طارق متین کی شاعری – شاہ عمران حسن

by adbimiras
0 comment

لکھنا ایک مشکل ترین فن ہے ،لمبی مشقت اور جدوجہد کے بعد انسان کچھ لکھنے پڑھنے کے قابل ہوپاتا ہے ۔اِس لیے اُن کی تحریر میں زیادہ نکھار اور ان کا تخیل زیادہ بلند ہوتا ہے جن کا قوتِ مطالعہ اور مشاہدہ وسیع ہو۔مگر ان لوگوں کی تحریر میں کوئی جان نہیں رہتی ،کوئی وزن نہیں رہتا،کوئی ویژن (Vision)نہیںرہتا، جن کا مشاہدہ و مطالعہ محدود ہوتا ہے۔ روز اوّل سے ایساہی ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا کہ کوئی خانہ پوری کرنے کے لیے لکھے گا تو کسی کے لیے لکھنا اس کا مشن ہوگا اورلکھنا جس کا مشن ہوگا یقینی ہے کہ اس کی تحریر میں وزن بھی ہوگا اور ادبی تخیل بھی اور قاری کو سوچنے سمجھنے کے لیے مواد بھی ۔

فن کار صرف فن کار ہوتاہے اور اس کو اسی دائرے اور اسی زاویے سے دیکھنا چاہئے ،اس لیے میں فن کارکو صنف کے اعتبارسے تقسیم نہیں کرتاہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک فطری سی بات ہے کہ فن کار کوفن کار ہی رہنے دیا جائے اس کو جدیدیت اور مابعد جدیدیت اور نسائی ادب اور غیرنسائی ادب میں تقسیم نہ کیا جائے ۔جس طرح سے ہندوستان میں بسنے والے بین المذاہب لوگوں کی مستقل شناخت یہ ہے کہ وہ پہلے ایک ہندوستانی ہیں پھر کوئی مسلمان ہے ،کوئی ہندو ہے ، کوئی سیکھ ہے ،کوئی عسائی ہے ،کوئی پارسی ہے تو کوئی جین اور کوئی بدھ مت کی اقتدا کرنے والا ہے۔
اِسی طرح فن کی دُنیا میں مرد وعورت کی تقسیم نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کو فن کار یا بالفاظ دیگر قلم کار کی حیثیت سے جاناجائے ۔(یہ بھی پڑھیں پروفیسر شبیرحسن کے افسانے – شاہ عمران حسن )

انسان اپنے جذبات اور مافی الضمیرکے اظہار لیے دو چیزوں کا سہارالیتا ہے ، نثر اور نظم ۔ اپنی بات کو اگر تفصیل سے کہنا تو انسان نثر کا سہارا لیتا ہے اور اختصار سے کہنے کے لیے نظم کا ۔ نثر کے لیے کڑی محنت و مشقت درکار ہوتی ہے ،جب کہ شاعری ایک الہامی کیفیت کانام ہے ۔ شاعری کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے ، کسی کسی کو اختصار یعنی نظم میں اپنی بات کہنے کا ہنر آتا ہے ۔ شاعر کا مطالعہ و مشاہدہ اور اس کی پروازتخیل انھیں نئے نئے موضوعات پر اشعار موزوں کرنے کا موقع دیتی ہے ۔
میں برسہا برس سے نثر میں کام کررہا ہوں ۔ اس درمیان میری کئی کتابیں منظر عام پر آئیں ؛ میں نے شعر کہنے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں مجھے سر تاسر ناکامی ہی ہاتھ لگی کیوں کہ میرے خیال میں شعرموزوں کرنے کی صلاحیت خدا ہر کسی کو نہیں دیتا ہے۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد میں طارق متین کی شاعری کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا۔بہار کے جن جدید شعرا کرام کی شاعری نے سنِ شعور میں آنے کے بعد راقم الحروف کو اپنی طرف توجہ دلانے میں کامیابی حاصل کی ،ان میں سر فہرست نام طارق متین کا ہے ۔
شاعر اور شاعری کے ساتھ یہ عجیب اتفاق ہے کہ کسی شاعر کا صرف ایک ہی شعر مشہور ہوجاتاہے تو کسی شاعر کا سارا کلام زبان زد عام ہوجاتا ہے ۔ کسی شاعر کے کلام میں جذبات کی عکاسی اور منظر کشی عمدگی سے ادا ہوتی ہے تو کسی شاعر میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی ہے ۔ میں نے بہار کے متعدد شعرا کے کلام کو دیکھاہے مگر میں نے ان کی شاعری میں وہ کشش محسوس نہیں کی جو طارق متین کی شاعری میں ملتی ہے ۔
طارق متین کی شاعری سے میں اُس وقت واقف ہوا،جب کہ میں ابھی آرڈی اینڈڈی جے کالج(مونگیر،بہار) میں بارہویں جماعت کا طالب ِ علم تھا۔یہ 2002ءکی بات ہے ۔ ان دنوں میں نے طارق متین کی ایک غزل پڑھی تھی ،اس کا ایک شعر مجھے اب تک یاد ہے :
مجھ پر احسان ہے میرے نقطہ چینوں کا
میں اپنے کل کو آج سے بہتر بناتا ہوں
اس کے بعد طارق متین کی شاعری برابر میری نظر میں رہی۔ ان کی شاعری سے میں بے حدمتاثر ہوا کیوں کہ وہ سنجیدہ شاعری کرتے ہیں ۔ وہ ایک حساس شاعر ہیں ، چوں کہ میں بذات خود سنجیدہ انسان ہوں اس لیے مجھے ان کی شاعری محظوظ کرتی ہے ۔نیز ان کی زبان بھی عمدہ اورسلیس ہے ،جس وجہ سے قاری سطور سے گزر کر بہ آسانی بین السطور تک پہنچ جاتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں قدیم حس کا جدید شاعر: صابر گودڑ – پروفیسر محمد کاظم )

2002ءکے بعد مجھے جب بھی موقع ملامیں نے طارق متین کی شاعری کا مطالعہ کیا؛ کبھی کسی اخبارمیں تو کبھی کسی رسالے میں۔ ان کی شاعری نے مجھے اکثر محظوظ کیا ہے ۔اب ایسا نہیں ہے کہ ان کے تمام کلام میں ،میں نے یہ خوبی پائی ،تاہم ان کی شاعری کے ایک بڑے حصے نے مجھے مطالعہ کرنے پر مجبور کیا ہے ۔اس طرح ایک لمبی مدت گزر گئی ،یہاں تک کہ لکھمیناں (بیگوسرائے ،بہار )کے ایک سفر کے دوران ان سے ملاقات کا کرنے کا موقع ملا۔
طارق متین سے میری پہلی ملاقات 28 ستمبر 2016ءکو لکھمنیاں (بیگوسرائے،بہار)میں ہوئی ،جب کہ میں اپنا آبائی مکان دیکھنے گیاہواتھا۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ادب و ثقافت کی سرزمین لکھمنیاںمیرا آبائی وطن ہے اور طارق متین کا بھی۔
طارق متین سے ملاقات کافی خوش گوار رہی ۔انھوںنے مجھ سے ملتے ہوئے ازحدخوشی کا اظہار کیا اور اپنا تازہ شعری مجموعہ ”غزالِ درد“کا ایک نسخہ اپنے دستخط کے ساتھ عنایت کرتے ہوئے کتاب میں لکھا:برادرِ عزیز ومکرم شاہ عمران حسن کے لیے : طارق متین۔
شعرو ادب اور تہذیب وتصوف کی سرزمین لکھمنیاں میں 10 جولائی 1968ءکو طارق متین کی پیدائش ہوئی۔ لکھمنیاں بیگو سرائے ضلع سے 10 کلومیٹر دور شمالی بہارکا ایک معروف قصبہ ہے ۔ جہاں آج بھی اردو کی اعلیٰ علمی روایت زندہ و تابندہ ہے،جس کے بار ے میں خود طارق متین نے کہا ہے :
جو لکھنوں سے ہے موسوم شہرِ لکھمنیا
اسی دیارِ محبت نشاں کے ہم بھی ہیں
جو ابتدا سے ہی تہذیب کا ہے گہوارہ
بڑا غرور ہے ہم کو، وہاں کے ہم بھی ہیں
بارہویں جماعت کے دوران انھیں شعرو ادب سے دلچسپی پیدا ہوگئی ؛ انھوں نے تعلیم ترک کردی کے اور اشعار موزوں کرنے لگے ، اپنے کلام کی انفرادیت اور جدت پسندی کے سبب بہت جلد وہ اردو کے معیاری اخبار و رسائل میں پابندی سے شائع ہونے لگے اور ان کے اشعار دلچسپی سے پڑھے جانے لگے ۔چند سالوں تک تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے کے بعد انھوں نے دوبارہ تعلیم حاصل کرنی شروع کی اور انگریزی زبان و ادب میں ماسٹر ڈگری تک تعلیم مکمل کی ۔
طارق متین نے لکھمنیاں کی ادبی انجمن ”حلقۂ اد ب“ میں پہلی مرتبہ ایک طرحی نشست میں شریک ہوکر اپنا کلام پڑھا ،وہ کلام صرف دو اشعار پر مشتمل تھے ۔ وہ آج بھی اس اشعار کو سنایا کرتے ہیں:
متاعِ غم کے سوا اس کو کیا ملا ہوگا
شبِ دبیرِ ستم جس کے سر گئی ہوگی
ہم آج جا نہ سکے بزمِ یار میں طارق
کسی رقیب کی قسمت سنور گئی ہوگی
طارق متین نے 1983 ءکے بعد باضابطہ غزلیں کہنی شرو ع کردی ،وہ برابر طرحی مشاعرہ میں شرکت کرنے لگے ،وہ بتاتے ہیں ،ان کے بیشتر کلام ضائع ہوگئے ،اور بعض اوقات انھوںنے خودبھی اسے ضائع کردیا۔ اگر وہ سارے کلام موجود ہوتے ،اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ ان کا ذہن کس طرح ارتقا پذیر ہوا۔اسی دور میں انھوں نے ایک غزل پڑھی تھی ، جس کا ایک شعر بہت مشہور ہوا:
رو رو کے کس کی یاد میں اے شمعِ بزم تو
اشکوں کی اوڑھتی ہے رِدا سر سے پاؤں تک
شعروادب کی روایت ان کے خاندان میں پہلے سے موجود تھی ، عبدالصمد تپش ،نصر حمید خلش،شمیم بیتابؔ، منظر حمید غم اورظفر حبیب وغیرہ کا شمار لکھمنیاں کے استاد شعر امیں ہوتا ہے جو کہ ان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انھیں زبان وثقافت اور شعر وادب کا سرمایا وراثت میں ملا۔اس وراثت کو انھوں نے نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اس میں اپنی انفرادیت بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی ۔
طارق متین گذشتہ تین دہائی سے شعر کہہ رہے ہیں ،اس دوران معیار کے اعتبار سے انھوںنے کافی اچھی شاعری کی ہے ۔اس درمیان ان کا تین شعری مجموعہ شائع ہوچکا ہے ۔ جس کے نام بالترتیب اس طرح ہے:مشک ِسخن(1997)،قندیلِ ہنر(2008ئ)اورغزالِ درد (2016ء)۔
صفدراامام قادری2016 میں ان کے شعری مجموعہ کی کلیات کو ترتیب دیا ،اس کا نام ”ریاضت ِنیم شب‘ ‘ ہے ۔ یہ کتاب 210صفحات پر مشتمل ہے ۔نیز اسی سال طارق متین کی ایک سو ایک منتخب غزلیں بعنوان ”مسافت ِہجر‘ ‘ مکتبہ صدف انٹرنیشنل پٹہ سے شائع ہوکر منظرعام پر آچکی ہیں۔2016ءادبی اعتبار سے طارق متین کے لیے کافی زرخیزثابت ہوا۔
طارق متین نے اپنی ادارت میں کئی رسالے نکالنے کی کوشش کی ۔اب تک ان کی ادارت میں ”علم وادب“، ”آغاز“،’ ’گل و صنوبر“ اور ”سخن وراں“وغیرہ شائع ہوچکے ہیں ،اس کے کئی خاص نمبرات بھی شائع ہوئے ،تاہم کوئی بھی رسالہ دیرتک اور دور تک پابندی وقت کے ساتھ شائع نہیں ہوسکا۔ علم و ادب بارہا شائع ہوا۔ اس کا پہلا شمارہ 1992ءمیں شائع ہوا تھا۔ اس کے کئی سال بعد دوبارہ جاری ہوا،مگر وہ مستقل شائع نہ ہوسکا۔یہ رسائل معیاری رسائل تھے مگر پابندی وقت کے ساتھ شائع نہ ہونے کے سبب ادبی پرچوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
طارق متین کی شاعری کا مطالعہ کرتا ہوئے یہ اندازہ ہوجاتاہے کہ شاعر کھوتی مٹتی قدروں سے بے چین ہے ،اسی بے چینی کی کیفیت میں وہ اپنے جذبات کو شعر کی صورت میں صفحہ قرطاس پر لاتا ہے اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری میں مذہب ،سیاست و ثقافت ، رسم و رواج ، تغیر و تمدن اور تصوف سبھی موضوعات مل جاتے ہیں ۔ ان کی شاعری کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ ایک باخبر شاعر ہیں ،جس نے تمام چیزوں کو نظر میں رکھ کر اپنے احساسات و خیالات کو لفظی پیکر میں ڈھالا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ شوق نیموی کی غزل گوئی – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )

بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہر اعتبار سے ایک نیازمانہ تھا۔اِس صدی نے دُنیا کو ایک عالمی گاؤں (Global village) میں تبدیل کردیا اوردنیا سمٹ کر مٹھی میں آگئی ۔ نئے زمانہ نے عالمی سماج کا منظرنامہ بھی پوری طرح سے بدل دیاتھا۔ ہرسطح پر اس کے اثرات دیکھے جارہے تھے۔عالمی سماج میں پہلی باراِس نوعیت کے مسائل پیش آئے تھے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف روایتی علم کافی نہ تھا بلکہ ان کو سمجھنے کے لیے اجتہادی نظر اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتہادی رہنمائی کی ضرورت تھی۔
اِس صدی میں جہاں ہر سطح پر افراط و تفریط برپا تھی تووہیں مادّیاتی ترقیاں بھی انتہا کو پہنچ رہی تھیں۔ سوچنے سمجھنے کا زوایہ بدل چکا تھا، رہنے سہنے کا طریقہ بدل چکا تھا، تجارتی اصول تبدیل ہو چکے تھے ، بادشاہی نظام کی جگہ جمہوری نظام نے فوقیت حاصل کرلی تھی، سرمایہ داری کا قدیم طریقہ نیٹ ورکنگ سسٹم (Networking System) کی شکل اختیار کرچکا تھا، حدتو یہ ہے کہ ہفتوں اور مہینوں کا سفر منٹوں میں ہونے لگاتھا۔ اظہار ِ رائے کی آزادی اس انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ انسان اپنی بات لمحے لمحے دُنیاکے کسی بھی حصے میں پہنچانے لگا تھا اور تو اور اظہارِ خیال کی آزادی کے نام پر اس صدی نے انسانوں کو اس قدر آزادی دے دی تھی کہ وہ” مذہب“ سے بے زار ہو کر آزادی کے نام پر کچھ بھی کرگزرنے کو تیار ہوگیا تھا۔ ”انسانیت“ہی انسان کا سب سے بڑا” مذہب“ بن گئی تھی اور انسان ہر چیز کی توجیہہ اپنی عقل سے کرنا چاہ رہا تھا۔یعنی تیزی سے بدلتی ہوئی اس صدی نے سبھی کو متاثر کیا ہے غرض کہ اس سے ادب بھی متاثر ہوا اور مذہب بھی ۔اور اسی صدی میں انسان تہذیب کی انتہا کو پہنچ گیا؛ مگر بدقسمتی سے تہذیب کی انتہا کو پہنچ کر انسان مایو س ہوگیا ۔ (یہ بھی پڑھیں اُردو رباعی کا سفر (عہدِرفتہ سے عہدِ موجودہ تک) – ڈاکٹر یوسف رامپوری )

جب طارق متین دیکھتے ہیں دنیا بدل رہی ہیں اور سماج سے اعلیٰ اقدار مٹ رہا لیکن ان کی فطرت چاہتی ہے کہ پرانی چیزیں برقرار رہیں، اس وقت ان کیفیات کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
نیا نیا ہے سبھی کچھ مگر سرشت مری
پرانی رسم پرانے رواج چاہتی ہے

اب دیکھئے اِسی بات کو ایک دوسری جگہ وہ یوں بیا ن کرتے ہیں :
اتنا آسان نہیں خود کو سنبھالے رکھنا
اپنی بنیاد نہ چھوڑو کہ بکھر جاوں گے
اور آگے چل کر وہ اس طرح گویا ہیں:
گرچہ دکھ درد سے معمور ہے سینہ اپنا
پھر بھی بدلا نہیں جینے کا قرینہ اپنا
ایسا محسوس ہوتا کہ طارق متین کو ماضی سے اور ماضی کے اقدار و تہذیب سے بے حد لگاؤ ہے ،اس کا اظہار وہ جگہ جگہ اپنی شاعری میں کرتے نظر آتے ہیں :
طارق مرے پرکھوں کی ہے میراث سلامت
تہذیب و تمدن کا یہ زیور نہیں اترا
ان کی شاعر ی میں تصوف ومذہب کی بھی جھلک دکھائی دیتی ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے مذہب کو بین السطور میں جاکر پڑھا ہے اور مذہب کی نفسیات سے وہ واقف ہیں،اس کو وہ یوں موزوں کرتے ہیں:
گذارتا ہے شب و روز میکدے میں جو شخص
بہت بھلا سا لگا ہے اذان دیتے ہوئے
روزے کی اور نماز کی محبت سے آیا ہے
چہرے پہ میرے نور عبادت سے آیا ہے
یہ دور انانیت اور اجنبیت کا ہے ،اس دور کا انسان تمام ترقیاتی سہولیات کے باوجود خود کو تنہا محسوس کرتا ہے،لوگ اپنوں سے دور ہوتے جارہے ہیں اور پرائے کو اپنا بنا رہے ہیں ،حالاں کہ اپنا پھر بھی اپنا ہوتا ہے :اسی بات کو طارق متین نے کیا ہی درد انگیز لہجے میں بیان کیا ہے :
جو پرائے تھے وہ ملتے رہے اپنوں کی طرح
کیا قیامت ہے کہ اپنا ہی پرایا نکلا
طارق متین کی شاعری میں رومانیت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ، وہ اپنے محبوب کو چاہتے ہیں مگر اس کو بدنام ہونے نہیں دیتے ،وہ کہتے ہیں:
بے گھر ہوئے، تباہ ہوئے، دربدر ہوئے
لیکن تمہارے نام کو رسوا نہیں کیا
ہم نے گزاری عمر ترے انتظار میں
بے اعتباریاں ہی رہیں اعتبار میں
جب محبوب سے ان کا ملن ہوجاتاہے تو ان کا اندازِ تخیل بدل جاتاہے ،اب وہ کہہ اُٹھتے ہیں:
تم آگئے تو زمین آسمان لگنے لگی
قدم قدم پہ یہ جنت نشان لگنے لگی
میسر آئیں ہیں جب سے رفاقتیں اس کی
بہت حسین ہماری اُڑان لگنے لگی
اور رومانیت کی انتہا کو پہنچ کر وہ اپنے محبوب پر حق جمانے لگتے ہیں:
کیا مجھ سے خفا ہو تم تکرار نہیں کرتی
کیوں اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتی
ساحل پہ کھڑی ہو کیوں حیراں و پریشاں تم
دریائے محبت کو کیوں پار نہیں کرتی
انسان کی زندگی میں طرح طرح حالات گزرتے رہتے ہیں مگر انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہئے اورنہ اپنی مایوسی کا اظہار کرنا چاہئے ۔کیوں کہ ہر رات کے بعد صبح کا اُجالا ضرور آتا ہے ،اس بات کو طارق متین اس طرح کہتے ہیں:
ٹوٹا ہوں مگر ٹوٹ کے بکھرا تو نہیں ہوں
اندھیر ہے اندھیر کا ماتم تو نہیں ہے
عذاب جھیلتے رہتے ہیں زندگی کا مگر
یہ حوصلہ ہے کہ ہم مسکرائے جاتے ہیں
انسان کو بعض اوقات اپنے ضمیر کی حفاظت کے لیے ترک تعلق کرنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ کیوں کہ بہت دیرتک اور بہت دور تک انسان کسی کا ساتھ دے نہیں پاتا ہے ، تھوڑے وقت کے لیے کوئی انسان کسی کا ساتھ دے پاتا ہے اس کے بعد سب اپنی اپنی دُنیا میں کھو جاتے ہیں، ان احساسات کی ترجمانی بہترین طاریق متین نے یوں کی ہے:
کوئی صورت ہی نہیں ترکِ تعلق کے سوا
رہ گیا ہے بس یہی اک راستہ میرے لیے
طارق متین کو شعر ادب کی دنیا میں ایک سند حاصل ہوچکا ہے ۔جہاں ان کی غزلیں ہندوپاک تقریباً تمام معیاری اخبار ورسائل میں شائع کر قدر و منزلت کا مقام پا چکی ہیں۔وہیں انھیں عصر حاضر اکثر وبیشتر قلم کار انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھااور ان کی شاعری کو سراہا ہے ۔ ذیل میں ان منتخب حضرات کا آراء کو نقل کیا جاتا ہے ،جس سے طارق متین کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
پروفیسر وہاب اشرفی :طارق متین زندگی کے سارے ایسے نقوش کو اپنے جامہ فن کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں جنھیں نہ تو اِکہرے طورپر مثبت کہا جاسکتا ہے اور نہ منفی ۔ احساس ہوتا کہ شاعرزندگی کی تمام سرشاری کے ساتھ ساتھ اس کی ناہموار کیفیتوں کو بھی مد ِ نظررکھے ہوئے ہے۔طارق متین ایک طرزِ خاص کے شاعر ہیں جن کے یہاں سہل ممتنع میں نکتہ آفرینی کے کتنے ہی پہلو دریافت کئے جاسکتے ہیں ۔ گویا طارق متین خیال اور فن کی ہم رشتگی کے علم بردارہیں ۔
عین تابش: طارق متین کی غزلوں کو پڑھنے سے زیادہ محسوس کیا جاسکتا ہے اور ان کے ساتھ تخیل اور تحیر کے ایک جہاںِ نو کی سیر جاسکتی ہے ۔
شاہد کلیم :طارق متین کے یہاں ہمیں جہاں اظاہر و بیان میں خوش سلیقگی اور ندرت کا احساس ہوتا ہے ،وہیں موضوعات میں تنوع بھی دکھائی دیتا ہے ۔ یہ تنوع اس بات کا غماز ہے کہ طارق متین نے اپنی آنکھیں کھلی رکھی ہیں اور تجربات و مشاہدات کی دنیا میں سفر کرتے رہتے ہیں ۔ لہٰذا اُن کی شاعری میں آج کے ماحول کی بھرپور عکاسی ہوئی ہے ۔ہر نیا نئی زبان وضع کرتا ہے ۔ نئی تشبیہیں اور نئی علامتیں تراشتا ہے جن کے ذریعے اظہار وبیان میں خوب صورتی آتی ہے اورشاعری کو ایک نیا روپ ملتا ہے ۔ طارق متین کی شاعری میں بھی فکرو خیال کی الوہیت ،فنی حسن ،سنجیدہ لب ولہجہ اوربیان کی تازگی ملتی ہے اور یہ جملہ خصوصیات جدید ترین نسل کے شعر ا کے درمیان انھیں ایک اہم مقام تفویض کرتی ہیں۔
عشرت ظفر:طارق متین کے یہاںفنی وشعری ابعاد بہت نمایاں ہیں اور انھی ابعاد سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے یہاں عارفانہ استحکام کس طرح پیدا ہوا ہے جو آخر کا رایک لہجے کا روپ اختیار کرگیا ہے اور اس سے ان کی شناخت مرتب ہوئی ہے ۔ یہی شناخت ان کے فن کو تکمیل سے ہم کنارکرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
ابراہیم اشک:طارق متین کی شاعری میں زبان وبیان کا رچاو ¿ ،فکر کی پرواز اور عصری تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت بہ خوبی پائی جاتی ہے ۔ ان کی پہلی آہٹ زبردست ہے ۔ ادبی حلقوں میں اسے سُنا اور محسوس کیا جائے گا۔ ان کی دانش مندی اور ہنر کاری کا خیر مقدم بھی ہوگا، اس کا مجھے یقین ہے ۔
پروفیسرظفرحبیب:الفاظ کو بازیچہ ¿ اطفال بنانا طارق متین کا بڑا کارنامہ ہے ۔ وہ شخص خوش نصیب سمجھا جاتاہے جو الفاظ کو کھلونا بنا کر کھیلتا ہے ۔ اس سے بڑا خوش نصیب میں اُس شخص کو تسلیم کرتا ہوں جس کے ہاتھوں میں الفاظ پہنچ کر خود انگڑائیاں لینے لگیں اور اترانے لگیں ۔ ایسا شخص جب کسی جذبے کوواشگاف کرنا چاہتا ہے تو الفاظ خودہی نوکِ قلم سے صفحہ قرطاس پر اُترنے لگتے ہیں ۔ جب یہ محسوس ہونے لگے تو سمجھئے کہ صفحہ  دل سے صفحہ قرطاس کا گہرا تعلق قائم ہوگیا ہے اور تب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان دونوں نے ایک دوسرے کا سہارا بن کر عمر گزارنے کا سفرشروع کردیا ہے ۔ شکر ادا کرنا چاہئے طارق متین کو کہ قسّامِ ازل نے اس مایہ ¿ ہنر سے سے اُنھیں مرصع کردیا ہے ۔
عبدالاحدساز:طارق متین جس عصر میں سانس لے رہے ہیں ،اپنا تخلیقی مواد اُسی سے اخذ کرتے ہیں مگر فنی ترسیل میں وہ روایت کے التزام واحترام کے برابر قائل ہیں ۔ وہ جدت محض کے نا م پر ایسا کوئی اقدام نہیں کرتے جس پر روایت سے انحراف کا الزام عائد ہوسکے۔وہ روایت سے استفادہ بھی کرتے ہیں اور محاورے یادربست کے تحت اس کا نئے تقاضوں کے ساتھ خوب صور ت استعمال بھی ۔
ڈاکٹر منظر اعجاز:طارق متین کا شعری میلان محاورہ  زبان کا پابند نہیں ۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک ایسا اسلوب وضع کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جس کے ذریعے الفاظ کے پیکرسے معنوی حسن کا منظر تراشا جاسکے اور یہ کام وجدان کی رہنمائی کے باوجود ہمہ دانی سے نہیں بلکہ ہنر مندی ہی سے ممکن ہے ۔
عرفان صدیقی:طارق متین کو غزل کی زبان برتنے کا سلیقہ بھی ہے اور ان کے احساس اور فکرکی تازگی بھی تاثیر رکھتی ہے ۔
پروفیسر لطف الرحمٰن:طارق متین نہ صرف یہ کہ نئے منطقوکی تلاش میں رہتے ہیں بلکہ زندہ تخلیقی استعاروں کی زرخیزی بھی ان کی اپنی انفرادیت ہے ۔ ان کے یہاں عصر ی حسیتوں کی متعددکیفیتوں کا احساس و اظہار اُن کی ذہنی وسعت اور نئے تخلیقی منظر نامے کا ثبوت ہے ۔
پروفیسر مظفر حنفی:طارق متین کی چنندہ غزلوں کے بہت سے اشعار میری توجہ کا دامن کھینچنے میں کامیاب ہوئے اور میں اپنی اصابت ِ رائے کو محفوظ رکھتے ہوئے کہہ سکتاہون کہ ان کے خالق کی نہ صرف زبان کے رموز سے خاطر خواہ شناسائی ہے بلکہ انھیں اظہار وبیان کا تخلیقی شعور بھی حاصل ہے ۔ طارق متین کی تازہ کاری کے لیے سماجی بصیرت اور عصری حسیت نے دروازے وا کیے ہیں توباطنی کیفیات اور جمالیاتی احساسات کے دریچوں پر بھی ان کی فکرونظر نے دستکیں دی ہیں۔
پروفیسرعلیم اللہ حالی:طارق متین عہد ِ حاضر کے ان چند شعر ا میں ہیں جنھوں نے اپنے منفرد لہجے کے ذریعے اپنی شناخت مستحکم کی ہے ۔ ان کے اظہار و بیان کی سادگی بسا اوقات ہمیں دھوکہ دے جاتی ہے اور بادی النظر میں اس سادگی پر عمومیت کا اندازہ ہونے لگتاہے ۔ لیکن فی الواقعی طارق متین کے یہاں اظہار کی سادگی میں وہ کاٹ ہے جس سے میری کی یادتازہ ہونے لگتی ہے ۔
فراغ روہوی:طارق متین کی شاعری اُن کی عمر سے بڑی ہونے کی بشارت دیتی ہے ، ان کی شاعری کسی غزال کی طرح قاری کو اپنا تعاقب کرانے پر مجبور کرتی ہے ۔
فرحت احساس:طارق متین کی نمایاں ترین صفت ان کی خود گزینی ہے ۔ایک خاص طرح کی تقویٰ جیسی کیفیت ہے جوان کے باہر اور اندر کے ماحول میں جاری و ساری معلوم ہوتی ہے ۔اپنی تہذیبی اقدار سے طارق متین کی وابستگی مکمل اور ناقابلِ شکست ہے کہ ان کی چشم جمال انھیں اپنی تہذیب کی ملکہ حسن کے طلسم رنگ سے خروج کرنے کی مہلت اور اجازت نہیں دیتی ۔
خورشید اکرم:طارق متین نے غزل کی شاعری کو ہی اپنا ذریعہ اظہار بنایا ہے ۔ غزل شاعر کو متضاد خیالات کو پیش کرنے کی چھوٹ دیتی ہے ۔طارق متین کافکری سروکار دنیا کی مکروہات میں اپنے خالص وجود کی طہارت کو بچائے رکھنے کی کشاکش جس سے آج کی شہری زندگی گزارنے والا ہر باضمیر شخص دوچار رہتا ہے ۔
خالد عبادی:طارق متین دولت شعر وسخن اور سرمایہ فکر وفن سے بہرور ہیں لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ موضوع کے شاعرنہیں اسلوب کے شاعر ہیں۔ ان کے اسلوب میں سادگی ،دلداری اور سخن پروری جیسی بہترین صفات یکجاہوگئیں ہیں۔
طارق متین عصر حاضر کے ایک نمائندہ شاعر ہیں ،ان کی شاعری عوام و خواص دونوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ، ان سے قارئین کرام کو بہت سی مثبت امیدیں وابستہ ہیں ، امید کی جانی چاہئے کہ وہ مستقبل میں بھی اردو ادب کو اچھی اور معیاری شاعری سے نوازتے رہیں گے ۔میں ان کے اس شعر کے ساتھ اپنے مضمون کا اختتام کرتا ہوں :

سب کی قسمت میں نہیں ہوتیں فلک پیمائیاں
پھر بھی اُڑنے کے لیے شہپر بنانا چاہئے

مضمون نگار کا پتہ:
شاہ عمران حسن
معرفت مولانا ابرارالحسن اصلاحی
ای ۔668،زید پور ایکسٹینشن، پارٹ ٹو،بدرپور بارڈر،
نئی دہلی ۔110044
موبائل:9810862382

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment