں اپنا
شوہر اور بیوی کا رشتہ وہ حسین رشتہ ہے جس میں محبتوں کی بھرمار اور کھٹا میٹھا پیار ایک دوسرے کو خوشیوں سے بھر دیتا ہے۔ شوہر اور بیوی کے درمیان پیار سے بھرا نوک جھونک کا یہ پہلو ہمیں ترنم ریاض کے ماہیوں میں بھی ملتا ہے۔ کبھی شوہر سے بے پناہ پیار تو کبھی شکایت کا لہجہ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
پی کر احسان جتائیں
میرے میاں اپنی
پیالی بھی نہیں سرکائیں
تھک کر دونوں گھر آئے
مرد ہے نیم دراز
کیوں عورت چائے بنائے
شوہر کو نہیں احساس
کام کہوں تو کہیں
مت ہرن پہ لادیں گھاس
ایسا بھی ہے اپنا سماج
بیوی کرے محنت
شوہر کو ہے کام نہ کاج
ترنم ریاض کی شاعری کے حوالے سے میر بشیر احمد لکھتے ہیں،
” ایک طرف ترنم روایات کا رنگ نہیں چھوڑ رہیں اور اس خوشبو سے مالامال ہیں تو دوسری طرف انھیں زمانے کا کرب بہت ستا رہا ہے۔ انھیں دشمنوں کی بھی فکر ہے اور سرحدوں کی بھی۔ نظموں میں جو عکس ابھرتے ہیں وہ آفاقی ہیں اور اکثر شاعری میں انھوں نے انسانی کرب کو موضوع بنایا ہے۔ تخلیقی زبان سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور نئی تراکیب و اسالیب سے ترنم واقف کرواتی نظر آتی ہیں۔ انتہائی سادگی اور اختصار کے ساتھ ایک فنی معجزہ تیار کرنا ترنم کی عظمت ہے۔ ”
(بحوالہ: ترنم ریاض، بھادوں کے چاند تلے، صفحہ 223)
ترنم ریاض نے اردو ادب میں اپنی شاعری سے جو پھول کھلائے ہیں وہ ہمیشہ سر سبز و شاداب رہیں گے۔ ماہیئے جیسی صنف جسے صرف پنجابی کا ہی خاصہ سمجھا جاتا ہے ترنم ریاض نے اسے اردو زبان و ادب میں مستحکم کیا ہے۔ جو آنے والے دنوں میں یقیناً شعراء کو اپنی جانب متوجہ کرے گی۔
Zeba Khan
M.A., NET (Moulana Azad National Urdu university)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

