Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیمنصابی مواد

نیا اردو افسانہ:علامت سے حقیقت تک (حصہ 1)- ڈاکٹر محمد غالب نشتر

by adbimiras جولائی 25, 2021
by adbimiras جولائی 25, 2021 0 comment

ترقی پسند تحریک کے بعد اردو افسانے پر جس رجحان نے سب سے زیادہ اپنے نقوش ثبت کیے اُن میں جدیدیت کا نام سب سے نمایاں ہے۔ترقی پسند تحریک کا اردو افسانے پر یہ احسان ضرور ہے کہ اس تحریک نے اردو افسانے کو بیش بہا موضوعات دیے۔اس سے قبل اس صنف میں محدود موضوعات پر گفت گو کی جاتی تھی جس پر داستان کی چھاپ صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے ۔پریم چند نے ’’کفن ‘‘ لکھ کر افسانے کو نئے موضوع سے روشناس کرایا تو دوسری طرف انہوں نے ترقی پسند تحریک کی بنیاد بھی ڈالی۔اس تحریک کے قیام کے بعد افسانہ نگاروں کی ایک لمبی فہرست نظر آتی ہے جنہوں نے افسانے کی صنف میں قابلِ ذکر اضافے کیے۔کرشن چندر،منٹو، بیدی، عصمت، بلونت سنگھ،علی عباس حسینی ،سدرشن،سہیل عظیم آبادی وغیرہ اس دور کے وہ کام یاب افسانہ نگار ہیں جن کے فن کو کافی سراہا گیا۔ ترقی پسند عہد میں ہی اردوافسانہ دوسری زبانوں سے آنکھ ملانے کے قابل ہوگیا اور یہ بات بلا تردّد کہی جائے کہ ترقی پسند تحریک کا دور اردو افسانے کا عہد ِ زریں ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ترقی پسند تحریک کے عہد میں کچھ افسانہ نگار ایسے بھی تھے جنہوں نے آزادانہ طور پر کہانیاں لکھیں لیکن اکثرو بیش تر کی تعداد ایسی تھی جو اِس تحریک کے مینی فیسٹو کے تحت افسانے لکھ رہے تھے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ اُن کا فن پارہ پروپگنڈہ اور نعرہ بازی کے عقب میں گُم ہوتا چلا گیا۔فارمولا بند اصولوں کے تحت افسانے لکھنے کی مخالفت کے سبب ہی ۱۹۳۹ء میں ’’بزم داستاں گویاں‘‘(حلقۂ اربابِ ذوق) کا قیام عمل میں آیا تھا۔

