Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

احمد یوسف بحیثیت رپورتاژ نگار وخاکہ نگار – شفیع احمد

by adbimiras فروری 15, 2021
by adbimiras فروری 15, 2021 0 comment

سید محمد عثمان احمد یوسف ۱۰ جنوری ۱۹۳۰ کو پٹنہ سیٹی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام سید عثمان یوسف اور والدہ کا نام نعیمہ خاتون تھا۔احمد یوسف نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ عالیہ کلکتہ میں پانچویں جماعت تک حاصل کی۔لیکن ۱۹۳۹ء میں ان کو کلکتہ سے پٹنہ بلا لیا گیا اور ان کا داخلہ محمڈن اینگلو عربک اسکول میں ساتویں جماعت میں کرا دیا گیا۔جہاں سے انہوں نے ۱۹۴۴ ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔پھر ۱۹۴۹ء میں علیگڑھ مسلم یونیورسیٹی سے بی ایس سی کیااور پٹنہ واپس چلے آئے ۔اس کے بعد کئی برسوں تک اپنی کاروبار ی مصروفیتوں میں کچھ اس طرح الجھے رہے کہ آگے کی تعلیم کی طرف انہوں نے دھیان ہی نہیں دیا۔۱۹۸۰ء کا وہ زمانہ تھا کہ انہوں نے دوبارہ تعلیم کی طرف توجہ دی اور طویل عرصہ کے بعد ۱۹۸۶ء میں مگدھ یونیورسیٹی گیا سے M.A کی ڈگری فرسٹ ڈویزن کے ساتھ حاصل کی۔ ۱۹۹۴ء میں ڈاکٹر ممتاز احمد سابق صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسیٹی کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان تھا :اردو ناول نگاری کے کرداروں کا سماجی پس منظرـ،، ۔دیگرتحریروں کی طرح یہ مقالہ بھی طباعت واشاعت  نہیں ہوسکا ہے لیکن ناول کےتعلق سےیہ مقالہ اپنےقاری کویہ احساس دلاتاہے کہ وہ اردو ناول کے تنقیدی منظر نامے پر گہری نظر رکھتے تھے۔

احمد یوسف جب چھوٹے تھے اسی دوران ان کے والد نے انہیں ’’دلی دربار‘‘(اکبر الہ آبادی) اور’’شکوہ و جواب شکوہ‘‘ (علامہ اقبال) یادکرا دی تھی۔بعد میں جب وہ پٹنہ آئے اور اپنے والد کی یاد کرائی ہوئی چزیں اپنے دادا کو سنائے تو  ان کے دادا نے انہیں ’’توبتہ النصوح‘‘ یاد کرانا شروع کر دی ۔ساتھ ہی رتن ناتھ شرشار کے کچھ مضامین بھی یاد کرا دئے۔یہاں یہ بات  قابل ذکر ہے کہ پٹنہ میں انہوں نے قرآن مجید کا تیسواں پارہ بھی حفظ کیا تھا۔ادب کے ان شہ پاروں کو ذیہن میں محفوظ کرنے سے یہ ہوا کہ ان کا مزاج ادبی بن گیا اور جب انہوں نے قلم اٹھایا تو کم از کم زبان و ادب کی حد تک کوئی دقت پیش نہیں آئی اور جس بھی موضوع پر قلم اٹھایالکھتے چلے گئے۔ (یہ بھی پڑھیں شعری آواز کامنفرد چہرہ۔غلام مرتضیٰ راہی – حقانی القاسمی)

احمد یوسف کو لکھنے کا شوق دوران تعلیم علیگڑھ ہوا۔یہ وہ سال تھا جس میں احمد یوسف کوادب پڑھنے کاکافی موقع ملا۔اسی زمانے میں انہوں نے کرشن چندر،احمد ندیم قاسمی،راجندر سنگھ بیدی،سعادت حسن منٹو،اختر اورینوی،اور سہیل عظیم آبادی کو تفصیل سے پڑھا۔غیرملکی ادیبوں میں فرنچ فکشن کے موپاسا اور فلابیر کواور روسی فکشن میں چیخوف ،ٹالسٹائی اور دوستووسکی کو بھی پڑھا۔اسی دوران انہوں نے کچھ مضامین بھی لکھے جو رشید احمد صدیقی کی تحریروںسے اس درجہ متاثر تھیں کہ سب کو ضائع کر دیا اور ۱۹۴۸ء سے باضابطہ طور پر لکھنا شروع کیا۔اس زمانے میں لکھی تحریروںمیں انہوں نے یہ کوشش کی کہ اپنی راہ آپ نکالی جائے۔جو سب سے ہٹ کر ہو اور مختلف بھی۔اس عمل میں کچھ نہ کچھ اثرات ماقبل کے تخلیق کاروں کے ضرور ہوتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ وہ فنکار سے الگ ہو جاتے ہیں۔بنیادی طورپراحمدیوسف ایک افسانہ نگارتھے لیکن ان کی تحریریں صرف افسانے تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہوں نے دوسری نثری اصناف میں بھی علمی وادبی یادگاریں چھوڑی ہیں۔انہوں نے مختلف علمی وادبی اصناف نثر میں گراں قدر خدمت انجام دی ہیں۔ان کے چار افسانوی مجموعے ہیںجو منظر عام پر آچکے ہیں۔

۱۔       روشنائی کی کشتیاں ۱۹۷۳ء

۲۔      آگ کے ہمسائے ۱۹۸۰ء

۳۔      ۲۳گھنٹے کا شہر ۱۹۸۴ء

۴۔      رزم ہو یا بزم ۲۰۰۴ء

تین ناولٹ کے مجموعے ہیں

۱۔       بستی کے مسکین

۲۔      گناہ آدم

۳۔      جلتا ہوا جنگل

بحیثیت رپورتاژنگار

احمد یوسف کی رپورتاژ نگاری کے تعلق سے یہ بات بہت ضروری ہے کہ وہ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں۔ بعد میں رپورتاژ نگاریا خاکہ نگار۔ آزادی کے بعد رپورتاژ نگاری کی جو دوسری صف ملتی ہے۔ اسی صف سے ان کا تعلق  ہے۔ ان کے رپورتاژ نگاری کی تعداد بہت ہی مختصر ہے۔ لیکن معنویت اور اہمیت کے اعتبار سے افسانے سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے ملک میں ہونے والے ادبی جلسے، مشاعرے اور ادبی نشستیوں کو خاص طور سے اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان کے رپورتاژ کے موضوعات غیر متنوع ہے۔ جس کی وجہ سے اس فن میں یک رنگی کا احساس ہوتا ہے۔

’’محفل محفل‘‘ احمد یوسف کے رپورتاژ کا مجموعہ ہے جس کوانہوںنے ۱۹۸۹ء میں لکھا۔یہ رپورتاژ صرف روداد نہیں بلکہ احمد یوسف کی ژوف نگاہی اوران کی تنقیدی بصیرت کا آئینہ دار ہے۔ان میں سے بیشتررپورتاژ کا عنوان انہوں نے شعرکے کسی مصرع کو بنایا ہے۔ اس مجموعے میں کل ۹  رپورتاژ ہیں۔ ان تمام رپورتاژوں میں تخئیل کی کارفرمائی کہیں نہیں ہے بلکہ حقیقت اور واقفیت کا راستہ بیانیہ ہے ۔حالانکہ ان کے خارجی مشاہدات میںداخلی کیفیات کا بھی احساسات ہوتا ہے اور اس داخلیت میں جذب و کشش بھی ہے۔لیکن انہوں نے اپنے رپورتاژ کے منظرنامے پر داخلیت کو غالب نہیں آنے دیا ہے۔ اس طرح رپورتاژ کا فن مجروح ہونے سے بچ گیا ہے۔ان کے رپورتاژ کے تعلق سے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ وہ اختلاف رائے کوایمانداری کے ساتھ قلم بند کرتے ہیں اور اپنی رائے کو مقدم رکھنے کی کوشش کبھی نہیں کرتے۔واقعیت،جذبے کی دھیمی آنچ اور مشاہدے کی باریکی ان کے رپورتاژنگاری کی امتیازی خصوصیات ہیں۔

’’محفل محفل‘‘ میں شامل پہلا رپورتاژ ’’ابھی توہیں دل شاعرمیںسینکڑوںناسور‘‘کے عنوان سے ہے جو بہت ہی پرکشش،دلاویزاوردلفریب ہے۔ یہ رپورتاژ 1968ء میں ’’شاعر‘‘ میں چھپا تھا۔ اس میں ادبی جلسے اور مشاعرے وغیرہ کی روایت سے متعلق قدیم اور جدید طرز کے رجحانات پر اشارے ملتے ہیں۔ چونکہ اس رپورتاژ کا تعلق اسٹوڈیوں مشاعرہ (ریڈیو) سے ہے۔ اس لیے یہاں پر مشاعرہ بند کمرے اور عام مشاعرہ کھلی فضا کو احمد یوسف نے نہایت پر لطف اور پر مزاح انداز  میں پیش کیا ہے۔ ابتداء مضمون کی طرح ہوتی ہے لیکن پڑھنے والا جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے۔ اس پر افسانوی رنگ چڑھتا جاتا ہے۔ پہلا صفحہ ہی قاری کو چھو جاتا ہے:

’’یہ آل انڈیا ریڈیو پٹنہ کا اسٹوڈیو ہے۔ چاروں طرف سے بند ایسے میں ہواؤں کا گزر کہاں؟ دیواریں ساکت و صامت سی کھڑی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں حیات کی رو ٹھہر سی گئی ہے۔‘‘(۱)

اس مختصر سی منظر کشی کے بعد فوراً موضوع  پر آتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ایک گھنٹے کا یہ مشاعرہ عام مشاعروں سے یوں مختلف ہے کہ یہاں صرف جدید شعراء مدعو کئے گئے ہیں‘‘ (۲)

’’فکرو فن کی ایک شام ‘‘ دوسرا رپورتاژ ہے۔ جیسا کہ عنوان سے پتہ چل رہا ہے احمد یوسف ہمیں مظہر امام کی نشست گاہ میں لے جارہے ہیں جہاں مظہر امام کے علاوہ حسن نعیم، نادم بلخی، وہاب اشرفی، شفیع جاوید، شکیب ایاز، ارمان نجمی، افصح ظفر، قدوس جاوید، قیصر صخی عالم اور سمیع الرحمن تشریف فرماں ہیں۔ اس رپورتاژ میں احمد یوسف نے بہار کے سرگرم ادیبوں اور شاعروں کی مجلس کا مختصراً جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورتاژ کی شروعات انہوں نے اس طرح کی ہے جیسے کہ کوئی خبر نگار خبر سنا رہا ہے۔جیسے جیسے رپورتاژ آگے بڑھتا ہے دلچسپی پیدا ہونے لگتی ہے۔ اس لیے کہ اس نشست میں شاعر اور نثر نگار دونوں موجود ہیں۔ اور دونوں طرح کی بحثیں ہو رہی ہیں۔ شعراء اپنے اشعار سنا رہے ہیں تو جو افسانہ نگار ہیں وہ اپنے افسانوں کوسنا رہے ہیں اور ہر ایک کو دادو تحسین کے ساتھ خوبیاں و خامیاں بھی گنائی جا رہی ہیں۔ مثلاً حسن نعیم جب اپنی غزل سنا رہے ہوتے ہیں تو اس شعر پر سب داد دیتے ہیں۔:

کسے بتائیں کہ غم کے صحراء کو خلد دانش بنایا کیسے

کہاں سے آب رواں کو موڑا کہاں سے باد بہارلائے

اس مختصر سے رپورتاژ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت دبستان عظیم آباد کا علمی اور ادبی مزاج کس طرح کا تھا اور بحث و مباحثے کا انداز کس قدر اعلی اور بلند تھا۔ احمد یوسف کا کمال ہے کہ آج سے چالیس سال پہلے کی ایک مختصر محفل کے حوالے سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ عظیم آباد کی مجموعی محفلوں کا بھی ادبی معیار کتنا اعلی و ارفع ہوتا تھا۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ احمد یوسف نے افسانے اور شعر پر ہونے والے مباحثے اور تبصرے کو جس دلچسپ انداز میں قلم بند کیا ہے۔ اس سے انور عظیم اور حسن نعیم کے فکرو فن کی ایک سمت متعین ہوجاتی ہے اور دوسری بات یہ کہ انور عظیم اور حسن نعیم اپنے فن کو کس نظریے سے دیکھتے ہیں احمد یوسف نے اپنی زبانی یہ قصہ بھی بیان کر دیا ہے۔شکیب ایاز کی قیام گاہ 29نومبر 1969افسانے، غزلیں اور نظمیں بینا صدر کے مع افطار و طعام۔ تیسرے رپورتاژ کے ان چند الفاظ سے صورت حال کا واضح انداز ہو جاتاہے۔ عنوان ہے ’’غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں‘‘ احمد یوسف اپنے پہلے جملے سے ہی چونکا دیتے ہیں۔

’’اوپر جاتے ہوئے وقت نہ ہمیں ایک زینہ نیچے اتار دیا ہے‘‘(۳)

یہ رپورتاژ شکیب ایاز کے گھر پر منعقد ایک ادبی نشست کی روداد پر مشتمل ہے۔ جس میں ظفر اوگانوی، لطف الرحمن اور قمر اعظم ہاشمی وغیرہ موجود تھے۔ اس نشست میں احمد یوسف نے بشیر احمد کی کہانی ’’خیر من النوم‘‘ پر جس نپی تلی رائے کا اظہار کیا ہے وہ افسانہ کے بطون پران کی گہری نظر کا پتہ دیتا ہے۔

’’یہ کہانی ایک ایسے شخص سے متعلق ہے جو خواب کے عالم میں خیر و شر کے تصادم سے دوچار ہے۔ حتی کہ وہ خواب میں بڑبڑانے لگتا ہے اور بیوی کے جگانے پر ٹوپی کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کے دل میں نماز کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہانی میں اذان کی صدا کا ذکر نہ کرتے ہوئے بھی ذکر کر دیا ہے یہ اس کہانی کا بڑا حسن ہے گویا خیر کی فتح ہوتی ہے۔ یہ احمد یوسف کی رائے ہے۔‘‘(۴)

اس نشست میں خود احمد یوسف نے اپنا ایک افسانہ سنایا جس کا عنوان تھا ’’غمزدوں کی بارات‘‘ اور یہ عنوان بھی معین احسن جذبی کے اس شعر سے لیا گیاہے:

دلوں میں آگ، نگاہوں میں آگ باتوں میں آگ

کبھی تو یوں بھی نکلتی ہے غمزدوں کی بارات

اس رپورتاژ میں احمد یوسف نے ایک خاص فلسفیانہ انداز اختیار کیا ہے۔ جو رپورتاژ کے آغاز سے ہی کہ’’ اوپر جاتے ہوئے وقت نے ہمیں ایک زینہ نیچے اتار دیا ہے‘‘۔ رپورتاژ کے اخیر تک کہ ’’آج بھی گذر گیا ہم کل ملے تھے‘‘ ہم کل ملیں گے۔ تب ایک انجانی آواز نے انہیں چونکا دیا۔ کل کی کسے خبر ‘‘تک قائم رہتا ہے۔ اس نشست میں دوا افسانہ نگاروں، شبیر احمد اور خود احمد یوسف نے اپنے افسانے سنائے، اور دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس کی تفصیل کہیں مضمون اور کہیں کہانی کی رنگ میں ہے۔ لیکن زبان و ادب کے کئی بنیادی اور گہرے موضوعات پر چلتے چلاتے بات چیت بھی چل رہی ہے۔ مثال کے طور پر جب شکیب ایاز نے اپنی غزل کے ان شعروں کو پڑھا:

خط میں لکھا تھا کہ کل شام تک آ جائیںگے

بیچ میں کیا ہوا پردیش سے آنے والے

آفتابوں کی کرن کام نہ کر پائے گی

رنگین پوشاکوں کو دھوپوں میں سکھانے والے

تو آفتابوں اور دھوپوں پر طویل بحث چلی اور مختلف ادیبوں نے اپنی ناقدانہ تبصرے سے آگاہ کیا اور یہ بات آہستہ آہستہ جدید شعراء کی بدلتی ہوئی زبان تک پہنچ گئی۔ جس سے عظیم آباد کی گذشتہ ادبی محفلوں کا معیار سمجھ میں آتا ہے۔

’’محفل محفل‘‘ میں شامل تیسرا رپورتاژ ’’نئے پرانے رشتے‘‘ کے عنوان سے ہے۔جو شفیع مشہدی کے فلیٹ پر منعقد ایک ادبی نشست کی روداد پر مبنی ہے۔ یہ نشست نہایت ہی سرد اور ٹھنڈی رات میں منعقد ہوئی تھی۔ جس کا سرد منظر نامہ احمد یوسف نے رپورتاژ کی ابتداء میں ہی یوں کی ہے۔

’’رات اس افسروں کی بستی میں آکر اور بھی ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ اس سرد سناٹے میں دور دور پر پھیلی ہوئی روشنیاں بہت ہی بھلی سی لگتی ہیں۔ لیکن نشست گاہ بے حد گرم ہے ایک کیف آگیں اجالا، صاف ستھرا فرش، درمیان میں ایک خوبصورت قالین، ایک بجھی ہوئی شمع‘‘(۵)

اگر فنی طور پر دیکھا جائے تو احمد یوسف کا اصلی رنگ اس رپورتاژ میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ حالانکہ یہاں انہوں نے ذرا تفصیل سے کام لیا ہے۔ اس کے باوجود پورے رپورتاژ میں احمد یوسف کی جادو بیانی ہرجگہ جلوہ گر ہے ۔

’’عارف نبض سخن، مالک فن‘‘ محفل محفل میں شامل ایک اہم رپورتاژ ہے۔ احتشام حسین کی یادگار کے طور پر خدا بخش اورینٹل پبلک لائیبریری ، پٹنہ میں منعقد حلقۂ ادب کے دو روزہ ادبی اجلاس کی تفصیل کو احمد یوسف نے یہاں پیش کیا ہے ان کے نمائندہ رپورتاژ کے بطور اسے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس اجلاس میں مباحثے کے دوران احتشام حسین کی شخصیت کے مختلف پہلو ابھرتے ہیں۔ جیسے تنقید نگار، بڑے ادیب، صحافی اور افسانہ نگار تھے۔ ترقی پسند اور جدیدیت کے درمیان کی اصولی اور موضوعاتی کشاکش نے دو دنوں تک خدا بخش لائیبریری کے ماحول کو گرم رکھا۔ احتشام حسین کی شخصیت اور ان کی تنقید کے حوالے سے جن لوگوں نے مقالے پڑھے یا اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ ان میں عطا کا کوئی ،محمد محسن، بیتاب صدیقی، اسلم آزاد، شکیب ایاز، عابد رضا بیدار، مظہر امام، سہیل عظیم آبادی اور وہاب اشرفی وغیرہ شامل تھے۔ خود احمد یوسف نے احتشام حسین کی تنقید نگاری کے حوالے سے جن نکات کی طرف توجہ دلائی وہ اردو تنقید پر بھی ان کی گہری نظر کا پتہ دیتا ہے۔ اس رپورتاژ میں احمد یوسف نے فرد کے ساتھ اجتماعیت پر بھی توجہ دی ہے اور فطری طور پر ان کا اسلوب تحریر بیانیہ ہے جو کسی بھی رپورتاژ کے لیے کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔بحث کا آغاز کرتے ہوئے احمد یوسف نے کہا:

’’اس مضمون کے سلسلے میں میرے کچھ مشورے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس مضمون کے دو حصے ہیں۔ ایک تو وہ حصہ ہے جس میں نئی نسل کے ساتھ ان کے رونے کی بات کہی گئی ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں عمیق حنفی سے ان کے مناظر کا تفصیلی ذکر ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس مناظر کو ایک اور مناظر کے ساتھ یعنی وہ مناظر جو احتشام صاحب کی اوائل عمری میں ان کے اور اختر علی تلہری کے مابین ہواتھا، اگر ایک مضمون کی شکل میں پیش کیا جائے تو بہتر ہوتا اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہردور کی نئی نسل کس طرح  پرانی نسل پر جارحانہ حملے کرتی رہی ہے۔‘‘(۶)

