Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
روبرو (انٹرویو)

نوعمر کیلی گرافر حسرت جہاں سے ایک ملاقات – علیزے نجف

by adbimiras جون 2, 2022
by adbimiras جون 2, 2022 0 comment

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ابتدائے آفرینش سے ہی اپنی فکری صلاحیتوں سے علوم و فنون کا جہاں دریافت کرتی رہی ہے کبھی اس ترقی کی رفتار بہت سست رہی تو کبھی متوازن اور کبھی برق رفتار رہی ہے۔ قدرت نے انسان کی فطرت میں امکانات کی ایک دنیا آباد کر رکھی ہے وہ اپنے فکر و تعمل سے اسے کارہائے نمایاں میں بدلنے کا ہنر رکھتا ہے۔ شعور جو کہ انسان کا امتیازی وصف ہے دوسری مخلوقات میں اگر شعور کے انکشاف ہوتا بھی ہے تو وہ ایک جزوی دائرے میں ہی محدود ہوتا ہے لیکن انسان کو میری دانست کے مطابق بدرجہء اتم ہی ملا ہے۔
انسان نے اب تک جن بےشمار فنون کو پہچان عطا کی ہے ان میں سے ایک فن فنِ خطاطی بھی ہے ۔ ہندوستان میں فن خطاطی کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے بھارت میں رہنے والوں کے آباء و اجداد کسی نہ کسی زمانے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے جب وہ یہاں آئے تو ان کے ساتھ ان کے مختلف علوم و فنون بھی ہندوستانی تہذیب کا حصہ بن گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کثیر تہذیب کا حامل ملک کہلاتا ہے ۔ خطاطی بھی ایک ایسا ہی فن ہے جو اگرچہ باہر سے آیا لیکن اس کو پروان چڑھانے میں ہندوستانیوں کا ایک تاریخی کردار رہا ہے لکھنے والے لکھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا واحد فن تھا جس کی ابتدا انتہائی شاندار طریقے سے ہوئی نتیجتاً یہ فن خوب پروان بھی چڑھا مغلیہ دور حکومت کے باقی رہ جانے باقیات و عجائبات میں اس کے نقوش آج بھی کندہ نظر آتے ہیں  خطاطی کے یہ سارے نوادرات ہماری تاریخ کے قیمتی سرمائے ہیں جن کی حفاظت کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ افسوس کہ موجودہ وقت میں اس کو وہ اہمیت حاصل نہیں جس کا کہ یہ فن مستحق تھا بدلتے دور کے تقاضے اور ٹکنالوجی کی چکاچوند میں اس کی روشنی ماند پڑتی جا رہی ہے خیر ہر شعبے میں نشیب و فراز آتے ہیں خطاطی کے فن کو اس سے مستثنیٰ خیال نہیں کیا جا سکتا ابھی بھی اگر اس فن کو پروان چڑھانے کی جد و جہد کی جائے تو اس کی عظمت کو بحال کیا جا سکتا ہے ۔
اس اہمیت کے پیش نظر میں نے ایک ایسی ہستی انٹرویو لیا جو کہ خطاطی کے میدان میں انتہائی کم عمری میں ہی اپنی جداگانہ شناخت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں ملکی و بین الاقوامی سطح پہ ان کے فن کی نمائش بھی ہوئی ہے اور ان کو جو پزیرائی اور اعزازی انعامات ملے ہیں وہ بہت کم ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے وہ فن مصوری اور خطاطی سے اس خوبصورتی کے ساتھ اپنے شہ پارے کی تخلیق کرتی ہیں کہ دل داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ یوں تو ان کا نام حسرت جہاں ہے سوشل میڈیا کی دنیا میں لوگ انھیں حسرت جہاں آرٹ کے نام سے جانتے ہیں  ان کے عزائم کافی بلند ہیں فن خطاطی کو فروغ دینے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے ایسے لوگ ہماری قوم کا سرمایہ ہیں ان کے خیالات و رجحانات کو جاننا یقیناً ہم سب کے لئے خوشی کا باعث ہوگا آئیے ان سے ملتے ہیں اور آپ کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کی ترجمانی کرنے کی میں حتی الامکان ضرور کوشش کروں گی ۔اور ان کے ہی لفظوں کی روشنی میں انھیں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علیزےنجف: آپ ہمیں اپنے آپ سے اپنے لفظوں میں متعارف کروائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کا تعلق کس خطے سے ہے ؟

حسرت جہاں: میں حسرت جہاں ہوں، عام زندگی میں بھی اسی نام سے جانی جاتی ہوں البتہ سوشل میڈیا پر مجھے حسرت جہاں آرٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کیونکہ اس نام سے میرا شوق اور میرا پیشہ دونوں ظاہر ہوتے ہیں۔

میرا تعلق صوبہ بہار کے ضلع چھپرا کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ میری ابتدائی تعلیم بھی اسی گاؤں میں ہوئی اور یہی شعور کی آنکھیں بھی کھولیں۔

علیزےنجف: آپ کی تعلیم اب تک کہاں تک پہنچی اور حصول تعلیم کی اہمیت کے تئیں آپ کے ذاتی خیالات کیا ہیں اور اس خیال کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
۔

حسرت جہاں : میں نے اسی سال سائنس (Zoology) میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ اردو سے لگاؤ کی وجہ سے فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ اردو سے گریجویشن بھی جاری ہے۔

تعلیم کی اہمیت میری نظر میں بہت زیادہ ہے۔ جب تعلیم کی بات آتی ہے تو لوگ مردوں کی تعلیم کی بات کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں پر میرے ذہن میں ہمیشہ سے یہ بات چلتی رہی ہے کہ ہمارے ملک  میں مسلم خواتین کو تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے، خواہ وہ عام مسائل کو سمجھنا ہو، دینی امور کو جاننا ہو، بچوں کی تعلیم و تربیت کرنی ہو، حلال و حرام سے واقف ہونا ہو،  حتی کہ گھر گرہستی کرنی ہو، تمام امور میں ایک تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ خاتون ہی بہتر طریقہ سے اپنی ذمہ داری ادا کرسکتی ہے۔

ایک عورت اگر خود تعلیم یافتہ نہ ہو تو وہ اپنے بچّوں کو کیا سکھائے گی؟

مجھے ایسا لگتا ہے کہ مردوں سے بھی زیادہ علم کی ضرورت خواتین کو ہوتی ہے، علم کے ذریعے نہ صرف ہم اپنا کردار اور اپنی شخصیت بدل سکتے ہیں، بلکہ اپنے حالات بھی بدلنے کی قابلیت رکھتے ہیں، اور تعلیم روزگار کا بھی ذریعہ ہو سکتا ہے، جو کہ خواتین کے برے وقت میں ساتھ دیتا ہے۔ میں تو یہاں تک کہتی ہوں کہ خاتونِ خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم کا حصول بھی خواتین کو جاری رکھنا چاہیے اور ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

علیزےنجف:  آپ ایک خطاط یعنی کیلی گرافر ہیں زندگی کے کس موڑ پر آ کر آپ کو محسوس ہوا کہ آپ میں خطاطی کی صلاحیت ہے اور آپ نے اسے کیسے پروان چڑھایا؟

حسرت جہاں : جہاں تک پینٹنگ اور کیلیگرافی میں میری دلچسپی کا تعلق ہے، اس فن سے میری دلچسپی بچپن سے رہی  ہے اور بچپن سے ہی کچھ نہ کچھ بنانے کی اپنی سی کوشش کرتی رہتی تھی، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا میری دلچسپی بڑھتی چلی گئی، سطحی طور پر جب میں پینٹنگ کرتی تھی تو لوگ بہت پسند کرتے تھے اور کُچھ تو باقاعدہ بنوا کر لے جاتے تھے۔ پینٹنگ سے اسی دلچسپی کے نتیجہ میں اسکول میں بھی پینٹنگ کے مسابقہ میں ہمیشہ ایوارڈ حاصل کرتی رہی، جس سے میرے حوصلوں کو پرواز عطا ہوئی اور اس فن سے لگاؤ بڑھتا چلا گیا۔ اور برسوں کی محنت کے بعد اس لائق ہوسکی کہ اپنا فن دنیا کے سامنے پیش کر سکوں۔

علیزےنجف: ۔آپ کی فیملی میں آپ سے پہلے کیا کوئی فن خطاطی سے جڑا تھا یا اس کی ابتدا آپ ہی سے ہوئی ہے اور آپ کی اس صلاحیت کو نکھارنے میں آپ کی فیملی نے کیا کردار ادا کیا ہے ؟

حسرت جہاں : -میری فیملی میں کوئی خطاطی تو نہی کرتا لیکن والد صاحب کی بہترین رائٹنگ نے بہت متاثر کیا، جو کسی کیلیگرافی سے کم نہیں ہے۔

وہ اپنے اسکول کے دور میں ایسے ہی بانس کے قلم کی مدد سے لکھا کرتے تھے،اُن کی ایک پرانی ڈائری ہوا کرتی تھی جس کو میں بچپن میں جب بھی پلٹتی تو پہلے صفحے پر بنے خوبصورت بیل بوٹوں کے ساتھ اُن کا نام لکھا ہوتا جو کہ والد صاحب کے ایک دوست نے لکھا تھا ، تب مجھے پہلی بار اس بات کا اندازہ ہوا کہ کوئی ہاتھ سے بھی اس قدر اچھا لکھ سکتا ہے، میں بہت حیرت زدہ تھی، یہاں تک کہ پرنٹ پیپر کو بھی بڑے غور سے دیکھا کرتی اور پھر یہیں سے خطاطی میں میری دلچسپی شروع ہوئی، میری بڑی بہن چونکہ پینٹنگ کرتی تھیں تو مجھے اس سے بہت فائدہ ملا اور پھر وقت کے ساتھ میں نے خطاطی کے ساتھ ہمیشہ پینٹنگ کو رکھا ، اور پینٹنگ کے ذریعے ہی خطاطی کو پیش کیا۔۔

میری فیملی اس کام میں میرے لیے بہت معاون ثابت ہوئی ہے، خاص طور سے میرے والد صاحب، میری بڑی بہن اور میرے چھوٹے بھائی نے ہمیشہ غیر معمولی تعاون کیا ہے۔

علیزےنجف:  کہتے ہیں زندگی میں رنگ زندگی کو خوبصورت بنادیتے ہیں بالکل اسی طرح پینٹنگ کا آرٹ ہے جب ایک مصور رنگوں کو چھوتا ہے تو ایک جذب کے عالم میں اس کے ہاتھ خود بخود رنگوں سے کھیلتے چلے جاتے ہیں  جب آپ اپنے کینوس میں رنگ بھرتی ہیں تو آپ کے  احساسات کیا ہوتے ہیں ؟

حسرت جہاں:  میرے احساسات آرٹ اور کیلیگرافی کی ایک چھوٹی سی دنیا سے جڑے ہیں جہاں ہر طرف کتابیں ، کاغذ اور کینوس بکھرے پڑے ہیں، جہاں ہر رنگ کائنات کے رنگوں سے منسلک ہے، جو مجھے کسی اور دنیا کی سیر کراتا ہے، کائنات میں بکھرے رنگوں کا رشتہ میرے رنگ سے ہے۔

اور  جب میرے کمرہ کی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوائیں گزرتی ہیں تو گلدان میں رکھے تازہ پھول میری دنیا کو معطر کرتے ہیں، پینٹنگ اور کیلیگرافی کی میری ایک چھوٹی سی دنیا ہے

جو ایک خواب سجائے

اپنا عکس بناتی ہے،

خواب دکھاتی ہے،

اور کینوس پر دھڑکتی رہتی ہے۔ جب بھی میں پینٹنگ کرتی ہوں تو مجھے کُچھ خبر نہیں ہوتی کہ میرے آس پاس کیا ہو رہا ہے، میں پوری طرح دنیا سے کٹ کر کینوس و رنگ کی انوکھی دنیا میں داخل ہو جاتی ہوں، اور جب بھی میں کینوس پر رنگ بکھیرتی ہوں تو رنگ اور میں اس بات کو اچھے سے سمجھ پاتے ہیں کہ آخر وہ بن کیا سکتا ہے اور میں کیا بنانا چاہتی ہوں، اُس کے صحیح تال میل سے نیا کریشن تیار ہوتا ہے۔ جو مجھے خوشی دیتا ہے، کبھی کبھی تو بنانے کے بعد مجھے خود حیرت ہوتی ہے اور یقین نہی ہوتا کہ یہ میں نے بنایا ہے کبھی کبھی آپ کے ہاتھ اور رنگ سے زیادہ وفاداری برش نبھا جاتے ہیں،

اور میرے دماغ میں چلنے والے باتوں کو ایک نیا رنگ ملتا ہے جس کے ساتھ مجھے کیلیگرافی کرنا پسند ہے، ساتھ جب بھی میں قدرتی مناظر کو کینوس پر اتارتی  ہوں اور اللہ کی بنائے ہوئے قدرتی مناظر کو دیکھتی ہوں تو اللہ کے بنائے ہوئے لاتعداد رنگ و روپ پر ہر سانس سے رب کا شکر ادا ہوتا ہے اور دل اللہ کی خلاقیت کا نغمہ گانے لگتا ہے۔اور اس طرح میری پینٹنگ اور خطاطی میرے احساس کو ہمیشہ ایک نیا جذبہ دیتی ہے۔

علیزےنجف:  موجودہ وقت میں کیلی گرافی کے تئیں کیا لوگوں کے رجحانات تسلی بخش ہیں یا آپ اس طرف سے عدم اطمینان کا شکار ہیں آپ کے خیال میں لوگوں کو اس طرف کیسے راغب کیا جا سکتا ہے تاکہ اس فن کی پہچان اور اس کا وجود باقی رہے؟

حسرت جہاں: موجودہ دور میں لوگوں کا رجحان کیلیگرافی کی طرف بہُت کم ہے، خاص کر نوجوان اس فن سے زیادہ دور معلوم ہوتے ہیں،

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دلچسپی بڑھ بھی رہی ہے، وہی لوگوں کو اب بھی عربی کیلیگرافی کی اہمیت و سمجھ کم ہے، بہت سارے لوگو ایسے ملتے ہیں جو اس کے ہدیہ کوڑیوں کے بھاؤ لگاتے ہیں، اُنہیں اس فن کے بارے میں علم ہی نہیں ہے کہ اسے سیکھنے میں کتنے سال اور کتنا صبر  درکار ہے،

صرف قلم گھما دینا کیلیگرافی نہیں ہے، اس میں ہر خط کو بڑے دھیان سے بنانا پڑتا ہے اور ایک دیکھنے میں آسان اور خوبصورت نام ڈیزائن کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ لوگ اس فن کو سیکھنا تو چاہتے ہیں لیکن کیلیگرافی سیکھنے کے لئے جس صبر اور استقلال کی ضرورت ہوتی ہے اس کی کمی کی وجہ سے کچھ دنوں میں اکتا کر چھوڑ دیتے ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں کیلیگرافی کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے، اس کے قدردان بہت کم ہیں۔ اور ایسا  اس فن سے لاعلمی کی وجہ سے ہے۔

علیزےنجف:  یوں تو میں جانتی ہوں آپ نے انتہائی کم عمری میں اپنے فن کو اس قدر نکھارا کہ ملکی اور عالمی سطح پہ اس کی نمائش کی گئی اور آپ کی صلاحیت کا اعتراف بھی کیا گیا میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے کارہائے نمایاں کی تفصیل میرے قارئین کو ذرا تفصیل سے بتائیں اور یہ کہ اب تک آپ کے آرٹ کی نمائش کہاں کہاں ہو چکی ہے اور لوگوں کی طرف سے آپ کو کیسا رسپانس ملا؟

حسرت جہاں : میں نے منی کرنیکا آرٹ گیلری کی جانب سے منعقد کیے گئے آرٹ نمائش میں اپنا فن پیش کیا، اور وہاں سے ایوارڈ حاصل کیا۔ پھر ایکم کلا سنگھ پنجاب کے آرٹ نمائش میں اپنی تخلیق پیش کی اور وہاں سے بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انٹرنیشل اسلامک آرٹ ورچول ایگزیبیشن انڈونیشیا میں شرکت کی اور یہاں سے بھی سرٹیفکیٹ آف آنر سے نوازا گیا۔ اس رمضان میں "رمضان کریم نیشنل کیلیگرافی ایگزیبیشن” میں اپنی کیلیگرافی پیش کی۔ اور ابھی حال ہی میں چار ممالک کی مشترکہ آرٹ ورک کیلیگرافی میں شرکت کے لیے "کلچرل ٹو انڈیا” کی جانب سے مجھ ناچیز کو اُس نمائش میں اپنا فن پیش کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

عراق،ہندوستان، مصر اور مغرب کے زیرِ ادارت منعقد ہونے والے اسمائے حسنیٰ کی کتابت و خطاطی کے مقابلے میں مجھے زرین ستارے کے اعزاز و سند سے نوازا گیا۔

لوگوں نے بہت محبت اور دعاؤں سے نوازا، سچ کہوں تو جتنے قدرداں مجھے میسر ہوئے ہیں انہی کی وجہ سے میں یہاں ہوں۔

اس کا سارا کریڈٹ فن کو پسند کرنے والوں  کو جاتا ہے، جنہوں نے ہمیشہ مجھے اپنی دعاؤں مین یاد رکھا اور قدم قدم پر تنقید و تعریف سے میرے حوصلے کو بلند کیا۔

علیزےنجف:  کیا خطاطی کے لئے خدا داد صلاحیت کا ہونا ضروری ہے کوئی انسان محض اپنی کوشش ،مشق اور خواہش کے ذریعے اسے سیکھ سکتا ہے؟

حسرت جہاں:  جی! کافی حد تک خداداد صلاحیت اور خداداد دلچسپی ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ جب فطری طور پر دلچپسی نہیں ہوگی اور فطری طور پر کام کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی تو کوئی ایسے اس خطاطی اور پینٹنگ کے میدان میں قدم رکھے گا۔

پینٹنگ اور خطاطی کی مشق میں وہی خدا کی طرف سے عطا کیا ہوا پینٹنگ کا مزاج مددگار ہوتا ہے، جو مستقل مشق کرنے پر ابھارتا ہے۔ ورنہ لوگ تو دوسروں کو دیکھ کر بھی شروع کرتے ہیں اور فطری مزاج نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ہی دنوں میں اس کام سے اکتا جاتے ہیں۔

علیزےنجف:  اس فن کو ہندوستان میں مزید فروغ دینے کے لئے کیا آپ نے کوئ لائحہء عمل بنایا ہے اور مستقبل کے لئے آپ نے کیا اہداف طئے کر رکھے ہیں؟

حسرت جہاں: اِس فن پر مسلسل کام جاری ہے،

کیلیگرافی کو میں نے پینٹنگ کے ساتھ جوڑا ہے اور اس کو مزید کریشن دینے کی مشق جاری ہے، تاکہ لوگوں کا انٹرسٹ کیلیگرافی کی طرف بڑھ سکے، لوگ سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے دیواروں کو بھی اللہ کے کلام سے سجا سکیں، مشتقبل میں خطاطی و کیلیگرافی سکھانے کے لیے ورک شاپ و اپنا ادارہ کھولنے کا ارادہ ہے ان شاءاللہ۔ میں آپ کے قارئین سے درخواست کروں گی کہ آسانی کے لیے دعا فرمائیں۔

علیزےنجف:  خطاطی کے علاؤہ آپ کے اور کیا مشاغل ہیں اور اگر خطاطی کے ساتھ ساتھ کسی اور شعبے میں بھی جانا پڑے تو آپ کس شعبے کا انتخاب کریں گی اور کیوں؟

حسرت جہاں: آرٹ اور کیلیگرافی کے علاوہ میری دلچسپی بس کتابوں سے ہے، اردو ادب، تاریخ، اسلامی اور دیگر فنون کی کتابیں پڑھنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے ساتھ ساتھ مجھے پڑھانا بھی پسند ہے۔ میں نے بچوں پر دو سال ریسرچ کیا ہے اور اُن کی نفسیات کا مطالعہ کیا ہے۔ اگر مجھے آرٹ کے ساتھ ساتھ کسی اور شعبے میں کام کرنا پڑا تو میں پڑھانا پسند کروں گی، پڑھانا یعنی علم سے ہمیشہ جڑے رہنا نئی سوچ و فکر کے ساتھ نئی جنیریشن کی سوچ سے سیکھنا اور انہیں سکھانا مجھے بہت پسند ہے۔

علیزےنجف:  آپ کا ادبی ذوق بھی کافی اچھا ہے آپ فرصت کے اوقات میں کن ادیبوں اور شاعروں کو پڑھنا پسند کرتی ہیں اور ان کی کس خوبی سے آپ سب سے زیادہ متاثر ہیں؟

حسرت جہاں: مجھے کلاسیکل شاعری پسند ہے

خاص کر

مرزا غالب

بشیر بدر

جگر مراد آبادی

علامہ اقبال

اور  بھی دیگر نام ہیں جن کی شاعری مجھے پسند ہیں

ہر ایک کے اپنے مخلتف و مخصوص میدان فکر و عمل ہیں جن کی وجہ سے میں اُن کے انداز و سوچ سے جڑ جاتی ہوں،

مثلاً غالب کے یہاں فلسفہ حیات کو الفاظ دیے گئے ہیں

اقبال کے یہاں فکرِ ملت و فلسفہء مولانا روم ملتا ہے

جگر کے یہاں عشق کی کیفیات کا تذکرہ ملتا ہے

جب کہ آج کے مسائل خواہ وہ سیاسی ہوں یا محبتوں کے، ان کو بشیر بدر نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے

علیزےنجف:  زندگی کے تئیں آپ کا کیا نظریہ ہے اور آپ زندگی کو کس طرح سے  گزارنے  پر یقین رکھتی ہیں کیا اس کے لئے اصول کو ضروری سمجھتی ہیں؟

علیزےنجف:  زندگی سادگی کا نام ہے، ہر خوشی  و غم میں چہرے پر مسکراہٹ سجا کر  رکھنا جینے کا نام ہے، زندگی میں غم و خوشی تو آتی ہی رہیں گی، لیکن اپنی ذات کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہیے "اگر زندہ ہیں تو زندہ نظر آنا چاہیے”

حسرت جہاں: میں نے زندگی سے جو کچھ سیکھا ہے اگر ایک لائن میں کہوں تو خوش رہنا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو کوئی بڑا سبب درکار نہی ہے،

آپ ٹھنڈی ہوا، اُڑتے پرندے ڈیسک پر رکھی نئی کتاب، ایک کپ چائے اور اللہ کی بنائی قدرتی مناظر  سے بھی زندگی کا لطف لے سکتے ہیں، ہم انتظار کرتے ہیں کسی بڑی خواہش کے پورے ہونے کا، اور جب وہ خواہش پوری ہو جاتی ہے تو  جتنی خوشی کی اُمید ہم کرتے ہیں وہ نہیں ہوتا، اصل میں بڑی چیز کی خواہش ہمیں فینٹسی کی دنیا میں لے جاتی ہے، اور میں حقیقی دنیا میں جینے پر یقین رکھتی ہوں، مجھے میری زندگی میں سادگی پسند ہے۔

میں اپنی زندگی سے الحمدللہ بہت مطمئن ہوں، بڑے بڑے خواب کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے کہ جو آپ کو جو مل سکتا ہے اور مل رہا ہے اُس پر محنت کریں، اور اُسی چھوٹی سی کوشش کو بڑا بنائیں،

زندگی  اصول کے  بنا ویسے ہی ہے جیسے علم عمل کے بنا، زندگی کے اصول ہی ہمیں کس ایک کام  ڈٹے رہنے کا سبب بنتا ہے تو وہی زندگی کے اصول ہمیں غلط کام کرنے سے روکتے ہیں۔

علیزےنجف: ۔ آپ نے اپنی اب تک کی زندگی سے کیا سیکھا ہے اور اسے کس طرح اپنی آگے کی زندگی میں اپنے لئے معاون بنایا ہے؟

حسرت جہاں: – میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں بہت کچھ سیکھا اور بہُت ساری غلطیاں کیں اور اپنی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے اُسے دوبارہ نہ دہرانے کا عہد کیا۔ میں نے سیکھا کہ انسان سختیوں میں جتنا پروڈکٹیو ہوسکتا ہے اتنا آسانیوں میں نہیں ہوسکتا۔ مشکلیں انسان کو نئی راہیں دکھاتی ہیں بشرطیکہ انسان مثبت سوچ رکھنے والا ہو۔

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں جانا کہ اپنی فیملی کو بہت اہمیت اور عزت دینی چاہیے، ان سے بے لوث محبت کرنی چاہیے، کیوں وہ ہمیشہ آپ کے لیے معاون رہتے ہیں اور زندگی کے بقیہ مرحلوں میں بھی وہی لوگ بغیر کسی امید کے آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔

میں نے سیکھا کہ لوگوں کی حتی الامکان مدد کریں لیکن بدلہ میں کسی بھلائی کی امید نہ رکھیں، اس کا بدلہ اللہ سے چاہیں۔ بصورت دیگر آپ کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی سے سیکھا کہ انسان کو ہر طرح کے برے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے، اور آنے والے مصیبت پر حواس باختہ ہونے کے بجائے بردباری کے ساتھ مسائل کے حل کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

غم ہو یا خوشی، کسی بھی موقعہ پر انسان کو اپنی حد سے باہر نہیں نکلنا چاہیے،ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوتے۔  بس یہی چند اسباق ہیں جنہیں میں نے سیکھا اور جن پر میں عمل بھی کرتی ہوں الحمدللہ۔

علیزےنجف:  محبت کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے اگر انسانی زندگی سے محبت نکال دی جائے تو آپ کی نظر میں باقی کیا بچے گا؟

حسرت جہاں: حقیقی اور بے لوث  محبت انسان کو نرم بناتی ہے، انسان وسیع القلب ہوتا ہے اور اس کے اندر ایثار پیدا ہوتا ہے۔ محبت کے بنا زندگی ہے ہی نہیں!

علیزےنجف: انٹرویو دیتے ہوئے آپ کے کیا احساسات تھے اس انٹرویو کے ذریعے اگر آپ کو اپنے دل کی کوئی دوسروں تک پہنچانے کا کہا جائے تو وہ کیا  ہوگی؟

حسرت جہاں: میرے لیے شرف کی بات ہے کہ مجھے آپ  کو انٹریو دینے کا موقعہ مل رہا ہے، آپ کے سوالات بھی بہت عمدہ ہیں۔

میں کوئی گریٹ پرسنالٹی تو نہیں ہوں کہ لوگوں کو پیغام دوں۔ لیکن میرا ایک احساس ہے کہ لوگوں کو اپنے ظرف پر کام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ یہ کہنے پر مجھے معاف کیجیے گا کہ اکثریت تنگ ظرفی کا شکار ہے، لوگوں کو وسیع الظرف ہونا چاہیے!

انٹرویو نگار : علیزےنجف

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
سیاست ہے اس دور میں امراض ملت کی دوا! – جاوید اختر بھارتی

یہ بھی پڑھیں

پروفیسر عبدالمنان طرزی سے بات چیت – منصور...

دسمبر 4, 2024

پولیٹیکل سائنٹسٹ پروفیسر اشتیاق احمد سے خاص گفتگو...

جولائی 28, 2024

بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ اور فیض احمد...

جولائی 14, 2024

مہجری ڈرامہ نگار اور داستان گو جاوید دانش...

جولائی 4, 2024

معاصر ادب اور تنقید پر ڈاکٹر شہاب ظفر...

جون 30, 2024

فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی سے...

فروری 2, 2024

اعلی اقدار کی حامل شخصیت نیر تاباں سے...

جنوری 3, 2024

ایک ہمہ جہت شخصیت:زیبا گلزار – شفقت خالد

ستمبر 25, 2023

پروفیسر محمد طاہر سے علیزے نجف کی ایک...

اگست 26, 2023

معروف شاعر چندر بھان خیال سے علیزےنجف کی...

جولائی 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں