مدھیہ پردیش اردو اکادمی، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ریاست میں ڈیویژنل ہیڈ کوارٹرس پر نئے تخلیق کاروں پر مبنی "تلاش جوہر” پروگرام کے انعقاد کے بعد اب ضلع ہیڈ کوارٹرس پر سینیئر تخلیق کاروں کے لیے "سلسلہ” کے تحت پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں. اس کڑی کا بائیسواں پروگرام رین بسیرا بھون، ٹمرنی میں 14 اکتوبر، 2022 کو شام 5 بجے سے شعری و ادبی نشست کا انعقاد ضلع کوآرڈینیٹرمکیش شانڈلیہ کے تعاون سے کیا گیا.
اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی کے مطابق مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت اپنے ضلع کوآرڈینیٹرس کے تعاون سے "سلسلہ” کے تحت ریاست کے سبھی اضلاع میں شعری و ادبی نشستیں منعقد کی جارہی ہیں. ضلع ہیڈ کوارٹرس پر منعقد ہونے والی نشستوں میں متعلقہ ضلعوں کے تحت آنے والے گاؤوں، تحصیلوں اور بستیوں وغیرہ کے ایسے تخلیق کاروں کو مدعو کیا جارہا ہے جنہیں ابھی تک اکادمی کے پروگراموں میں اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع نہیں ملا ہے یا بہت کم ملا ہے. اس سلسلے کے اکیس پروگرام بھوپال، کھنڈوہ، ودیشہ دھار، شاجاپور، ٹیکم گڑھ، ساگر، ستنا ریوا سیدھی، رائسین، سیونی، نرسنگھ پور، نرمدا پورم، دموہ، شیوپوری، گوالیار، برہانپور،دیواس، رتلام، بالاگھاٹ، چھندواڑہ اور اشوک نگر میں منعقد ہو چکے ہیں اور آج یہ پروگرام ٹمرنی میں منعقد ہوا ہے جس میں ہردا اور بیتول کے تخلیق کاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں.
ہردا ضلع کے کوآرڈینیٹر مکیش شانڈلیہ نے بتایا کہ منعقدہ ادبی و شعری نشست میں 12 تخلیق کاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں. پروگرام کی صدارت نگر پریشد سی ایم او راہول شرما نے فرمائی، مہمان خصوصی کے طور پر نگر پریشد کے صدر دیویندر بھردواج اور مہمانان ذی وقار کے طور پر راجا کوشل، ونیت گیتے اور شالگرام چندیل اسٹیج پر موجود رہے. جن شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں.
زمیں سے لے کر آسماں تک ہو جس کی شہرت
میں وہ ہندوستان دیکھنا چاہتا ہوں
شیام شرما ہردا
تتلیاں پھول خوشبو چمن کی بات کرتے ہیں
آؤ سب مل کر وطن کی بات کرتے ہیں
شاہد شاہ ٹمرنی
سمندر کی تہہ میں جانا سیکھ لو منصور
گوہر بھلے تلاش کے پھر لائیے حضور
منصور علی منصور ہردا
بنی بیٹی تو خوشیوں کا خزانہ بھردیا تونے
بنی بہنا تو جب گھر کی تمس کو ہر لیا تونے
مگر جب ماں کا تونے روپ دھارن کرلیا جگ میں
جگت کے سب اپدانوں کو بونا کردیا تونے
مکیش شانڈلیہ
شجر اس راہ کا روڑا تھا لیکن کیا بتاتا وہ
کہ اس کی چھاؤں میں بیٹھے تھے کتنے راہگیر آکر
راجکمار راز بیتول
ہندو عیسائی سکھ مسلم پڑھتے ہیں
گیتا بائبل گروگرنتھ قرآن سب
شیویش ہرسودی ہردا
گیت غزلیں ہیں لکھنا بہانا فقط
کچھ بھی لکھتا نہیں آپ کو چھوڑ کر
جئے کرشن چانڈک ہردا
شعری و ادبی نشست کی نظامت کے فرائض منیش سونکیا نے انجام دیے.
پروگرام کے آخر میں مکیش شانڈلیہ نے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی جانب سےتمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا.
—
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