’’فسانہ بنے گا کل‘‘ احمد یوسف کے رپورتاژ کا مجموعہ ’’محفل محفل‘‘ میں شامل ایک اور اہم رپورتاژ ہے۔ اس رپورتاژسے پہلے جتنے بھی رپورتاژ جن کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ وہ سب کے سب پٹنہ کی محفلوں، تقریبوں اور مشاعروں سے متعلق ہیں۔ لیکن اس رپورتاژ کا تعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمد یوسف نے اس کی تفصیلات قلم بند کرنے میں کسی بھی طرح کی کوئی کنجوسی نہیں کی ہے۔ یہ رپورتاژ کل 88صفحات پر مشتمل ہے۔ انداز بیان اور اسلوب اس رپورتاژ میں اس طرح اپنایا ہے کہ تصویر کا ہر رخ پر لطف اور پرکشش ہو گیا ہے۔ اس میں داخلیت اور خارجیت کا قابل ذکر امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ اس رپورتاژ سے متعلق ایک قابل غور بات یہ ہے کہ سمیناروں میں ہونے والے مباحثے اکثر گرما گرم صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ احمد یوسف اس رپورتاژ کی ابتدا ہی افسانوی انداز میں پیش کرتے ہیں:

’’جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خوبصورت اور کشادہ احاطے میں کھڑے ہم سوچ رہے ہیں کہ تین دن یہاں گرما گرم بحثیں ہوںگی، کف آسودہ تلواریں ٹکرا سی گئی اور جب وہ زخموں سے نڈھال ہو جائیںگے تو پھر دلوں کو جوڑنے کا عمل شروع ہوگا اور شام کے آخری سرے پر ان اذیتوں اور کلفتوں کو اپنے اپنے پیالوں میں ڈبو دیں گے‘‘(۷)

1976ء میں منعقدہ اس سمینار کا موضوع تھا ’’جدید اردو ادب میں زبان کے تخلیقی استعمال کے مسائل‘‘ شرکاء کی فہرست بہت طویل تھی اس لیے کہ اردو کے علاوہ انگریزی ، ہندی، اسلامیات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے معروف و مشہور ادباء اس سمینار میں شریک ہوئے تھے۔ یہ سمینار اس اعتبار سے بھی بہت اہمیت کا حامل تھا کہ اسں جلسے کے افتتاحیہ سیشن کی صدارت شیخ الجامعہ مسعود حسین خان نے کی تھی اور یہ جلسہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی کوششوں سے منعقد ہواتھا۔ جس میں قومی اور بین الاقوامی سطح کی تقریباً وہ تمام ادبی شخصیتیں جن کے نام ہی سے اردو کا عصری ادب ممتاز و معتبر سمجھا جاتا ہے۔موجود تھیں۔جیسے قرۃ العین حیدر، سردار جعفری، شمیم حنفی، عمیق حنفی، ساقی فاروقی، وارث علوی، بیدی اور ندا فاضلی وغیرہ۔

اس رپورتاژ میں احمد یوسف نے جزئیات نگاری کی انتہا کردی ہے۔ ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ کوئی چھوٹی سی چھوٹی بات چھوٹنے نہ پائے۔ لہذا رپورتاژ کی شروعات کے بعد غالبؔ کے مجسمے کا نقشہ کھینچتے ہوئے مزاح کا عنصر بھی دکھلانے کی کوشش کی ہے۔غالب کا مجسمہ اس شعر کے سینے پر کھڑا ہے۔

جام ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے

کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا مجھے

ہاتھ میں کتاب لیے ایک لانبی سے قبا زیب تن کئے، سر پر اونچی ٹوپی ڈالے مجسمے کے بھاری پن نے اس کے قد کو چھوٹا کر دیا ہے۔ وہ افسر اور عالی مقام خفا ہو کر چلے گئے تو مجسمے نے پھر وہی گردان چھیڑ دی، گھوڑا لائو۔

اس کتاب کا آخری رپورتاژ ’’افسانہ کل اور آج‘‘ ہے جو خدا بخش لائیبریری پٹنہ میں منعقد سہ روزہ افسانوی سمینار (1985)کی تفصیل ہے۔ خدا بخش لائیبریری کے اس سمینارمیں افسانہ نگاروں کی شرکت اچھی خاصی اور بہار کی سطح پر اکثر و بیشتر اہم افسانہ نگار اس سمینار میں شریک تھے۔ اور تقریباً تمام افسانہ نگاروں نے افسانے بھی سنائے تھے۔ اور ان پر سیر حاصل گفتگو بھی ہوئی تھی۔ اس افسانوی نشست کی صدارت مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد محسن نے کی تھی۔ کلام حیدری نے نشست کی افتتاحی تقریر کی۔ اس کے بعد افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے سنانے شروع کئے ۔ سب سے پہلے شین مظفر پوری نے اپنا افسانہ ’’ماجرا جو گذر گیا‘‘ سنایا۔ پھر معین شاہد نے اپنا افسانہ ’’درد کا شہر‘‘ سنایا اور ان کے بعد حسین الحق نے اپنا افسانہ ’’کربلا ‘ ‘ سنایا ۔پھر اس کے بعد ڈاکٹر محسن نے صدارتی تقریر کی اور سیشن کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

اس پورتاژ میں افسانے کے متعلق جو بحثیں کی گئی ہیں وہ معمولی ہیں۔ اس میں احمد یوسف تازگی اور علمی روشنی نہیں بھر سکے ہیں۔ اگر یہ کہاجائے کہ یہ اوسط درجے کی محفل کی صرف تفصیل ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ اور اس سمینار کے اسی درجے نے مصنف کو محنت اور خون جگر صرف کرنے سے روکا ہے۔لیکن کچھ بحثیں ایسی ہیں جو اس رپورتاژکو ثروت مند اور بامعنی بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر محمد محسن کا یہ کہنا کہ:

’’جب دوسروں کی ذات سے بیگانگی پیدا ہو جاتی ہے تو تصورات ذات کی تشکیل و تنظیم کی گنجائش باقی نہیں رہتی بجائے اپنے آپ کو دوسرے کے آئینے میں دیکھنے کے فرد دوسروں کو اپنے آئینے میں دیکھنے لگتا ہے چنانچہ دوسروں کی تشخیص پر بھی اس کا اعتماد باقی نہیں رہتا وہ انہیں بھی اپنی طرح یک و تنہا نامرادی و شکستگی، بے یقینی اور احساس عدم حفاظتی کا شکارباور کرنے لگتا ہے۔‘‘ (۸)

احمد یوسف کے فن کی عمومی خامیاں یہا ں دیکھائی دیتی ہیں۔ ان کی قوت انشا اتنی مضبوط نہیں معلوم پڑتا۔ وہ سلسلے کے ساتھ اپنی باتوں کو پیش نہیں کر سکے ہیں۔ اکثر ان کے جملے اکھڑے اکھڑے اور بے ترتیب بھی معلوم ہوتے ہیں۔ ان چند خامیوں کے باوجودوہ اپنے عہد کے رپورتاژ نگاروں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کے یہاں اس فن میں نظریات و خیالات کا قابل ذکر تنوع ملتا ہے۔ واقعات اور روداد پر ان کی انصاف پسند طبیعت نے ان کے فن کو پختگی بخشی ہے۔ان کے اسلوب بیانی کی خوبی نے دلآویزی پیدا کی ہے اس فن کے اصول و ضوابط کو برتنے میں کوتاہی  نہیں برتتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے بہت کم لکھا ۔ لیکن انہوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ اس فن میں انفرادیت کے لیے کافی ہیں۔اگر وہ اپنے افسانوں کی طرح رپورتاژ کے لیے بھی موضوعات کو وسعت دیتے تو شاید اپنے عہد کے بڑے رپورتاژ نگاروں میں ہوتے ۔حالانکہ انہوں نے ’’محفل محفل‘‘ کو رپورتاژکے اصول وقواعد کو سامنے رکھ کر نہیں لکھا ہے۔بلکہ اپنے دیگر اصناف کی طرح اس میں بھی الگ اور منفرد راستہ بنانے کی کوشش کی ہے اور جہا تک ممکن ہو سکتا ہے ۔ بہت حد تک کامیاب بھی ہیںلیکن ان کے رپورتاژ وں میں چند خامیاں بھی ہیں جن کو نظرانداز کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ان کے رپورتاژوں کو پڑھ کر کہیں کہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس بات کو تسلسل کے ساتھ پیش کرنا چاہتے ہیں ،نہیں کر پا رہے ہیں ۔اس لئے کہ ان کے جملے اکھڑے ہوئے اور بے ترتیب معلوم ہوتے ہیںاور بیچ میں کبھی کبھی افسانوی رنگ اچانک غالب آ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رپورتاژکا دامن رپورتاژنگار کے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے اور اندر سے یہ آواز آتی ہے کہ اگر یہاں رپورتاژنگار خون جگر صرف کرتا تو رپورتاژکو مزید دلچسپ اور دلکش بنا سکتا تھا۔ان چند باتوں کے باوجود یہ رپورتاژ نہ صرف یہ کہ قابل مطالعہ ہے بلکہ دعوت غوروفکر بھی دیتا ہے۔دو محفلوں کو چھوڑ کر باقی تمام محفلیں شہرپٹنہ سے وابستہ ہیں۔جن سے آج سے تیس چالس سال پہلے کے ادبی ماحول اور اس کے معیار کا پتہ چلتا ہے۔

بحیثیت خاکہ نگار

احمد یوسف کے خاکوں کا مجموعہ’’دل کے قرین رہتے ہیں‘‘ہے۔جس کو انہوں نے ۲۰۰۷ء میں لکھا ہے۔یہ مجموعہ ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔اس مجموعے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں لکھے گئے خاکوں میں ایک تہذیبی تاریخ محفوظ ہو گئی ہے۔کتاب کی ابتداء فصیح الدین بلخی کے خاکے ’’بزرگ محترم‘‘ سے ہوتی ہے اور اختتام ان کے ابا کے خاکے بعنوان میرے ابا سے ہوتا ہے۔ احمد یوسف نے اپنے ابا محترم کو سب سے آخر میں جگہ دی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اس ثقافت کے تقاضے کو دھیان میں رکھ کر کیے ہوں۔ جہاں کے وہ پروردہ تھے۔ احمد یوسف نے ان خاکوں کے اندر سطور و بین السطور کے طور پر بہت سی جگہوں پر اپنی تعلیم و تربیت کے متعلق لکھ کر اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کی جھلکیاں بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

کتاب کا پہلا خاکہ احمد یوسف نے’’ بزرگ محترم ‘‘کے عنوان سے لکھا ہے۔ یہ خاکہ فصیح الدین بلخی کا ہے جس میں انہوں نے بلخی صاحب کو انیسویں صدی کے اواخر کے مصنف ، مؤلف اور ادیب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔آگے یہ بھی لکھا ہے کہ 1911-12تک وہ پونا ملٹری اسکول میں معلم رہے تھے۔ ان کی پیدائش 10فروری 1885ء میں ہوئی تھی۔ 1912-16ء تک وہ فورٹ ولیم کالج میں معلم بھی رہے۔ فصیح الدین بلخی کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ

’’فوجی ملازمت کے سلسلے میں پہلی جنگ عظیم میں سیریا مصر، فلسطین ، دمشق، بیروت اور بیت المقدس وغیرہ میں رہے۔ وہاں سے واپس آئے تو سب ڈپٹی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1921ء میں عدم تعاون کی تحریک سے متاثر ہو کر اس نوکری سے استعفی دے دیا۔ کئی برسوں تک سخت معاشی بحران میں مبتلا رہے۔ بالآخر 1926ء میں ریاست سرائے قلع میں Revenue Officerاور مجسٹریٹ کی حیثیت سے بحال ہوئے اور وہاں سے 1947ء میں ریٹائر ہونے کے بعد پٹنہ یونیورسٹی میں شعبۂ مخطوطات کے ناظم مقرر ہوئے۔ 1960ء میں وہاں سے بھی ریٹائر ہو گئے‘‘(۹)

اس طرح ان چند سطور میں احمد یوسف نے بڑی خوبی کے ساتھ ان کی مختصر مگر جامع سوانح حیات کو کم سے کم لفظوں میں سمیٹنے کی مکمل کوشش کی ہے۔ احمدیوسف  نے بلخی صاحب کے تالیفات بھی گنوائے ہیں جن میں تاریخ مگدھ ، انشادوشاد، تذکرۂ ہند و شعرائے بہار، تذکرہ نسوان ہند وغیرہ۔ آگے رسائل میں شائع شدہ مضامین کی فہرست بھی دی ہے جس میں 26مضامین استاد شعراء و ادباء کے متعلق ملتے ہیں۔ بلخی صاحب نے جو ریڈیو ٹاک دئیے ان کی فہرست بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ آگے بلخی صاحب کی غیر مطبوعہ تصنیفات کی ایک لمبی فہرست بھی ملتی ہے۔ ساتھ ہی ان کا نسب نامۂ پدری مادری وغیرہ سے بھی مکمل بحث کی ہے اور بلخی صاحب کی پوری کی پوری داستان محض تیرہ صفحات میں سمیٹنے کی مکمل کوشش کی ہے جو اپنے آپ میں ایک بہترین کار کردگی معلوم ہوتی ہے۔

اس مجموعے کا ایک اہم خاکہ بعنوان ’’مرشدی و مولائی‘‘ کے نام سے ہے۔ جو تقی رحیم کے متعلق لکھا گیاہے۔بیس صفحات پر لکھے گئے اس خاکہ میں تقی رحیم صاحب کی پوری شخصیت ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ خاکہ کا آغاز نہایت ہی خوشگوار انداز میں کیا گیا ہے۔ پیش ہے آغاز کی چند سطریں:

’’تقی رحیم صاحب سے میری ملاقات 61ء کے آس پاس ہوئی تھی۔ وہ میرے بھانجے شاہ نورالدین کے ساتھ مجھ سے ملنے میرے گھر آئے تھے۔ صنم میں میں ان کی کچھ تحریریں پڑھ چکا تھا جس سے میرے ذہن میں ایک نوجوان ادیب کی امیج بنی ہوئی تھی۔لیکن انہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ وہ چالیس پینتالیس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں تو آپ کو کمسن سمجھتا تھا۔بعد میں انہوںنے شاہ نورالدین سے دریافت کیا کہ میں نے انہیں ’’کمسن‘‘ کہا تھا یا ’’مسن‘‘ میرا خیال ٹھیک ہی تھا کیوں کہ ایک زمانے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش 1919ء کی ہے ‘‘(۱۰)

پس منظر کے پڑھنے کے بعد احمد یوسف کا مزاقیہ انداز ظاہر ہوتا ہے آگے احمد یوسف نے تقی رحیم کی تصنیفات کا ذکر بھی کیا ہے جس میں ان کی شہرت یافتہ تصنیف ’’تحریک آزادی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ‘‘ بھی شامل ہے۔

احمد یوسف نے انہیں یادوں کو تقی رحیم کی صورت اس قدر پیش کی ہے کہ تقی رحیم کی شخصیت سازی کا ایک کامیاب مرقع ہمارے سامنے آتا ہے۔ خاکہ پڑھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ تقی رحیم صاحب کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی کہ ان کا ظاہری رخ کبھی ان کی اصلیت کا سراغ لگانے میں پردے حائل کر دیتا تھا۔احمد یوسف نے ایک جگہ لکھا ہے۔

’’وہ اپنی باتوں کو بے حد گنجلک انداز میں پیش کرتے تھے۔ عجیب بات یہ تھی کہ مارکسسٹ ہونے کے باوجود انہیں بالشویک تاریخ سے زیادہ اسلام کی تاریخ سے دلچسپی تھی۔‘‘(۱۱)

مجموعے کا اگلا مضمون حسن نعیم کے متعلق ہے جو بعنوان ’’پا پیادہ تھا مگر راہ میں وہ دھوم مچی‘‘ہے ٗٗاس تحریر سے بھی حسن نعیم صاحب کی مثبت شخصیت کا علم ہوتا ہے۔ احمد یوسف ایک جگہ لکھتے ہیں۔

’’حسن نعیم بمبئی کے کسی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے گئے ہوئے تھے اور دن کی عدم موجودگی ہم سبھوں پر بے حد شاق گزری تھی۔ حسن نعیم کا خاندان صوفیاء اور مشائخ خاندان رہا۔ اس لیے صوفیائے کرام کی کچھ اعلی روایتیں گویا انہیں ورثے میںملی تھیں…مہمان نوازی، وسیع القلبی اور فیاضی(اور وہ بھی اس درجے کی کہ پیسے کو پیسہ ہی نہ سمجھا جائے)حسن نعیم کو ان ہی لوگوں سے ملی ہے۔ان ہی دنوں کی بات ہے کہ ایک مہمل سا بے اثر شاعر جہاں گردی کرتا ہوا پٹنہ آ نکلا۔ وہ اپنے کو ترقی پسند کہتا تھا اور کچھ مستند قسم کے ترقی پسند ادیبوں کا ذکر کچھ اس طور پر کرتا تھا جیسے وہ اس کے لنگوٹیا یار ہو۔ ہم لوگوں نے اسے ایک مخصوص نشست میں مدعو کیاتھا۔ حسن نعیم انجمن کے سکریٹری تھے۔ نشست ختم ہوتے ہی وہ حسن نعیم کو کنارے لے گیا اور وہاں اپنا مدعا بیان کیا۔ وطن جانا ہے اور پاس میں پیسے نہیں ہیں۔حسن نعیم ان دنوں سخت مالی مشکلات میں گھرے تھے۔ اسکول میں ٹیچر تھے۔ معمولی سی تنخواہ تھی۔ پھر حمی (بیوی) بیمار تھیں اور انہیں قیمتی دوائیں دی جاتی تھیں، اس کے باوجود انہوں نے اپنا پرس نکالا اس میں کل بیس روپے تھے وہ اس کے حوالے کر دئیے۔ ہم لوگ یہ دیکھتے ہی رہ گئے پوچھنے پر بس ایک ہی جواب تھا اسے واقعی ضرورت تھی۔ کل کی طرف سے بیگانہ تو وہی لوگ رہ سکتے ہیں جنہیں صبرو شکر کی تعلیم دی گئی ہو۔‘‘(۱۲)

حسن نعیم اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے آزادی کے بعد اپنی شناخت بنائی اور ہیئت و مواد میں تبدیلیوں کو قبول کرکے اپنی بساط بچھائی۔احمد یوسف نے اپنے اس مضمون میں جو آہنگ (گیا) 1969ء میں شائع ہوا تھا ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔خاص کر ان کی شاعری کے پس منظر اور شعری نزول کے متعلق ان کی ذاتی زندگی اور درویشی کے متعلق۔جیسا کہ مندرجہ بالا کے چند اقتباسات سے ظاہر ہوئے ہیں۔ یہ ساری باتیں غلط فیصلوں کے متعلق نہیں لکھے ہیں۔ حالانکہ وہ ان کے دوست بھی تھے اور بے حد قریب بھی۔شاید یہ تحریر اور پہلے لکھی گئی تھی اسی لیے اس میں ایک خاص دور کے بعد کی باتیں درج ہونے سے رہ گئی ہیں۔ ترقی پسندوں اور ترقی پسند مصنفین سے ان کا تعلق اہم تو ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی بالشعور شخص کسی ایک فلسفہ کی حدود میں قید ہو کر نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ترقی پسند تحریک کے رجحانات کی موجودگی کے باوجود حسن نعیم کی شاعری اپنی شاعری اور اپنے وقت کے دکھوں کے گرد گھومتی ہے۔ اس مضمون کے ذریعہ بھی حسن نعیم کی شخصیت جلوہ گر ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔

مجموعے کا اگلاخاکہ مظہر امام سے متعلق ہے جو بعنوان ’’نہ کوئی لطف سماعت نہ کوئی لذت دید‘‘ کے نام سے ہے یہ مضمون پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ نہ تو خاکہ ہے اور نہ ہی سوانحی بیانیہ۔ کیونکہ یہ مضمون دونوں فنون پر کھرے نہیں اترتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس مضمون میں یادوں کی صدائے بازگشت ہے اور ان کی شاعری کے متعلق تاثراتی تنقید جو کہیں کہیں بہت بامعنی ہو جاتی ہے۔ اس میں بھی معلومات کے خزانے لٹائے گئے ہیں۔

در اصل احمد یوسف کا اسلوب اتنا قربت آفریں ہے کہ وہ فاصلے قائم ہی نہیں کر سکتے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو بہت دنوں سے جانتے تھے۔ ترقی پسندی نے اور کچھ دیا ہو یا نہیں ، لیکن ادیبوں اور خاص کر نوجوان ادیبوں کو ایسا ماحول فراہم کیا کہ وہ ایک دوسرے کو جان پہچان سکیں۔مظہر امام خود ساختہ آدمی کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں سخت محنت اور کچھ کرنے کی لگن تھی جودکھائی دیتی ہے۔ اور انہیں صفات کی وجہ سے وہ بی۔ اے کرنے کے بعد اپنی دریافت میں کامیاب بھی ہوئے۔ انہوںنے کلکتہ میں ایک اسکول کی ملازمت سے نامساعد حالات میں زندگی کا آغاز کیا اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے سربراہ کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ وہ جہاں بھی رہے وہاں کے ادیبوں و شاعروں کی ہمت افزائی بھی کئے اور اپنی شخصیت سازی میں کوشاں رہے۔ پٹنہ میں رہ کر انہوں نے اردو فارسی دونوں میں ایم ۔اے امتیازی نمبروں کے ساتھ کیا اور اپنی ترقی کی راہ مزید ہموار کی۔اس مضمون میں مظہر امام سے کئی رشتے بھی دریافت ہوئے ہیں اور ان کے متعلق بہت سی باتیں جوان کی خوبیوں پر روشنی ڈالتی ہیں لیکن کہیں کہیں ڈھکے چھپے انداز میں ان کی خامیوں کا بھی ذکر ہے۔

آگے کا خاکہ ظہیر صدیقی کی شاعری پر مرکوز ہے اور ان کی شخصیت کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ بعنوان ’’مگر جہاں سے بڑھ گیا وہیں پر آواز جل گئی ہے‘‘ لکھا گیا یہ خاکہ ،خاکہ نہیں بلکہ ایک تنقیدی مضمون ثابت ہوا ہے۔ ظہیر صاحب کی شاعری سے متعلق بہت ساری باتوں کو اجاگر کرے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ ظہیر صدیقی ان دنوں ادب اور اردو شاعری سے اتنا قریب نہیں تھے جتنا کہ وہ پہلے تھے لیکن احمد یوسف نے جتنا کچھ لکھ دیا ہے اس سے ان کی شناخت کا مرحلہ بہر حال طے ہو ہی جاتا ہے کہ ایک خاص انداز کی شاعری کے ذریعہ اپنی پہچان بنانے والے ظہیرنے نظمیں بھی لکھی ہیں۔ ظہیر تاریخ کے ایک دور سے شدید وابستگی کے باوجود ایک موازن اور مربوط نظریہ سے تاریخی حقائق کو دیکھتے اور پرکھتے تھے۔ انہیں اپنی نارسائیوں کا بھی احساس تھا ۔

مضمون میں ظہیر کی شاعری کے بارے میں اور ان نشستوں کی جہاں انہوں نے اپنی نظمیں اور غزلیں سنا کر اپنی شاعری کی دھوم مچائی بہت ساری تفصیلات درج ہیں۔ جن کے اعادہ کی یہاں چنداں ضرور ت نہیں۔ لیکن اتنا تو ہے کہ شاعری کے رنگ و آہنگ سے ہم سبھی لوگ متاثر ہوئے تھے۔ انہی دنوں جدید شاعروں کاایک ریڈیائی مشاعرہ ہواتھا جس میں پرکاش فکری ، وہاب دانش ، شاہد احمد ، شعیب اور کئی لوگوں نے اپنی نظمیں سنائی تھیں لیکن ظہیر کی قبیح لمحوں کا دیوتا ہم سبھوں کو بہت پسند آئی تھی اور اس کا چرچہ کئی دنوں تک رہا۔ انہوں نے ظہیر کے ذوق مطالعہ کی بھی داد دی ہے اور ان کے ایک سخت رائے ہونے کی حیثیت کو سراہا بھی ہے۔ لیکن کئی ایک ایسے واقعات کا ذکر کرنے سے بھی نہیں بذلہ سنجی کی رو میں بہہ کر وہ ایسی بات کہہ دیتے تے جس کا نشانہ بننے والے کو تکلیف پہنچتا تھا۔ لیکن انہوں نے جا بجا ظہیر کی شاعری کے بارے میں بہت کچھ مثبت آراء کا اظہار کیا ہے۔ جیسے:

’’انہوں نے اعلی شعری روایتوں کی توسیع کی ہے۔ ان کی شاعری رد عمل کی شاعری نہیں ہے… خوشی اس بات کی ہے کہ راشد کے بعد نظم کا ایک ایسا Non aligned شاعر سارے ایوان شاعری میں داخل ہوا ہے جو روایتوں سے منسلک ہے جو فکر کا ایک مکمل نظام رکھتا ہے اور جس کے یہاں سب کچھ اپنا ہے‘‘(۱۳)

ظہیر صدیقی کے بعد ایک چھوٹا سا خاکہ غیاث احمد گدی کا ملتا ہے جو بعنوان ’’قصہ گو تھا فسوں طراز بھی تھا‘‘ کے نام سے جو غیاث احمد گدی، کلام حیدری اور نادم بلخی کے متعلق ملتے ہیں۔ جو احمد یوسف کے یادوں کے تار کو کھولتے ہیں۔ نادم بلخی سے ان کی بچپن کی دوستی تھی لیکن وہ فاصلوں کی نظر ہو گئی کہ وہ تو ڈالٹین گنج میں دھونی رما کر بیٹھ گئے اور روز کا ملنا موقوف ہو گیا ۔ ہر چند کہ ان کی محبتوں میں کچھ فرق نہ آیا ۔ باقی دونوں کے ساتھ مل کر وہ یہ کہ غیاث احمد گدی کی رحلت کے ساتھ کیا ہے۔ ان دونوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور بزم آرائیوں سے دنونوں کے دلوں کا غبار دھل جاتا تھا۔کہ ہم قیاس اور ہم ذوق ہونے کے ساتھ ان کے دلوں میں اک دوسرے کے لیے بڑی محبت تھی۔ غیاث احمد گدی بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن ان کو افسانوں کے فن پر جو عبور حاصل تھا وہ قابل رشک بھی تھا اور قابل تقلید بھی ۔ان تینوں نے ترقی پسندی کے دور میں لکھنا شروع کیا لیکن ان کی شناخت جدیدیت کے دور میں ہی مکمل ہوئی۔

اس کے بعد احمد یوسف نے وہاب اشرفی کا خاکہ بعنوان ’’توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد‘‘ لکھاہے۔ اس مضمون کے ذریعہ احمد یوسف نے ہمیں وہاب اشرفی کو روشناس کرایا ہے۔ وہاب نام تو ایک آدمی کا ہے لیکن ان کے کارنامے بیان کئے جائیں تو یہ بات معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرد فرید ایک ادارہ کیسے بن جاتا ہے۔مضمون کی ابتداء میں وہاب اشرفی سے ابتدائی ملاقاتوں کا بھی ذکر ہے اور ان سے بڑھتے ہوئے مراسم کا بھی۔ وہاب اشرفی کی ابتدائی شناخت تو ایک افسانہ نگار کی تھی یا ماہنامہ ’’صنم‘‘ کے مدیر کی، لیکن شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے مامور ہو گئی۔ گیا میں انہیں کلام حیدری نے ایک طرح سے دریافت کیا اور ان کے جوہر سے کام لے کر ان کو اعتبار بخشا۔ حسن نعیم کے پہلے مجموعے پر ایک تبصرہ کا جواب انہوںنے جس طرح لکھا اور مثالوں سے اعتراض کرنے والوں کو خاموش کیا۔ اس سے فن تبصرہ نگاری کا بھلا تو ہوا ہی خود حسن نعیم، جو اس معاندانہ تبصرے سے بجھ سے گئے تھے، پھر اپنے آپ میں آگئے۔ حسن نعیم سے ان کے تعلقات ہمیشہ خوش گوار رہے اور دونوں میں کبھی بھی تلخ کلامی اور کسی طرح کی بھی تلخی پیدا نہ ہو سکی۔ کہ دونوں ایک دوسرے کے قدر شناس بھی تھے اور ناز بردار بھی۔ لیکن کلام حیدری سے ایک بار حسن نعیم کی موجودگی میں وہاب اشرفی کا پارہ جس طرح چڑھا اور کلام حیدری صاحب جس طرح برداشت کرتے رہے اس سے دونوں کے باہمی تعلقات کا پتہ چلتا ہے اور اس کو ہر حال میں قائم رکھنے کے لیے معاف کرنے اور در گذر کی بے انتہا قوت کا بھی۔

یہاں حسن نعیم کے مزاج کے لا ابالی پن کا تذکرہ کا بھی جو اپنے دکھوں کو گلے سے لگائے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں لیکن کسی سے ان کی کوئی شکائت نہیں کی۔حسن نعیم کی بلا نویسی کے بارے میں بھی ان کے احباب کی پریشانیوں کا بیان ہوا ہے۔ افسوس یہی ہے کہ وہ اپنی مایوسیوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنے میں ناکام رہے اور ٹوٹ کر بکھر گئے۔مضمون میں وہاب صاحب اور سہیل عظیم آبادی کے باہمی تعلقات کا بھی بیان ہے اور دونوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے کا ذکر بھی۔ در اصل دونوں میں یہ ساری قدریں مشترک تھیں اور دونوں ادب کیایک دوسرے ذوق وجدان کی داد بھی دیتے رہتے تھے۔

احمد یوسف نے وہاب اشرفی کی تقریری صلاحیتوں کا بھی بہت اچھی طرح ذکر کیا ہے۔ ان کے پاس کہنے کو اتنا کچھ ہوتا تھا ، ان کے ذہن میں کسی موضوع کے منظر اور پس منظر کے متعلق اتنا مواد موجود رہتا ہے کہ وہ موضوع کے ساتھ انصاف کے تقاضے بہت حد تک پورے کردیتے تھے۔ ان کے مزاج میں درویشی انہیں یعنی پیری مریدی کو ترک کرنے کے باوجود ان کے مزاج میں نہ غرور تھا نہ کسی غلط قسم کی نفسیاتی پیچیدگی۔ وہ اپنی جڑوں سے کٹے نہیں تھے۔

احمد یوسف نے آخری خاکہ اپنے ابا مرحوم کا لکھا ہے۔ جو بعنوان’’ میرے ابا‘‘ کے نام سے ہے۔ ان کے ابا کا نام سید محمد یوسف تھا۔ بے حد جذباتی انداز میں لکھے اس خاکے میں احمد یوسف نے بیٹے ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اپنے والد مرحوم کی تعلیمی لیاقت کاروبار اور نجی زندگی کے پسند نا پسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مختصر مگر جامع تحریری گفتگو کی ہے۔جذبات میں ڈوبی یہ آخری تحریر احمد یوسف کو اپنے ابا مرحوم کی محبت سے بہت قریب کر دیتی ہے اور قاری ایک بار خود جذباتی ہو جاتا ہے۔

اس طرح اس کتاب (دل کے قریں رہتے ہیں) کے تمام خاکے ختم ہوتے ہیں۔ یہ تمام خاکے اپنے دور اور اپنے وقت کی تہذیبی تاریخ رقم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ان خاکوں میں مذکور بیشتر شخصیتیں اب رفتگاں(مرحوم) کی صف میں شامل ہو گئیں ہیں۔ ان سبھی میں صرف ایک کے علاوہ باقی  سبھوں نے بیسویں صدی میں آنکھیں کھولیں اور رائج علوم سے فیض یاب ہو کر اپنی بساط دکھائی ہے۔ اور اپنی پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ فن سے متعلق اگر بحث کریں تو بہت سارے مضامین خاکہ کے فن پر پورے نہیں اترتے مگر یاد داشت اور کہنے کا انداز اس قدر بہترین اور دلچسپ ہے کہ اس کی کمی جاتی رہتی ہے اور قاری گو ہر خاکہ حظ تسکین سے آشنا کرانے میں کامیاب ہو گیاہے۔

مختصرایہ کہ احمد یوسف ایک عظیم افسانہ نگار،رپورتاژنگاراورخاکہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ  ناقدانہ ذہنیت کے مالک بھی تھے۔انہوں نے اس دنیا کو وداع کہنے سے پہلے چارافسانوی مجموعے،تین ناولٹ،ایک خاکوں کا مجموعہ اور ایک رپورتاژ کا مجموعہ کی تخلیق کی جو منظر عام پر آچکے ہیں۔احمد یوسف ایک ہمہ جہت اور ہمہ صفت ادیب تھے۔

 

حواشی

۱۔       احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص ۷

۲۔      احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص۸

۳۔      احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص۲۹

۴۔      احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص۳۰

۵۔      احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص۳۶

۶        احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص۵۵

۷۔      احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص۶۹

۸۔      احمد یوسف،محفل محفل،۱۹۸۹ء،پٹنہ لیتھوپریس رمنہ لین،پٹنہ،ص۱۶۸

۹۔       احمدیوسف،دل کے قریں رہتے ہیں،عفیف آفسٹ پرینٹرس،دہلی،۲۰۰۷ء،ص۱۲

۱۰۔     احمدیوسف،دل کے قریں رہتے ہیں،عفیف آفسٹ پرینٹرس،دہلی،۲۰۰۷ء،ص ۵۲

۱۱۔      احمدیوسف،دل کے قریں رہتے ہیں،عفیف آفسٹ پرینٹرس،دہلی،۲۰۰۷ء،ص۵۴

۱۲۔۔    احمدیوسف،دل کے قریں رہتے ہیں،عفیف آفسٹ پرینٹرس،دہلی،۲۰۰۷ء،ص۷۹

۱۳۔     احمدیوسف،دل کے قریں رہتے ہیں،دعفیف آفسٹ پرینٹرس،دہلی،۲۰۰۷ء،ص۱۵۷۔۱۵۸

 

  شفیع احمد

 اسسٹنٹ پروفیسر،ایم جے کے

کالج،بتیا مغربی چمپارن،بہار

  پن کوڈ ۸۴۵۴۵۱

 موبائل نمبر :9560339869

ای میل : shafiahmad229@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ahmad yusufاحمد یوسف
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
خورشید اقبال کا’’ اردو ادب اورسائبر اسپیس‘‘ – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
اگلی پوسٹ
جانگلوس کے مرکزی کردار’’لالی ‘‘کے متضاد رویّے – ڈاکٹر شہناز رحمٰن

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں