جو قوم عصری تقاضے کے پیش نظراپنے قدم کو آگے نہیں بڑھاتی ہے اورزمانے کے مزاج کی حدت کو محسوس کرنے سے قاصر رہتی ہے، وہ عضوئے فاضل کی طرح اس کائنات فانی سے ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی ہے اور اس کا شمار صرف باقیات کی فہرست میں ہونے لگتا ہے۔اِس حقیقت بیانی کا اطلاق زبان و ادب پر بھی ہوتا ہے ۔اِس لیے ہر قوم کو چاہے کہ وہ اپنی زبان کی پرورش کرنے کے لیے اپنے عصری تقاظے کی شدّت کو نہ صرف محسوس کرے بلکہ اس کے شریانوں میں جدید رجحان اور اس کی ٹکنالوجی کے خون کو داخل کرنے کی بھرپور کوشش کرے ۔آج اردوزبان جس دور سے گذر رہی ہے وہ سائبر اسپیس کا دور ہے۔ لہذا اردو زبان و ادب کے مسیحاؤں نے وقت کی اِس آواز کو پہچانتے ہوئے اردوزبان و ادب کو اِس قابل بنانے کے لیے اپنی جد و جہدجاری رکھی ہے تاکہ یہ زبان بھی وقت کے ساتھ ساتھ زمانے کی نیرنگیوں سے آنکھیں ملا کر بات کرسکے اور دنیا کے ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں کھڑا ہوسکے کیونکہ صرف پنجے اُٹھانے سے قد بڑا نہیں ہوتا ہے۔!
اکیسویں صدی کی دہلیز پرسائنس و ٹکنالوجی کے میزان پر اردو زبان وادب کس مقام پر کھڑا ہے اِس کا پتہ لگانے کے لیے ڈاکٹر خورشید اقبال نے پروفیسرڈاکٹر شاہد اختر (سابق صدر شعبہ اردوہگلی محسن کالج)کی نگرانی میں’’ اردو ادب اور سائبر اسپیس‘‘کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ اردو والوں کے لیے کولمبس کی امریکہ دریافت سے کم نہیں ہے جس پر بردوان یونیورسٹی نے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔ اِس کتاب کی ضخامت ۳۸۴ صفحے پر مشتمل ہے۔ کتاب چھوٹے بیٹے محمد ذیشان خورشیدکے نام معنون ہے جس کو دے کر مالک کائنات نے خورشیداقبال کو کو صبر اور شکر کے مفہوم کو سمجھا یاہے۔
کتاب کل پانچ ابواب پر مشتمل ہے جن کا انسلاک تحقیقی موضوع سے بہت گہراہے۔اِن میں دورِ قدیم میں ادبی اظہار کے وسائل،پرنٹنگ پریس کی ایجاد اور اِس کے اثرات،ڈیجیٹل پبلیشنگ کے ذریعہ لائے گئے انقلاب کا ذکر،انٹر نیٹ،عالمی ویب اور سائبراسپیس کا آغاز و ارتقاء،اِس کے افادی و منفی پہلو،سائبر اسپیس اور ادبی ترسیل کا ذکر،الیکٹرانک میڈیا اور اردو سے متعلق معلومات،اردو کمپوزنگ کا آغاز و ارتقاء سے متعلق تفصیلی گفتگو،اردو کے اہم ادبی و نیم ادبی ویب سائٹس کا ذکر،اردو ادباء و شعراء کی ذاتی ویب سائٹیس کا ذکر،اردو کی آن لائن لائبریریاں،رسائل و اخبارات کے علاوہ بلاگنگ کو صحافت کے ایک نئے اوتار کی شکل میں قاری کے سامنے پیش کیاگیاہے۔اس کے علاوہ جامعیاتی سطح پر اردو کی ادبی تحقیق میں سائبر اسپیس کس طرح معاون ہے نیز یوٹیوب اور اردو ادب کے رشتے،سوشل نیٹ ورکنگ کے ادبی پہلو اور اردو موبائل ایپس کے علم کو مذکورہ کتاب میں پیش کرکے اردو زبان و ادب کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی شعوری کوشس کی گئی ہے ۔بقول ڈاکٹرخورشید اقبال:
’’سائبر اسپیس آج ہماری زندگی کے ہر شعبے سے جڑا ہوا ہے۔خواہ ہم اے ۔ٹی ۔ایم مشین کی مدد سے کسی بینک سے رقم نکال رہے ہوں،اپنے موبائل کے ذریعہ ریلوے کا ٹکٹ بک کررہے ہوں،کسی کو ای میل بھیج رہے ہوں،فون پر کسی سے گفتگو کررہے ہوں،ایف ایم ریڈیو پر گانے سن رہے ہوں،ٹی وی کا کوئی شو دیکھ رہے ہوں یا انٹرنیٹ پر کوئی ویب سائٹ وزٹ کررہے ہوں۔۔اِن تمام صورتوں میں ہم خود سائبر اسپیس میں موجود ہوتے ہیں۔ ‘‘ ’’ اردو ادب اور سائبر اسپیس‘‘ ص:۹
ظاہر سی بات ہے اِس اقتباس کی روشنی میں اِس حقیقت سے اختلاف کی گنجائش کم ہے کہ آج اکیسویں صدی میں انسان کی زندگی کا انحصار براہ رست یا بلاواسطہ سائبر اسپیس پر ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سائبر اسپیس ہے کیا۔؟کتاب مذکورہ کی روشنی میں مختصراً عرض ہے کہ سائبر اسپیس در اصل ایک ایسی فرضی اور تصوراتی دنیا ہے جس میں کمپوٹر ،انٹر نٹ سے چلنے والے آلات،سروراور اس سے منسلک دوسری مشینوں کے ایک باہمی رشتے سے وجود میں آتی ہے۔ سب سے پہلے ’’سائبر‘‘ لفظ کا نزول ۱۹۸۲ میں انگریزی زبان میں ہوا اور کرونا وائرس کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ سائبر کے معنی ہوتا ہے’ انسان اور مشین کا باہمی واسطہ ،لیکن سب سے پہلے اس لفظ کااستعمال Norbert wienerنے ۱۹۴۸ میں Cybernetics کی شکل میں کیا تھا۔اگر ماخذ کے طور پر دیکھیں تو لفظ’’ سائبر‘‘ یونانی ہے۔سب سے پہلے’’سائبر اسپیس ‘‘ اصطلاح کا استعمال ۱۹۸۲ میں ایک سائنسی افسانہ Burning Chrome میں ہوا تھا۔بقول ڈاکٹر خورشید اقبال:
’’سائبر اسپیس وہ اصل مقام ہے جہاں ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو وقوع پذیر ہوتی ہے۔یہ مقام آپ کا وہ فون سیٹ نہیں ہے جو پلاسٹک کا بنا ایک آلہ ہے اور نہ ہی آپ سے مخاطب شخص کا فون سیٹ بلکہ یہ مقام تو ان دونوں ٹیلیفون سیٹوں کے درمیان پھیلے تاروں کے جال میں کہیں واقع ہے۔ جہاں آپ مجازی طور پر اپنے ہم کلام شخص کے ساتھ اس وقت موجود ہوتے ہیں۔یہی مقام سائبر اسپیس ہے۔‘‘ ’’ اردو ادب اور سائبر اسپیس‘‘ ص:۱۰۱
انٹر نیٹ اور سائبر اسپیس کا رشتہ لازم وملزوم ہے۔ اِس کے وجود میں آنے کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ایک زمانے میں روس اور امریکہ کٹر حریف تھے ۔دونوں ممالک اپنے اپنے دفاعی نظام کو مضبو ط سے مضبوط تربنانے اور سپر پاور کا تمغہ اپنے حصے میں رکھنے کی جد وجہد میں مستغرق رہتے تھے۔اسی دوران روس نے سب پہلے اپنا خلائی مصنوعی سیارہ ’’استینک‘‘ کو مدار میں پہنچا کر امریکہ کو شش وپنج میں ڈال دیا ۔رد عمل میں امریکی ماہرین کسی انہونی حملے سے خود کو بچانے کے لیے نئی نئی تحقیقات کرنے لگے۔یہ تحقیقات رفتہ رفتہ ارتقاء کے مرحلے سے گذر تے ہوئے آج تک انٹرنیٹ اورسائبر اسپیس کی شکل میں ہم تک پہنچے ہیںلہذاس حقیقت بیانی سے زرّہ برابر انحراف کی گنجائش نہیں ہے کہ امریکی خوف کے مرہون منت اکیسویں صدی سائبر اسپیس کے دور میں شامل ہوگئی ہے۔اِس کتاب کی روسے دو کمپوٹر کے درمیان رابطے کا پہلا تجربہ ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو پائے تکمیل تک پہنچا تھا یہ وہ تاریخ ہے جو انٹر نیٹ کی دنیا کا نقطہ آغاز ہے ۔انٹر نیٹ کاابتدائی نام ARPANET تھاجو ۱۹۸۹ میں تبدیل ہوکر INTERNAETہوگیااور اسی سال عام شہریوں کو بھی اس سے جوڑنے کی اجازت دے دی گئی کیونکہ اِس سے پہلے یہ نظام صرف اور صرف امریکی سائنس دانوں اور دفاعی امورسے وابستہ تھا لیکن بعد میں اِس کو عوامی سطح پر سبھوں کے لیے عام کردیا گیا۔نتیجے میں عالمگیرسطح پر عوامی زندگی میں ایک زبردست انقلاب آیا اور پوری دنیا ایک نقطے پر سمٹ آئی۔
مدیر’’ کائنات، آن لائن میگزین ‘‘ڈاکٹر خورشید اقبال کی یہ تحقیق سائبر اسپیس کے افادی اور منفی دونوں پہلو کو اُجاگر کرتا ہے۔ تحقیق کا بنیادی مقصد کسی حقیقت کو پردہ خفی سے پردہ جلی پر یوں لانا کہ اُس کے تمام حقائق دنیا کے سامنے عیاں ہوجائے کیونکہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی موضوع کو عالمگیر سطح پر مٹھی بھر لوگ ہی جانتے ہیں اور اکثریت اِس سے لاعلم رہتی ہے۔ ایک مدّت کے بعد کوئی محقیق سامنے آتا ہے اور اس میں سیندھ لگاکر تمام حقائق کو عام کردیتا ہے۔ کہنے کا مدعا یہ ہے کہ ڈاکٹر خورشید اقبال نے’’ اردو ادب اور سائبر اسپیس‘‘کے موضوع پر تحقیق کرکے یہی کام کیا ہے۔ ایسا اِس لیے کہ ڈاکٹر خورشید اقبال کو اِس حقیقت کی آگہی ہے کہ ہواکے مخالف بادباں کو کھلا رکھنے سے کشتی کے بیچ بھنورمیں غرق آب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔آج زمانہ سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ میں داخل ہوگیا ہے اگر ہم اِس کے ساتھ چلنے سے قاصر رہے تو بہت پیچھے چھوٹ جائیں گے اس لیے اپنے ادب کو بھی زمانے کی ضرورت کے مطابق اِس کے موافق بنانا ہے اور بہت حد تک اردو والے اِس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرخورشید اقبال نے اپنی تحقیق کے دوران اِس کامیابی کا سراغ لگایاہے جس کے مدعے نظریہ احساس جاگزیں ہوتا ہے کہ جب جاگا تب سویرا۔!
ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ کا دست نگر ہے نیز آج کی زندگی اسی کے محور پر محوے سفر ہے۔اِس کتاب میں اِن تمام باتوں کا ذکر ہے کہ ای میل ،ویڈیو کالنگ ،چیٹنگ،تفریحی معلومات،آن لائن خریداری،بکنگ ، تعلیم اورحکومت سے متعلق اہم معلومات کیسے حاصل ہوں گے۔ اِس کتاب سے اِس حقیقت کا بھی انکشاف ہوتا ہے کہ ہندوستان میں ریڈیو براڈ کاسٹنگ کا پہلا تجربہ ۱۹۲۱میں کیا گیانیزاردو ریڈیو پروگرام کا باقاعدہ آغاز ۲۲فروری ۱۹۶۰ کو’’ اردو مجلس‘‘ کے نام سے شروع ہوا۔ اس کتاب میں جہاں سائبر اسپیس اور انٹر نیٹ کی افادیت سے بحث کی گئی ہے وہیں زندگی پر اِس کے منفی اثرات کا ذکر بھی کتاب کو متوازن بنانے میں معاون ہے۔جیسے شدید نفسیاتی ہیجان میں نوجوانوں کا گرفتار ہونا،کم سنی میں غیر اخلاقی فلمیں دیکھنا اور اِس کے نئی نسل پر بد اثرات، نیٹ کی وباسے کتابوںسے دوری،کمپوٹر اسکرین پر دیر تک دیکھنے سے پید ا ہونے والے آنکھوں،پٹھوں،گردن وغیرہ کے طبی مسائل،کرپشن،چوری ،ٹھگی میں اِس کا بے جا استعمال اورسماجی زندگی میں اِس کے ذریعہ پھیلائی گئی افواہوں کے غلط تاثرنیزسائبر اسپیس اور ادبی ترسیل کے وسائل سے متعلق جانکاری بھی اس کتاب سے مل رہی ہے ساتھ ہی ساتھ مختلف ویب سائٹس،بلاگ،آن لائن میگزین،اخبار سے متعلق تفصیلات معلومات کے خزانے میں اضافہ کرتے ہیں۔یہ کتاب سوشل نیٹ ورکنگ کے ادبی پہلو کو اُجاگر کرتی ہے اور انٹرنیٹ،سائبراسپیس کی سمت وبرق رفتاری ،معیارو منہاج کا پتہ بھی دیتی ہے۔ڈاکٹر خورشید اقبال کا مزاج ہمیشہ تخلیقی اور تحقیقی رہا ہے۔زیر نظر کتاب میں بھی اُن کا یہ شعور جاگزیں ہے۔کتاب کی ضخامت،مواد،بائنڈنگ کے اعتبار سے قیمت مناسب ہے۔بہر حال’اردوادب اور سائبراسپیس ‘‘ کے بارے میں صرف یہی کہاجاسکتا ہے کہ اِس کتاب نے خواجہ الطاف حسین حالیؔ کے اِس قول کی پیر وی کی ہے:
چلو تم اُدھر کوہواہو جدھرکی!
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
( کیلابگان،جگتدل،انڈیا)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

