ادبی متن کی قرأت اوراس سے درست معانی کی یافت بھی ایک فن ہے ۔ کسی متن کو متن تسلیم کر لینے کے بعد سب سے پہلے تو یہ طے کرنا پڑے گا کہ متن ادبی ہے یا غیر ادبی ،ا گر غیرادبی ہے تو وہ متن ہماری بحث سے خارج ہے اور اگر ادبی ہے تویہ سوچنا پڑے گا کہ اس کی قرأت (بلحاظِ تفہیم و تاویل )کا زاویہ کیا ہو، آزاد یا پابند؟اب یہاں پر دشواری یہ طے کرنے میں ہے کہ متن کی آزادانہ قرأت سے درست معنی تک رسائی حاصل ہوگی یا کسی نظریے کی پابند قرأت سے۔ اگر آزادانہ قرأت طے پائی تو ایک بات ہوئی اور اگر نظریاتی قرأت جواب آیا تو پھر سوال یہ پیدا ہوگا کہ کس نظریے کا پابند ہو۔ ترقی پسند، جدید، ما بعد جدید یا کوئی اور؟ اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ جو متن جس زمانے میں یا جس نظریے سے تحریک پاکر تخلیق کیاگیا ہو اسے اسی نظریے سے پڑھنا ٹھیک ہوگا تو پھر امیر خسرو ، ولی ، میر اور داستانوں و مثنویوں کو کس نظریے کے تحت پڑھا جائے گا؟ یا اگرمان ہی لیں کہ زید نے اپنے کو ترقی پسند نظریے کا پابند بنا لیا اور ترقی پسند دور کے ہی کسی فن پارے کو اپنی قرأت کا موضوع بنایا تو کیا اس کی قرأت سے بر آمد شدہ معانی درست ہی ہوںگے؟ اور یہ طے کون کرے گا کہ متن کے جو معنی زید نے سمجھے ہیں وہ درست ہیں کہ نا درست؟
مذکورہ بالا بیان سے یہ قطعی نہ سمجھا جائے کہ کسی فن پارے کی نظریاتی قرأت صحیح نہیں۔ میں تو بس یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ متن کی قرأت جس زاویہ کا تقاضا کرے اور جس سے اس کو کما حقہ سمجھا جا سکے اسی زاویہ سے اس کی قرأت کی جائے۔میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ایک متن کی قرأت محض ایک ہی زاویے سے ممکن ہے ، جہاں پر بھی الگ الگ زاویۂ قرأت کے نتیجے میں قاری کے ذہن میں کیفیت و تأثر کے الگ الگ زاویے بنتے ہوں یا معنی کے کثیر الجہات پہلو روشن ہوتے ہوں وہاں مختلف زاویوں کے حوالے سے متن کے تخلیقی تنوع کا عرفان اسے حاصل کرنا چاہیے ۔
کسی فن پارے کی قرأت کا زاویہ واحد ہو یا مختلف مگر قرأت کئی بار ہونی چاہیے کیونکہ الفاظ گنجینۂ معانی کا طلسم ہوتے ہیں؛ ان کے بندھن میں کوئی ایک معنی نہیں بندھا ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ پہلی دفعہ کی قرأت میں فن پارہ قاری کے پلے ہی نہ پڑے یا پڑے بھی تو بعد والی کسی قرأت میں اس سے ہٹ کر کوئی ایسا معنی ہاتھ لگ جائے کہ وہ اچھل پڑے۔یہی وجہ ہے کہ قرأت کو ایک بے حد صبرآزما کام تصور کیا جاتاہے ۔ پروفیسر عتیق اللہ کے الفاظ میں کہیں تو ’’قرأت ایک عمل ہی نہیں ، ایک پورا عملیہ ہے۔‘‘مکمل اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’ہر تخلیقی متن کئی لسانی اور تکنیکی پیچیدگیوں کے ساتھ مشروط ہوتا ہے ۔وہ بہ یک وقت کئی نسلوں کو خطاب کرتا ہے اور کئی دماغوں اور تخیلات سے گزرکر ہم تک پہنچتا ہے۔قرأت ہمیشہ صبر کی متقاضی ہوتی ہے اور تخلیق ازخود بے حد شرمیلی ،کم گو، نخریلی، شوخ اور چنچل ہوتی ہے ایک دم نہیں کھلتی اس کی ناز برداری کرنی پڑتی ہے۔ جب کہیں جا کر تھوڑی بہت، زیادہ سے زیادہ آپ کے قابو میں آتی ہے اور پھر نکل جاتی ہے۔ حصولِ معنی اس طرح صبر کا تقاضا کرتا ہے جس طرح بقول ٹیری ایگلٹن ہمیں عقل ڈاڑھ کو نکلوانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ قرأت ایک عمل ہی نہیں ایک پورا عملیہ (پروسیس) ہے۔‘‘
(بحوالہ :مجلہ ارمغان ،شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی، شمارہ:۶، مقالہ :قاری اور قرأت از عتیق اللہ، ص:۱۱۸۔۱۱۷)
قاری کو ہر قرأت میں سابقہ قرأت سے مختلف یااضا فے کی صورت میں کچھ نیا معنی و مفہوم فراہم ہو سکتا ہے ، اس لیے اس کو کسی بھی متن کے سرسری مطالعے سے پرہیز کرنا چاہیے اور متن کے غائر مطالعے سے جو معنی ہاتھ لگے اسے بر وقت اپنی درست رائے تسلیم کرلینی چاہیے۔ بر وقت اس لیے کیوںکہ بعد میں کسی موقع محل(Situation)کے تحت خود اس کے یا کسی اور قاری کے ذہن میں متن کے معنی کا کوئی نیا اورپہلے سے بہتر یا ان دونوں میں سے کوئی ایک پہلو آشکار ہوسکتا ہے۔ قاری کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی معنی متن کے ساتھ دائمی طور پر مختص نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی بات کو پروفیسر عتیق اللہ یوں بیان کرتے ہیں:
’’کوئی بھی شعری یا افسانوی شہ پارہ کسی ایک خیال یا کسی ایک معنی نہیں خیالات اور معنی کے گچھوں کا مجموعہ ہوتا ہے اور زبان کا اپنا مجرد اور تخلیقی عمل اسے نامانوس اور اجنبی بنا دیتا ہے۔ شاعری ہی نہیں فکشن میں بھی بہت کچھ مقدر چھوڑ دیا جاتا یا چھوٹ جاتا ہے جنہیں قاری کو قیاس کرنا پڑتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ہر دوسری قرأت پہلی قرأت کو پیچھے ڈھکیل دیتی ہے اور خود کو اجنبی بنانے کے لیے تیار بھی ہو جاتی ہے۔ تنقیدی قرأت دراصل کئی قرأتوں کو اجنبی بنانے کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ‘‘
(ایضاً، ص: ۱۱۶)
در اصل الفاظ پردۂ متون میں وہ معنی بھی بیان کرجاتے ہیں جو منشائے مصنف اور منشائے متن سے خارج ہوتے ہیں کیوں کہ کسی معنی کی غلامی متن کی سرشت میں شامل نہیں ہوتی۔جب تک متن کا وجود باقی رہے گا قاری اس کی قرأت سے نئے معانی دریافت کرتا رہے گا۔ا س کی متعدد مثالیں ہیں مگر میں یہاںایک کے ذکر پر اکتفا کروں گا۔ میرؔکو کافی عرصے تک لوگ رونے رلانے اور دل و دلی کی مرثیہ خوانی کرنے والا شاعر گردانتے رہے مگر عصرِحاضر کے معتبر نقاد شمس الرحمن فاروقی نے جب کلام میرؔکی قرأت کی تو انھیں ایک نیا اور منفرد گوشہ نظرآیا۔ جس کی بنا پر انھوں نے میرؔ سے متعلق روایتی مفروضہ کو غلط قرار دے دیا اور میرؔ کے خدائے سخن ہونے کی دوسرے مدلل ومعتبر وجوہات کو پیش کیا مثلاً ڈرامائی اور افسانوی اظہار، جنس اور عشق کے معاملات میں بے تکلفی، زبان کے سلسلے میں تحکمانہ اور بے پروانہ انانیت، رعایت لفظی سے شغف ، استعارہ اور پیکر کی کثرت، معنی آفرینی اور مضمون آفرینی کا التزام ، حس مزاح اور طنز کی فراوانی، کائناتی احساس جو بیک وقت مقامی بھی ہے اور مقام سے ماورا بھی ، تصوف سے واقعی اور اصلی دلچسپی وغیرہ۔
اس فہرست میں ہم کلیم الدین احمد کا نام ’’اردو شاعری پر ایک نظر‘‘ کے حوالے سے اور شمیم حنفی کا نام بھی ’’ کہانی کے پانچ رنگ ‘‘کے حوالے سے جوڑ سکتے ہیں اور کلام ِ غالب و اقبال کی متعدد شرحوں کا وجود بھی اس کی زندہ مثال ہے۔
ملٹن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ مقبول رہے گا کیونکہ اسے کوئی نہیں پڑھتا۔یہ سچ ہے کہ شہرت یافتہ ادیب ہر دور میں بڑا ادیب تسلیم کر لیا جاتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ بغیر مطالعہ کے کر لیاجاتاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ادیب کو خواہ وہ مقبول ہو یا نا مقبول ،اس کے متعلق تسلیم شدہ آراء سے متأثرہوئے بغیر پہلے پڑھا جائے پھر جو بھی تاثر قائم ہو اسے تسلیم کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ مقبول ادیب ازسرِ نوپڑھا جائے تواس کی مقبولیت پر سوالیہ نشان نہ لگے۔ ہو سکتا ہے اس کی شہرت کے دعوے میں جو دلیل پیش کی گئی ہو وہ باطل ہو جائے یاپھر اس کی مقبولیت کی کوئی نئی جہت مل جائے ۔ ( یہ بھی پڑھیں کلامِ اقبال میں عالمی امن کا تصور – محمد شہاب الدین رحمانی قاسمی)
اختلافِ جنس پر بھی معنیِ متن تبدیل ہو سکتا ہے۔ مرد اور عورت دو الگ جنس ہیں۔دونوں کی طبیعت ، ان کے مسائل اور ضروریات بھی مختلف ہیں،اس لیے ان کے زاویائے نگاہ بھی مماثل نہیں ۔ کسی متن یا فن پارے میں بہت سی ایسی باتیں مضمر ہوتی ہیں ،مرد کو جن کی ہوا تک نہیں لگتی اورعورتیں ان کو بآسانی پہچان لیتی ہیں،اس لیے کسی متن کی قرأت سے جو معنی مرد اخذ کرے گا یاجو اثرات اس پر مرتب ہوں گے ضروری نہیں کہ اس متن سے عورت بھی وہی معنی مستنبط کرے یا وہی اثرات اس پر بھی مرتب ہوں۔مثال کے طور پر نیر مسعود کا ایک مشہور افسانہ ہے ’’طاؤس چمن کی مینا‘‘۔اس افسانے پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں سے ہم ایک مرد ’’قاضی افضال حسین‘‘ اور ایک عورت’’سیما صغیر‘‘کو منتخب کر لیتے ہیں۔ ان دونوں نے دو مختلف نظریات کی روشنی میں اس کی قرأت کی ہے۔ قاضی افضال نے مابعد جدید اور سیما صغیر نے ترقی پسندنقطۂ نظر سے اس کا جائزہ لیا ہے لیکن ہمیں یہاں نظریاتی اختلاف اور تجزیاتی فضیلت سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان دونوں سے الگ ایک اختلاف ہے جنس کا ، ہمارا مدعا یہی Gender conflict ہے۔
جب قاضی افضال حسین اس افسانے کا مطالعہ کرتے ہیں تو انھیں تشکیل و لا تشکیل کی عینک سے چمن ، قفس، تاریخ ، تہذیب، طلسم اور روایت تو خوب نظر آتا ہے مگر کالے خاں کی بے ماں کی بیٹی کے جذبات اور باپ بیٹی کے رشتے کی لطیف و نازک کیفیات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا۔اس ننہی بچی کا بس ایک بار ذکر ہوتا ہے اور وہ بھی عام چھوٹی بچیوں کی طرح ۔اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’اسی طرح ایجادی قفس کی فلک آرا اور کالے خاں کی فلک آرا جو آواز کی میٹھاس و حرارت تک میں یکساں ہیں، ایک دوسرے کے معنی کو وہ جہات فراہم کرتے ہیں ، جو اس افسانے میں ابھرتے ہیںی عنی ان دونوں کے صفات کی یکسانیت کے حوالے سے یہ کہانی ایجادی قفس کے اندر کی معلوم ہوتی ہے اور کبھی اس تمثیلی قفس کے باہر کی۔ کبھی کبھی فلک آرا پرندہ سے زیادہ شہزادی معلوم ہوتی ہے اور کبھی کالے خان کی فلک آرا وہ معصوم پرندہ لگتی ہے جو اس قفس؍ شہر میں آزادی لطافت اور شفقت سے معمور زندگی گزار رہی ہے۔‘‘
(طاؤس چمن کی مینا: حسن تشکیل کا افسانہ؍تاریخ کی لاتشکیل ، قاضی افضال حسین ، مشمولہ: متن کی قرأت ، ص: ۱۳۹)
اور جب سیما صغیر اس افسانے کا مطالعہ کرتی ہیں تو وہ ترقی پسند آلے سے کالے خان کو غریب ، مزدور ، محنت کش ، بادشاہ کو مطلق العنان اور معاشرہ کوفیوڈل ہی نہیں ماپتی بلکہ ان کی نظر اس ننھی سی بے ماں کی بچی پر بھی مرکوز ہوتی ہے اور تہی دست باپ پر بھی اور ان کی نظر میںباپ ، بیٹی کے یہ نازک جذبات کہانی کا بنیادی تھیم بن جاتے ہیں۔ اقتباس دیکھیے:
’’کہانی کا مرکزی نقطہ وہ انسانی واردات ہے جس میں ایک باپ اپنی بے ماں کی بیٹی کی محبت سے مجبور ہوکر اس کی دیرینہ خواہش پوری کرنے کے لیے بادشاہ کے چمن سے ایک پہاڑی مینا چرا کر گھر لاتا ہے جب کہ اس کو طاؤس چمن کی نگہداری کے لیے مقررکیا گیاہے۔اس طرح محبت اور ضمیر کی کش مکش جو اصلاًانسانی فطرت کے تضادات کا مظہر ہے اور جس کو کسی خاص وقت اور مقام سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا، کہانی کی بنیادی تھیم قرار پاتی ہے۔‘‘
(’’طاؤس چمن کی مینا‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ : ترقی پسند نقطۂ نظر سے ، مشمولہ: متن کی قرأت ، ص :۱۴۴)
اسی طرح مشرف عالم ذوقی کے ناول ’’لےسانس بھی آہستہ‘‘ کی قرأت سے جو نقطہ شائستہ فاخری اور دوسری عورتیں دریافت کرلیتی ہیں ستیہ پال آنند اوردوسرے مردوں کو ان کے وجود کا احساس تک بھی نہیں ہوتا۔ ایک اور مثال غضنفر کے ناول ’’فسوں ‘‘ کی ہے ۔اس کو شافع قدوائی اور سیما صغیر دونوں نے جس انداز سے پرکھا ہے اس میں بھی مردانہ اور زنانہ نظریاتی افتراق در آیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں حالی کی نثر: غیر افسانوی ادب کا مثالی اسلوب – ڈاکٹر صفدر امام قادری)
جس طرح تبدیلیٔ جنس سے ایک ہی متن کی قرأت سے الگ الگ معنی کی دریافت ممکن ہے ،اسی طرح نظریاتی اختلاف سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے۔ اس ضمن میں پروفیسر عتیق اللہ رقم طراز ہیں:
’’ضروری نہیں کہ دو ناظرین یا قارئین کسی ایک رائے یا ردعمل پر متفق ہوں کیونکہ رائے زنی کا بھی ایک سیاق ہوتا ہے اور رائے زنی کرنے والے کے ذوق و مذاق کی بھی ایک سطح ہوتی ہے نیز بیشتر صورتوں میں اس سوال کی اہمیت ہے کہ آپ اس چیز کو کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں یا وہ چیز کس رخ سے آپ کو نظر آ رہی تھی اور دیکھنے کے اس عمل کا سیاق و سباق کیا تھا، انسان کا اپنا داخلی جبرو دباؤ ہی اپنا اثر نہیں دکھاتا، خارجی جبرو دباؤ کا اثر بھی کم اہمیت نہیں رکھتا۔ اس لیے قرأتوں میں جہاں اشتراق کی صورتیں واقع ہوتی ہیں وہیں ان میں کم یا زیادہ افتراق و اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔‘‘
(بحوالہ :مجلہ ارمغان ،شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی، شمارہ:۶، مقالہ :قاری اور قرأت از عتیق اللہ، ص:۱۲۳)
آپ کو معلوم ہوگا کہ’نظیرؔ اکبرآبادی ‘ کو ترقی پسندی سے قبل وہ رتبہ و مرتبہ حاصل نہیں تھا جو انہیں اس تحریک کے بعد حاصل ہوا۔ ترقی پسند ناقدین نے جب اپنے قائم کردہ اصول ونظریات کی روشنی میں اردو شاعری کو پرکھنا شروع کیا تو انہیں نظیرؔ اکبرآبادی بڑا شاعرلگا اور غالبؔ چھوٹا ۔ انہوں نے بڑے کے بڑاہونے کا اعلان تو کر دیامگر ان کی سوئی اٹکی غالبؔ پر۔اس موقعے پر ان کے سامنے دو ہی صورتیں تھیں؛پہلی تو یہ کہ وہ اپنے متعینہ تنقیدی اصولوں پر کلام غالب ؔ کو پرکھیں اور غالبؔ کو چھوٹا موٹا شاعر کہہ دیںاوردوسری صورت یہ تھی کہ وہ کلام غالب کو پڑھنے کا کوئی دوسرا ڈھنگ اختیار کریں ۔ پہلی صورت اختیار کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا کیونکہ غالبؔ کے عظیم شاعر ہونے پر اس وقت تک اجماع ہو چکا تھا، ایسے میں وہ اسے چھوٹا کہہ کر اپنی فضیحت کیوں کراتے،لہذااس وقت احتشام حسین جیسے قدآور ترقی پسند ناقد اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں کلام غالب کی قرأت کا کوئی دوسراطریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
اسی طرح فیض کی نظم’’صبح آزادی ‘‘ کے تعلق سے علی سردار جعفری کی رائے کو دیکھ لیجیے ۔یہ فیض کی معروف ترین نظموں میں سے ایک ہے ۔ پڑھنے کے بعدلوگوں نے اس نظم کی خوب پذیرائی کی لیکن جب اس نظم کی قرأت ترقی پسند ناقد علی سردار جعفری نے کی تو ان کو اس نظم کا آخری(مرکزی) مصرع ’’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘‘ کسی پر بھی فٹ بیٹھتانظر آیااوراس طرح یہ نظم کسی بھی تحریک کی ترجمانی کرتی ہوئی معلوم ہوئی اس لیے انہیں ترقی پسند نقطۂ نظر سے یہ نظم کسی خاص اہمیت کی حامل نظر نہیں آئی۔
متن کی قرأت اگر بغور کیا جائے تو اس سے اسلوب نگارش کی پہچان سے عہدا ور مصنف کی پہچان بھی ممکن ہے۔خالق باری کو لوگ بڑے زمانے تک امیر خسرو کی تصنیف سمجھتے رہے لیکن جب حافظ محمود خان شیرانی نے اس کی قرأت کی تو اس کے اسلوب کو پہچان لیا اور اسلوب کی شناخت کی بنیاد پر ہی انہوں نے اس کے عہد کو جانا پھر عہدا ور اسلوب کی بنیاد پر خالق باری کے ضیاء الدین خسرو کی تصنیف ہونے کا اعلان کر دیا۔ اسی طرح شاعر عرب کو جب اطلاع دی گئی کہ دیوار کعبہ پر تم سے عمدہ کلام معلق ہے تو وہ بھاگا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کی قرأت کرتے ہی پکار اٹھا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔در اصل اس دیوار پر کلام اللہ کی ایک چھوٹی سورۃ ’’سورۃ الکوثر‘‘ لٹکائی گئی تھی اور شاعر کو عربی شعرا کے اسلوب کی بخوبی جانکاری تھی ، اس لیے اول قرأت ہی سے اس نے جان لیا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے۔
ایک آخری بات یہ کہ ادبی و فنی اصولوں کے تحت پڑھناادبی متن کی قرأت کی ترجیحی صورت ہو نی چا ہیے ۔ اگر ایسا ہوگا تو قاری آزادانہ طور پر فن پارے کے درست معنی و مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہر خلفشار و اعتراض سے محفوظ بھی رہے گا اور اس کی یہ قرأت غیر جانبدارانہ تسلیم کی جائے گی ۔خاص بات یہ ہے کہ ہر نظریے کے افراد اس سے متفق بھی ہوں گے۔جس طرح انسان کو انسانیت کے نقطۂ نگاہ سے دیکھنے پر ملک و مذہب کی دیوار آڑے نہیں آ سکتی یعنی کوئی اس پر ہندو ، مسلم، یہودی ،عیسائی یا ہندوستانی ، پاکستانی، افریقی، یورپی ہونے کے تعصب کا الزام نہیں لگا سکتا اور اس سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم نے انسانیت کے نظریے سے انسان کو کیوں دیکھا تمہیں اس کو فلاں مذہب یا ملک کے آئینے میں دیکھنا چاہیے تھا، ٹھیک اسی طرح ادبی متن کو ادب کے نقطۂ نگاہ سے پڑھنے پر کوئی نظریہ رکاوٹ نہیں بن سکتا اور کسی بھی نظریے کا ماننے والا اس سے یہ نہیں کہہ پائے گا کہ تم نے ادبی متن کو ادبی اصولوں کے تحت کیوں پڑھا تمہیں اس کو فلاں نظریے سے پڑھنا چاہیے تھا۔کسی نظریۂ مخصوصہ کے پابند قاری کے گلے میں تعصب کی گھنٹی باندھنے سے کوئی دریغ نہیں کرتا۔پروفیسر عتیق اللہ ایسے ہی لوگوں کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ایک قاری متعصب یا جانب دار ہوتا ہے جو کسی خاص نظریے یا عقیدے کا پابند ہوتا ہے یا علاقائی اور گروہی عصبیت کے باعث اس میں معروضیت اور کشادگی ذہن و نظر کی گنجائش کم سے کم ہوتی ہے ۔‘‘
(ایضاً، ص:۱۲۳)
اسی لیے میرا ماننا تو یہی ہے کہ کسی بھی متن کی قرأت ادبی و فنی اصولوں کے تحت اس دور کے سیاسی، سماجی، تاریخی اور تہذیبی سیاق و سباق میں کی جانی چاہیے۔ یہ منصف میزان ہوگا ورنہ تحریکاتی و رجحاناتی قرأت چاہتی ہے کہ متن وہی کہے جو وہ اس سے کہلوانا چاہتی ہے ،گویا ایک طرح سے وہ مجبور کرتی ہے کہ متن اس کے مطابق تھیوری اور معانی بیان کرے۔ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح متن سے مبنی بر انصاف معانی کی دریافت ناممکن ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آزادانہ قرأت ہی بہتر تسلیم کی جانی چاہیے۔ ہاں !مگر آزادی ایسی نہ ہو کہ متن آم کی خصوصیات سے متصف ہو اور قاری اپنی قرأت سے عملی تصور کر بیٹھے۔جس معنی کا متن میں کوئی سیاق موجود نہ ہو اگر آزادی قرأت سے قاری اس طرف بھٹک رہا ہو تو ضروری ہے کہ اس کے پاؤں میں کوئی نظریاتی بیڑی ڈال کر ہی محفل متن میں رقص کرنے کے لیے لایا جائے، ورنہ ناظرین معانی برہم ہوکر چلے جائیں گے۔ ایسی ہی آزادی کوہدف تنقید بناتے ہوئے پروفیسر کوثر مظہری لکھتے ہیں:
’’بے شک قاری کو یہ آزادی ہے کہ وہ متن سے معنی اخذ کرے اور اپنی طرح کرے ، لیکن وہ اس قدر بھی آزاد نہیں کہ اس متن کو اس کی اصل سے اتنی دور لے جائے کہ متن اور اس میں سانس لیتے ہوئے تہذیبی اور ثقافتی نشانات و علامات ((Cultural signsکا دم پھولنے لگے۔ ‘‘
(قرأت اور مکالمہ ، کوثر مظہری ، ص: ۱۳)
ہر قاری کی اپنی لیاقت اوراستعداد ہوتی ہے۔ یہ قطعی ضروری نہیں کہ اسے ہر فن پارے کا متن سمجھ آ ہی جائے ۔کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی متن اسے مہمل معلوم ہو مگر وہ بامعنی ہو ۔ندا فاضلی کا ایک شعر ہے:
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہو گئی
اس شعر کو بہت سوں نے بے معنی خیال کرکے چھوڑ دیا مگر یہ شعر تھا بامعنی اور اس نے اپنی معنویت ثابت بھی کرا لی اور آج کی تاریخ میں یہ شعر جدید دور کا اعلامیہ بن چکا ہے۔ کبھی کبھی متن وا قعی مہمل ہوتا ہے ،اس صورت میں اگر اسے معنی سے عاری گردانا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ،مگر اکثر قاری اپنی کم فہمی کی بناء پر گچا کھا جاتا ہے۔دونوں صورتیں بعید از قیاس نہیں۔ پروفیسر کوثر مظہری اس سلسلے میں بالکل درست فرماتے ہیں:
’’کبھی کبھی آپ جس طرح متن کو بے معنی اور ازکارِ رفتہ سمجھ کر پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں اسی طرح متن بھی قاری کو کبھی کبھی ٹھینگا دکھا دیتا ہے۔وہ بھی قاری کا منہ چڑھاتا ہے۔ جس طرح ہم آپ متن کی اوقات پرگفتگو کرتے ہیں اس کے ڈھیلے پن اس کی فرسودگی کوزیر بحث لاتے ہیں ، متن بھی قاری کی بے ذوقی اور کچے تنقیدی شعور کو کوستا ہے۔‘‘
(ایضاً ، ص:۹)
خیر!یہ رہے متن کی قرأت اور اس کے معانی کے چند وظائف۔ ان متذکرہ وظائف کی روشنی میں میں پھر وہی بات دہراؤں گا کہ ادبی متن کی قرأت اور اس سے درست معانی کی یافت بھی ایک فن ہے ،جو کہ خود متن کی سیپ میں گہر کی طرح پنہا ںہے لہذا جس کو اس معانیِ گوہر بار کی دولت سے مالا مال ہونا ہو اسے چاہیے کہ اس میں غوطہ لگائے اور اپنی مراد پائے۔
معاون کتب:
1۔ متن کی قرأت (مجموعۂ مقالات سیمینارمنعقدہ ۲۵؍۲۶ نومبر ۲۰۰۶ء) ، مرتبہ : صغیر افراہیم ، شائع کردہ: شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ، سن اشاعت :۲۰۰۷ء
2۔ قرأت اور مکالمہ ،کوثر مظہری ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، کوچہ پنڈت ، دہلی۔۶، سن اشاعت :۲۰۱۰ء
3۔ معرفت شعر نو (تنقیدی مضامین )،شمس الرحمن فاروقی ، مرتبہ : سید ارشاد حیدر، الانصار پبلیکیشنز، ریاست نگر ، حیدراباد۔۵۹، سن اشاعت : ۲۰۱۰ء
4۔ شعر شور انگیز (تیسرا ایڈیشن مع ترمیم و اضا فہ ) ، شمس الرحمن فاروقی ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی۔۶۶، سن اشاعت : ۲۰۰۶ء
5۔ افسانوی ادب کی نئی قرأت ،صغیر افراہیم ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ۔۲، سن اشاعت : ۲۰۱۱ء
6۔ لے سانس بھی آہستہ کا تہذیبی پس منظر، جہاں نظیر، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی، سن اشاعت : ۲۰۱۳ء
7۔ فکشن مطالعات (پس ساختیاتی تناظر) ، شافع قدوائی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔۶، اشاعت : ۲۰۱۰ء
8۔ شعر،غیر شعر اور نثر(طبع سوئم تصحیح شدہ ایڈیشن ) ، شمس الرحمن فاروقی ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی۔۶۶، سن اشاعت: ۲۰۰۵ء
9۔ اردو شاعری پر ایک نظر ، کلیم الدین احمد، بک امپوریم، سبزی باغ، پٹنہ۔۴
10۔ کہانی کے پانچ رنگ ، شمیم حنفی ، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی۔۲۵، اشاعت: دسمبر ۱۹۸۳ء
11۔ مجلہــ’’ارمغان‘‘،شمارہ:۶، نگراں: پروفیسر شہپر رسول،ناشر:شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی۔۲۵، سن اشاعت: ۲۰۱۷ء
٭٭٭
مصطفی علی
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی
8299535742
mustafaaliias@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