ترقی پسند تحریک نے بہ طورِ خاص دیہی زندگی کے مسائل،بورژوا طبقے کے مظالم،بھوک اورافلاس وغیرہ کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ابتدائی دور میں تو اُن فن پاروں میں کچھ صداقت نظر آتی تھی لیکن بعد کے افسانوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ گھسے پٹے موضوعات پر خواہ مخواہ خامہ فرسائی کر رہے ہیں اور اُن کا کوئی خاص نقطۂ نظر اور مقصد نہیں ہے۔اسی اثنا ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کا اعلان ہو گیا اور تقسیم و ہجرت کا کرب اردو افسانے کا موضوع بنا۔جو لوگ مسلم ہندو اتحاد کے قائل تھے اور جنہوں نے ایک دوسرے پر تکیہ کیا ہوا تھا، اُن کے خواب بکھرتے چلے گئے۔فسادات میں لوگوں نے انسانیت کو پرے رکھ کر اپنے ہی دوستوں اور پڑوسیوں کا وہ قتل عام کیا جس کی مثال بر صغیرکی تاریخ میں نہیں ملتی۔اس سنگین واقعے نے اردو افسانے پر سب سے زیادہ نقش ثبت کیے۔اب موضوعات بدل چکے تھے اور پورا منظر نامہ تبدیل ہو گیا تھا لہٰذا ادب میں بھی اس کا اثر پڑا اور لوگوں نے اجتماعی نعرہ بازی کو چھوڑ کر انفرادیت میں پناہ لی،لوگوں کا اعتبار ایک دوسرے کے دلوں سے اٹھ گیا اور اس کے نتیجے میں فردیت،وجودیت،بے گانگی جیسے موضوعات اردو افسانے میں نمو پانے لگے۔ ہندوستان میں یہ منظر نامہ آزادی کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور ۱۹۶۰ء تک آتے آتے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔جدیدیت اسی دور کی پیداوار ہے۔جدیدیت،فرد کے داخلی کرب اور بے پناہی کی ترجمان ہے جس کے نتیجے میں فرد تنہائی،الجھن،بے گانگی،اجنبیت اور بے زاری کی کیفیت سے دوچارہوتاہے۔ان اصطلاحات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جدیدیت ،فلسفۂ وجودیت کی توسیع ہے لیکن اردو ادب میں اس اصطلاح کا استعمال ایک خاص عہد سے تعلق رکھتا ہے۔واقعہ یوں ہے کہ جب ترقی پسند تحریک کے زیر اثر فرسودہ اور گھسے پٹے مضامین کی بھر مار ہونے لگی تب ادیبوں کا ذہن نیا کچھ کرنے کے لیے بے قرار ہونے لگا۔اسی اثنا تقسیم کا کرب انگیز سانحہ رونما ہوا۔موضوعات میں خود بہ خود تبدیلی ہونے لگی۔دیہی مسائل اور بورژوا طبقے کے ظلم و ستم کی جگہ ہجرت ،فساد اور کیمپوں کی روداد سنائی دینے لگی۔ادیب و شاعر ترقی پسند موضوعات سے اُکتاہٹ محسوس کرنے لگے۔نئی نسل کی اِس خواہش کے عین مطابق جدیدیت کا رجحان سامنے آیا۔جدیدیت نے ابتدا میں خاموش رہ کر اور بعد میں پوری شدت سے ترقی پسند تحریک اور اس کے موضوعات کی مخالفت شروع کی۔ جدیدیت، دراصل ترقی پسند تحریک کی نفی کرتے ہوئے فرد کی داخلی کرب کا اظہار ہے جس میں خارجیت سے داخلیت،افراد سے فرد،شور وغل سے خاموشی اور بھیڑ سے تنہائی کی طرف سفر ہے۔جدیدیت نے وجودیت کے علاوہ اشتراکیت اور فرائڈزم کے اثرات بھی قبول کیے۔اردو افسانے میں اچانک یہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی بل کہ پچاس کی دہائی اور اس سے کچھ قبل سے ہی ایسے ہیئت و موضوعات آنے لگے تھے جو افسانے کی تبدیلی کا پیش خیمہ تھے۔کرشن چندر کے’’غالیچہ‘‘اور’’ایک اسرائیلی تصویر‘‘ احمد علی کے ’’قید خانہ‘‘،’’میرا کمرہ‘‘ اور ’’موت سے پہلے‘‘جیسے افسانے جس میں کافکا کی ’’دی ٹرائل‘‘اور ’’دی کیسل‘‘ کی خصوصی تکنیک کے علاوہ علامتی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ممتاز شیریں کا ’’میگھ ملہار‘‘اور منٹو کا افسانہ’’پھندنے‘‘بھی اس ضمن میں قابلِ ذکر ہیں۔ان افسانوں میں روایت سے بغاوت کا واضح رجحان ملتا ہے۔جس طرح سے پریم چند کے’’ کفن‘‘کو ترقی پسند کی بنیاد کہا جاتا ہے ٹھیک اُسی طرح منٹو کے ’’پھندنے‘‘کو جدیدیت کی بنیاد مانا جاتا ہے لیکن ۱۹۶۰ء تک آتے آتے جدیدیت کے نقوش پوری طرح واضح ہونے لگے تھے۔’’شب خون‘‘،’’اوراق‘‘ ،’’آہنگ‘‘ اور اسی طرح کے دوسرے رسائل میں ایسی تخلیقات شائع ہونے لگی تھیںجن میں ابہام کا گمان ہونے لگا تھا۔جدید افسانوں سے متعلق بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ جدیدیت کے دور میں اس صنف کی نمائش غلط طریقے سے ہوئی اور اس کی افہام و تفہیم سراب ہوگئی۔جدیدیت ایک ایسا رجحان ہے جس کی کچھ زیادہ ہی مخالفت ہوئی۔بعض ناقدین نے اسے منفی رجحان قرار دیا تو بعضوں نے سرے سے ہی مسترد کر دیا۔اردو کی تمام اصناف میں صنفِ نظم اور صنفِ افسانہ پر یہ رجحان سب سے زیادہ اثر انداز ہوا۔دونوں ہی اصناف بیانیے کی صورتیں ہیں شاید اسی لیے ان اصناف پر شب خونی وار سب سے زیادہ ہوئے۔اگر صرف افسانوں کی بات کریں تو ناقدین نے صرف پلاٹ کو بنیاد بنا کر اعتراضات کیے کیوں کہ اس صنف کی بنیاد کہانی کے جوہر پر قائم ہے۔جدیدیت کے بانی شمس الرحمن فاروقی نے تمام ناقدین کے اعراضات کے جوابات مفصل طور پر دیے ہیں۔ان کا خیال ہے:

۱۔جدیدیت کو ترقی پسند ی کی مخالف تحریک کہنا غلط ہے۔جدیدیت ایک رجحان ہے اور اس کی فکری بنیادیں ترقی پسندی سے مختلف ہیں لیکن یہ ترقی پسندی کی ضد میں نہیں بل کہ آزاد ادبی وجود کے طور پر قائم ہوئی ہے۔

۲۔جدیدیت کے لیے سماجی شعور یا سماجی ذمہ داری کوئی مسئلہ نہیں۔تمام ادب سماج اور معاشرہ ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ہاں جدیدیت کو سیاسی وابستگی پر اصرار نہیں اور نہ وہ کسی سیاسی مسلک کی رہ نمائی قبول کرتی ہے۔سیاسی وابستگی یا سیاسی رہ نمائی کو قبول کرنے کے نتیجے میں فن کار کی آزادیٔ رائے اور آزادیٔ فکر پر ضرب پڑتی ہے اور جدیدیت کا بنیادی موقف آزادیٔ اظہار اور فنی شعور پر عدم پابندی کا اصرار ہے۔ (یہ بھی پڑھیں میں ایک مشتعل افسانہ نگار ہوں : انیس رفیع (انٹرویو)- ڈاکٹر محمد غالب نشتر )

۳۔جدید تحریریں اس لیے مشکل ہیں کہ پڑھنے والوں کے ذہن ابھی اُن سے آشنا نہیں ۔پھر یہ بھی ہے کہ ہر نئی تحریر ،ہر نیا خیال ،ہر نیا طرزِ فکر اکثر لوگوں کو مشکل لگتا ہے۔ایک بات یہ بھی ہے کہ اشکال اور ابہام اضافی چیزیں ہیں ،جدید ادب قاری سے کہتا ہے کہ وہ اپنا معیار بلند کرے ۔جدید ادب کو قاری کی خوشی سے زیادہ اپنے تخلیقی شعور کی سچائی منظور ہے۔

۴۔جدیدیت کا مسلک انسان دوستی اور انسان مرکزیت ہے لیکن جدیدیت اُن فلسفوں کے خلاف ہے جو بشر دوستی کے نام پر انسانی آزادی کا استحصال کرتے ہیں۔جدیدیت اُن تحریکوں کے خلاف ہے جو نام نہاد امن و آشتی کی علم بردار ہیں لیکن ادیب کی آزادی پر قدغن لگاتی ہیں۔

۵۔اگر جدیدیت اس لیے سامراجی سازش ہے کہ وہ ترقی پسند نظریۂ ادب کی منکر ہیں تو ترقی پسند نظریۂ ادب (یعنی مارکسیت)بھی سیاسی مفادات کی پابندی پر مجبور ہے لہٰذا اُسے بھی کسی سازش کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔

۶۔یہ درست ہے کہ جدید فن کاروں کے یہاں تنہائی ،شعور مرگ،مایوسی وغیرہ کا ذکر بہت ملتا ہے لیکن یہ باتیں جدیدیت کی خصوصیات ہیں ،صفات نہیں۔یعنی اگر جدید فن کار اپنے تجربۂ ذات کی بنیاد پر کوئی بات کہتے ہیں تو یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جدید ہے جس کے یہاں تنہائی،احساس ذات وغیرہ ہو اور جس کے یہاں یہ چیزیں نہ ہوں وہ جدید نہیں ۔بنیادی بات یہ ہے کہ جدیدیت فارمولا ادب سے انکار کرتی ہے۔(1)

جدیدیت کے تحت علامتی افسانے لکھنے والوں کی فہرست کافی طویل ہے بل کہ ایک زمانے میں ابہام پسندی کی ایسی ہوا چلی تھی کہ اکثر افسانہ نگاروں نے مہمل افسانے لکھے۔جب قارئین کی تعداد بالکل کم ہوگئی تو فن کاروں نے از سرِ نو غور فکر کرنا شروع کیا اور دوبارہ پلاٹ کی طرف لوٹ آئے اور تجریدیت کا زور کم ہوا۔یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے کہانی پن میں بھی علامات کا استعمال کیا جس سے اُن کی معنویت دوہری ہوگئی۔

جدیدیت کے تحت لکھے گئے افسانوں میں بلراج مین را کے ہاں ’’کمپوزیشن سیریز کے افسانے‘‘ ،سریندر پرکاش کے ہاں ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘،’’رونے کی آواز‘‘،’’سرنگ‘‘،اور ’’برف پر مکالمہ‘‘ ،انتظار حسین کے ہاں’’آخری آدمی‘‘، ’’زرد کتا‘‘، ’’کایا کلپ‘‘،جوگیندر پال کے ہاں’’رسائی‘‘،’’بازیافت‘‘،انور سجاد کے ’’کونپل‘‘ اور ’’گائے‘‘،خالدہ اصغر کے ’’سواری‘‘ اور’’ایک بوند لہو کی‘‘،غیاث احمد گدی کا’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘،بلراج کومل کا ’’کنواں‘‘،دیوندر اسر کا ’’کالی بلّی‘‘،کمار پاشی کا ’’ڈاچی والیا‘‘،انور عظیم کا ’’کھوپڑی‘‘، قمر احسن کا ’’اسپ کشت مات‘‘حمید سہروردی کے ’’شکن در شکن‘‘، ’’کرسی میں دھنسا ہوا آدمی‘‘ اور ’’عقب کا دروازہ ‘‘ اختر یوسف کے ’’گدھ اور قحبہ خانہ‘‘اور ’’کالک اور اجالا‘‘اکرام باگ کا ’’تقیہ بردار‘‘وغیرہ خاص طور پر اہم ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اقبال مجید کا’خاموش مکالمہ‘ – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )

جدیدیت کے دور میں یوں تو بہت سے افسانہ نگار ابھر کر سامنے آئے لیکن ایک وقفے کے بعد تقریباً منظر عام سے غائب ہوگئے۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے ایسی دبیز علامات استعمال کیںجن کی تفہیم عام قاری کی سمجھ سے بالا تر تھی۔کچھ فن کاروں نے تجریدیت کو اس طرح اختیار کیا کہ جیومیٹری وغیرہ کے تجربات کرنا شروع کرد یے ۔ قارئین نے آگے چل کر انہی فن کاروں کو اس قدر فراموش کیا کہ تاریخ کے صفحات میںصرف اُن کا نام کندہ ہوسکاہے۔سر دست ان افسانہ نگاروں کا تذکرہ ضروری ہے جنہوں نے علامتی حوالے سے اپنی شناخت قائم کی اور بیانیے کی روایت کو پوری طرح ملحوظ رکھا۔ان افسانہ نگاروں کی فہرست میں سریندر پر کاش،بلراج مین را،غیاث احمد گدی،کلام حیدری،احمد یوسف وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ساٹھ کی دہائی کے افسانہ نگاروں میں چندنے ہندوستان میں جدیدیت کے فروغ میں اہم رول ادا کیا البتہ کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے علامات کو بھی کم ہی برتا ہے اور ترقی پسند روایات کی توسیع کی ہے۔ان میں عابد سہیل ،اقبال مجید،رتن سنگھ،جوگیند ر پال کے نام اہم ہیں۔اس ضمن میں ایک اہم نام سریندر پرکاش کا ہے۔

سریندر پرکاش جدیدیت کے ایک اہم تخلیق کار تھے جنہوں نے تقسیم ِہند کا دکھ جھیلاتھا اور اس کرب کو بہ ذات خود محسوس کیا تھااِسی لیے اُن کے مزاج میں تلخی آگئی تھی۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کے عروج کے دور میں افسانہ نگاری کی ابتدا کی مگر اُس عہد کی مروّجہ ترقی پسندی کی فیشن زدگی سے دامن بچاتے ہوئے اپنے لیے الگ راہ نکالی اور اپنے تخلیقی اظہار کے لیے علامتی وتجریدی طرز کو اپنایا۔سریندر پرکاش نے ابتدا میں تجریدیت کے حامل افسانے لکھے جن میں علامتی اور استعاراتی فضا کو صاف طور پر دیکھاجاسکتاہے۔ یہ افسانے کربِ ذات کا اظہار ضرور ہیں مگر اُن میں بعض دور اَزکار علامتوں اور استعاروں کی وجہ سے ترسیل کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔سریندر پرکاش کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ میں اسی طرز کا اظہار ہے مگر ستّر کے بعد ترسیل کی ناکامی کے المیے سے فن پاروں کو بچانے اور افسانے کا رشتہ قاری سے جوڑنے کے لیے افسانے میں کہانی اور بیانیہ کی واپسی ہوئی تو سریندرپرکاش نے بھی اپنے افسانوی رویّے پر نظرثانی کی۔ اسی لیے اُن کے دیگر مجموعوں میں اُن کے دل کش اسلوب نے ایسی فضاقائم کی جو قاری کو باندھے رکھتی ہے اور قاری ،فن کار کے اسلوب کے ساتھ کہانی کے تانے بانے، ماجرا اور دل نشیں بیانیہ کے سحر میں کھوجاتاہے۔ اُن کی افسانہ نگاری میں اہم موڑ’’بجوکا‘‘ کے باعث آیا جس نے انہیں ایک مقبول افسانہ نگار بنادیا۔’’بجوکا ‘‘کو موضوع بناکر بہت سے افسانہ نگاروں نے افسانے تخلیق کیے ہیںجن میں سلام بن رزاق، محمد مظہرالزماں خاں، محمود ایوبی ،مظہر سلیم خاص طور پر اہم ہیں ۔ ہر فن کار کا افسانہ اپنے آپ میں مثال بھی ہے اور منفرد بھی ۔اس حوالے سے سریندر پر کاش نے بھی افسانہ لکھا۔مندرجہ بالا افسانہ نگاروں میں سریندر پرکاش کے افسانوں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے بجوکا کو سرمایہ دار کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے نہ صرف پریم چند کے کردار’’ہوری‘‘ کو ایک بار پھر زندہ کیابل کہ دیہات کا وہ منظرنامہ بھی تخلیق کیا جو پریم چند کی تخلیقات کا خاصّا تھا۔ زبان و بیان اور اسلوب کے نقطۂ نظر سے افسانہ بالکل سادہ ہے لیکن اتنا سادہ بھی نہیں کہ اس کی معنویت کو گہرائی و گیرائی بخشنے میں رخنہ ہو۔مجموعی طور پرکہا جا سکتا ہے کہ سریندر پرکاش نے جدیدیت کو فروغ دینے میں کافی اہم رول ادا کیا ہے۔انہوں نے مشکل افسانوں کے علاوہ آسان کہانیاں بھی لکھی ہیں۔آسان ان معنوں میں کہ قاری افسانوں کی تفہیم میں کسی طرح کی دقت محسوس نہیں کرتا۔ (یہ بھی پڑھیں مظہر الاسلام:ایک حیران کن کہانی کار – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )

اس ضمن میں ایک اہم نام بلراج مین را کا بھی ہے جنہوں نے پچاس کی دہائی سے ہی افسانہ نگاری کی ابتدا کی اور ۱۹۷۲ء تک آتے آتے افسانہ نویسی بالکل ترک کردی۔اس کے بعد انہوں نے ایک ادبی رسالہ ’’شعور ‘‘جاری کیا۔ ’’شعور ‘‘کے شماروں کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی لیکن بہ حیثیت افسانہ نگار انہیں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے آزادانہ طور پر لکھنے کا کام کیا اور خاص بات یہ ہے کہ کسی نقّاد کو منہ نہیں لگایا۔ چاپلوسی اِس دور کی عظیم نعمت ہے۔ جو فن کار اس وصف سے محروم رہا،اس کی کبھی پذیرائی نہیں ہوسکتی ۔ یہ عہد فن کاروں کا نہیں بل کہ ناقدین کا ہے۔ قارئین انہی تخلیقات کا مطالعہ کرتے ہیں جنہیں ناقد پڑھنے کا مشورہ دیتا ہے ۔ مین را کو یہی نقصان اُٹھانا پڑا۔ انہوں نے کسی تحریک یا رُجحان کے اصول و ضوابط کو سامنے رکھ کر افسانے نہیں لکھے ۔وہ بنیادی طور پر ایک باغی اور ترقی پسند افسانہ نگار ہیں۔ فرسودہ اور گھِسی پِٹی راہ پر چلنا اُن کے مزاج کے خلاف ہے ، ان کے موضوعات بھی بندھے ٹکے یا زبردستی سے لائے ہوئے نہیں ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنی کہانیوں میں ’’بس‘‘ کے سفر کے حوالے سے شہری زندگی کا بھرپور نقشا کھینچاہے  جن میں بیش تر مقامات دہلی سے متعلق ہیں ۔کناٹ پیلیس سے ماڈل ٹاؤن کا سفر اُن کی کہانیوں میں نمایاں ہیں۔مین را کے افسانوں کا  کلیدی حوالہ شہری تمدن ہے ۔ سفر اور مسلسل سفر اُن کی کہانیوں کا ایک نشانِ امتیاز ہے ۔ ’’ساحل کی ذلت‘‘، ’’ریپ‘‘، ’’بس اسٹاپ‘‘،’’ واردات‘‘، ’’شہر کی رات‘‘ وغیرہ جیسے افسانوں میں شہری زندگی کا کوئی نہ کوئی رخ ضرورسامنے آتاہے ۔

بلراج مین را نے کمپوزیشن سیریز کے تحت چھہ کہانیاں + کمپوزیشن موسم سرما ۶۴ء اور کمپوزیشن دسمبر ۶۴ء لکھے۔ مجموعی طور پر اُن کی تعداد آٹھ تک پہنچتی ہے۔یہی وہ کہانیاں ہیں جن سے مین را کی شناخت بہ حیثیت علامتی افسانہ نگار قائم ہوئی اور اُن کا شمار جدیدیت کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہونے لگا۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مین را کی اتنی پذیرائی نہیں ہوئی جس کے وہ مستحق تھے۔پھر بھی اردو افسانے کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی،بلراج مین را کا نام ضرور آئے گا۔

علامتی افسانہ نگاروں کی فہرست میں ایک اور اہم نام غیاث احمد گدی کا ہے۔یوں تو انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی،نہ ہی انہیں ادبی تحریکوں ،ادبی محفلوں اور سیمی ناروں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ان تمام باتوں کے برعکس انہوں نے قبائلیوںکی سی زندگی گزاری ۔ ان اثرات کی محرومی نے اُن کے تحربات کے دائرہ کو جہاں محدود کیا وہیں انہیں منفرد افسانہ نگار کے طور پر بھی ادبی دنیا سے متعارف کرایا لیکن انہیں اپنی راہ بنانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔اپنے پیش رو افسانہ نگار وںکے گہرے اثرات سے نجات پانے اور اپنی منفرد آواز پیدا کرنے میں انہیں کافی قوّت صرف کرنی پڑی۔انہوں نے جب لکھنا شروع کیااُس وقت کرشن چندر ،منٹو، عصمت اور بیدی کی افسانہ نگاری اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی ۔ ان کے اثرات سے بچ نکلنا کافی مشکل تھا۔غیاث احمد کا تعلق جھارکھنڈ کے ایسے علاقے سے تھا جہاں اُردو تو کیا ،پڑھائی لکھائی کو ہی عبث تصور کیاجاتاتھا۔ ایسے حالات میں گدّی برادران کا اُردو ادب میں قدم رکھنا باعثِ حیرت ہے ۔ غیاث احمد کے چھوٹے بھائی الیاس احمد گدی نے بھی افسانے لکھے لیکن ان کی اصل شناخت ناول’’فائر ایریا‘‘ کے باعث قائم ہے۔

غیاث احمد گدی کو ادبی حلقوں سے باقاعدہ متعارف کرانے کا سہرا ظ ۔ انصاری کے سر بندھتاہے ۔ ظ ۔ انصاری جب مختصر عرصے کے لیے ماہنامہ ’’ شاہ راہ‘‘ دہلی کے مدیر مقرر ہوئے تو انہوں نے غیاث احمد کا ایک افسانہ ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع کیا اور اُن کے فن کو سراہتے ہوئے ان کی نجی زندگی کے بارے میں بھی بعض انکشاف کیے اور اس طرح ادبی دنیا کی توجہ اس ہونہار افسانہ نگار کی جانب مبذول ہوگئی ۔اس کے علاوہ کلام حیدری نے بھی اُن کے فن کو سراہا اور مجموعہ چھپوانے کی ذمہ داری بھی بہ ذات خود قبول کی۔کلام حیدری نے اُن دنوں اپنا چھاپا خانہ بھی قائم کیا ہوا تھا ۔ساتھ ہی ’’آہنگ‘‘ اور ’’مورچہ‘‘جیسے رسالے اپنی ادارت میں نکال رہے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں دشتِ دہشت اور محمد حمید شاہد کے افسانے – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )

غیاث احمد گدی کے افسانوں کے زیادہ تر کردار مفلس ہی نظر آتے ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر کرداروں کا تعلق غریب کرسچن گھرانوں سے ہے ۔ ایسے غیر مسلم جن کے گھر کھانے کو کچھ بھی نہیں ،محض دو وقت کی روٹی کے لیے وہ کرسچن بننے پر مجبور ہیں اور پیٹ کی خاطر اپنا مذہب تک بدلنے کے درپے ہیں ۔ غیاث احمد نے انہی کرداروں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایسے افسانوں میں اُن کی دل چسپی کرداروں سے زیادہ مسائل پر ہوتی ہے تاکہ حقیقتِ حال کی صحیح طور پر عکاسی ہوسکے۔اُن کے افسانوں کا مطالعہ کرکے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان کے ہاں کہانی کا عنصر بھرپور ہے ۔ اُن کے مجموعوں میں افسانوں کی کل تعداد تین درجن تک پہنچتی ہے ۔ ان افسانوں میں اگر نمائندہ افسانوں کا انتخاب کیا جائے تو’’ پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘، ’’خانے تہہ خانے‘‘، ’’تج دو تج دو‘‘، ’’طلوع ‘‘وغیرہ کوشمار ضرور کیاجائے گا۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی میں سریندر پرکاش،بلراج مین را اور غیاث احمد گدی کے علاوہ اور بھی کئی ایسے افسانہ نگارتھے جنہوں نے جدیدیت کے فروغ میں کافی اہم رول ادا کیا جن میں اکرام باگ،حمید سہروردی،ظفر اوگانوی،کنور سین، شفیع مشہدی،انور خاں،رضوان احمد ،قمر احسن اور انور قمر وغیرہ کے نام خاص طور پر اہم ہیں۔سردست یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ جدیدیت کے دور میں جہاںایک طرف افسانہ نگار علامات وتجرید کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور فیشن زدگی کے چکر میں مہملیت ،تجریدیت اور غیر ادبی عناصر کو ہوا دے رہے تھے وہیں دوسری جانب ایسے افسانہ نگار بھی موجود تھے جو ترقی پسند روایت کی توسیع میں پیش پیش تھے۔ایسے فن کاروں کی فہرست میں رتن سنگھ،جوگیند رپال،عابد سہیل،قاضی عبدالستار اور اقبال مجید کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ان افسانہ نگاروں نے اسلوب،ہیئت اور معنویت کے لحاظ سے ترقی پسند نظریات کی بھی توسیع کی۔رتن سنگھ کا’’ہزاروں سال لمبی رات‘‘،عابد سہیل کا ’’جینے والے‘‘،قاضی عبد الستار کا ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘ اور اقبال مجید کا ’’عدو چچا‘‘ جیسے افسانوں سے اِس بات کا ندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتاہے۔

قاضی عبدالستار نے اودھ کی زوال آمادہ تہذیب اور زمین دار گھرانے کی معاشی و سیاسی بحران کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کرکے ایسے کرب کا اظہار کیا ہے جس سے قاری کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ان کے نمائندہ افسانوں میں ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘،’’رضو باجی ‘‘اور’’مالکن‘‘کو خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔قاضی صاحب کے علاوہ اقبال مجید اس لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں کہ انہوں نے علامات کا بھی استعمال کیا اور کہانی کے جوہر کو بھی مجروح نہ ہونے دیا۔اقبال مجید کاپہلا افسانہ ’’عدّو چاچا‘‘ ۱۹۵۶ء کے شاہراہ(دہلی) میں چھپا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔اُن کے ابتدائی افسانوں میں ہی زبان و بیان کی خامی کم کم ہی نظر آتی ہے ۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ ابتداہی سے منجھے ہوئے افسانہ نگار تسلیم کیے گئے ۔ اس کی ابتدا اُس وقت سے ہی ہوتی ہے جب ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’دو بھیگے ہوئے لوگ‘‘شائع ہوکر مقبول خاص و عام ہوا۔انہوں نے جس دور میں لکھنا شروع کیا اُس دور میں لکھنؤ میں موجود افسانہ نگاروں کی ایک بڑی تعدادتھی جن میں رام لعل،حیات اللہ انصاری، رتن سنگھ اور عابد سہیل وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں ۔ ان کی تحریروں میں ترقی پسندی کے خاصے اثرات ہیں لیکن جدیدیت کے اثرات سے بھی انکا رممکن نہیں ۔ اُن کی بہت سی تحریریں ’’شب خون‘‘ میں تواتر کے ساتھ شائع ہوئی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی ذہنی نشوونما ترقی پسندی کے عروج کے زمانے میں ہوئی اور اقبال مجید کا تعلق تو اس تحریک سے باقاعدہ رہاہے ۔ اس لیے اُن کی کہانیوں میں انسان دوستی اور دردمندی کی شدیدخواہش کے عناصر کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں اور یہ خوبیاں ان کے ابتدائی افسانوں میں محسوس کی جاسکتی ہیں ۔ انہوں نے اردو فکشن کی روایت سے بھرپور استفادہ کیاہے ۔موجودہ عہدمیں مصروف ترین زندگی اوراس سے پیدا ہونے والے مسائل ،ٹوٹے ہوئے رشتے اور قدروں کے زوال کو اقبال مجید نے بالخصوص اپنا موضوع بنایاہے ۔مندرجہ بالا افسانہ نگاروں کے علاوہ جنہوں نے جدیدیت کے فروغ میں اہم رول ادا کیا اُن میں انیس رفیع ،اختر یوسف،کنور سین،سید احمد یوسف،الیاس احمد گدی،جیلانی بانو،نعیم کوثر ،شفیع جاوید،فیاض رفعت،ظفر اوگانوی، شفیع مشہدی،محمود ایوبی،منظر کاظمی،م ق خان،انور خان،ش اختر،شفق، اکرام باگ وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔

ہندوستان کی بہ نسبت جدید پاکستانی افسانہ نگاروں کے موضوعات بالکل الگ تھے کیوں کہ پاکستان کا قیام جن مقاصد کو مد نظر رکھ کر عمل میں آیا تھا وہ پسِ پشت چلا گیا۔اس طرح سے وہاں کی عوام کے خواب چکنا چور ہو گئے ۔قیام پاکستان کے بعد آنے والے دس سال اذیت کوش،کرب ناک اور زوال کے ثابت ہوئے۔لوگوں کو سنبھلنے میں وقت ملا ہی تھا کہ ۱۹۵۸ء میں مارشل لا نافذ ہو گیا۔پاکستان میں نیا افسانہ ۱۹۶۰ء اور اس کے آس پاس کے عرصے میں نمو پاتا ہے۔ساٹھ کی دہائی میں بیانیہ افسانے کے بہ جائے علامتی طرز اختیار کرنے کی ایک نہیں کئی وجوہات تھیں۔پہلی وجہ اس دور کے بلند پایہ افسانہ نگاروں کے مقابلے میں نئی نسل کے افسانہ نگاروں کا اپنی شناخت کا مسئلہ،دوسری وجہ ترقی پسند افسانے کی حقیقت نگاری یا وضاحتی طرزِ بیان سے اکتاہٹ اور پھر تیسری اہم وجہ آزادیٔ اظہار پر پابندی سے نجات حاصل کرنا ہے۔لہٰذااُن افسانہ نگاروں نے علامات کا استعمال اپنے افسانوں میں کیا تاکہ ان کی انفرادیت قائم ہو سکے۔انور سجاد پہلے افسانہ نگار تھے جنہوں نے پاکستان میں علامات و تجرید کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔یوں تو وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے لیکن انہوں نے ساری توجہ ادب پر صرف کی۔انور سجاد نے لکھنے کی ابتدا شاعری سے کی۔بعد میں وہ افسانے کی طرف پلٹے۔

انور سجادکا نام جدید اردو افسانے کی روایت میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔جس طرح سے ہندوستان میں بلراج مین را اور سریندر پرکاش نے جدید افسانے کی بنیاد ڈالی ٹھیک اُسی طرح پاکستان میں انور سجاد اور خالدہ حسین نے جدید افسانے کی راہیں ہموار کیں۔ان افسانہ نگاروں نے پرانے سانچے کو توڑ کر اظہار کے لیے نئے رویّوں کو روشناس کرایا۔ انور سجاد نے ابتدا میں روایتی کہانیاں لکھیں۔ان کے پہلے مجموعے ’’چوراہا‘‘(۱۹۶۴ء) میں روایتی افسانے بہ کثرت ملتے ہیں لیکن جلد ہی علامت نگاری و استعارہ سازی ان کے اسلوب کا تخصیصی پہلو بن گیا۔جدیدیت کے حوالے سے ان کی اصل شناخت ’’استعارے‘‘ (۱۹۷۰ء) سے قائم ہوئی۔اس کے علاوہ انہوں نے ایسے افسانے بھی لکھے جن میں ترسیل کا مسئلہ مشکل نہیں معلوم پڑتا۔انہی افسانوں میں ایک افسانہ ’’گائے‘‘ ہے۔اس افسانے کا شمار جدیدیت کے نمائندہ افسانوں میں ہوتا ہے۔یہ افسانہ یوں تو با لکل سادہ ہے لیکن اپنے اندر کئی پرتیں رکھتا ہے۔بات صرف یوں ہے کہ ایک دبلی پتلی سی گائے ہے جو بوڑھی ہوچکی ہے۔گھر کے افراد اُسے بوچڑ خانہ بھیجنے کی سوچتے ہیں سوائے نکّا کے،جسے گائے سے بے حد محبت ہے۔وہ گھر والوں کو گائے کا علاج کرانے کا مشورہ دیتا ہے لیکن گھر والوں کے سامنے اُس کی ایک نہیں چلتی ۔بالآخر گائے بوچڑ خانے چلی جاتی ہے۔افسانہ، علامتوں کا لبادہ اوڑھے اپنے تأثر میں وسیع منظر نامہ رکھتا ہے۔اس افسانے کو آزادی کے تناظر میں دیکھیں تو گائے پر ہونے والے ظلم و ستم انگریزوں کی یاد دلاتا ہے۔ گائے کو اگر جنگِ آزادی کی مظلوم عوام مان لیں تو پھر کہانی نیا دریچہ وا کرتی ہے۔گھر کے افراد،انگریز ظالم افسران کا کردار نبھاتے نظر آتے ہیں اور نکّا ہماری سیاسی جماعتوں کا نمائندہ نظر آتا ہے۔اس طرح گائے کو علامت کے طور پر جتنے زاویے سے دیکھیں ،کہانی کی پرت کھلتی جائے گی ۔ علامات اور بھی واضح ہوتے جائیں گے۔

جدید افسانے میں انورسجاد کے بعد ایک اہم نام خالدہ حسین کا بھی ہے۔اُن کا شمار ۱۹۶۰ء کے بعد نمودار ہونے والے افسانہ نگاروں کی نسل میں ہوتا ہے۔اسی عہد میں افسانہ ،جدید رجحانات سے روشناس ہوا اور نیا اسلوب نشو نما پانے لگا۔ان افسانہ نگاروں میں انور سجاد اور بلراج مین را سے تو قارئین پہلے ہی واقف ہو گئے تھے البتہ نئے لکھنے والوں کی فہرست میں خالدہ حسین اور سریندر پرکاش اپنی کہانیوں کی وجہ سے بہت جلد توجہ کا مرکز بن گئے۔

خالدہ حسین کا افسانوی سفر نصف صدی پر محیط ہے۔ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی افسانوی زندگی کو دو حصوں میں بانٹا جا سکتاہے۔پہلا دور ۱۹۵۴ء سے ۱۹۶۵ء تک محیط ہے۔اس دور میں انہوں میں اپنی شناخت قائم کی۔ سواری،ہزار پایہ،آخری سمت اور منّی اس دور کی کام یاب تخلیقات ہیں۔۱۹۶۵ء میں جب اُن کی شادی ہوئی تو انہوں نے لکھنا لکھانا بالکل ترک کر دیا اور یہ سلسلہ تیرہ سالوں تک قائم رہا لیکن انہوں نے ۱۹۷۹ء میں ’’آدھی عورت‘‘ لکھ کر لوگوں کو خوش گوا ر حیرت میں ڈال دیا۔تب ہی اُن کے دوسرے دور کی ابتدا ہوتی ہے جو تا ہنوز قائم ہے۔خالدہ حسین کو دو امتیازات حاصل ہیں ۔اوّل یہ کہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے جدید اردو افسانے میں اس وقت قدم رکھا جب یہ اپنے آغاز میں ردّ و قبول کی منزلوں میں تھا اور دوم یہ کہ جدید اردو افسانے کو اعتبار دلانے میں جن چند لوگوں نے ایک تسلسل کے ساتھ لکھا ، علامتی ، اساطیری اوراستعاراتی آہنگ افسانے کو دیا،ان میں خالدہ حسین کا نا م نمایاں ہے ۔ان کا شمار ان افسانہ نگاروں میں ہوتاہے جنہوں نے اردو افسانے کو نیا لہجہ اور نئی معنویت عطا کی۔ان کے افسانوں میں خارج کے واقعیت سے ہٹ کر باطن کی کہانی علامتی انداز میں بیان ہوئی ہے ۔ان کے افسانوں کا بنیادی استعارہ حیرت ہے۔ان کے ہاں وجودیت کے فکری عناصر سے استفادے کی روایت بھی موجود ہے۔ان کے نمائندہ افسانوں میں ’’ایک بوند لہو کی‘‘،’’ہزار پایہ‘‘،’’آدھی عورت‘‘ اور ’’سواری ‘‘وغیرہ کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

منشا یاد بھی اس عہد کا ایک اہم نام ہے۔یوں تو انہوں نے مکمل تجریدی افسانے نہیں لکھے لیکن ان کا نام جدید افسانہ نگاروں میں لیا جا تا ہے۔محمد منشا یاد کا تعلق لکھنے والوں کے اُس گروہ سے ہے جنہوں نے روایتی اندازسے افسانہ نگاری کا آغاز کیا لیکن جب جدید افسانے کا آغاز ہوا تو انہوں نے بھی قدرے تاخیر سے جدید افسانے کی تحریک میں شمولیت کے بعد خوب صورت افسانے پیش کیے۔منشا یاد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان میں بھی افسانے اور ناول لکھے۔محمد منشا یاد کے افسانوں میں روایت کے عناصر بھی ہیں اور جدیدیت سے بھر پور استفادے کا چلن بھی۔انہوں نے دیہات اور شہر دونوں کے امتزاج سے بہترین افسانے لکھے ہیں۔خواب،میلہ اور رومان اُن کے افسانوں میں بار بار ظاہر ہوتے ہیں۔

منشا یاد کے ہم عصروں میں رشید امجد نے جدیدیت کے فروغ میں کافی اہم رول ادا کیا ہے۔اُ ن کی اکثر کہانیاں علامتی و تجریدی ہیں۔قبر اوردریا اُن کے خاص علائم ہیں۔’’دریا‘‘ان کے ہاں خاص استعارہ ہے جو بہتے ہوئے وقت کی تصویر کشید کرتا ہے۔اس میں ماضی ،حال اور مستقبل سب یک جا ہو جاتے ہیں۔قبر کے علاوہ موت اور جنازہ بھی اُن کے افسانوں میں نمایاں علائم ہیں۔کبھی شہر میں جنازہ گم ہوجاتا ہے اور قبر لاش مانگتی ہے تو کبھی قبر گھر معلوم ہونے لگتا ہے۔کبھی ماں کے مرنے کی دعا کی جاتی ہے تو کبھی زہر پینے کے بعد موت کا انتظار کیا جاتا ہے۔یہ تمام علائم مختلف ادوار میں مختلف معنویت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

مندرجہ بالا افسانہ نگاروں کے علاوہ اور بھی کئی اہم افسانہ نگار ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتااُن میں مسعود اشعر،احمد ہمیش،حسن منظر ،امراؤ طارق،اسد محمد خاں،سمیع آہوجا اور بانو قدسیہ اہم ہیں۔

پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ستّر کی دہائی میں فوجی آمریت (۱۹۷۷ء )کے نفاذ کا بھی تھا۔فوجی آمریت کا یہ زمانہ چوںکہ سقوطِ ڈھاکا اور جمہوری تحریکوں کے بعد آیااس لیے بھی اس نے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا۔اس مارشل لا کے خلاف احتجاج کی شدید لہر اُٹھی۔احتجاج کی یہ لَے جس قدر مسلسل اور شدید تھی،شاید پہلے نہ تھی۔اس عہد کے دوران سب سے زیادہ ضرورت آزادیٔ اظہار کی تھی۔اس لیے اس دور میں گھٹی گھٹی آوازوں اور حبس کے موسموں کا بہت ذکرملتا ہے۔نئی نئی علامتوں اور استعاروں کے تجربے سامنے آئے اور فن کا ر کے تخلیقی ذہن نے اپنے اظہار کے لیے نئے نئے وسیلے تراشے۔مزاحمتی اور علامتی ادب کی کئی نئی مثالیں قائم ہوئیں۔اس واقعے نے ملک کے ادیبوں اور دانش وروں کو ذہنی طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے بڑی تعداد میں آمریت کے خلاف مزاحمتی افسانے لکھے جن میں سیاہ رات(انور سجاد)،پت جھڑ میں مارے گئے لوگوں کے نام(رشید امجد)،وسکی اور پرندے کا گوشت(احمد داؤد)،رُکی ہوئی آوازیں(منشا یاد)،تربیت کا پہلا دن(مرزا حامد بیگ)،سہیمِ ظلمات(اعجاز راہی)،سن تو سہی(احمد جاوید)،گودھرا کیمپ(نعیم آروی)گناہ سے ضمیر تک(جوہر میر)،کندھے پر کبوتر(مظہر الاسلام )،رب نہ کرے(فریدہ حفیظ)،ایک بانسری ہزار نیرو(منصور قیصر)،ایک آنکھ کا چاند(رحمن شاہ عزیز) اور ناسفر(اسلم یوسف) وغیرہ اہمیت کے حا مل ہیں۔

مجموعی طور پر ۱۹۶۰ء سے ۱۹۸۰ء تک کا زمانہ سیاسی،معاشی اور اقتصادی طور پر پاکستان کے لیے انتشار کا تھا۔علامات و تجرید کا استعمال اُس عہد کے افسانہ نگاروں کے لیے ضروری تھا ۔یہ وہ زمانہ تھا جب کئی نئی علامات سامنے آئیں اور اُن ایّام میں ’’بستی‘‘ کی علامت خاص طور پر افسانے کی شناخت بنی۔تشبیہ و استعارے سے بھی کام لیا گیا اور شعری زبان بھی افسانہ نگاروں کے حصہ میں آئی۔

(مضمون کا دوسرا حصہ ملاحظہ کریں نیا اردو افسانہ:علامت سے حقیقت تک (حصہ 2)- ڈاکٹر محمد غالب نشتر )

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

علامتی افسانےغالب نشتر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ابوالکلام قاسمی بحیثیت نقاد – پروفیسر قاضی عبیدالرحمان ہاشمی
اگلی پوسٹ
ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں