بس اسٹینڈ سے لے کر ریلوے اسٹیشن یا پھر ایئرپورٹ، جہاں بھی دیکھیے ہجوم ہی ہجوم۔ جسے دیکھیے سفر پر آمادہ، کوئی اندرون ملک کے لیے تو کوئی بیرون ملک کے لیے۔ دنیا میں لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں لیکن یہ جو Travelogue یا سفرنامہ ہوتا ہے، وہ گنے چنے لوگوں کا مقدر ہوتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فلاں شخص امریکہ یا برطانیہ جاکر واپسی کے بعد اپنا ایک سفرنامہ مرتب کرکے شائع کرتا ہے، تو ہم اُسے کیوں پڑھیں؟ یعنی یہ کہ کسی کے سفر نامے کا مطالعہ ایک ادب کے طالب کے لیے لائق توجہ کیوں ہو؟ میں سمجھتا ہوں اس کا جواب اس مضمون میں موجود ہوگا۔
میرے زیرمطالعہ پاکستان کے مشہور عالم دین جناب کوثر نیازی کا سفرنامہ ’نقش رہگذر‘ ہے جو نیوبسمہ کتاب گھر، ترکمان گیٹ دہلی6 سے 2007 میں شائع ہوا۔ یہ سفرنامہ 139 صفحات پر مشتمل ہے۔ غالباً یہ کتاب پہلے پاکستان میں چھپی ہوگی کیوں کہ کوثر نیازی صاحب نے جو ’پیش گفتار‘ تحریر کیا ہے اس کے آخر میں انگریزی میں تاریخ 1.7.90 درج ہے۔ اس سفرنامے میں کوثرنیازی صاحب نے اپنے دو اسفار ہند بمطابق 1984 اور 1989 کی روداد قلم بند کی ہے۔ اپنے تحریری تجربات کے بارے میں پیش گفتار میں وہ خود ہی لکھتے ہیں:
’’ان کے مندرجات عارضی اور وقتی اخباری نوعیت کے نہیں۔ ان میں تصوف، تاریخ اور ادب و سیاست کے بعض اہم گوشے زیربحث آئے ہیں۔‘‘
(پیش گفتار، ص 9)
کسی بھی عام آدمی کو کوثر نیازی صاحب کے سفرنامہ ہند سے کیا حاصل ہوسکتا ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ اگر اس سفرنامے میں تصوف، تاریخ اور ادب و سیاست کے بعض اہم گوشے زیربحث آئے ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا اقتباس میں انھوں نے لکھا ہے، تب تو اس کی معنویت ہے، ورنہ یہ ان کا خالص ذاتی تجربہ ہوگا، ذاتی بیان ہوگا،ذاتی ڈائری کے اوراق ہوں گے۔
کوثر نیازی صاحب نے بھارت کا پہلا سفر 1984 میں کیا تھا۔ اس کتاب کا پہلا باب ’بارگاہ محبوب الٰہی میں‘ ہے۔ دہلی پہنچ کر ان کی پہلی خواہش حضرت نظام الدین اولیا کے آستانۂ فیض پر حاضری کی تھی۔ حالاں کہ انھوں نے آغاز ہی میں لکھا ہے کہ انھیں تصوف کے تمام سلاسل کے بزرگوں سے عقیدت ہے مگر طبعاً وہ سلسلۂ چشتیہ سے زیادہ قریب ہیں۔ نیز یہ بھی تحریر کیا ہے کہ اس نسبت سے حضرت غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی عقیدت نَس نَس میں رچی ہوئی ہے۔ سفرنامے سے اگر سفرنامہ نگار کی ذاتی زندگی کے اہم گوشوں، بشمول مذہب و مسلک پر بھی روشنی پڑتی ہو، تو اور بھی اچھی بات ہے۔ ہاں اگر محض ذات ہی کو مرکز خلایق بنا لیا جائے تو ایسا سفرنامہ ازکار رفتہ ہوگا۔ درگاہ پر جانے کا ذکر سنیے:
’’بستی نظام الدین اولیاء پہنچا تو نقشہ ہی کچھ اور تھا۔ آج سے چند سال پہلے یہاں ایک کچی سی آبادی تھی، قریب میں ایک قبرستان، اب نہ کچے مکان نظر آئے نہ کہیں قبریں، انھیں مسمار کرکے ہر طرف دکانیں اور پختہ مکان بنا لیے گئے ہیں۔ مجھے یاد ہے پچھلی مرتبہ ہماری گاڑی بالکل روضے کے باہر جاکر رکی تھی۔ اب کے ایک پُرونق بازار سے گزر کر کافی پیدل چلنا پڑا تب کہیں جاکر خواجہ کی بیٹھک دکھائی دی۔‘‘ (ص 12)
اس اقتباس سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ 35,40 سال قبل درگاہ کے آس پاس کوئی بازار نہیں تھا۔ یعنی سفرنامہ اگر غور سے پڑھا جائے تو زمانی ترتیب کی روشنی میں تہذیبی و معاشرتی تغیر و تبدل کا ا ندازہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے۔ اس باب میں کوثر نیازی صاحب کے رقیق القلب ہونے کا ثبوت بھی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’اس بارگاہ گردوں مآب میں قدم رکھا تو یوں لگا جیسے دل درد کی دولت سے مالا مال ہوگیا ہے، آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، بے اختیار اقبال کے وہ اشعار زبان پر جاری ہوگئے جو انھوں نے حضرت خواجہ حسن نظامی کی معیت میں درگاہ کی زیارت کے موقع پر سپرد قلم کیے تھے۔‘‘
اشعار قلم بند کرنے کے بعد اپنے احساس اور جذبے کو یوں پیش کرتے ہیں:
’’ایسا لگا جیسے میرا وجود جل کر راکھ ہوگیا اور اس کے اندر عشق کی چنگاری جل اٹھی ہے۔ کاش یہ لمحے جاودانی اور دوامی ہوتے مگر مجھ جیسے مادّیت زدہ گنہگار کی یہ قسمت کہاں۔ اس بارگاہ عصیاں پناہ سے نکلوں گا تو دل کی وہی حالت ہوجائے گی، مکروہاتِ زمانہ کی دلدل اس چنگاری کو کہاں روشن رہنے دے گی۔‘‘ (ص 14)
کوثرنیازی صاحب کو اس درگاہ پر حاضری کے وقت ایک اور کریہہ تجربہ ہوا جس کا ذکر وہ دل کش اسلوب میں اس طرح کرتے ہیں:
ایک مجاور نے البتہ شروع سے آخر تک پیچھا کیا، ہار بھی گلے میں ڈالے اور چادر بھی پہنائی۔ گاڑی تک میرا سارا شجرۂ نسب دہراتا چلا آیا… مگر مجھے مجاوری کے اس سارے نظام سے اتنی وحشت ہے کہ میں نے بھی جیب میں ہاتھ ڈال کر نہیں دیا وہ بھی کیا یاد کرے گا کس کنجوس آدمی سے پالا پڑا تھا۔‘‘ (ص 136)
سفرنامہ لکھتے وقت آدمی Objective نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کوثر نیازی صاحب نے بھی اپنی باطنی کیفیات میں قارئین کو بھی شریک کرنے کی کوشش کی ہے۔ انسان جب موضوعی سطح پر جیتا ہے تو جہانِ باطن کی بھی سیر کرتا ہے۔ انتشار اور نراجیت کے بعد ایک طرح کی نشأۃ ثانیہ انسان کے باطن میں بھی ہوتی ہے۔ زیرمطالعہ سفرنامے ’نقش رہگذر‘ میں اس کے نشانات جا بہ جا نظر آتے ہیں۔ کوثر نیازی صاحب نے محبوب الٰہی کے ساتھ اُسی احاطے میں آسودۂ خاک خواجہ حسن نظامی کے تئیں بھی اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیاہے۔ بعد ازاں مرزا غالب اور ساغر نظامی کے مزاروں پر جانے کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے کے سفر میں مزار غالب پر حاضر نہیں ہونے پر اظہار افسوس بھی کیا ہے ساتھ ہی غالب کے حوالے سے علامہ اقبال کے تین اشعار بھی پیش کیے ہیں۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ سفرنامہ نگار محض اپنی باتیں نہیں کررہا ہے، بلکہ موقع محل کی مناسبت سے اس کے سامنے ادبی و تہذیبی انسلاکات بھی رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کی اپنی اہمیت اور معنویت ہوتی ہے۔
درگاہِ محبوب الٰہی کے بعد آگرہ کے حضرت شیخ سلیم چشتی کی درگاہ میں حاضری کا ذکر ہے۔ صرف تین صفحات پر مشتمل اس باب میں کوثر نیازی صاحب نے علامہ اقبال کی نظم ’بندگی نامہ‘ سے نو اشعار بھی پیش کیے ہیں۔ مغلوں کے عہد میں فن تعمیر کو جس طرح فروغ حاصل ہوا، اس پر بھی یہاں روشنی ڈالی گئی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’آگرہ اور فتح پور سیکری کی عمارات کے کیا کہنے۔ انھیں سیکڑوں سال ہوگئے مگر ہنرمندی اور ہنروری کے جو نقوش انھو ںنے جریدۂ عالم پر ثبت کیے ہیں وہ آج بھی جگمگ جگمگ کررہے ہیں…میں مغلوں کا فن تعمیر دیکھ رہا تھا اور مجھے ’بندگی نامہ‘ میں کہے ہوئے علامہ اقبال کے وہ اشعار یاد آرہے تھے جو انھوں نے ’صنعت آزادگان‘ پر ارشاد فرمائے ہیں۔‘‘ (ص 17)
چاہتا ہو ںکہ تین شعر یہاں پیش کردیے جائیں:
یک زماں بارفتگاں صحبت گزیں
صنعتِ آزاد مرداں ہم بہ بیں
سنگ ہا با سنگ ہا پیوستہ اند
روزگاری را بہ آنے بستہ اند
یک نظر آں گوہر نابے نگر
تاج را در زیر مہتابے نگر
اس طرح ان اشعار کی روشنی میںمغلوں کا فن تعمیر مزید مجلّا و مصفّا ہوجاتا ہے۔ یہاں سفرنامے کی معنویت فزوں تر ہوجاتی ہے کہ یہ تحریر تصوف اور فن تعمیر پر ایک طرح سے کوثر نیازی صاحب کی عقیدت کے ساتھ ساتھ ان کے نہایت ہی بالیدہ ادبی ذوق کو بھی پیش کرتی ہے۔ آخر میں یہاں بھی انھوں نے اپنے مراقبے کا ذکر کیاہے۔ شاید بہت سے لوگوں کے علم میں اضافے کا باعث ہو کہ شیخ سلیم چشتی کی کرامت کے سبب ہی جیسا کہ یہاں لکھا گیا ہے کہ شہنشاہ اکبر کو بیٹا پیدا ہوا جسے ہم آپ جہانگیر کے نام سے جانتے ہیں اور جس کا نام اکبر نے شیخ کے نام پر سلیم رکھا تھا۔ فتح پور سیکری میں شیخ کے مقبرے اور اس کے احاطے کا نقشہ کوثر نیازی کچھ یوں پیش کرتے ہیں:
’’ایسا لگتاہے جیسے اس کے اردگرد پھیلا ہوا وسیع و عریض صحن ایک جھیل ہے اور اس میں یہ مقبرہ ایک سفید کنول کی مانند تیر رہا ہے۔‘‘
یہی وہ منظر کشی ہے جس کے سبب کسی بھی سفرنامے میں ادبیت پیدا ہوتی ہے وگرنہ تحریر بے رس اور خشک ہوجاتی ہے۔ یہ منظرکشی کسی بھی مسلکی تناظر سے بالاتر ہے۔ جب ہم ہندوستان میں بیٹھ کر دوسرے ممالک کے حوالے سے لکھے گئے سفرنامے پڑھتے ہیں تو ہمیں یہ توقع ہوتی ہے کہ ان ممالک کے تہذیبی، علمی و ادبی نیز سیاسی و سماجی حالات سے واقفیت ہوگی۔ اس طرح کوثر نیازی کے اس سفرنامۂ ہند ’نقش رہگذر‘ سے پاکستانیوں کو بالخصوص اور دوسرے ممالک والوں کو بالعموم ہماری سی ہی توقع ہوگی۔ ہندوستان کو پاکستان کے لوگ بھارت سے موسوم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں کون سی نفسیات کام کرتی ہے کہ ’ہندوستان‘ کہتے ہوئے انھیں تکلّف ہوتا ہے۔ حالاں کہ کچھ کچھ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اس لفظ کی دیوار یعنی جو کہ لسانی دیوار کی طرح ہے، گرا دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام ادیب و شاعر ہی کرسکتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤ ں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ کوثر نیازی جیسے عالم دین اور صلح کل والے شخص نے بھی اپنے اس سفرنامے میں ’بھارت‘ ہی لکھا ہے۔ خیر یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔ گرچہ وہ ایک سیاسی رہنما رہے ہیں لیکن ان کی شناخت ایک عالم دین ہونے کے سبب بھی ہے۔
شیخ سلیم چشتی کے بعد کوثرنیازی صاحب کا پڑاؤ اجمیر شریف کا آستانۂ خواجہ غریب نواز ہے۔ انھوں نے اس گلابی شہر کی بڑی تعریفیں کی ہیں۔ یہاں کی عمارتوں کا، جنتر منتر اور ہوا محل کا خصوصیت کے ساتھ ذکر ملتا ہے جو مہاراجاؤں کے عہد کے تہذیبی نقوش پیش کرتے ہیں۔ اپنے جذبہ شوق اور موسم گرما کا ذکر وہ یوں کرتے ہیں:
’’شدید گرمی، راجستھان کا علاقہ اور پھر تپشِ شوق، چار ساڑھے چار گھنٹے کے اس سفر کے دوران اس سہ آتشہ گرمی نے جھُلسا کر رکھ دیا وہی بات تھی کہ:
گرمیٔ شوق بھی ہے گرمیٔ موسم بھی ہے
اور پھر اس پہ مرا سوز جگر کیا کہنا
مگر دربار خواجہ میں پہنچنے کی امنگ اتنی زوردار تھی کہ گرمی کا احساس تک نہیں ہوا یا شاید یہ بھی حضرت خواجہ کا تصرّف تھا کہ وہ ابھی سے اپنے تن آسان مہمان کی خاطرداری فرما رہے تھے۔‘‘ (ص 22)
چوں کہ کوثرنیازی صاحب نہایت ہی اعلا ذوقِ شعر و ادب رکھتے ہیں اس لیے ان کی کیفیتوں کے اظہارمیں شعریت کے عناصر از خود آجاتے ہیں۔ یہی وہ عناصر و عوامل ہوتے ہیں جن کے سبب کسی کا سفرنامہ لائق توجہ ہوتا ہے۔ اس سرزمین خواجہ کے تئیں بھی انھوں نے حددرجہ عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ آپ بھی سنیے:
’’اس تاریخی سرزمین پر قدم رکھ کر دل و دماغ کی جو حالت ہوئی وہ کچھ میں ہی جانتا ہوں۔ ایسے لگا جیسے میں بھی اسی تاریخ کا حصہ بن کر حضور خواجہ میں موجود ہوں۔ ہاتھ جو دعاکو اٹھائے بس اٹھے ہی رہ گئے، آنکھیں بند ہوگئیں اور میں تصور میں کہاں سے کہاں جاپہنچا۔‘‘ (ص 23)
لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے خانقاہ کے نظام اور اس سے وابستہ خدّام کا ذکربڑے ہی افسوس ناک انداز میں کیا ہے۔ اصلاح کی غرض سے اس کا ذکر بے جا نہ ہوگا:
’’اسٹیشن پر ٹرین پہنچی تو ’خدام‘ زائرین کے استقبال کے لیے پہلے ہی موجود ہیں اور اب ایک ایک زائر کی باقاعدہ بولی دی جانے لگی ہے جس خادم نے زائر کو پانچ سو روپے میں خریدا ہے وہ پانچ سو روپے نکال کر خدام کی ٹولی کے حوالے کردیتا ہے اب زائر اس کے سپرد ہوگیا۔ وہ اُسے زیارت کرائے گا، اُسے دعائیں پڑھوائے گا۔ ان ساری خدمات کے عوض اُسے جو معاوضہ ملے گا اب یہ اُس کی قسمت ہے۔‘‘ (ص 23)
حالاں کہ کوثرنیازی صاحب نے بھارت کے مسلمانوں کی حالت پاکستان کی بہ نسبت بہتر بتائی ہے۔ اس سفرنامے میں جگہ جگہ یہاں کی جمہوریت اور افسروں کی سادگی اور سادہ مزاجی کی مدح سرائی کی ہے۔ انھوں نے ’پیش گفتار‘ میں ہی اپنے پاکستانی عوام کو مخاطب کرکے کہا ہے:
’’بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض حلقوں میں یہ ذہنیت کارفرما ہے کہ ہم اپنے سوا نہ کسی کو اچھا انسان سمجھتے ہیں نہ اچھا مسلمان۔ بھارت کے مسلمان جو تعداد میں ہم سے دوگنا ہیں ان کے بارے میں ہمارے تصورات تو کچھ اور بھی عجیب و غریب ہیں۔ مگر یہ سفرنامہ پڑھنے والے دیکھیں گے جو رفاہی، تعلیمی، دینی اور سماجی کام وہ کررہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ہمارے ہاں نظر نہیں آتا۔‘‘ (ص 9)
میرے خیال سے یہ تو کوثر نیازی صاحب کا حُسن ظن ہے۔ ہاں اتنی بات تو ضرور ہے کہ یہاں کے مسلمان مذہبی اور سماجی دونوں اعتبار سے نسبتاً بہتر ہیں۔ رفاہی اور تعلیمی کام مسلمانوں میں آندھرا اور مہاراشٹر میں زیادہ ہورہا ہے جس کا اندازہ اس سفرنامے کے صفحات سے بھی ہوجاتا ہے۔
خواجہ غریب نواز کے حوالے سے کوثر نیازی صاحب نے ایک بڑی خوبصورت منظرکشی کی ہے بلکہ خاکہ پیش کیا ہے، اسے فسانہ طرازی سے بھی موسوم کرسکتے ہیں جس کے کردار فرضی نہیں اصلی ہیں:
’’یہ دُھتکارے ہوئے، سماج کے ٹھکرائے ہوئے اچھوت ہیں جو خواجہ غریب نواز کے دسترخوان پر بیٹھے کھانا کھارہے ہیں، لیجیے یہ سلطان شہاب الدین محمدغوری کی سواری آن پہنچی وہ گھوڑے سے اتر کر آپ کے ہاتھ پر بوسہ دے رہے ہیں، اس شخص کو پہچانیے یہ تو سلطان شمس الدین التمش لگتا ہے، ارے یہ بھی آپ کی زلف گرہ گیر کا اسیر نکلا۔ اب اجمیر شہر کے اندر ایک قبر کا منظر چشم تخیل کے سامنے ہے۔ کسی انگریز کا یہ تاثر ٹھیک ہی تو تھا کہ ہندوستان پر ایک قبر حکومت کررہی ہے۔ یہ جلال الدین اکبر بادشاہ اکبر آباد سے پیدل اجمیر چلا آرہا ہے۔ درگاہ کے لیے ایک دیگ کلاں نذر کرتا ہے، یہ شاہ جہاں ہے جو یہاں ایک عالیشان مسجد تعمیر کرا رہا ہے، اس مجاہد کو پہچانو یہ شیرشاہ سوری ہے، کس طرح سراپا ادب و نیاز بنا خانقاہ میں داخل ہورہاہے، اور یہ کون ہے؟ یہ اورنگ زیب عالمگیر ہے سخت پابند شرع اور زاہد خشک مگر کئی بار حاضری دے چکا ہے اور یہ ان مہاراجوں کی قطاریں دیکھیے، یہ غیرمسلم والیان ریاست ہیں مگر خواجہ غریب نواز سے ان کو بھی عقیدت و ارادت ہے۔ اس لیے حصول برکت کی خاطر چلے آئے ہیں۔‘‘ (ص 22)
’دہلی کی چند محفلیں‘ کے عنوان سے کوثر نیازی صاحب نے حکیم عبدالحمید صاحب کے دولت کدے پر عشائیے کا ذکر کیا ہے جہاں ان کی ملاقات مسلم قوم کے منتخب عمائدین سے ہوئی جن میں سید شہاب الدین، مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی، امیر جماعت اسلامی ہند، سید حامد وائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی،بدرالدین طیب جی، جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ، پروفیسر اے ایم خسرو، مولانا سجاد حسین میرٹھی، سید اوصاف علی، خواجہ حسن ثانی نظامی وغیرہ۔ اس کے بعدپھر دوسرے دن غالب اکیڈمی میں کوثرنیازی صاحب کے اعزاز میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کی۔ انھوں نے یہ لکھا ہے کہ مجھے اعتراف کرنا چاہیے کہ میں نے آج تک کسی ادیب اور شاعر کی اتنی اچھی تقریر نہیں سنی تھی۔(ص 26)، اس کے بعد ہندوستان میں اردو کے حوالے سے اپنی ایک رائے بھی پیش کی ہے جس سے ایک تہذیبی تناظر بھی خلق ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’دہلی کے ممتاز اور مشہور ہندو اور مسلم شعراء نے اپنے کلام بلاغت نظام سے سامعین کو نوازا۔ میں یہ کلام سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جس ملک میں اردو کے ایسے ایسے خوش گو شاعر پائے جاتے ہوں وہاں سے اردو کو دیس نکالا کیسے دیا جاسکتا ہے۔ اردو زبان کی فلمیں اس کے علاوہ ہیں جو بھارت میں ہر دوسری زبان کی فلموں سے بڑھ کر کامیاب اور مقبول ہیں اور غزل کی گائیکی یہاں اتنی ہردلعزیز ہے کہ بھارتی ثقافت اس کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی۔‘‘ (ص 27)
اور آگے لکھتے ہیں:
’’دہلی کا شاید ہی کوئی ہندو گھرانہ ہو جس میں غلام علی اور مہدی حسن کی غزلوں کے کیسٹ پورے ذوق و شوق سے نہ سنے جاتے ہوں۔ اردو شاعری ہندی بولنے والوں میں بھی اتنی مقبول ہے کہ مشہور شعراکے دیوان ہندی رسم الخط میں شائع کیے گئے ہیں۔‘‘ (ص 27)
غزلیں تو خیر غلام علی اور مہدی حسن کی آواز کے ساتھ ساتھ جگجیت سنگھ، پنکج اُدھاس اور پیناز مسانی وغیرہ کی بھی سنی جاتی ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ آج مشہور اور اچھے شعرا کے ساتھ ساتھ برے شاعروں کی شاعری بھی ہندی رسم الخط میں خوب شائع ہورہی ہے۔
کوثرنیازی صاحب نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مجمع کی نکتہ نوازی اور نکتہ سنجی اور قدردانی و ہمت افزائی کا عالم یہ تھا کہ میں نے دس غزلیں سنا ڈالیں لیکن ابھی تک ’ہل من مزید‘ کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ بعد ازاں فلمی رسالے ’شمع‘ اور جناب یونس دہلوی کا ذکر ہے۔ پھر ان کے دوسرے رسالے ’کھلونا‘ اور ’بانو‘ کاحوالہ ملتا ہے۔ یونس دہلوی کے بھائی ادریس دہلوی، اہلیہ زینت دہلوی اور ان کی صاحبزادی سعدیہ دہلوی کی مہمان نوازی کو دل سے سراہا ہے۔ ان کے گھر کی دعوت کا ذکر و ہ اس طرح کرتے ہیں:
’’دسترخوان بچھا تو خالص دلی کے ذائقہ دار کھانے، کبابوں سے لے کر دال تک ہر چیز کا لطف آگیا اور اس لطف سے بھی بڑھ کر وہ خالص گھریلو ماحول مزا دے گیا جو اس پوری دعوت میں کارفرما تھا۔‘‘ (ص 29)
سفرنامے میں اہم مقامات، اہم شخصیات اور ضیافتوں کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اگر ضیافتوں کا ذکر تواتر کے ساتھ ہو تو صورتِ حال بوجھل ہوجاتی ہے۔ لگتا ہے جیسے حضرت ابن بطوطہ ضیافت ہی کے لیے تشریف لائے ہیں۔ اس سفرنامے میں ضیافتوں کا ذکر بہت ہوا ہے، کم ازکم بیس پچیس جگہ تو ہے ہی۔
کوثر نیازی صاحب چوں کہ عالم دین، صحافی اور سیاسی بصیرتوں سے بھرپور شخص ہیں اس لیے جگہ جگہ انھیں مختلف موضوعات پر تقریریں بھی کرنے کے مواقع ملے ہیں۔ انھیں JNU کے ’اسکول آف ایشین اسٹڈیز‘ میں گفتگو کے لیے دعوت دی گئی جس کا موضوع تھا ’’جنوب مشرقی ایشیا کے تناظر میں پاکستان کی صورت حال‘‘۔ ظاہر ہے کہ JNU میں گفتگو کرنا اور پھر سوالات کا سامنا کرنا آسان نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ تقریر کیا تھی اچھا خاص پُل تھی اس پر کوئی پون گھنٹہ مجھے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑا۔ بعد میں اتنا ہی وقت سوال و جواب کے لیے مخصوص تھا۔ ایسے ایسے سوالات کیے کہ چکر آگیا۔ انھیں پاکستان کی تاریخ، سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے بارے میں اتنا کچھ معلوم تھا کہ خود ہمارے ہاں کم لوگ اتنے باخبر ہوں گے۔‘‘ (ص 29)
یہاں انھوں نے ایک سوال کا ذکر کیا ہے کہ برصغیر کو ایک ساتھ آزادی ملی.. بھارت میں تو دنیا کی سب سے بڑی حکومت قائم ہے یہاں کئی عام انتخابات ہوچکے ہیں لیکن پاکستان میں تین مارشل لا لگ چکے ہیں۔ آخر میں وہ لکھتے ہیں:
’’کاش اپنا ملک ہوتا، سیاسی آزادی ہوتی تو میں کھُل کر اس موضوع پر بولتا۔ دوسرے ملک میں اپنے ہی گریبان کی دھجیاں کیسے بکھیرتا اور اپنے ہی سینے کے داغ کیا دکھاتا۔‘‘ (ص 30)
جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ کوثر نیازی صاحب نے لنچ اور ڈنر کا ذکر بہت کیا ہے۔ ایک جگہ انھوں نے پرانی دلی کی نہاری کا ذکر کرتے ہوئے لاہور کی نہاری سے تقابل کیا ہے۔ آدمی جب کہیں جاتا ہے تو اپنے یہاں کی اشیا اور وہاں کی اشیا کے درمیان مماثلتوں اور افتراقات کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ جامع مسجد کے قریب سے اگر اندرون شہر داخل ہوجاؤ تو یوں لگتا ہے جیسے موچی دروازہ اور لوہاری دروازے میں پھر رہے ہیں، نہاری میں بھی مشابہت نظر آئی تو بے اختیار زبان سے نکل گیا:
’’دلّی میں ہے لاہور تو لاہور میں دلّی‘‘
اس موضوع کے علاوہ کوثرنیازی صاحب نے ہندوستان کی صحافت کی تعریف کی ہے۔ انگریزی کے ٹائمز آف انڈیا کے علاوہ انگریزی ہفت روزوں اور ماہناموں کی دل کھول کر تعریف کی ہے، اور بھار ت میں پریس کی آزادی کو بہت سراہا ہے۔ بعد ازاں اہم شخصیات میں نرسمہا راؤ اور آئی کے گجرال صاحب اور سید شہاب الدین کا بھی اچھے انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔ بھارت کے جمہوری نظام کو بھی تعریفی کلمات سے نوازا گیا ہے اور یہاں کی فوج کے حوالے سے دل چسپ تجزیہ ملتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ایک تو بھارتی فوج کا مزاج ایسا ہے کہ اُسے سیاست کی چاٹ نہیں پڑی دوسرے سیاست دانوں نے اُسے سیاست میں گھسیٹنے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ تیسرے بھارت اتنا بڑا ملک کہ وہاں فوجی حکومت کا میاب بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘ (ص 39)
کوثرنیازی صاحب نے مختلف سیاسی جماعتوں، فسادات کے ہونے یا نہ ہونے کے اسباب و علل پر بھی روشنی ڈالی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دن بھارت کی تاریخ میں مسلمانوں کے لیے تاریک ترین دن ہوگا جب یہاں کوئی متعصب مذہبی جماعت برسراقتدار آگئی۔ (ص 41)
سکھ ریاست کے خواب پر بھی کوثرنیازی صاحب نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس سفرنامے کا ایک باب ’نگاہ بازگشت‘ ہے جس میں بقول مصنف صحافیانہ دروں بینی کے تحت انھوں نے اپنے مشاہدات کھل کر پیش کیے ہیں۔ یہاں ہندوستان میں غربت و افلاس کے سبب فٹ پاتھ پر اور خصوصاً بمبئی کے فٹ پاتھوں پرزندگی گزارنے والوں، قحبہ خانوں وغیرہ کا ذکر کیا ہے اور اس پر ایک ترچھی نظر ڈالی ہے۔ بمبئی کا نقشہ دیکھیے:
’’جن لوگوں کو بمبئی جانے کا اتفاق ہوا ہے انھو ں نے دیکھا ہوگا کہ یہاں ہزاروں نہیں لاکھوں شہری فٹ پاتھوں یا زیادہ سے زیادہ جھونپڑیوں میں زندگی کے دن گزارتے اور یہیں پر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رینگ کر ختم ہوجاتے ہیں۔ فٹ پاتھ ریستوراں دنیا بھر میں شاید اسی شہر کی ایجادہے۔‘‘ (ص 49)
اور آگے رقم طراز ہیں:
’’فاقے سے بچنے کے لیے عصمت فروشی عام ہے۔ بمبئی میں یہ حیا سوز کاروبار جس بازار میں ہوتا ہے وہاں پانچ ہزار عورتیں یہ دھندا کرتی ہیں۔ شام کو آپ اس بازار سے گزریں تو ایسا لگے گا جیسے آپ مویشیوں کی منڈی میں پہنچ گئے ہیں… بنت حوا کی یہ تذلیل بھارت کی فاقہ زدگی کا منہ بولتا اشتہار ہے۔‘‘ (ص 49,50)
ہندوستان ہی کیا، پوری دنیا میں عصمت فروشی کا بازار ہے۔ البتہ کسی خاص علاقہ کے بجائے اس کے لیے الگ الگ مختلف ناموں سے فرضی دکانیں ہیں اور حیرت تو اس پر ہے کہ یہاں فاقہ زدگی کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ کوثرنیازی صاحب کی یہ نگاہ بازگشت غیرضروری ہے یا یوں کہہ لیں کہ تجزیہ درست نہیں۔
کوثرنیازی کی نظر نے دہلی اور بمبئی کی سڑکوں پر دیسی گاڑیاں دیکھی ہیں اور اسی بنیاد پر ہندوستانی معاشرے میں سادگی عام ہونے کی بات کی ہے۔ یہاں کے افسران کی سادگی کی مدح سرائی کی ہے۔ حالاں کہ آج کے تناظر میں افسروں کے گھروں پر چھاپے ماری کی خبریں پڑھ کر کوثرنیازی صاحب کا نظریہ مسترد ہوجاتا ہے۔ انھو ںنے البتہ یہاں کے مسلمانوں کے حوالے سے اپنا جو Perception پیش کیا ہے، وہ درست ہے:
’’بھارتی مسلمان مشکل حالات میں بھی ہم پاکستانی مسلمانوں سے کہیں بہتر مسلمان ہیں۔ ان میں اپنے مذہب اور ثقافت سے جو تعلق اور لگاؤ ہے وہ ہم میں ناپید ہے۔ نامساعد حالات نے انھیں اپنے عقیدے اور اپنے رب سے زیادہ قریب کردیا ہے۔ وہ ہم سے زیادہ صوم و صلوٰۃ کے پابند اور پیر وشریعت ہیں۔‘‘ (ص 51)
کوثرنیازی صاحب نے بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں کی حالت کا صحیح تجزیہ کیا ہے۔ بھارت اتنی بڑی آبادی اور کثیر لسانی اور کثیرالمذاہب اور کثیر ثقافتی ملک ہونے کے بعد بھی نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔ پاکستان میں تو مسجد، عیدگاہ اور جنازہ گاہ تک محفوظ نہیں۔ مرنے اور مارنے والے دونوں مسلمان۔ اس حوالے سے مزید گفتگو کی یہاں گنجائش نہیں۔
کوثرنیازی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کے اندرونی تنازعات کا بھی ذکر کیا ہے اور شیعہ سنی تنازعات کا بھی۔
کوثرنیازی صاحب نے انجمن اسلام بمبئی کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے جہاں انھوں نے لکچر دیا تھا۔ انجمن کی دیگر تعلیمی سرگرمیوں کا بھی شرح و بسط کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ وہی انجمن اسلام ہے جس کے طالب علم قائد اعظم محمد علی جناح بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے عشائیے کا اور دوسرے احباب اور عمائدین شہر سے ملنے کا ذکر کیا ہے جن میں ڈاکٹر اسحاق جم خانہ والا، ڈاکٹر راہی معصوم رضا، علی سردار جعفری، ظ۔ انصاری، ہارون رشید علیگ، دلیپ کمار، نوشاد، مجروح سلطانپوری وغیرہ اور چند اہم علماء کرام کے نام شامل ہیں۔ کئی اور بھی لکچرز دیے اور انگریزی اور اردو اخبارات میں انٹرویوشائع ہوئے۔
جناب کوثرنیازی نے ’لکھنؤ خوابوں کی سرزمین‘ پر کھل کر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ لکھنؤ میں ان کا قیام ہوٹل ’کلارک اودھ‘ میں تھا جو گومتی ندی کے کنارے واقع ہے۔ انھوں نے اس کے مینو کارڈ کی تعریف کی ہے جو گرچہ رومن میں تحریر کردہ تھا مگر اس میں خالص لکھنوی اردو زبان استعمال ہوئی تھی:
’’مینو کارڈ کا نام ہی دیکھ لیجیے۔ ’دستر خوانِ حضرت محل‘، مشروبات کا عنوان ہے، خوش آمدید اور پھر ابتدائی لوازمات جنھیں انگریزی میں ’اپیٹائزر‘ کہا جاتا ہے انھیں پیشِ الفت‘ کہا گیا ہے۔ اب ’سی فوڈ‘ کی باری ہے، یہ ’نزاکتِ فلک‘ ہے۔ آگے بڑھتے جائیے…لکھنوی نعمتیں… ’حضور کے لیے‘، نفاست کی انتہا، دیگ کی مہک، شریک نوالہ (یعنی تندوری روٹی، نان پر اٹھا وغیرہ)، ’نذرانہ‘ اور میٹھے کے لیے ’الوداع‘ اور آخر میں قہوہ چائے کافی یا کوئی سرد مشروب ’آب تسکین‘… (ص 68)
کوثرنیازی صاحب نے وہاں اُس وقت کے چیف منسٹر جناب این ڈی تیواری کے جشن سالگرہ میں بھی شرکت کی اورتقریر بھی کی۔ وہاں انھوں نے این ڈی تیواری کو بطور تحفہ کے ایک بٹن پیش کیا جس پر لفظ ’اللہ‘ کندہ تھا۔ پھر تیواری صاحب نے اپنی شاعری بھی سنائی۔ دواشعار لکھے بھی ہیں۔ ایک شعر سنیے:
باغ سے صرصر کاجھونکا آشیانہ لے گیا
عندلیبوں کو قفس میں آب و دانہ لے گیا
لکھنؤ میں ماہنامہ ’الفرقان‘ کے مدیر مولانا منظور نعمانی سے ملاقات کا ذکر بھی بہت دل چسپ انداز میں کیا ہے۔ نعمانی صاحب بعد میں جماعت اسلامی سے الگ ہوکر تبلیغی جماعت کے ذریعہ خدمت دین میں مصروف ہوگئے تھے۔ کوثرنیازی صاحب کا اسلوب اور درد دونوں محسوس کرنے کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’لکھنؤ کے ایک پرانے محلے کے معمولی سے مکان میں حضرت مولانا نعمانی کا قیام ہے، وہیں باہر ایک کمرہ دفتر ’الفرقان‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ناصاف سی گلی میں بدرو بہہ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے فضا میں بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے میں عالم اسلام کے اس بَطَلِ جلیل کی رہائش دیکھ کر جی بھر آیا۔‘‘ (ص 72)
اس کے بعد مولانا کی کتاب ’معارف الحدیث‘ کا اور ان کی مہمان نوازی کا ذکر بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔ پھر اپنے اعزاز میں ادبی تنظیم ’شہر ادب‘ کے زیراہتمام مشاعرے کا بیان ہے۔ اس کے بعد اردو کے حق میں جناب حیات اللہ انصاری کی دستخط والی مہم کا ذکر آگیا ہے۔ وہاں لکھنؤ میں گورنر جناب عثمان عارف، جگن ناتھ آزاد اور اردو انگریزی اخباروں کے مدیروں سے ان کی ملاقاتیں رہیں۔ سب سے دل چسپ اور دلآویز ملاقات حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی سے تھی۔ ان کے حوالے سے کوثرنیازی صاحب نے مولانا کے سفر پاکستان اور وہاں خطبۂ جمعہ اور پھر ان کی کتاب روائع اقبال (نقوش اقبال)، دعوت و عزیمت کا ذکر آیا ہے۔ بعدہٗ مولانا نے کس طرح انھیں ندوہ کی سیر کرائی، اس کا بیان ہے۔ آخر میں لکھنوی چکن آرٹ پر اس باب کو ختم کیا ہے۔ یعنی یہاں کی ثقافتی جہت کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔
دیوہ شریف، کلکتہ، حیدر آباد، سلطان پور کی درگاہ اور پھر دہلی میں سو گھنٹے کے عنوان سے ابواب ہیں۔
سلطان ٹیپو پر بھی کوثرنیازی صاحب نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کے جدامجد شیخ ولی محمد جو مکہ سے ہندوستان وارد ہوئے تھے، سے لے کر ٹیپو تک کا شجرہ اور پھر ٹیپو نام کی وجہ تسمیہ اور پھر غدار وطن میر صادق کا ذکرکیا ہے۔ علامہ اقبال کا شعر بھی متن کا حصہ ہے۔ کوثرنیازی صاحب کا اسلوب نگارش رواں اور پراثر ہے۔ میسور جاتے ہوئے انھوں نے جو تاثر پیش کیا ہے، آپ بھی ملاحظہ کیجیے:
’’یوں سمجھئے کہ آپ میسور کی طرف جارہے ہیں جنت ارضی میں گلگشت کررہے ہیں۔ ایک انچ جگہ نہ ہوگی جو سبزے اور پھولوں سے خالی ہو، خوبصورت گھنے درختوں کی چھاؤں دل میں ٹھنڈک ڈالتی چلی جاتی ہے۔ جگہ جگہ آب رواں موجیں مار رہا ہے۔ ناریل کے درخت جنتِ نگاہ کا بھی سامان ہیں اور کام و دہن کی تواضع کا قدرتی دسترخوان بھی۔‘‘ (ص 119)
اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقتباسات پیش کیے جاسکتے ہیں جن سے کوثرنیازی صاحب کی انشاپردازی اور رواں نثر نگاری پر قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کرناٹک کی الامین سوسائٹی کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی تعریف کی گئی ہے اور پاکستانی معاشرے کو تقریباً کوسا گیا ہے۔ سلطان ٹیپو کے مزار پر علامہ اقبال، حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب اور مولانا ابوالحسن ندوی صاحب کے مراقبے کا ذکر بھی خلوص اور عقیدت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
اس سفرنامے کا اختتام وہ یوں کرتے ہیں:
دلی میں سو گھنٹے گزار کر بھی یوں لگا جیسے فقط سو لمحے اور سو ثانیے گزرے ہوں۔ بہت کچھ دیکھا مگر کچھ بھی نہ دیکھا، ہاں یہ تاثر ضرور لے کر لوٹا کہ گو یہ بہت اجڑی ہے مگر دلی میں اب بھی بہت سے دل والے بستے ہیں۔ رہے اس کی خاکِ پاک میں آرام فرما اور اہل کمال، تو ان کے بارے میں تو مولانا حالی فرما ہی چکے ہیں:
چپّے چپّے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہہِ خاک
دفن ہوگا کہیں اتنا نہ خزانہ ہرگز
(سہ روزہ بین الاقوامی سمینار بہ عنوان: ’سفرناموں میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی عکاسی‘ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، 12تا 14 مارچ 2012)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

