مجھے اک شخص سے الفت ہے
اور الفت بھی اس درجہ
کہ وہ کہہ دے اگر رک تو۔۔۔مرے دن رات رک جائیں،
فقط اس کی ہی اک آواز پر میرے
تھرکتے پا
غزل گاتے ہوئے لب
اور فضا میں رقص کرتے ہاتھ۔۔۔ تھم جائیں،
کبھی بھولے سے بھی مجھ کو
نظر بھر دیکھ لے گر وہ
مرے مرجھائے چہرے پر
ہزاروں پھول کھل جائیں ،
اسی کا لمس ہے جس نے
مجھے۔۔۔اک بار چھو کر کے،
ابھی تک ہے بھگو رکھا
اسی کے سر نے ہے اب تک مجھے نغمہ سرا رکھا،
وہ کیا ہے یہ بتانے سے
میں قاصر تو نہیں ہوں پر
مجھے ڈر ہے،،،
مرے سنگین خوابوں کا ،
طلسمِ سامری ٹوٹا
تو پھر ، میری،،،،
سیہ راتوں کے سائے پر
اجالے کون رکھے گا۔۔۔؟؟
زیبا خان حنا۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

