اِسلام کی نشاة ثانیہ کے لیے پچھلے 200سال سے کوششیں جاری ہیں اور اس کام کے لیے بے شمار رہنما عرب وعجم میں مسلمانوں کے درمیان اُبھرے ۔ سرزمینِ ہند بھی اس معاملے میں بہت زرخیز ثابت ہوئی ہے اوربے شمار رہنما یہاں بھی پیدا ہوئے جنھوں نے تجدید واحیاء دین کے کام کو اپنا نشانہ بنایا۔اور یہاں جن شخصیات نے تجدیدواحیاء دین کے کام کو اپنا نشانہ بنایا اس فہرست میں ایک منفرد نام وہ ہے جنھیں لوگ ”مولانا وحیدالدین خاں“ کے نام سے جانتے ہیں۔ مولانا موصوف کی شخصیت اُن کے علمی اوردینی کاموں کی وجہ سے محتاج تعارف نہیں ہے۔اُن کی علمی اور دینی خدمات کا دائرہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ خاصی تعداد میں ایسی مستند کتابیں تحریرفرما چکے ہیں جن کا حوالہ سند کے طور پر دیا جاتا ہے۔
بیسویں صدی عیسوی کی اس عظیم شخصیت مولاناوحیدالدین خاں کی پیدائش یکم جنوری 1925ءکو ہندوستان کے ریاست اترپردیش کے ایک علمی شہر” اعظم گڑھ“ کے ایک دوراُفتادہ گاو ¿ں”بڈہریا“میں ہوئی ۔
عالم اسلام کے معروف مفکر مصنف اور ادیب و صحافی مولاناوحیدالدین خاں کی زندگی تقریباسوبرس پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی زندگی عطاکی اس زندگی کا تقریباً تمام حصہ انھوں نے دین کی خدمت اور دعوت الی اللہ میں لگادیا۔
12اپریل 2021ءکو 96برس کی عمر میں مولاناکا انتقال بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے اپولو ہسپتال میں رات کو نو بج کر 45منٹ پر ہوا۔ان کے انتقال کی خبر ان کے صاحبزدگان ڈاکٹرظفرالاسلام خاں اور ڈاکٹر ثانی اثنین خاں نے دی ۔ (یہ بھی پڑھیںطارق متین کی شاعری – شاہ عمران حسن)
ڈاکٹروں کے بیان کے مطابق مولاناوحیدالدین خاں کا انتقال کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے سبب ہوا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد انہیں علاج کے لیے 12اپریل 2021ء کو داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے لیے پلازمہ بھی دستیاب کرایا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ان کی جسد خاکی کو 22اپریل 2021ءکو نئی دہلی کے معروف علاقہ نظام الدین کے قبرستان”پنچ پیراں“میں دوپہر میں دفن کردیا گیا۔اسی قبرستان میں ان کی والدہ زیب النسا(وفات: 1985)اوراہلیہ سابعہ خاتون علوی (وفات2006) پہلے سے مدفون ہیں۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پروٹو کال کے مطابق جنازہ میں چند افراد ہی شریک ہوسکے، جن میں بیشتر ان کے اہل خانہ تھے۔ میں بھی مولانا کے جنازہ میں شرکت نہ کرسکا ، حالاں کہ میں نئی دہلی میں موجود تھا، مگرکورونا وائرس کی وبا کے سبب شہر میں لاک ڈاؤن جاری تھا۔اس بات کا ہمیشہ مجھے افسوس رہے گا کہ میں مولانا کی نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوسکا۔
مولانا وحیدالدین خاں کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی ۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد اُنھوں نے علومِ جدیدہ کی طرف توجہ دی۔ اولاً ذاتی مطالعہ کے ذریعہ اُنھوں نے انگریزی زبان سیکھی۔ اُس کے بعد سائنسی علوم کا مطالعہ شروع کیا۔ حتیٰ کہ اُن میں پوری دستگاہ حاصل کرلی۔ اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا موصوف اِس نتیجہ پر پہنچے کہ اِس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیارکیا جائے ۔ اور پھر وہ اِس مہم میں لگ گئے۔ یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ مولانا موصوف کے مطالعہ کا خاص موضوع اسلام اور دورِجدید ہے ۔
مولاناوحیدالدین خاں کے والد فریدالدین خاں اپنے علاقے کے ایک بہت بڑے زمیندار تھے جو ہندوں اور مسلمانوں دونوں کی نظر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے جب کہ ان کی والدہ زیب النساء گھریلو امور سنبھالنے والی ایک ذمہ دارخاتون تھیں۔ مولانا کے والد کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا اس لیے ان کی مکمل پرورش ان کی والدہ نے اپنی نگرانی میں کی۔ (یہ بھی پڑھیں پروفیسر شبیرحسن کے افسانے – شاہ عمران حسن)
مولانا کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی ۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد اُنھوں نے علومِ جدیدہ کی طرف توجہ دی۔ اولاً ذاتی مطالعہ کے ذریعہ اُنھوں نے انگریزی زبان سیکھی۔ اُس کے بعد مغربی علوم کا مطالعہ شروع کیا حتیٰ کہ اُن میں پوری دسترس حاصل کرلی۔
اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا موصوف اِس نتیجہ پر پہنچے کہ اِس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیاجائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیارکیا جائے اور پھر وہ اِس مہم میں لگ گئے۔یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مولانا موصوف کے مطالعہ کا خاص موضوع اسلام اور دورِجدید ہے ۔
میں نے تفصیل سے مولانا کی زندگی پر ایک ہزار صفحاف پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ”اوراقِ حیات“تیارکی ہے ،مولاناکی زندگی کو سمجھنے کے لیے یہ اس کتاب کا مطالعہ بے حد مفید ہوگا۔
اس کتاب کے بارہ ایک اجتماعی مجلس میں خود مولاناوحیدالدین خاں نے کہا تھاکہ جو کام میں زندگی بھر نہیں کرسکا وہ کام شاہ عمران حسن نے کردکھایا ہے۔
مولاناوحیدالدین خاں اہل علم اورعالم اسلام کے درمیان ایک پُرامن داعی دین کی حیثیت سے معروف ہوئے، جو بیک وقت چار زبانوں میں کام کرتے رہے ۔ اُردو، انگریزی ، عربی ،ہندی میں ان کی متعدد تحریریں منظرعام پرآتی رہیں۔
مولانا وحیدالدین خاں دراصل بے پناہ صلاحیتوں اور گونا گوں خصوصیات کا نام ہے ۔ جن کی زندگی کے باب بے شمار ہیں ،اور ہر باب اپنے آپ میں مستقل اہمیت کا حامل ہے ۔تاہم مولانا کی زندگی کا اصل مشن: اسلام کے پُرامن دعوتی پیغام کی اشاعت۔
دعوت الی اللہ کامطلب ہے اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا ،اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیغمبراسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعداب یہ ذمہ داری امتِ محمدی پرعائد ہوتی ہے۔
مولانا وحیدالدین خاں خود لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ یہی عمل اس کی دُنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔ اسی عمل کو انجام دینے سے وہ اس کا مستحق قرار پاتا ہے کہ خداکے یہاں امت محمدی کی حیثیت سے اُٹھایا جائے اور یہی وہ عمل ہے جو دُنیا میں اُس کی حفاظت و کامیابی کو یقینی بناتاہے۔ اس کام کو چھوڑنے کے بعد مسلمان اللہ کی نظر میں اسی طرح بے حقیقت ہو جائیں گے جس طرح یہود اپنی داعیانہ حیثیت کوچھوڑنے کے بعد اللہ کی نظرمیں بے حقیقت ہوگئے۔( ماہنامہ الرسالہ، جولائی1979ئ،صفحہ:35 )
انیسویں صدی عیسوی اور بیسوی صدی عیسوی کے درمیان عالم اسلام میںبے شمار تحریکیں مختلف موضوعات کو لے کر اُٹھیں ، مگریہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اُٹھنے والی اُن تمام تحریکوں میں کسی بھی تحریک نے ”دعوت الی اللہ“ کو اپنی جدوجہد کا مرکز ومحور نہیں بنایا۔ (یہ بھی پڑھیں ’’میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی‘‘(خلیل الرحمن اعظمی ) – ڈاکٹروصیہ عرفانہ)
بیسوی صدی عیسوی کے نصف اوّل میں اُٹھنے والی تحریکوں میں صرف ”تحریک الرسالہ“ نے دعوت الی اللہ کے کام کو اپنا مقصد ِ اوّل قراردیا،ابتداََ یہ تحریک صرف مولانا وحیدالدین خاں کی ذات تک محدود تھی، اس کے بعد حالات بدلے ،یہاں تک کہ آج دنیا کے ہر حصے میں دعوت الی اللہ کا کام ہورہا ہے۔
موجودہ دورنے دعوت الی اللہ کے زبردست امکانات پیدا کردیے ہیں ۔ایسے امکانات جو اِس سے پہلے تاریخ میں کبھی موجود نہ تھے۔ کیوں کہ پہلے مذہبی جبر(Religious Persecution) کاماحول تھا۔اورمذہبی جبر کے ماحول میں انسان نہ تو آزادانہ طورپر اپنے مذہب پر عمل کرسکتا تھا اور نہ اپنے مذہب کی تبلیغ۔ مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔موجودہ دور مذہبی آزادی کا دور ہے ۔ پُرامن ماحول میں آج کا انسان اپنے مذہب پر عمل بھی کرسکتا ہے اور اس کی تبلیغ بھی۔حتیٰ کہ اقوام متحدہ(United Nations) نے متفقہ طورپر یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس(Universal Declaration of Human Rights)کے نام سے جو اقرارنامہ جاری کیا ہے اس میںیہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ہر مردیا عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جس مذہب کو چاہے اختیار کرے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے۔اِسی بات کو ہندوستان کے آئین کی دفعہ نمبر25 میں کہاگیا ہے کہ ہرہندوستانی شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ (Propagation)کی آزادی ہوگی۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ پہلے آزادانہ طورپر مذہبی سرگرمیاں جاری نہیں کی جاسکتی تھیں مگرآج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ کامل آزادی کے ساتھ مذہبی سرگرمیوں کو جاری رکھاجاسکے اور کوئی اس پر مداخلت نہ کرے۔یہ ایک ایسی سچائی جس سے ہر پڑھا لکھا انسان واقف ہے۔تاہم اس سلسلے کی ایک واقعاتی مثال مولانا کی زندگی سے پیش کی جاتی ہے۔
مولانا لکھتے ہیں کہ اسلام کے دورِ اوّل میںمکہ میںجوتھوڑے سے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے وہ کھل کرنماز نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ وہ چھپ کر اورانفرادی طورپر نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب بھی کوئی مسلمان کعبہ میںداخل ہوکروہاں نمازپڑھناچاہتاتووہاں کے مشرکین اُس کے خلاف شور وغل کرتے اوراس کو مارتے پیٹتے ۔ یہاں تک کہ اس کے لیے سکون سے نماز اداکرنا مشکل ہوجاتا۔
مثلاً مکی دور کا واقعہ ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے اسلام قبول کیاتو ایک روز وہ کعبہ میںگئے اوراُنھوںنے اسلامی طریقہ کے مطابق نماز پڑھنا شروع کیا ۔ مکہ کے مشرکین نے اُن کو کعبہ میںنماز پڑھتے ہوئے دیکھاتووہ دوڑ کر آئے اور اُن کے اُوپر ٹوٹ پڑے۔ اُنھوں نے اُن کو بُری طرح ماراپیٹا حتیٰ کہ یہ ممکن نہ رہا کہ وہ وہاں اپنی نماز کو پوراکرسکیں۔
اس وقت کی دُنیا میںہرجگہ یہی صورتِ حال قائم تھی۔ مگرآج یہ حالت مکمل طورپر بدل چکی ہے۔ 19اکتوبر1996ءکو راقم الحروف کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، جس کو یہاں بلاتقابل درج کررہا ہوں۔اس دن ممبئی میںچوپاٹی کے مقام پر ایک بہت بڑاجلسہ تھا ۔ اس کو سوادھیائے تحریک والوں نے منظم کیا تھا۔ چوپاٹی کے وسیع میدان میںتقریباً 10 لاکھ ہندوحضرات اکٹھاتھے۔ ایک سرے پر بہت اُونچا اوربہت وسیع منچ بنایاگیاتھا ۔جس پر ایل کے ایڈوانی اوردوسرے بہت سے بڑے بڑے ہندولیڈربیٹھے ہوئے تھے۔ میںبھی ایک مقرر کے طورپر یہاں مدعوتھا۔
اس دوران مغرب کی نماز کا وقت آگیا۔ میںنے اجتماع کے ناظم مہیش جی سے کہا کہ میری نماز کاوقت آگیا ہے اوراب مجھے نماز اداکرنا ہے ۔ اُنھوںنے فوراً کہا کہ آپ یہیں اسٹیج پر نمازپڑھ لیں۔ چنانچہ میںنے منچ کے ایک طرف کھڑے ہوکر سب کے سامنے مغرب کی نماز اداکی ۔ اس وقت سوادھیائے تحریک کے چیرمین داداجی پانڈورنگ شاستری کی تقریر ہورہی تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ جب اُنھیں معلوم ہوا کہ میںیہاںنماز پڑھ رہا ہوں تواُنھوں نے اپنی تقریرروکی اورمیری طرف رُخ کرکے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے پڑنام کیا۔
ان دونوں واقعات میں یہ فرق کیوں ہے۔ دورِ اوّل کے واقعہ میں غیر مسلموں نے ایک مسلمان کو نماز پڑھنے نہیں دیاتھا ۔ا ٓج خود غیرمسلموں کے بڑے مجمع میں ایک مسلمان آزادی کے ساتھ پُرسکون طورپر نمازادا کرتاہے ۔ اس فرق کا سبب زمانے کی تبدیلی ہے۔ قدیم زمانہ میں مذہبی جبرکا نظام قائم تھا ۔ اور موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے ۔ اس بنا پر آج مذہب کے حق میں ایسے امکانات کھل گئے ہیں جوکبھی پائے نہیں جاتے تھے۔(ماہنامہ الرسالہ، اگست1997ئ،صفحہ:11،دعوتِ حق، صفحہ: 128۔129)
فکری اور دعوتی موضوعات پر مختلف زبانوں میں مولانا نے 200 سے زائد کتابیں تیار کی ہیں۔ ان میں سے اہم کتابوں کے نام یہ ہیں: نئے عہد کے دروازہ پر(مرتب: شاہ عمران حسن)، حقیقت کی تلاش،مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے،تعبیر کی غلطی، مذہب اور جدید چیلنج، الاسلام، مذہب اور سائنس،پیغمبر انقلاب،احیاءِ اسلام، عقلیاتِ اسلام،قرآن کا مطلوب انسان،دین کی سیاسی تعبیر،سوشلزم اور اسلام، ظہورِ اسلام،اسلامی زندگی، اسلام اور عصرِ حاضر، تذکیرالقران (تفسیر) ،عظمت ِقرآن، حقیقت ِحج،اللہ اکبر،،زلزلہ قیامت، خاتونِ اسلام، رازِ حیات،تجدید ِ دین، اسلام دورِ جدید کا خالق، دینِ کامل،راہِ عمل،ندوستانی مسلمان، کتابِ زندگی،شتمِ رسُول کا مسئلہ ،دعوتِ اسلام،دعوتِ حق،سفرنامہ اسپین و فلسطین، فکر اسلامی، مطالعہ سیرت، مطالعہ قرآن، دین و شریعت،مسائلِ اجتہاد،مطالعہ حدیث،،کشمیر میں امن، عورت: معمارِانسانیت،امنِ عالم، دعوت الی اللہ، حکمت اسلام،،کتاب معرفت،اسلام اور خدمت خلق، اظہاردین ،وغیرہ۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا وحید الدین خاں ؒ :ذاتی مشاہدات وتاثرات – ڈاکٹر وارث مظہری)
مولانا وحیدالدین خاں کے اندر دعوت الی اللہ کا جذبہ بالکل ابتدائی عمر میں ہی پیدا ہوگیاتھا۔ شاید یہی سبب ہے کہ اُنھوں نے اپنی زندگی کے 25ویں سال یعنی1950 ءمیں اعظم گڑھ میں ایک ادارہ قائم کیا جس کا نام تھا: من انصاری الی اللہ۔اِس دعوتی ادارہ سے مولانا موصوف نے کئی کتابیں شائع کیں ۔یہ ادارہ اُس وقت تک جاری رہا جب تک مولانا موصوف اعظم گڑھ میں مقیم رہے۔
مولانا وقتی طورپر ہندوستان کی مختلف تنظیموں سے وابستہ ہوئے ،اِس لیے باربار اُنھیں شہر بدلنا پڑا مگر دعوت الی اللہ کاکام مولانا موصوف کی نظروں سے کبھی اوجھل نہیں ہوا۔یہاں تک کہ مولانا موصوف نے نئی دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
ملکی اورغیرملکی سطح پر اسلامی دعوت کوعام کرنے کے لیے دعوت الی اللہ کے کام کو منظم طورپر کرنے کے لیے مولانا وحیدالدین خاں نے ہفت روزہ الجمعیة سے وابستگی کے دوران 1970 میں نئی دہلی میں اسلامی مرکز قائم کیا۔ اوراِس ادارہ کو گورنمنٹ سے رجسٹرڈ کروایا ۔اِس ادارے کا رجسٹرڈ عربی اور انگریزی نام اِس طرح ہے:المرکز الاسلامی للبحوث والدعوہ
The Islamic Centre For Reasearch & Dawah
اسلامی مرکز کے صدر کے طورپر مولانا محترم دینی خدمت کاکام انجام دینے لگے۔اور اسلامی مرکز کے ترجمان(Organ) کے طور پر انھوںنے اکتوبر 1976ءمیں ماہنامہ الرسالہ جاری کیا۔ چوں کہ مولانا موصوف کا مشن مبنی برجماعت نہیں مبنی برفرد ہے،اِس لیے مولانا موصوف نے اسلامی مرکز کاکام جمہوری طورپرنہیں چلایا۔
اس ادارے کابنیادی مقصد ہے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت۔ چنانچہ اسلامی مرکز کے تحت اسی دعوتی مقصد کے لیے 1976 میں ماہنامہ الرسالہ جاری کیاگیا،جس کا مقصد تھا مسلمانوں کی اصلاح اوران کی ذہنی تعمیر اور مسلمانوں کے اندردعوت الی اللہ کاحقیقی شعور پیداکرنا۔
مثبت بنیاد پر مسلمانوں کی اصلاح اوران کی ذہنی تعمیر کا یہ کام جاری تھاکہ اسی دوران مولانا محترم نے غیر مسلموں کے تعلیم یافتہ طبقہ تک اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کو پہنچانے کے لیے ایک ادارہ سنٹر فارپیس اینڈ اسپریچولٹی انٹرنیشنل (International Center for Peace & Spirituality ) قائم کیا۔اس حوالے سے مولانا لکھتے ہیں:سی پی ایس انٹرنیشنل نئی دہلی میں جنوری 2001ءمیں قائم ہوا۔ جیسا کہ اِس کے نام سے ظاہر ہے ، اِس کا مقصد امن اور رُوحانیت کو فروغ دینا ہے ۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ اس کا اصل نشانہ فکری انقلاب لانا اور انسان کو حقیقی انسان بنانا ہے۔نیز انھوں نے 2010ءمیں ایک نیا دعوتی شعبہ” القرآن مشن“ شروع کیا جس کا بنیاد ی مقصدادخال کلمہ ہے ، یعنی گھرگھردعوت کاپیغام پہنچانا۔
سی پی ایس کے تحت ملک اوربیرون ملک میںغیرمسلوں کے درمیان اسلام کا پرامن پیغام پہنچایا جا رہا ہے، خاص طورپر انگریزی زبان میں دعوتی لٹریچر اورقرآن کے ترجمے کی اشاعت کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔
مولاناکی فکری اوردعوتی خدمات کے اعتراف میں قومی اور بین اقوامی سطح پر متعدد ایوارڈ سے نوازا گیا۔عام طورپرانھیں کو سفیر امن عالم(Ambassadar of Peace to the World) کہا جاتا ہے۔مولانا کو سب سے پہلا ایوارڈ سند ِ امتیاز حکومت ِ پاکستان کی جانب سے1983ءمیں اُن کی کتاب پیغمبرانقلاب پر ملا،اس کے علاوہ مولانا کوسیرت انٹرنیشنل ایوارڈ منجانب حکومتِ پاکستان، محمودعلی خاں نیشنل انٹگریشن ایوارڈ،نیشنل سٹی زن ایوارڈ بدست مدر ٹریسا،ارونا آصف علی سدبھاونا ایوارڈ،قومی یکجہتی ایوارڈ منجانب حکومت ہند،دہلی اردواکادمی ایوارڈ برائے صحافت،فرقہ وارانہ ہم آہنگی ایورڈ،دیوالی بین موہن لال ایوارڈ، نیشنل امیٹی ایوارڈ،ایف آئی ای فاونڈیشن ایوارڈ، ڈیموگرس انٹرنیشنل ایورڈ سفیر امن ایوارڈ، مہاتما گاندھی نیشنل ایوارڈ فار ٹالرنس،راجیوگاندھی سدبھاؤنا ایوارڈ وغیرہ سے نوازا گیا ۔26 جنوری 2000 کو حکومت ہند کی جانب سے مولانا وحیدالدین خاں کو تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز”پدم بھوشن“ سے نوازا گیا۔
اس کے علاوہ دوبئی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے سیدنا حسن بن علی ایوارڈ اور امریکی مسلمانوں کی تنظیم اثنا (ISNA)کی جانب سے لائف ایچومنٹ ایوارڈ سے نوازاگیا ہے۔
سنہ 2021ءمیں حکومت ہند مولانا وحیدالدین خاں کو تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ”پدم ویبھوشن“ دینے کا اعلان کیا ہے ، جب کہ مولانا کی عمر ہجری کلنڈر کے اعتبار سوہونے جا رہی تھی۔
ا سلامی دعوت کے پر امن دعوتی پیغام کوعام کرنے کے لیے مولانانے تقریروتحریر کے علاوہ اس سلسلے میں ہندوبیرونِ ہند کے متعدد اسفار کئے ،جس کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے پاکستان،لیبیا،لندن،سعودی عرب،مالدیپ،باربیڈوز، امریکا، عرب امارات، ملیشیا، مراکو، بماکو، سوئزرلینڈ، افغانستان، یمن، اردن، سینیگال، روم ، مالٹا ، قاہرہ، کولمبو، اٹلی ، اسپین ،فلسطین ،فلارنس ،عمان، بنگلہ دیش ،سیول، قبرص، اسرائیل، پولینڈ ، قطر اورترکی وغیرہ کا سفر کیا۔اور ان اسفار کے انھوں نے سفرنامے تحریر کئے جو ماہنامہ الرسالہ کے صفحات میں شائع ہوئے۔
مولانا 50 برس سے زائد مدت سے نئی دہلی میں رہ رہے تھے۔ ابتدا وہ پرانی دہلی کے جامع مسجد کے علاقے گلی قاسم جان میں رہے اس کے بعدنئی دہلی کے معروف علاقہ نظام الدین میں آکر آباد ہوگئے، آخر وقت تک وہ اسی علاقے میںاپنے اہل خانہ کے ساتھ رہے۔
نوٹ: مضمون نگار ہندوستان کے معروف سوانح نگار ہیں، اب تک ان کی چار سوانحی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
Shah Imran Hasan
C/o Maulana Abrarul Hasan Islahi,
E-668, Ground Floor Jaitpur Extension Part II
Beside :Umar Masjid
Umar Masjid Road
New Delhi: 110025
Moblie No. 9810862382
E-mail: sihasan83@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

