(مضمون کا پہلا حصہ ملاحظہ کریں نیا اردو افسانہ:علامت سے حقیقت تک (حصہ 1)- ڈاکٹر محمد غالب نشتر)
۱۹۸۰ء تک آتے آتے ہند وپاک کے افسانوں سے جدیدیت کے اثرات کم زور پڑنے لگے اور مابعد جدید افسانے لکھے جانے لگے یا اُن افسانوں کو ما بعد جدید کا نام دیا جانے لگا۔مابعدجدیدیت کوئی تحریک یاردّ عمل نہیں بلکہ کشادہ ذہنی رویّہ ہے جوثقافت پرزیادہ زوردیتی ہے۔کیوںکہ ثقافت کسی ملک وقوم کے عادات واطوار،رسوم واندازکی بنیاد یںہیں اوراس کارشتہ اپنی مٹی کی خوش بو سے گہراہوتاہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں کاخیال ہے کہ مابعدجدیدیت ، جدیدیت کی ضدہے یااس کے اصول وضوابط کی نفی کرتاہے ،جوبالکل بے بنیادہے کیوںکہ مابعدجدیدفن کاروں نے جدیدیت اورترقی پسندی دونوں کے کچھ اصول اخذبھی کیے ہیں اورکچھ کو مستردبھی کیا ہے ۔مابعد جدید ناقدین نے ایسے فن پاروں کی نشان دہی تو کر دی تھی البتہ اس عہد کے افسانہ نگاروں نے بھی اپنی تخلیقات لکھ کر اُس پر کھل کر اظہار کیا۔افسانہ نگاروں کی بات کی جائے تواس ضمن میں پہلا اہم نام شوکت حیات کا آتا ہے جنھوں نے افسانہ لکھنے کے ساتھ ساتھ مضامین لکھ کربھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ۔شوکت حیات نے کتاب نما،دہلی کے دومختلف مہمان اداریوں میں الگ الگ وقتوں میں ’’انامیت‘‘، ’’انام افسانہ اورانام نسل‘‘اور’’نامیاتیت اورنامیاتی افسانہ:اعتبار، روایت اورانحراف جیسے ادارتی مضامین میں اپنی نسل کے موقف اورگوناگوں تبدیلیوں کا بھرپورجائزہ لیتے ہوئے بنیاد گزارکی حیثیت رکھنے والے بنیادی عناصرکی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ۔انھوں نے ۱۹۷۰ء کے بعد کے افسانوں کے حوالے سے ان کے تخصیصی پہلوؤں کی وضاحت یوں کی ہے:
۱۔۱۹۷۰ء سے پہلے کے افسانہ نگاروں کی نسل نے کہانی پن کو افسانے سے ٹاٹ باہرکیا، ۱۹۷۰ء کے بعد والوں نے اسے بحال کیا۔
۲۔۱۹۷۰ء سے پہلے والوں نے افسانے کے لگ بھگ تمام صنفی امتیازات کومسمارکیاجب کہ ۱۹۷۰ء کے بعد نمایاں ہونے والوں نے اس منہدم عمارت پران اجزا کوسمیٹتے ہوئے افسانے کے صنفی اسٹرکچرکوازسرنوکھڑاکیا۔
۳۔Alienation1970 سے پہلے والوں کاطرۂ امتیازتھاجب کہ بعدوالوں نے سفاک عصری حالات کوجھیلتے ہوئے اسے ’’فرار کا رویہ‘‘سمجھ کر مستردکرتے ہوئے معاشرے اور سماجی حالات کے ساتھ سروکارقائم کیا۔
۴۔۱۹۷۰ء سے پہلے والوں کی انتہاپسندی اورہیئت پسندی کایہ عالم تھاکہ تمثیل ، استعارے اور علامت ان کے یہاں اظہار کے مقصدکادرجہ اختیارکرچکے تھے جب کہ بعدوالوں کے لیے یہ محض اظہارکاوسیلہ تھے۔
۵۔ ۱۹۷۰ء سے پہلے والے ترسیل کامذاق اڑاتے تھے اورمطالعہ خیزی کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی جب کہ بعد والوں نے اظہارکی تکمیلیت کے لیے ترسیل پربھرپورتوجہ دی ۔ (یہ بھی پڑھیں مشتاق احمد وانی کا افسانوی مزاج – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )
۶۔۱۹۷۰ء سے پہلے والوں نے محض داخلیت پربے جا اصرارکیا۔یہ صورت ’فرار‘کومنتج ہوئی اورگہری قنوطی تاریکی کومحیط ہوئی ۔جس کالامحالہ خمیازہ بے چارے افسانے کوجھیلناپڑا۔۱۹۷۰ء کے بعدوالوں نے اس صورت حال سے انحراف کرتے ہوئے خارجیت کی طرف رجوع کیا۔نکسلزم ،سانحہ بنگلہ دیش،ایمرجنسی،گیٹ ایگری منٹ،ڈنکل ریزولیوژن ،زکی انورکی شہادت۔
۷۔۱۹۷۰ء سے پہلے والے آفاقی اوربین الاقوامی حقیقتوں تک مرتکزتھے جب کہ ۱۹۷۰ء کے بعدوالے عمومی طورپرعصری اورمقامی مسائل تک مخصوص ہونے کے لیے مجبورتھے۔
۸۔۱۹۷۰ء اور۱۹۸۰ء کے بعدوالوں نے نہ صرف خارجی مسائل تک خود کو محدودرکھابل کہ داخلیت اور خارجیت کی آمیزش اور ادغام سے افسانے کو ارتقاکی نئی بلندیوں سے متعارف کرایا اوراسے افسانے کے نئے آفاق عطا کرنے کارویہ اختیارکیا۔
۹۔مذکورہ دہائیوں کے نئے افسانہ نگاروں نے افسانے کومحض اوزوارسمجھنے پر اکتفا نہیں کیابل کہ تخلیقی ،حرکی اور جدلیاتی قوتوں سے مزین کرتے ہوئے موقع بہ موقع موثرتخلیقی ہتھیارکی طرح استعمال کرنے کی عظمت کوسرکرنے کی کوشش کی ۔ (2)
شوکت حیات نے یہاں۱۹۷۰ء سے قبل اوراس کے بعدافسانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کااحاطہ کیاہے ۔اگردیکھا جائے تو ستّر کے آس پاس ہی افسانے سے جدیدیت کے آثارختم ہورہے تھے اوراسّی تک آتے آتے پورا منظرنامہ تبدیل ہوگیا تھا۔ جن افسانہ نگاروں نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا،اُن کو زمانے نے فراموش کردیا۔اکرام باگ،حمیدسہروردی، مظہرالزماں خاں،یوسف عارفی،قمراحسن،م ق خاں،اختریوسف اورانیس رفیع ایسے فن کارہیں جوجدیدیت کی ڈگرسے بھی نہیں ہٹے اور معاملہ کیاہوا،سب پرعیاںہے ۔ناقدین نے اُن کی تخلیقات اورادبی خدمات کوفراموش کردیا۔ ناقدین نے جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے مابین ایک دیواحائل کردی۔دونوں رجحانات کے مابین کیافرق تھے،حسین الحق نے جدیدافسانہ اورآج کے افسانہ کے مابین فرق کوان الفاظ میں یوں بیان کیاہے:
۱۔جدید افسانہ Subjectiveہوتاہے اورجدیدیت کے بعدکاافسانہ Subjectiveبھی ہوتاہے اور Objectiveبھی ۔
۲۔جدیدافسانے میں اہمال رواہے اورجدیدکے بعدکے افسانوں میں اہمال ناروا۔
۳۔جدیدیت کے مطابق مطالعہ پذیری Readabilityغیرضروری تھی،جدیدیت کے بعد Readablityضروری ہوگئی ۔
۴۔جدیدیت میں علامت سازی کی جاتی تھی جدیدیت کے بعداستعارہ سازی کی کوشش پسندیدہ سمجھی گئی ۔
۵۔جدیدیت میں معنی کی بہ ہرحال اہمیت تھی ۔جدیدیت کے بعدصرف متن ضروری رہااورمعنی غیرضروری ہوگئے ۔
۶۔جدیدیت میں متنی وحدت کاانہدام ضروری نہ تھا۔جدیدیت کے متنی وحدت کاانہدام بہ کثرت ہونے لگا۔(3)
مابعدجدیدافسانے میں اسلوب ،زبان ،بیان اورتکنیک کی سطح پرتبدیلی ہوئی اوریہی وہ اوصاف ہیں جومابعد جدید افسانہ ،جدیداورترقی پسندی سے مختلف ہے ۔
اسّی کی دہائی اور بعد کے دور میں بین المتونیت کی اصطلاح بھی مروّج تھی۔جس میں ایک متن کو بنیاد بنا کر دوسرے متن کی داغ بیل ڈالی جاتی ہے۔واضح رہے کہ بین المتونیت Intertextualityکو اصطلاح کے طور پر جولیاکرستیوانے ۱۹۶۶ء میں استعمال کیاتھا۔اس حوالے سے لکھے گئے افسانوں میں انتظارحسین کاافسانہ ’’زردکتا‘‘،سریندرپرکاش کا ’’بجوکا‘‘ اور’’بازگوئی‘‘جوگیندرپال کا ’’کھودو بابا کا مقبرہ‘‘، انورقمرکا’’کابلی والاکی واپسی‘‘، شفق کا’’دوسراکفن‘‘،سلام بن رزاق کا ’’ایک اورشرون کمار‘‘،’’یک لویہ کاانگوٹھا‘‘ اور’’کام دھینو‘‘،منصور قیصرکا’’نئے عہدنامہ کا ایک مرثیہ‘‘،اقبال مجیدکا’’لباس‘‘، محمدمنشایاد کا’’شیر اوربکری‘‘،انیس اشفاق کا’’جنگل کا شیر ‘ ‘ ،سید محمداشرف کا’’آخری بن باس‘‘، انورخاں کا ’’ہوا‘‘، مرزا حامدبیگ کا’’گناہ کی مزدوری‘‘اورعابدسہیل کا’’عیدگاہ‘‘اس ضمن میں اہم ہیں۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بین المتونیت کی اصطلاح ،ما بعد جدید عہد کی پیدا وار ہے۔اردو افسانے کی وسعت قلبی کو مد نظر رکھتے ہوئے طارق چھتاری فرماتے ہیں:
’’اردوافسانہ اپنے ناتواں کندھوں پرہرنئی ادبی تھیوری کابوجھ اٹھانے کی ہمہ وقت تیاررہتاہے ۔یہ اس کی خوبی بھی ہے اورکم زوری بھی ۔خاص طور سے ترقی پسند اورجدیددور کے افسانوں نے اس سعادت مندی کابے پناہ ثبوت دیاتھامگر مابعد جدید دورمیں محسوس ہوتاہے کہ اردوافسانہ کسی ادبی تھیوری سے متأثرہوکرنہیں بلکہ گذشتہ منفی ادبی رجحانات سے بیزار ہوکراپنی ہیئت کی تشکیلِ نو میں مصروف ہے‘‘۔(4) (یہ بھی پڑھیں نئی علامت نگاری اور احمد رشید کے افسانے – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )
ما بعد جدید افسانہ نگاروں میں ایسے افسانہ نگار بھی شامل ہیں جنہوں نے جدیدیت کے دور میں افسانہ نویسی کی ابتدا کی اور اس طرز کے چند افسانے بھی لکھے لیکن جب انہیں احساس ہو چلا کہ ایسے افسانوں کا مستقبل تاب ناک نہیں ہے تو انہوں نے افسانوی سمت کو نیا رخ دیا اور کہانی کے جوہر کی طرف واپس پلٹ آئے۔ساتھ ہی علامات کو نئی معنویت عطا کی ۔اس ضمن میں سلام بن رزاق،شوکت حیات،حسین الحق،انیس رفیع وغیرہ اہم ہیں۔بعض افسانہ نگار ایسے بھی ہیں جنہوں نے دبیز علامات سے ہمیشہ گریز کیا تھا اُن میں نیر مسعود،شموئل احمد،سید محمد اشرف،ذکیہ مشہدی،طارق چھتاری،ساجد رشید وغیرہ خاصے اہم ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جن کے افسانے قاری کی صلاحیت کا زبر دست امتحان لیتے ہیں اور قاری ،افسانوں کی قرأت کے بعد بھی انہی کرداروں میں اپنے کو گرفتار پاتا ہے۔اختر یوسف اور مظہرالزماں خاں ایسے ہی تخلیق کار ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سر دست چند افسانہ نگاروں کے اسلوب اور موضوعات کا سرسری طور پر جائزہ لیا جائے تاکہ اسّی کی دہائی اور بعد کے افسانوں کی شناخت ممکن ہوسکے۔
اس ضمن میں پہلا اہم نام نیر مسعود کا ہے۔نیّرمسعودکی تصنیف وتالیف کاباقاعدہ آغاز۱۹۶۵ء سے ہوا۔ ابتدامیں وہ بچوں کے لیے کہانیاں لکھاکرتے تھے ۔پہلی کہانی ’’نصرت‘‘تھی جو’’شب خون‘‘میں چھپی۔بعد میں فاروقی صاحب کی ایما پر افسانے لکھے جومختلف ادبی رسائل اور خاص طورسے شب خون میں شائع ہوئے۔اس کے علاوہ اجمل کمال نے بھی اپنے موقّرجریدے ’’آج‘‘سہ ماہی (کراچی) میں نیّرمسعود کو اہتمام سے چھاپا۔اُن کی افسانہ نگاری کا باقاعدہ آغازاسّی کی دہائی سے ہوتاہے۔اس سے قبل وہ فارسی اور انگریزی کے تراجم کرچکے تھے ۔ تحقیق کاورثہ مسعودحسن رضوی ادیب سے ملا۔نیرمسعودکے افسانوں سے متعلق یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان کے افسانے مبہم ،ناقابل فہم اورپے چیدہ ہوتے ہیں۔ پلات کاکوئی نظام نہیں ہوتا۔پراسراریت ہوتی ہے اورفضا گنجلک ہوتی ہے ۔اس کااعتراف انھوں نے بھی کیاکہ ان کے افسانے خوابوں کازائیدہ ہیں اور وہ اپنے افسانوں میں انہی خوابوں کی تعبیر و تفسیر تلاش کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں میں کافکا کے طرز کا بھی بہت دخل رہا ہے۔اسی لیے ان کے افسانوں میں پلاٹ کا نظم تو ہوتا ہے لیکن ابتدا سے انتہا تک حیرت،تجسس اور خواب کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے۔
اختریوسف نے تصنیف کاآغاز۱۹۶۲ء سے کیا۔انہیں اردو اورہندی دونوں زبانوں پریکساں عبورحاصل ہے ا و ر د و نو ں زبانو ں میں اپنی تخلیقات پیش کرتے رہتے ہیں۔جدیدیت کے حوالے سے ان کااختصاص یہ ہے کہ بہارمیں سب سے پہلا جد ید ا فسا نہ ’’کالک اور اجالا‘‘ کے عنوان سے لکھاجو’’شب خون‘‘الٰہ آبادجون ۱۹۶۷ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ان کے افسانوں کا فقط ایک مجموعہ ’’جلتا ہو اسیارہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے لیکن خوش آئندبات ہے کہ انھوں نے لکھناترک نہیں کیاہے بلکہ افسانے اورنظمیں تواتر سے لکھ رہے ہیں۔ان کے بیش ترمطبوعہ افسانے ’’شب خون‘‘میں شائع ہوئے جواس بات کی طرف دلالت کرتے ہیں کہ وہ جدیدیت سے متاثرضرور ہیں۔ان دنوں ’’تحریر نو‘‘ اور دوسرے ادبی رسائل میں بھی ان کے افسانے پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ہم عصرافسانہ نگاروں میں اختریوسف نے بہت کم مدّت میں ذہین قارئین کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔ان کے نمائندہ افسانوں میں’’گدھ اورقحبہ خانہ‘‘،’’جلتا ہوا سیّارہ‘‘اور’’رنگ منچ ‘ ‘ کا ذکر ضر و ر کیا جائے گا۔افسانہ ’’رنگ منچ ‘‘اور ’’گدھ اورقحبہ خانہ ‘‘کاموضوع فسادہے ۔مذکورہ آخری افسانہ پڑھتے ہوئے قاری سکتے میں آجاتاہے جب فن کار دہشت کے المیے کوبیان کرتاہے ۔گدھ ،علامت ہے فسانے کے بعدہونے والی بربادی کی اورقحبہ خانہ محفوظ مقام کی ۔جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ لوٹنے کے لیے ہی پیدا ہوئی ہے لیکن یہاں معاملہ ذرامختلف ہے ۔کردارکی جب آنکھ کھلتی ہے تو وہ اپنے آپ کوقحبہ خانے میں موجود پاتا ہے۔
شموئل احمد کا پہلا افسانہ ’’چاند کا داغ‘‘کے عنوان سے نومبردسمبر ۱۹۶۲ء میں’ ’صنم ‘‘پٹنہ میں شائع ہوا۔تاہنوز چار افسانوی مجموعے اور دو ناول اشاعت سے ہم کنار ہو چکے ہیں۔شموئل احمدکے زیادہ ترافسانے بیانیہ Narratology تکنیک کی عمدہ مثالیں ہیں ۔انہوں نے اردوافسانے کے اس عہد میں بھی کہانی کے جوہرکو ملحوظ رکھا جب ہمارے افسانہ نگارجدیدیت کے رومیں بہہ کربہ طورفیشن تجریدی اورپلاٹ لیس کہانیاں لکھ رہے تھے ۔البتہ جنھوں نے فقط علامات کا استعمال کیا اورکہانی کے جوہرکوبھی ملحوظ رکھا،ان کافن پارہ تہہ دارہوگیا۔شموئل احمدکی ابتدائی کہانیوں کوعلامتی تو نہیں البتہ نیم علامتی کہہ سکتے ہیں۔ایساہرگزنہیں ہے کہ انہوں نے علامات Symbols کااستعمال کرکے اقتباسات کو گنجلک بنایاہے ، بل کہ ان کے نیم علامتی افسانوں پرنظرڈالیں توخوشی ہوتی ہے کہ ایک فن کارزندگی کے حقائق کو دو زاویوں سے اتنے خوب صورت اندازمیں کیسے پیش کرسکتاہے ۔’’سبزرنگوں والا پیغمبر‘‘، ’’ٹوٹی د شاؤں کا آدمی‘‘، ’’آخری سیڑھی کا مسافر‘‘ اور ’’عکس سیریز‘‘کی کہانیاں اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔یہ تمام افسانے پہلے مجمو عے ’’بگولے‘‘ میں شامل ہیں جن کا زمانہ ۱۹۷۴ء سے قبل کا ہے ۔یہ وہ زمانہ ہے جب فن کارکی خواہش ہوتی تھی کہ وہ علامتی وتجریدی افسانے لکھ کرقاری کے دل پراپنی علمیت کی دھاک بٹھاسکے اوراگروہ اس طرح کے افسانے نہ لکھے تووہ حاشیے میں چلے جائیں گے ۔ماحول کے ساتھ ڈھلتے ہوئے شموئل احمدنے بھی نیم علامتی کہانیاں لکھیں لیکن اپنے فن پاروں کو تجرید، اہمال اوراشکال سے ہمیشہ بچائے رکھا البتہ شموئل احمد نے جنسیات کا بیان جتنے پُر اثر طریقے سے کرتے ہیں، ہم عصروں کے ہاں خا ل خال ہی نظر آتا ہے۔وہ موجودہ حالات ،انسانی ذہن کی نفسیاتی کش مکش اور معاشرے میں پھیلے بد عنوانیوں کو نہایت باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور اپنے فن پارے میں برتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شموئل احمدکے تین ناول:تجزیاتی مطالعہ -محمد غالب نشتر )
سلام بن رزاق ستر کی دہائی کے ایک اہم افسانہ نگارہیں۔انھوں نے سنجیدہ مسائل پرقلم اٹھایااوران مسائل کوبہ حسن وخوبی کہانی کے پیکرمیں ڈھالا ہے۔انھوں نے اپنے ابتدائی دورمیں علامتی کہانیاں لکھیں۔’’ننگی دوپہرکا سپاہی‘ ‘ ، ’’زنجیر ہلا نے والے‘‘،’’معبّر‘‘وغیرہ اسی ضمن کے افسانے ہیں۔بعدمیں جب تجریدیت اورعلامتیت نے اپنارخ بدلاتب سلام بن رزاق نے بھی نئی علامتیں وضع کیں اور کہانی پن میں نئے دریچے واکیے ۔انھوں نے ہندو اساطیر سے استفادہ کرتے ہوئے کئی اچھی کہانیاں رقم کیں جن میں’’یک لویہ‘‘،’’یک لویہ کاانگوٹھا‘‘،’’ندی‘‘ اور ’’ایک اور شرون کمار‘‘اہمیت کے حامل ہیں۔اُن کے افسانوں کے موضوعات عموماًانسانی رشتے ،عام آدمی کا استحصال ،سیاسی جبریت کی جکڑ بندیوں میں انسان کی بے بسی اوراس سے نکلنے کی جدوجہدہے ۔ان کے پسندیدہ موضوعات میں سیاسی اتھل پتھل اورمعاشی بحران میں ڈوبتی ابھرتی زندگی اورانتشار ہے ۔مجموعی طورپرکہاجاسکتاہے کہ ان کی علامات تہہ داری کی بیّن ثبوت ہیں جوقاری پر بوجھ نہیں بنتے ۔زمانے کی تبدیلی کے ساتھ سلام بن رزاق نے بھی اپنابیانیہ تبدیل کردیاہے ۔نئے مجموعے میں شامل کہانیاں پڑھنے کے بعداس بات کااحساس شدیدطور پر ہوتاہے ۔انھوں نے اکثرافسانوں میں فلم کی تکنیک استعمال کی ہے ۔اس کی وجہ ان کی فلموں اور ٹی وی سیریلس سے وابستگی ہوسکتی ہے ۔وہ عام آدمیوں کے لیے کہانیاں لکھتے ہیں۔ ان کے کرداروہ سخت جان افراد ہوتے ہیں جو دن بھر میں بیسیوں دفعہ ٹوٹتے ہیں،بکھرتے ہیں مگردوسرے دن صبح اپنے بسترسے صحیح سالم اٹھتے ہیں۔ وہ روزشکست کھاتے ہیں مگر زندگی جینے کاحوصلہ نہیں ہارتے ۔یہ وہ بدنصیب لوگ ہیں جنھیں حالات نے اپنے چکرویو میں جکڑ رکھاہے ۔وہ اس چکرویو سے نکلناچاہتے ہیں مگر ابھی منیو کی طرح چکرویوکوتوڑکراس سے باہرنکلنے کا منتر نہیں جاتے ۔
جن افسانہ نگاروں نے سوچ سمجھ کرقلم اٹھایااورخاص موضوعات کوسامنے رکھ کرکئی لازوال افسانے لکھے لیکن ان کی خاطر خواہ پذیرائی نہ ہوسکی اس فہرست میں انیس رفیع کانام سرفہرست ہے ۔غالباً اس کی ایک وجہ جدیدیت سے وابستگی ہو سکتی ہے لیکن ایسانہیں ہے کہ انھوں نے تجریدی افسانے لکھے ہوںبل کہ انھیں پلاٹ توڑنے کی عادت ہی نہیں ہے ۔وہ اپنے افسانے کو ناہموار نہیں بناتے بل کہ استدلالی ربط کے ساتھ کہانی عضویاتی تکمیل سے بہرہ ورہوتی ہے اور ایک طرح کے Compactnessکااحساس دلاتی ہے۔وہ ایک عرصے تک میڈیاسے وابستہ رہے ہیں اس لیے ان کی نگاہیں سماجی ، ثقافتی اورسیاسی معاملات پرگہری ہیں۔انھوں نے افسانے میں زیادہ ترزندگی کی الجھنوں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ان کے افسانوں کے دو مجموعے ’’اب وہ اترنے والا ہے‘‘ اور ’’کرفیو سخت ہے‘‘اشاعت پذیر ہو چکے ہیں اور کئی افسانے تا ہنوز رسائل کی زینت بنے ہوئے ہیں۔انیس رفیع کی علامتیں اپنے اندرکئی پرتیںرکھتی ہیں۔کبھی کبھی وہ شاعرانہ زبان استعمال کرکے قاری کو خوش گوار حیرت میںڈال دیتے ہیں اورقاری انہی مشکلات میں فن پارے کی روح سے دور ہوجاتاہے جب کہ وہ نثرمیں شعریت پیداکرکے افسانے میں جان ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ ذاتی علامات نہ استعمال کرکے روزمرہ کی علامات لکھتے ہیں تاکہ قاری کی تفہیم آسان ہوسکے لیکن قارئین کو یہ شکایت ستاتی ہے کہ ان کے افسانے بعید از فہم ہوتے ہیں جب کہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔
خواتین افسانہ نگاروں میں ذکیہ مشہدی کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ انہیں اردو کے ساتھ ہندی اورانگریزی میں عبورحاصل ہے جس کا اندازہ ان کے تراجم سے کیاجاسکتا ہے ۔ انھوں نے این بی ٹی کے لیے تراجم اور تعلیم بالغان کے لیے مختلف نوعیت کی کتابیں بھی مرتب کی ہیں۔ان کے نزدیک ایک کام یاب افسانہ نگارکے لیے حساس دل ،وسیع تجربے اورالفاظ پرقدرت تینوں ضروری ہیں۔’’پرائے چہرے‘‘ میں وسیع تجربے کی تو کمی نظرآتی ہے لیکن تازہ مجموعے ’’یہ جہانِ رنگ وبو‘‘ تک پہنچتے پہنچتے مختلف نوعیت کے تجربات دیکھنے میں آتے ہیں۔ان کے افسانوں کا جائزہ لیاجائے تویہ بات واضح ہوتی ہے کہ انھوںنے عام موضوعات کے علاوہ کچھ نئے موضوعات پر بھی قلم اٹھائے ہیںالبتہ ان کا تعلق کسی ’’اِزم ‘‘سے ان کاتعلق نہیں ہے ۔ذکیہ مشہدی کے افسانوں میں عورت اوران سے جڑے مسائل کا ذکر تو باربار آتا ہے لیکن ان کاپورا افسانوی ادب انہی بیانات سے مملو نہیں ہے بلکہ اوربھی بہت کچھ ہے ۔قومی مسائل سے لے کر بین الاقوامی مسائل تک کی بحثیں، وارداتیں اوران سے نبرد آزما ہونے کی صورتیں بھی ان کے افسانوں میں مل جائیں گے ۔جب کہ اکثرخواتین ادیباؤں کے ساتھ ہوتا یوں ہے کہ وہ تخلیقات کے معاملے میں گھرکی دہلیزسے باہرقدم رکھنابھی گوارا نہیں کرتیں کیوںکہ گھرکی چہار دیواری میں انھیں اچھاخاصا مواد مل جاتا ہے لیکن ذکیہ مشہدی کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے ۔انھوں نے گھرکی کھڑکی یا روشن دان سے دنیا نہ دیکھ کر دروازے کے راستے پوری کائنات کا مشاہدہ کیا ہے اورسماجی موضوعات پردل کھول کر لکھا ہے ۔افسانہ ’’افعی‘‘اس کی تازہ مثال ہے۔اس افسانے میں یوں تو انھوں نے کالج کی زندگی اور نئے طلباکی ریگنگ کا ذکر کیا ہے لیکن اس کی تہہ تک پہنچنے کے بعدمعلوم ہوتا ہے کہ اقلیتی کردار کے حوالے سے لکھی گئی بہترین کہانی ہے ۔کالج کی زندگی میں ایک مسلم طالب علم کو کیا کچھ جھیلنا پڑتا ہے ،سبھی کچھ اس میں اشاروں میں بیان ہوا ہے ۔اس کے علاوہ بابری مسجد کی شہادت کا ذکر اس افسانے میں ہے اور اسی کے عقب میں کہانی بنی گئی ہے۔انہوں نے عورت کے مسائل پربھی عمدہ کہانیاں لکھی ہیں جس میں انھوں نے عورت کے دکھ کوسمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔عورت ،اس کائنات کی ایسی مخلوق ہے جسے ہر زمانے میں کسی نہ کسی طور پر ستایا گیا ہے لیکن اب یہ مسئلہ شہروں میں کسی حد تک حل ہوچلا ہے ۔ذکیہ مشہدی نے صرف متوسط عورتوں کے مسائل یاغریب عورتوں کے مسائل کواپنے افسانوں میں سمویاہے بلکہ اعلاخاندان کی عورتوں کے مسائل کوبھی نشان زدکیاہے ۔
محمد مظہر الزماں خاں نے جدیدیت کے اُس زمانے میں افسانہ نویسی کے میدان میں قدم رکھاجب ہندوستان میں بلراج مین را، سریندر پرکاش، غیاث احمد گدی وغیرہ اور پاکستان میں انتظار حسین ،انور سجاد،خالدہ اصغر وغیرہ کے فن کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور نئے لکھنے والوں میں اکرام باگ،قمر احسن،حمید سہروردی اختر یوسف اور شفق وغیرہ اپنی شناخت بنانے میں سرگرداں تھے۔سن ستر کے افسانہ نگاروں کی طرح محمد مظہر الزماں خاں نے بھی علامتی کہانیاں لکھیں لیکن ان کے یہاں علامتیں ایک خاص انداز میں اپنا تأثر قائم کرتی ہیں جو انہیں ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ انہوں نے غیر دانستہ طور پر علامتوں اور استعاروں کا استعمال نہیں کیا ہے بلکہ اُن متون میں معنی کی تہیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔قاری جب ان تہوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو نئے نئے امکانات روشن ہونے لگتے ہیں ۔قاری اس مقام پر پہنچ کر عالم ِ اسرار کی سیر کرنے لگتا ہے تب کہانی معمہ نہ بن کر حقیقت کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ایک ایسی حقیقت جس کا ظہور ہماری زندگی میں ہوتا ہے اور وہ تمام مسائل جو فن کار نے بیان کیے ہوتے ہیں ،اُس کے اپنے لگنے لگتے ہیں اور قاری اس حصار سے باہر نہیں نکلتا۔ان کا فکشن داستان،اسطور،اشارے و علائم کا ایسا منتھن ہے جس میں روشنی کے مختلف شیڈس اپنے چہروں کے ساتھ نظر آتے ہیں جیسے پرچھائیاں اور صورتیں ایک دوسرے میں مدغم ہو گئی ہوں۔
محمد مظہر الزماں خاں کہانیوں میں تمثیلی انداز کو خوب صورتی سے برتتے ہیں اور وہ کسی بھی سطح پر لا یعنی نہیں ہوتے بلکہ ان کا مطمح ِنظر زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔اس طرح وہ دوسرے افسانہ نگاروں سے منفرد ہیں اور یہی ان کا امتیاز ہے۔وہ ایک خاص اسٹائل میں کہانیاں لکھتے ہیں۔ان کے کہانیوں کا موضوع زمین اور اس سے جڑے مسائل ہیں۔زمین میں رونما ہونے والے واقعات و حادثات کو اتنی چابک دستی سے فن پارے میں سمو دیتے ہیں کہ قاری بھی سوچ کے اتھاہ گہرائیوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ان کی کہانیوں میں مذہبی حسّیت اور زیریں لہریں جب تیزی سے بہنے لگتی ہیں تو سطحِ آب پر ان کی صورتیں ایسی نظر آتی ہیں جیسے شفاف پانی کے اندر رکھے ہوئے مختلف قسم کے آئینے۔محمدمظہر الزماں خاں کی کہانیوں کے علائم اور استعاروں کے اندر ایک نئی دنیا آباد ہے۔قاری ،مطالعہ کے بعد نئے مفاہیم سے آگاہ ہوتا ہے اور جوں جوں اس کا ذوق بالیدہ ہوتا جاتا ہے،اس کی تفہیم میں وسعت ہوتی رہتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انہی علائم کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔یہ صورتِ حال اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب متن میں دِل چسپی اور تسلسل قائم رہے ساتھ ہی قاری افسانہ ختم کرکے ہی دَم لے۔یہ فنّی خوبیاں بہت کم ہی افسانہ نگاروں کے حصے میں آئی ہے۔اُن کے زبان و اسلوب میں اعتدال ہے جس سے قاری کا ذہن نہیں بھٹکتا۔
۱۹۷۰ء میں شوکت حیات کا پہلا افسانہ ’’بکسوں سے دبا آدمی‘‘کتاب ،لکھنؤ سے شائع ہوا۔اس افسانے کو عابدسہیل نے تعارفی نوٹ کے ساتھ چھاپا۔اس کے بعدان کے افسانے ہندوپاک کے متعدد رسائل میں شائع ہوئے۔یہ وہ دورتھاجب جدیدیت کے تحت ’’آہنگ‘‘،’’شب خون‘‘ اور’’اوراق‘‘جیسے موقر رسائل تواتر کے ساتھ نکل رہے تھے اوراتفاقیہ طورپرشوکت حیات کے افسانے انہی رسائل میں زیادہ چھپے ۔ شوکت حیات کے ابتدائی دورکے افسانوں میں علامتی اوراستعاراتی رنگ غالب ہے ۔انفرادیت کے اظہار اور فن کی نئی جہات کی تلاش میں وہ کبھی کبھی اتنی دورنکل جاتے ہیں کہ وہاں تک قاری یاادیب کی رسائی مشکل سے ہو پاتی ہے ۔ ’’بکسوں سے دبا آدمی‘‘، ’’سیاہ چادریں اور انسانی ڈھانچہ‘‘اور’’تین مینڈک‘‘ان کے قابل ذکرعلامتی افسانے ہیں۔ اس ضمن میں پہلا افسانہ ایک بے نام ، مبہم اور موہوم ذاتی دکھ کی داستان ہے جوخالص نجی ہونے کے سبب اجتماعی دکھوں سے مختلف نوعیت کاہے ۔اس ذاتی دکھ کی طرف افسانہ نگار نے کوئی واضح اشارہ نہیں کیا ہے جس کے سبب قاری کا ذہن بہ مشکل ہی پہنچ پاتاہے۔افسانہ ’’سیاہ چادریں اور انسانی ڈھانچہ‘‘ میں زندگی کی مختلف جذبوں اور شخصیت کی مختلف جہتوں کو مختلف رنگ میں پیش کیاہے جب کہ ’’تین مینڈک‘‘ طبقاتی ظلم وجبر اور طبقاتی کش مکش کی علامیہ ہے۔اسی کی دہائی میں شوکت حیات نے نیا اسلوب وضع کیا اورذاتی علامتوں سے گریزکیا ساتھ ہی عام فہم علامات کوترجیح دی ۔انھوں نے بہت جلد محسوس کرلیا کہ مبہم کہانیوں کی عمر زیادہ نہیں ہوسکتی ۔مبہم کہانیاں مشرقی مزاج سے میل نہیں کھاتیں۔ لہٰذا انھوں نے افسانہ ’’بانگ ‘‘ تخلیق کیا جو اس عہدکی افسانہ نگاری اورخودان کی افسانہ نگاری کا Turning pointثابت ہواجس میں علامت کاپردہ باریک ہے اوراحتجاج کی لے دبیز۔اس کے بعدشوکت حیات کے اکثر افسانے بیانیہ لہجہ لیے ہوئے سامنے آئے مگران کابیانیہ ترقی پسندوں کے بیانیہ سے بالکل مختلف ہے ۔ان کے افسانوں میں ہلکا ساابہام اورپردہ داری ہوتی ہے جوتخلیق کے حسن میں اضافہ کرتی ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں شوکت حیات:اردو افسانے کا سنگِ میل – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )
طارق چھتاری کاتعلق افسانہ نگاروںکی اس نسل سے ہے جنھوںنے کہانی کے جوہرکوپوری طرح ملحوظ رکھااور علامت سے بھی استفادہ کیا۔جس کی وجہ سے افسانے میں تہہ داری پیداہوئی اورقارئین کو سوچنے کا موقع بھی ملا۔طارق چھتاری نے ستّرکی دہائی میں افسانہ نگاری کی ابتدا کی ۔پہلا افسانہ ’’اپنا اپنا بوجھ‘‘ کے عنوان سے ماہ نامہ ’’درخشاں‘‘دہلی کے شمارہ اپریل ۱۹۷۷ء میں محمد طارق کے نام سے شائع ہواجب کہ انھوں نے پہلا افسانہ ۱۹۷۵ء میں ’’تین سال‘‘کے عنوان سے لکھا تھاجوچارسالوں کے بعدشائع ہوا۔تا ہنوز ایک ہی افسانوی مجموعہ’’باغ کا دروازہ‘‘ (یہ بھی پڑھیں طارق چھتاری کا ’’بَاغ کا دَروازہ‘‘: ایک تنقیدی تجزیہ – ڈاکٹر صفدر امام قادری )کے عنوان سے منظر عام پر آیا ہے۔ان کاافسانوی سفرتیس سال سے زیادہ عرصے پرمحیط ہے ۔انھوں نے اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں بہت کم لکھا لیکن جو لکھا وہ انتخاب ہے ۔ان کی تحریریں جامع ومانع ہوتی ہیں۔اسی لیے ان کے فن کوجس طرح سراہاگیاوہ قابلِ ستائش ہے ۔یہ کہنا شاید بے جانہ ہوگا کہ جو افسانے ان کے قلم سے وجود میں آئے ہیں ان میں سے بیش ترافسانوں میں فن کاری کے بہترین نمونے موجودہیں۔اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ انھیں افسانے کی روایت سے بخوبی واقفیت ہے۔انہوں نے ایسے نادر موضوعات پرقلم اٹھائے ہیں جس کی مثالیں اردوادب میں کم ہی ملتی ہیں۔مثال کے طور پر’’باغ کادروازہ‘‘ ، ’’نیم پلیٹ‘‘اور ’’پہیّہ ‘‘وغیرہ کو پیش کیاجاسکتا ہے ۔ڈاکٹر قمر الہدیٰ فریدی اُن کے افسانوی مجموعے کا تعارف پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’طارق چھتاری کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’باغ کا دروازہ‘‘ان کے تقریباً پچیس سالہ ادبی سفر کا حاصل ہے۔اس مدت میں کہانیوں کی کئی کتابیں منظر عام پر آسکتی تھیں لیکن مو ضوعات کے انتخاب میں افسانہ نگار کی احتیاط پسندی اور کسی اچھوتے پہلو کی تلاش بسیار نویسی میں مانع رہی۔مجموعے میں شامل بعض افسانے مثلاً گلوب،پورٹریٹ،برف اور پانی،شیشے کی کرچیں،ژمبان اور دھویں کے تارکی تفہیم میں ،ممکن ہے روایت پسند قارئین کو الجھن کا سامنا ہو۔اس الجھن کی وجہ افسانہ نگار کا وہ مخصوص فنی طریقِ کار ہے جس کے تحت کسی لفظ یا جملے کی مدد سے منظر بدلنے یا ماضی کو حال میں مدغم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان افسانوں میں جہاں شہری زندگی اور اس کے مسائل ،انسانی رشتوں،رویوں،ذہنی الجھنوں یا نفسیاتی گوشوں کو کسی نہ کسی حوالے سے گرفت میں لینے کی سعی کی گئی ہے وہیں چھلاوہ اور وہ،آن بان اور لکیر میں دیہاتی زندگی کو پس منظر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔اس فہرست میں صبح کاذب اور دس بیگھے کھیت کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جس میں بدلتے ہوئے حالات میں کسان کے نئے مسائل اور مجبوریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے‘‘۔(5)
طارق چھتاری کاتعلق قصباتی زندگی سے زیادہ رہاہے ۔انھوںنے قصبات کی زندگی کوقریب سے دیکھاہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے آخری ایّام کوبھی ڈھلتے ہوئے دیکھاہے ۔اِنہی مواد کو انھوں نے اپنے افسانوں میں برتاہے ۔ان کے اکثر افسانوں کا تار و پور قصباتی زندگی کی کش مکش ،وہاں کی ختم ہوتی تہذیب اورمزدورکسانوں کی نفسیاتی گرہ کے گردگھومتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے بیش تراوقات علی گڑھ میں گذارا ہے لیکن ان کی ذہنی وابستگی اپنے آبائی وطن سے کسی نہ کسی طور پرقائم ضروررہی ہے ۔
اردو افسانے کی تاریخ میں سیّد محمداشرف کانام بھی اہمیت کاحامل ہے ۔اپنے ہم عصروں میں ان کی انفرادیت دو حیثیتوں سے مسلّم ہے۔ اوّل یہ کہ علامت وتجریدکے عہد میں انھوں نے اپنا دامن بچاتے ہوئے کہانی کے جوہرکی واپسی کی، کہانی کے بیانیے کو پوری طرح ملحوظ رکھا اور نئے لب ولہجے سے اردو افسانے کو روشناس کیا۔دوم یہ کہ انسانی کرداروں سے ماورا ہوکرچرندپرندکووہ حیثیت دی جس کے وہ ایک زمانے سے منتظر تھے ۔جانورستان کے ضمن میں ابوالفضل صدیقی اورسیدرفیق حسین کی کہانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ غالب گمان ہے کہ اشرف صاحب نے دونوں بزرگ افسانہ نگاروں کی کہانیوں سے متاثرہوکرکہانیاں لکھی ہوں اور جانورستان کی روایت کو آگے بڑھاکراور اپنی انفرادیت قائم کی ہو۔سید محمد اشرف کی کہانیاں فقط جانوروں سے متعلق نہیں بلکہ دوسرے سماجی مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔’’آدمی‘‘،’’وہ ایک لمحہ‘‘اور’’جنرل نالج سے باہرکاسوال ‘‘کاتعلق انسانی زندگی سے ہے اورسیدھی سادی کہانیاں ہیں لیکن ’’ڈارسے بچھڑے ’’،’’لکڑبگھاسیریزکی کہانیاں‘‘اور ’’آخری بن باس ‘‘بالکل مختلف قسم کے افسانے ہیں۔’’ڈارسے بچھڑے‘‘ میں ہندوستان چھوڑکرجانے والاایک مہاجرا پنے ذہن سے ان یادوں کو بھول نہیں پاتاجواس کے بچپن،لڑکپن اورنوجوانی سے وابستہ ہیں۔یہ یادیں اُسے بارباراپنے اوراپنے بزرگوں کے وطن کو پھرسے دیکھنے پراکستاتی ہیں۔کہانی کامرکزی کردار اٹھارہ سال کی عمرمیں پاکستان ہجرت کرجاتاہے اورتیس سال بیت جانے پربھی ماضی سے دامن نہیں چھڑاپاتا۔وہ ہزار جتن کے باوجودہندوستان نہیں آپاتاہے ۔انہی مضطرب نفسیات کوکہانی کارنے ’’ڈارسے بچھڑے‘‘کی شکل میں فن کارانہ شعور کے ساتھ پیش کیاہے۔ (یہ بھی پڑھیں سید محمد اشرف کی باد بہاری – امتیاز رومی )
ساجدرشیدکاتعلق اردوافسانہ نگاروںکی اس کھیپ سے ہے جنھوں نے اپنی تخلیقی شناخت بیس ویںصدی کے آخری دو دہائیوں میں بنائی ۔وہ صحافی ،مصوّراورکارٹونسٹ بھی ہیں لیکن بہ حیثیت افسانہ نگار زیادہ معروف ہیں ۔ ساجد رشید ممبئی جیسے مہانگرافسانہ نگار ہیں جہاں کی سماجی وسیاسی زندگی کو انھوں نے بھرپورطریقے سے برتاہے ۔ وہاں کے مسائل کو انھوں نے قریب سے دیکھا ہے ان کے افسانے انہی رنگارنگیوں کونمایاں کرتے ہیں۔وہ ترقی پسند ادب ،جدید اور مابعدجدیدادب کی روایتوں کے امین ہیں جب کہ انھوں نے ترقی پسندتحریک سے زیادہ استفادہ بھی کیاہے ۔البتہ علامتوں کا استعمال کرکے انہوں نے فن پارہ کوتہہ داربھی بنا دیاہے۔تہہ داری کی ایک اوروجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے جدیدترین معاشی وسیاسی مسائل کوہدف بنایاہے ۔وہ اپنے افسانوں سے تحرک اور بیداری پیداکرنا چاہتے ہیں۔ان کے نمائندہ افسانوں میں’’ نخلستان میں کھلنے والی کھڑکی‘‘،’’مردہ سر کی حکایت‘‘،’’زندہ درگور‘‘ اور ’’چادر والا آدمی اور میں‘‘وغیرہ اہم ہیں۔
خالد جاویدکاشمار۱۹۹۰ء کے بعدنمایاں ہونے والے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔وہ فلسفے کے راستے اردوادب میں داخل ہوئے اور افسانے میں وجودیت کو داخل کیابل کہ یہ کہاجائے توبے جانہ ہوگا کہ ان کی افسانوی ادب کی تفہیم کے لیے وجودیت کامطالعہ نہایت ضروری ہوجاتاہے ۔اسی لیے انھوں نے اپنے افسانوں سے قارئین کونہ صرف چونکایا ہے بلکہ احساس وفکرکی سطح پربھی متوجہ کیاہے ۔ان کے افسانوں میں وجودی تجربات وتصورات کااظہار بالکل نئے حوالوں سے ہوا ہے ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خالد جاوید واحد ایسے فن کار ہیں جن کے افسانوں کا مکمل انحصار وجودیت کے فلسفے پر ہوتا ہے۔ ان کی کہانیاں قدرے طویل ہوتی ہیں پھر بھی تخلیقی فضاقائم رہتی ہے ۔اس ضمن میں پہلا افسانہ ’’عکس ناآفریدہ‘‘شوہراور بیوی کے رشتے کی نزاکتوں کی پرلطف اور معنی خیزداستان ہے ۔اس کہانی میں انسان کی ذات سے متعلق وجودی مسائل مثلاً تنہائی،بیگانگی اوراجنبیت کابیان ہے ۔افسانے کامرکزی کردار جو بیمار ہے ،ایک معمولی سی شک کی بناپراپنی بیوی سے بدگمان ہوکرخودکو تنہا محسوس کرنے لگتاہے بلکہ دونوں کے مابین اجنبیت سی پیداہوجاتی ہے ۔افسانے کے آخرمیں مرکزی کردار اپنے وجودیت کی طرف لوٹتاہے ۔افسانے میں یہ بیان کیاگیاہے کہ انسان کا زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔وہ کسی بھی چیزکے لیے قصوروارنہیں بلکہ قصوراس کے آس پاس پھیلی ہوئی زندگی کاہے جواسے ان تمام مسائل سے دوچار کرتی ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں جلتے ہوئے جنگل کی روشنی میں۔ایک تعبیر- تفسیر حسین )
خالد جاویدکے افسانوں میں واقعہ سے زیادہ فکر کا بیان ہواہے ۔وہ اسی پرزیادہ توجہ صرف کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ افسانہ ،ذہنی وجذباتی صورت کاعکّاس زیادہ معلوم ہوتاہے ۔’’کوبڑ‘‘اور’’پیٹ کی طرف مڑے ہوئے گھٹنے‘‘اس حوالے سے قابل ذکرافسانے ہیں۔افسانہ ’’کوبڑ‘‘ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کاوجوداپنے ہونے کے کرب سے وابستہ ہے ۔ وہ ساری زندگی اپنے وجودکی تکمیل کے احساس میں گذاردیتاہے جواُسے نہیں ملتا اور آخرمیں وہ مذہب کی طرف رجوع کرتا ہے تاکہ اپنے وجودکی تکمیل کرسکے ۔وہ ساری زندگی اسی کوشش میں لگا رہتاہے کہ خود کواپنوں سے اورمعاشرے سے جوڑے رکھے ،عزت ومحبت کے ساتھ زندگی گذارے لیکن ہمیشہ اُسے ذلت ورسوائی کاسامناکرناپڑتا ہے ۔لڑکپن میں،جوانی میں حتّی کہ شادی کے بعدبیوی سے بھی وہ رسوائی وصول کرتا ہے ۔ایک مردکے لیے اِس سے بڑی ذلت کیاہوسکتی ہے کہ جس شخص سے وہ بچپن سے نفرت کرتاہو ،اُس کی بیوی اُسی سے محبت کرے ۔اس کہانی کامرکزی کرداروجودی ہے ۔وجودی کرداروں میں ایک خاص بات یہ نظرآتی ہے کہ وہ دوسرے کرداروں سے زیادہ حسّاس نظرآتے ہیں اور معمولی سے معمولی بات بھی اُس کے وجود کو متزلزل کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔
اسّی کے بعد ہندوستان میں اردو افسانے کے آسمان پر طلوع ہونے والے افسانہ نگاروں کی فہرست کافی طویل ہے۔یٰسین احمد، مشرف عالم ذوقی،اسرار گاندھی،صدیق عالم،عبد الصمد،حسین الحق،انجم عثمانی،دیپک بدکی،ترنم ریاض،قمر جمالی،فریدہ زین، بیگ احساس،غزال ضیغم،صادقہ نواب سحر،شائستہ فاخری،شاہد اختر،شبیر احمد،احمد صغیر،نگار عظیم،صغیر رحمانی،اختر آزاد،ابن کنول، مظہر سلیم اور نہ جانے کتنے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اسلوب و ہیئت کے لحاظ سے نئی بات پیش کی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مندرجہ بالا افسانہ نگاروں پر فرداً فرداً اور تفصیلی طور پر سیر حاصل گفتگو کی جائے۔
اکیسویں صدی تک آتے آتے افسانے نے حقیقت نگاری کا روپ اختیار کر لیا ہے یا یوں کہیں کہ افسانہ علامت سے حقیقت کی طرف گامزن ہے۔اکیسویں صدی میں جن نئے مسائل اور چیلینجز کو افسانے کا موضوع بنایا گیا ہے اُن میں تانیثیت کے اثرات،داستانوی عناصر کی طرف مراجعت،فرقہ وارانہ فسادات اور دہشت کے ماحول کی عکاسی،میڈیا اور انٹر نیٹ کے مضر اثرات،وجودیت کے عناصر اور معاشرے سے ختم ہوتی تہذیبی اقدار کو موضوعِ بحث بنایا گیاہے۔
اسی کے عشرے میں جب ہم پاکستان کے ادبی منظر نامے کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ۱۹۷۷ء کا مارشل لا اور ۱۹۷۱ء کے سقوط ڈھاکا نے وہاں کے حالا ت اور بھی خراب کر دیے تھے لہٰذا پاکستان میں اسّی اور نوے کی دہائی میں بھی کوئی ایسی صورت حال پیدا نہ ہو سکی جس سے عوام میں فرحت و انبساط کا ماحول ہو اور سیاسی طور پر امن میسر آئے بل کہ قیام پاکستا ن کے بعد ہی سے سکون افزا صورت حال پیدا نہ ہو سکی ۔ اس ملک کو ایسے حکم راں بھی نصیب نہ ہو سکے جو اپنے بہ جائے ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکیںاور ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہوں ۔ یہی وہ رسہ کشی تھی جس نے عوام کو حکومت کے خلاف لا کھڑا کر دیا اور نتیجے کے طور پر پاکستانی معاشرہ کئی حصوں میں منقسم ہو تا چلا گیا۔ وہاں کے لوگ نسل ، زبان ، علاقائیت ، مذہبی فرقہ واریت میں اس قدر محو ہوگئے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو دیکھنے کو تیار نہیں ۔ شیعہ سنّی فسادات تو کھلے عام ہوتے رہتے ہیں ، مہاجرین کو تا ہنوز گری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ سندھی، سرائیکی ، پشتو، کشمیری ، پنجابی بولنے والے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے در پے ہیں ۔ ایسی صورت میں معاشرے میں کس طرح کی ترقی ہوگی ، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسّی اور نوے کی دہائی میں جن نمائندہ افسانہ نگاروں نے اپنی شناخت قائم کی اور ادبی و سیاسی صورت حال کا حصہ بنے رہے اُن میں زاہدہ حنا،احمد جاوید،مظہرالاسلام،مرزا حامد بیگ،محمد حمید شاہد،محمد حامد سراج،آصف فرخی ، طاہرہ اقبال اور کئی دوسرے افسانہ نگاروںکے نام لیے جاسکتے ہیں ۔ضمناً چند فن کاروں کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ صورت حال کی عکاسی ہوسکے۔
پاکستان ہجرت کرنے والے فن کاروں میں زاہدہ حنا کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے جرأت مندی سے سیاسی حالات کا مقابلہ کیا اور حق ثابت کرنے کے لیے دوٹوک زبان استعمال کی۔وہ ایک لبرل اور ترقی پسند تصور حیات رکھتی ہیں۔ تاریخ سے انہیں گہرا لگاؤ ہے مگر اس حد تک کہ آشوب عصر کی معنویت ہاتھ آسکے۔’’جل ہے سارا جال‘‘بے حد جرأت مندانہ افسانہ ہے۔ ایسی صورت حال میں جب پاکستان کے بیش تر گھرانوں میں یہ عقیدہ بن چلا تھا کہ عرب اُن کے رازق اور پالن ہار ہیں اور ان کے التفات کو دیر پا بنانے کی ایک صورت ان کی مرغوبات نسوانی کی پاکستان سے فراہمی ہے۔
احمد جاوید کا تعلق افسانہ نگاروں کی اس نسل سے ہے جنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں لکھنے کی ابتدا کی لیکن ان کی شناخت ستر کی دہائی اور اس کے بعد قائم ہوئی ۔ علامتی افسانے کی تشکیل و ارتقا میں انہوں نے منفرد استعاراتی اسلوب اورتہہ دار علامتی نظام کو اختیار کیا ۔انہوں نے تمثیل، حکایات اور اساطیر سے علامتیں اخذ کرکے عصری صورت حال کے پیچ و خم کو واضح کرنے کے لیے بڑی کام یابی کے ساتھ استعمال کیا ۔ احمد جاوید کا ہر مجموعہ کسی خاص موضوع کی طرف اشارہ کرتا ہے۔’’غیر علامتی کہانی‘‘سیاسی ، سماجی ، مزاحمتی رویّے کا حامل ہے اور ایک مخصوص اسلوب کو سامنے لاتا ہے۔ ’’چڑیا گھر‘‘میں جانوروں کی علامت کے استعمال کا تجربہ کیا گیا جب کہ ’’گم شدہ شہر کی داستان ‘‘زیادہ تر تمثیل نگاری کی مثال ہے۔ ’’رات کی رانی‘‘میں علامت اور بیانیہ دونوں موجود ہیں جب کہ ہر افسانے کا مرکزی موضوع عورت کو بنایا گیا ہے۔
مظہر الاسلام کے افسانوں کی خاص پہچان یہ ہے کہ اُن کے عنوانات لمبے ہوتے ہیں۔وہ نئی نسل کے باشعور افسانہ نگاروں میں سے ہیں ۔ انہوں نے اپنے لیے ایک منفرد پیرایہ اظہار تلاش کیا ہے مگر اس سفر میں ان کا رشتہ اجتماعی زندگی سے کبھی بھی نہیں کٹتا اور نہ ہی وہ ان نئے افسانہ نگاروں میں سے ہیں جو لایعنیت سے اپنے نئے ہونے کی گواہی مانگتے ہیں ۔مظہر الاسلام ایک بے چین ،پر درد،دل چسپ اور حیران کن کہانی کار ہے۔ ان کی کہانیوں کا موضوع محبت ، انتظار ، موت اور جدائی ہے ۔ ان کے افسانوں کے ہیرو عام طور پر اُداس لوگ ہیں ۔ وہ محبت کی تلاش میں بھٹکنے والوں ، بچھڑے ہوئے لوگوں ، آزادی ڈھونڈنے والوں اور روٹھے ہوئے کرداروں کی کہانیاں لکھتے ہیں ۔ ان کے ہاںخاکرو بوں ، چٹھی رسانوں ، کلرکوں ، مدرسوں اورمزدوروں کا نفسیاتی تجزیہ خوب صورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
اسّی کے بعد پاکستانی افسانے پر اپنے نمایاں پہچان بنانے والے افسانہ نگاروں میں مرزا حامد بیگ کا نام نمایاں ہے۔ بنیادی طور پروہ فن کا ر ہیں بعد میں نقاد اور محقق ۔ وہ جدید افسانے کے بانی تو نہیں البتّہ اسلوبیاتی سطح پر انہوں نے تجدید ضرور کی ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارے فن کارتجرید یت اور مہملیت کی طرف اپنی صلاحیت صرف کر رہے تھے۔ ایسے ہی حالات میں چند فن کاروں نے کہانی کے جوہر کی واپسی کی ۔مرزا حامد بیگ کا نام اسی باعث نمایاں ہے ۔
محمدحمید شاہد کا شمار اسّی کے بعد کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ افسانے کی تنقید و تاریخ پر ان کی گہری گرفت ہے ۔ان کے ہاں افسانہ لکھنا ایک باطنی تجربہ ہے جو اندر سے باہر کی طرف سفر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ ان کی کہانی کسی شعر یا کسی نظم کی طرح ان کے اندر سے پھوٹتی ہے۔ اسی میں ان کی انفرادیت کا راز پوشیدہ ہے۔ ان کے افسانوں میں کہانی محض واقعہ کی سطح پر نہیں رہتی، علامت بن جاتی ہے۔انہوں نے بین الاقوامی ممالک کے مسائل کی طرف بھی نشان دہی کی ہے۔اس ضمن کا ایک اہم افسانہ ’’لوتھ‘‘ہے جو گیارہ ستمبر کے واقعات کے پس منظر میں لکھا گیا ہے ۔ ایک کردار جو اپنے ارد گرد کی آگاہی رکھتا ہے ، جو حالات کے مطابق رد عمل ظاہر کر سکتا تھا ، کیسے نا تجربہ کار ڈاکٹروں کی ارد گرد سے رفتہ رفتہ لوتھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کہانی میں ان ڈاکٹروںکا المیہ بیان کیا ہواہے جو رفتہ رفتہ اپنی اصل سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ان اقدار اور اُس طرز معاشرت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو ان کے اپنے تھے ۔ یہ سب کچھ کھو کر ان کے ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آتا ۔ یہ کہانی احساس کی لہروں سے مرتب ہوئی ہے۔ یہ کہانی ہماری نصف صدی کی تاریخ میں دو نسلوں کے درمیان پھیلی ہوئی خلیج کا تنقیدی بصیرت کے ساتھ جائزہ لیتی ہے جس میں ہمارے خواب ڈوب چکے ہیں۔محمد حمید شاہد نے دہشت،خوف اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے تقریباً ایک درجن کہانیاں رقم کی ہیں۔’’دہشت میں محبت‘‘میں شامل تمام افسانوں کو پڑھ کر پاکستان کی سیاسی صورت حال کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔
محمد حامد سراج کی افسانہ نگاری کا آغاز نوے کی دہائی سے ہوتا ہے ۔ اس دور انیے میں مارشل لا وغیرہ کے آثار توختم ہو گئے تھے لیکن سیاسی طور پر اتھل پتھل وہاں کی سرزمین کا لازمی حصہ بن گیا تھا ۔ اس دوران کتنی ہی حکومتیں بدلیں لیکن عوام نے کبھی سکون محسوس نہیں کیا۔محمد حامد سراج کی کہانیاں سیاسی حوالے سے تو نہیں البتہ کچھ بہت اثرات صاف طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ وہ اپنے افسانوں میں خیر کی راہ تلاش کرتے ہیں ۔ تصوف اور روحانیت سمیت صوفی روایات کے توارث نے انہیں درد مندی اور اخلاص کی جن خوبیوں سے نوازا ہے وہ بہ کمال احسن ان کی تخلیقات سے جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔انسانی نفسیات کا انہوں نے گہرا مشاہدہ کیا ہے۔افسانہ ’’چائے کہ پیالی‘‘اس کی بہترین مثال ہے۔
آصف فرخی کا شمار جدید افسانہ کے ان نوجوان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کم عمری میں ہی افسانے لکھنے شروع کیے ۔ ادب اور تہذیب کی یہ وراثت انہیں اپنے والدا ور دادا کے توسط سے ملی ۔ یہی وجہ ہے کہ اکیس سال کی عمر میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ منظر عام پر آگیا ۔ ان کی ابتدائی کہانیوں میں داستانوں کے ساتھ داستانوی اسلوب اور کرداروں کو علامتی معنی دینے والے انتظار حسین کے بھی اثرات موجود ہیں مگر اپنے موقف اور منشا میں انتظار حسین سے منفرد بھی دکھائی دیتے ہیں اور بعد کے افسانوں میں وہ اپنی الگ شناخت قائم کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ ایک منجھے ہوئے افسانہ نگار ہیں۔ وہ زندگی میں رونما ہونے والے سانحات کو اپنی کہانی کی بنیاد بناتے ہیں اور اسی کے سہارے کہانی کو انتہا تک پہنچاتے ہیں ۔ان کی بعض تحریروں میں سیدھی سادی موت اور اداسی کے اثرات نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں اور بعض کہانیوں میں زندہ کردار بھی چلتے ، پھرتے ،کھاتے ، پیتے نظر آتے ہیں ۔ مجموعی طور پر ان افسانوں کی قرأت کے بعد ایک اچھا تصور ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ ان کے نمائندہ افسانوں کے نام گنوائیں جائیں تو ان میں ’’پرندے کی فریاد‘‘،’’سمندر کی چوری ‘‘ اور ’’میرے دن گذر رہے ہیں‘‘ وغیرہ تو یقیناشمار کیے جائیںگے۔
جدید خواتین افسانہ نگاروں میں پہلا اہم نام طاہرہ اقبال کا ہے۔ انہوں نے پنجاب کے دیہی زندگی میں رونما ہونے والے مسائل کو اپنا محور بنایا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بیدی ،احمد ندیم قاسمی ، بلونت سنگھ ، غلام الثقلین نقوی ، محمد منشا یاد ،نعیم صدیقی جسے اہم فن کاروں کی تخلیقات میں بھی پنجاب کا منظر نامہ پوری طرح جلوہ گر ہے لیکن طاہرہ اقبال کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے دیہی منظر نامے کے ساتھ عورتوں کی سفاکی کو بھی کسی نہ کسی طور پر پینٹ کیا ہے گویا ’’عورت‘‘ان کے ہاں کلیدی استعارہ ہے جس کا ذکر وہ بار بار کرتی ہیں اور یہی ان کا اختصاص بھی ہے۔ طاہرہ اقبال کو ادبی دنیا سے متعارف کرانے والوں میں احمد ندیم قاسمی کا نام سر فہرست ہے جنہوں نے لاہور سے نکلنے والے ’’فنون‘‘میں ان کی کہانیاں شائع کیں اور طاہرہ اقبال کا معاملہ بھی یہ تھا کہ انہوں نے قاسمی صاحب کے افسانوں کو پڑھ کر کہانیاں لکھنے کی طرف راغب ہوئیں ۔ غالبا ًیہی وجہ ہے کہ انہوں نے بھی اپنے لیے پنجاب کے دیہی علاقوں کا انتخاب کیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ طاہرہ اقبال کا دیہات ، احمد ندیم قاسمی کے دیہات سے مختلف ہے۔
اسّی اور نوے کی دہائی میں کئی ایسے اور فن کار ہیں جنہوں نے سیاسی و سماجی حوالے سے کہانیاں رقم کیں لیکن اُن پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی جاسکی اُن میں احمد داؤد،انور زاہدی،اعجاز راہی،اے خیام،انوار احمد،عاصم بٹ،نیلم احمد بشیر،علی اکبر ناطق،نیلوفر اقبال،خالد سعید،احمد اعجازاور عبد الرؤف کیانی وغیرہ خاص طور پر اہم ہیں۔ان تمام افسانہ نگاروں پر سیر حاصل گفتگو کی ضرورت ہے تاکہ پورے منظر نامے کی آگہی ممکن ہوسکے۔
نئی صدی کا استقبال پوری دنیا نے کیا ۔ پاکستان نے اس صدی کو خوش آمدید اس لیے بھی کیا کہ سابقہ ۵۳ سالوںمیں انہوں نے امن و سکون کا فقط خواب دیکھا تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس نئی صدی میں ان کے خواب پورے ہوں لیکن صد افسوس ! کہ یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا ۔ یہاں اشارہ امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 9/11کو ہونے والے حادثے سے ہے ۔ گیارہ ستمبر کا دن عہد جدید کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے جب پرانی جمی جمائی زندگی کی بساط الٹ گئی اور مشرق و مغرب کے ما بین ایک نیا رشتہ استوار ہوا۔ یہ سانحہ یوں تو امریکا میں رونما ہوا لیکن اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ۔ خاص طور سے مسلم مما لک پر اس کا اثر شدید طور پر پڑا۔ 9/11کے سانحے کا اثر سب سے زیادہ اُن ممالک پر ہوا جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے کوسوں دور واقع تھے۔ عراق ، افغانستان اور پاکستان ان میں سر فہرست ہیں ۔ پاکستانی حکومت اور عوام نے اس درد کو جس طرح سے برداشت کیا ہے وہاں کے فن کار وں کی تخلیقات میں اس کا اظہار بہتر طور پر ہوا ہے۔ پاکستانی عوام جنہوں نے مستقل طور پر امریکا میں بود وباش اختیار کر لی ہے اور جنہوں نے بہ غرض تجارت وہاں کا رخت سفر باندھاتھا، تمام لوگوں نے اس اذیت ناک کرب کو جھیلا ۔ادب کے حوالے سے سر دست یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی ادیبوں کے علاوہ امریکی ادیبوں نے اس سانحہ کو کس زاویے سے پیش کیا ہے۔پاکستانی افسانہ نگاروں نے اس سانحے سے متأثر ہو کر کئی لازوال کہانیاں تخلیق کیں ۔ چند کے نام درج ذیل ہیں:
’’شناخت‘‘(مسعود مفتی)،’’دیدا و دئد‘‘(الطاف فاطمہ )،’’ایک سائکلوسٹائل وصیت نامہ‘‘(محمد منشایاد )،’’ابن آدم‘‘(خالدہ حسین)، ’’مجال خواب‘‘(رشید امجد)،’’عجائب گھر‘‘(مصطفی کریم)،’’اوپریشن مائس‘‘اور ’’سرخ دھبے‘‘(نیلوفر اقبال)،’’دام وحشت ‘‘(مبین مرزا)،’’کارگر‘‘(فاروق خالد)،’’ریئلٹی شو‘‘(عرفان احمد عرفی)،’’نیند کا زرد لباس ‘‘(زاہدہ حنا)،’’اینڈ آف ٹائم‘‘(پروین عاطف )، ’’پردیسی‘‘ (افتخار نسیم) ’’سورگ میں سوؤر‘‘(محمد حمید شاہد)،’’یہ جنگل کٹنے والا ہے‘‘( انورزاہدی) ،’’ بلقان کا بت‘‘( عطیہ سید) ،’’ چودہویں رات کی سرچ لائٹ ‘‘(فرخ ندیم )، ’’مہاجر پرندے ‘‘( پرویز انجم )’’سرخ‘‘ (مسعود صابر) ،’’ لاوقت میں ایک منجمد ساعت‘‘( عاطف سلیم) ’’بن کے رہے گا‘‘(آصف فرخی )اور’’ دہشت گرد چھٹی پر ہیں ‘‘(علی حیدر ملک ) وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ لیے جا سکتے ہیں ۔
گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان کو ۸؍اکتوبر۲۰۰۵ء کے دن اپنی تاریخ کے ہول ناک ترین زلزے کا سامنا کرنا پڑا۔آزاد کشمیر ، شمالی علاقہ جات اور دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے خاص طور پر اس ناگہانی آفت سے بری طرح متأثر ہوئے ۔ کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مکمل طور پر مٹ گئیں اور صورت حال قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ جہاں زلزلے سے چند لمحے پہلے زندگی مسکراتی پھر رہی تھی، وہاں اب سوائے ملبے کے کچھ نہ تھا۔پاکستانی عوام نے یہ دکھ بھی جھیلا اور آپسی محبت کا ثبوت بھی دیا ۔ پاکستان کے ادیبوں اور شاعروں نے بھی اس سانحے کے بعد نہ صرف متا ٔثر ین زلزلہ کی حتیّٰ الامکان مالی معاونت کی بل کہ اپنے دلی جذبات کا اظہار تحریروں کی صورت میں بھی کیا۔ اردو افسانے کی بات کی جائے تو تین درجن سے زائد افسانے تحریر کیے گئے اور یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔ چند افسانوں کے نام درج ذیل ہیں :
’’آگے خاموشی ہے‘‘( محمد منشایاد)،’’ ملبا سانس لیتا ہے ‘‘(محمد حمید شاہد)، ’’فالٹ لائن‘‘( انور زاہدی)،’’ قیامت کے بعد‘‘ (خالد قیوم تنولی)،’’ بے تابی سے کیا حاصل ‘‘(آصف فرخی)،’’ تراشہ‘‘( احمد ندیم قاسمی)،’’بچے خوف زدہ ہیں ‘‘(زاہد حسن )،’’مدینہ مارکیٹ‘‘ ( سلمیٰ اعوان)،’’ زندہ درگور ‘‘(عارف شمسہ) ،’’جذبۂ پاکستان-زندہ باد‘‘( محمود شام) اور’’ میرے بھائی کو سردی لگتی ہے ‘‘(حامد میر) وغیرہ خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں ۔
آج بھی پاکستانی افسانہ نئے نئے مسائل سے دوچار ہے۔طالبان کا مسئلہ،دہشت گردی کے مسائل،ملک کے اندر سیاسی اتھل پتھل،ڈرون حملے اور ایسے کئی دوسرے حقائق جن کے اثرات اکیسویں صدی کے پاکستانی افسانوں میں صاف طور ہر دیکھے جا سکتے ہیں۔اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہوگا اردو افسانے پر ابتدائی ایام میں رومانیت پسندی،حقیقت نگاری جیسے موضوعات کا زیادہ اثر تھا اور یہی اثر کم و بیش ترقی پسندی کے زمانے میں بھی رہا۔جدیدیت کے دور میں افسانے میں علامات پر زیادہ زور صرف کیا جانے لگا لیکن بعد میں یہ اثر زائل ہوتا چلا گیا اور آج کا افسانہ حقائق قلم بند کر رہا ہے اور یہی مقبول ومروّج بھی ہے۔
٭٭٭
حوالہ جات:
1۔شمس الرحمن فاروقی۔جدیدیت:کل آج اور دوسرے مضامین۔نئی کتاب پبلشرز،نئی دہلی ۔2007 ء۔صفحہ نمبر 42
2۔شوکت حیات۔بانگ(تنقیدی مضامین)۔ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی۔2012 ء۔صفحہ نمبر 112
3۔حسین الحق۔’’آزادی کے بعد اردو افسانہ‘‘۔مشمولہ۔’’آجکل‘‘نئی دہلی۔اگست 1997 ء ۔صفحہ نمبر26
4۔طارق چھتاری۔مابعد جدید افسانہ:اردو کے تناظر میں۔مشمولہ۔’’اردو ما بعد جدیدیت پر مکالمہ‘‘۔(مرتب) گوپی چند نارنگ۔اردو اکادمی،نئی دہلی۔1998 ء۔صفحہ نمبر 321
5۔قمر الہدی فریدی۔(تعارف)باغ کا دروازہ۔ایجوکیشنل بک ہاؤس،علی گڑھ۔2001 ء۔صفحہ نمبر 7
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

